مهدويت اور امامت ->


حضرت امام مہدی کے بارے میں اہل سنت سے مروی احادیث

خواجہ کلان ، شیخ سلیمان بلخی حنفی اپنی گراں قدر کتاب ”ینابیع المودة“ میں علامہ سمہودی شافعی اپنی کتاب ”جواہر العقدین“ میں ، ابن ہیتمی اپنی کتاب (صواعق محرقہ) میں اور طبرانی اپنی کتاب ”اوسط“ میں ابو ایوب انصاری سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت فاطمہ زہرا رسول اکرم (ص) کی خدمت میں آپ کے مرض الموت کے موقع پر حاضر ہوئیں اور رو پڑیں، تو رسول اکرم (ص) نے فرمایا: ”اِنَّ لِکَرامةِ اللّٰہِ ایّاکِ زَوَّجَکِ مَن ھُو اقدمُھُمْ سِلماً وَاکْثَرُھُمُ عِلْماً “ : (۱)

حضرت امام مہدی کے بارے میں اہل سنت سے مروی احادیث

          ۳۶۔ خواجہ کلان ، شیخ سلیمان بلخی حنفی اپنی گراں قدر کتاب ”ینابیع المودة“ میں علامہ سمہودی شافعی اپنی کتاب ”جواہر العقدین“ میں ، ابن ہیتمی اپنی کتاب (صواعق محرقہ) میں اور طبرانی اپنی کتاب ”اوسط“ میں ابو ایوب انصاری سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت فاطمہ زہرا رسول اکرم (ص) کی خدمت میں آپ کے مرض الموت کے موقع پر حاضر ہوئیں اور رو پڑیں، تو رسول اکرم (ص) نے فرمایا: ”اِنَّ لِکَرامةِ اللّٰہِ ایّاکِ زَوَّجَکِ مَن ھُو اقدمُھُمْ سِلماً وَاکْثَرُھُمُ عِلْماً “ : (۱)
          ”آپ کے بارے میں پروردگار کی منجملہ کرامتوں میں سے یہ ہے کہ آپ کی شادی ایسے شخص سے کی جو اسلام لانے میں سب سے پہلے اور علم و دانش کے لحاظ سے سب سے زیادہ جاننے والا ہے“۔
          پھر فرمایا: خداوند متعال نے اہل زمین پر نظر ڈالی تو مجھے منتخب کیا، پھر دوبارہ نظر ڈالی تو تمہارے شوہر کو منتخب کیا پھر مجھے وحی کی کہ تمہاری شادی اس سے کردوں اور اسے اپنا وصی قرار دوں۔
          ”یافاطِمة مِناّ خَیر الانبیآء وَھُوَ ابوکِ وَمِنّا خَیر الاَوصیآء وَھُوَ بَعلکِ وَمِنّا خَیر الشُّہَداء وَھُوَ حمزة عمُّ ابیکِ وَمِنّا مَن لَہُ جَناحانِ یطیر بِھِما فی الجَنَّةِ حَیث شَاء وَھُوَ جَعفر ابنِ عَمِّ ابیکِ وَمِنّا سِبطا ھذِہِ الاُمّة وَسَیّدا شبابِ اہلِ الجَنَّةِ ، الحَسَنُ والحُسینُ ، وَھما ابناکِ
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ ینابیع المودة، ج۳، ص ۲۶۹، مناقب ابن مغازلی، ص ۱۰۱ (حدیث ۱۴۴)، فرائد السمطین، ج۱، ص ۹۲ (حدیث ۶۱)۔
          وَالَّذی نَفسی بیدِہِ ، مِنَّا مَھدیُّ ہذھِ الامَّة وَھُو مِن وُلدِکِ“ : (۱)
          اے بیٹی فاطمہ! بہترین انبیاء ہم میں سے ہے اور اور وہ تمہارے باپ ہیں اور ہم میں سے بہترین اوصیاء ہیں اور وہ تمہارے شوہر ہیں اور ہم میں سے بہترین شہداء ہیں اور وہ تمہارے باپ کے چچا حمزہ ہیں اور ہم میں سے وہ شخص موجود ہے کہ جس کو دو پر عطا ہوئے ہیں جن کے ذریعے جہاں چاہتے ہیں پرواز کرتے ہیں اور وہ جعفر ہیں تمہارے باپ کے پسر عم اور ہم میں سے اس امت کے دو سبط ہیں اور اہل جنت کے جوانوں کے سردار ہیں، وہ حسن و حسین ہیں جو تمہارے فرزند ارجمند ہیں۔
          اس خدا کی قسم! جس کے قبضہٴ قدرت میں میری جان ہے ہم میں سے اس امت کا مہدی ہے جو تمہاری اولا دمیں سے ہے“۔
          ۳۷۔ اسی کتاب میں سعید ابن جبیر سے ابن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت رسول اکرم (ص) نے فرمایا:
          ”اِنَّ عَلیّاً اِمامُ اُمَّتی من بِعدیٖ ، وَمِن وُلدِہِ القائِمُ المُنتظَرُ الَّذی یملاءُ الاٴرضَ قِسطاً وَ عَدلاً کَمٰا مُلئَت جوراً وَ ظُلماً وَالَّذی بعثنی بِالحّقِ بَشیراً وَ نَذیراً اِن الثّٰابتینَ عَلَی القوْلِ بِامِامَتِہِ فی زَمانِ غَیْبَتِةِ لاٴعَزّ مِنَ الکبریتِ الاَحّمر
          فقال الیہ جابر بن عبد اللّٰہ فقال : یا رسول اللّٰہ (ص) ولِلْقٰائِمِ من وُلْدِکَ غَیْبَةٌ ؟ قال (ص) ای وربّی <وَلِیُمَحِّصَ اللهُ الَّذِینَ آمَنُوا وَیَمْحَقَ الْکَافِرِینَ>(۲) ثُمّ قالَ یا جابِر انّ ھذا امرٌ مِن امرِ اللّٰہ وَسِرٌّ مِن سِرِّ اللّٰہ فایّاکَ وَالشَّک فیٖہِ فانّ الشکَ فی امرِ اللّٰہ عزّوجلّ کُفر “ (۱)
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ ینابیع المودة، ج۳، ص ۲۶۹، صواعق محرقہ، ص ۱۶۵۔
(۲)۔ سورہ آل عمران، آیت ۱۴۱۔
          ”یقینا علی میرے بعد میری امت کے امام ہیں آپ کے فرزندوں میں قائم المنتظر ہوں گے جو زمین کو اس طرح عدل و انصاف سے بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی، قسم ہے اس خدا کی کہ جس نے مجھے حق کے ساتھ بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا! وہ لوگ جو آپ کی غیبت کے زمانہ میں آپ کی امامت کے عقیدہ پر ثابت قدم رہیں گے وہ آپ سے زیادہ عزت والے اور کم یاب ہوں گے۔
          جابر نے اپنے مقام پر کھڑے ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ کے فرزندوں میں سے قائم کے لیے کوئی غیبت ہے؟ فرمایا: ہاں میرے رب کی قسم! ”تاکہ اللہ مومنین کو پاک و پاکیزہ بنائے اور کافروں کو نیست و نابود کرے
          پھر فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کے رازوں میں سے ایک راز ہے، اور اسرار رب میں سے ایک مخفی بات ہے اس میں کبھی بھی شک نہ کرنا کیونکہ پروردگار کی ذات میں شک کرنا کفر کا باعث ہے“۔
          ۳۸۔ حسن ابن خالد کا بیان ہے کہ حضرت علی ابن موسیٰ الرضا - نے فرمایا:
          ”لا دینَ لِمَن لا وَرَعَ لَہُ <اِنّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰاکُمْ > (۲) ای اعملکُم بالتَّقویٰ ثُمَّ قالَ اِنَّ الرَّابعَ مِن وُلدِی ابنُ سَیِّدَةِ الاِماءِ یُطَھِّرُ اللّٰہ بِہِ الاٴرضَ مِن کُلّ جَورٍ وَظلمٍ وَھُوَ الذی یَشُکُّ النّاسُ فی ولادَتِہِ
          وَھُوَ صاحِبُ الغیبةِ ، فاذا خَرَجَ اٴشرَقَتِ الاَرضَ بنور رَبّھا ، وَ وَضَعَ میزانَ العَدل بَینَ النّاسِ فَلا یظلمُ احَدٌ اَحداً
          وَھُوَ الذی تُطویٰ لَہُ الاَرضُ وَلا یَکُونَ لَہُ ظِلٌ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ فرائد السمطین، ج۲، ص ۳۳۶، ینابیع المودة، ج۳، ص ۳۹۷، احقاق الحق، ج۱۳، ص ۱۵۶، کمال الدین، ج۱، ص ۲۸۷ (باب ۲۵، حدیث ۷)۔
(۲)۔ سورہ حجرات، آیت ۱۳۔
 
          وَھُوَ الذی یُنادی مُنادٍ مِن السَّمآء یَسمَعُہُ جَمیعُ اَھْل الاٴرضِ : اَلاٰ اِنّ حُجَّةَ اللّٰہِ قَد ظَھَرَ عِند بیتِ اللّٰہِ فاتّبِعُوہُ ، فَاِنَّ الحقَّ فیہ وَمَعہُ ، وَھُوَ قولُ اللّٰہ عزّوجلّ <إِنْ نَشَاٴْ نُنَزِّلْ عَلَیْہِمْ مِنْ السَّمَاءِ آیَةً فَظَلَّتْ اٴَعْنَاقُہُمْ لَہَا خَاضِعِینَ>(۱) وَقَوْلُ اللّٰہِ عَزّوَجَلَّ <ْ یَوْمَ یُنَادِ الْمُنَادِی مِنْ مَکَانٍ قَرِیبٍ یَوْمَ یَسْمَعُونَ الصَّیْحَةَ بِالْحَقِّ ذَلِکَ یَوْمُ الْخُرُوجِ > (۲) اَیْ خُروجُ وَلَدِیَ الْقآئِمُ الْمُہْدِیُّ علیہ السلام“ (۳)
          ”اس شخص کے لیے دین نہیں ہے جس کے پاس پرہیزگاری نہیں ہے یقینا اللہ کے نزدیک عزت والا وہ ہے جو تم میں سے زیادہ تقوا اور پرہیز گار ی کے ساتھ زیادہ عمل کرنے والا ہو۔
          پھر فرمایا: یقینا میرے فرزندوں میں سے جو چوتھا کنیزوں کی ملکہ (سیدة الاماء) سے ہوگا اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ زمین کو ہر قسم کے ظلم و جور سے پاک کرے گا۔
          وہ وہی شخص ہے کہ جس کی ولادت کے بارے میں لوگ شک و شبہ کریں گے۔
          اس کے لیے غیبت کبریٰ ہے، جب ظہور کرے گا تو زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کی میزان قائم کرے گا کوئی شخص کسی شخص پر ظلم نہیں کرے گا آپ وہ ہیں کہ جس کے لیے زمین سمٹ جائے گی (طی الارض کا حامل ہوگا) آپ کا کبھی بھی سایہ نہیں ہوگا۔
          آپ وہ بزرگوار ہیں جن کی خاطر آسمان سے ایک آواز دینے والا آواز دے گا جس کی آواز کو تمام زمین والے سنیں گے: ”(اے لوگو!) خبردار! یقینا اللہ کے گھر کے پاس حجّت خدا ظاہر ہوگئے ہیں لہٰذا ان کی پیروی کرو، کیونکہ وہ خود حق ہے اور حق بھی ان کے ساتھ ہے“ اللہ تعالیٰ کے اس قول کا معنی یہی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورہ شعراء، آیت ۴۔
(۲)۔ سورہ ق، آیت ۴۱، ۴۲۔
(۳)۔ ینابیع المودة، ج۳، ص ۲۹۶، فرائد السمطین، ج۲، ص ۳۳۶۔
ہے: ”اگر ہم چاہتے تو آسمان سے ایسی آیت نازل کردیتے کہ ان کی گردنیں خضوع کے ساتھ جھک جائیں“ مزید فرماتا ہے: ”اور اس دن غور سے سنو جس دن قدرت کا منادی (اسرافیل) قریب ہی کی جگہ آواز دے گا جس دن خدائے آسمان کو سب بخوبی سن لیں گے اور وہی دن قبروں سے نکلنے کا دن ہے“ فرمایا: یعنی میرے فرزند قائم مہدی کے ظاہر ہونے کا دن ہوگا“۔
          ۴۰۔ عبایة ابن ربعی جابر (ابن عبد اللہ انصاری) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا: ”انَا سَید النبیّینَ وَعَلِیٌ سَیّد الوَصییَن وَانَّ اوصِیآئی بَعدی اِثنا عَشَر ، اَوّلُھُم عَلِی وَآخرُھم القائم المَہدی - عجل اللّٰہ تعالیٰ فرجہ الشریف “ (۱)
          ”میں انبیاء کا سردار ہوں اور علی تمام اوصیاء کے سردار ہیں“ میرے بعد میرے اوصیاء بارہ افراد ہیں، ان سب میں اول علی ہیں اور ان میں آخری قائم (آل محمد) مہدی ہیں“۔
          ۴۱۔ ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا:
          ”اِنَّ اللّٰہَ فَتَحَ ہَذَا الدّیٖنَ بِعَلیٍّ ،وَاذَا قُتلَ فَسَدَ الدّیٖنُ وَلا یُصْلِحُہُ اِلاَّ المَہدِیُّ علیہ السلام “ (۲)
          ”یقینا اللہ تعالیٰ نے اس دین کو حضرت علی - کے ذریعہ فتح کیا اور جس زمانے میں وہ قتل کردیے جائیں گے تو دین اسلام تباہ و برباد ہوجائے گا اس کو سوائے حضرت مہدی کے کوئی درست نہیں کرے گا“۔
          ۴۲۔ ابو نعیم اصفہانی اپنی کتاب ”صفة المہدی“ میں حزیفہ ابن یمان سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم (ص) نے ارشاد فرمایا:
          ”ھٰذِہِ الامّةَ مِن مُلوکٍ جَبابِرَةٍ کَیفَ یقتلوُنَ وَیَطردُونَ المُسلمِینَ اِلاَّ مَن اظھَر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ ینابیع المودة، ج۳، ص ۲۹۱، مودة القربیٰ، ص ۲۹۔
(۲)۔ ینابیع المودة، ج۳، ص ۳۹۴، مودة القربیٰ، ص ۱۲۰۔
طاعَتَھم فَالموٴمن التَّقِیُّ یُصٰانِعُھُمْ بِلِسانِہ وَیفِرُّ مِنھُم بقلبہِ
          فَاِذٰا ارادَ اللّٰہ تَبارَکَ وَتَعالیٰ ان یُعیدَ الاِسلامَ عَزیزاً قصَمَ کُلّ جَبّٰارٍ عَنیدٍ ، وَھُوَ القادِر عَلیٰ ما یشآء ، وَاصلَحَ الا مة ، بَعدَ فَسادِھا
          یا حذیفة ، لو لم یبق مِنَ الدُّنیا الاَّ یومٌ واحِدٌ لِطَوّل اللّٰہ ذلِکَ الیومَ ، حَتّی یملِک رَجُلٌ مِن اٴھِل بیتی ، یظھِرُ الاسلام َ، وَاللّٰہ لا یخلفُ وَعدَہُ ، وَھُوَ عَلیٰ وَعدِہِ قدیر“ : (۱)
          اس امت مسلمہ کے ظالم و جابر بادشاہوں پر وای ہووہ کس طرح مسلمانوں کا قتل کریں گے اور انہیں شہر بدر کریں گے سوائے ان افراد کے جو ان کی اطاعت و فرماں و برداری کرے گا،پرہیز گار مومن ان سے زبانی طور پر بنائے رکھے گا اور قلبی طور پر ان سے دور بھاگے گا۔
          جب اللہ تبارک و تعالیٰ اسلام کی عزت کو دوبارہ واپس کرنا چاہے گا تو تمام ظالم اور شرپسندوں کو تباہ و برباد کرے گا وہ اس اسلام کو غلبہ عطا کرے گا، خدا کی قسم! اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا وہ اپنے وعدے کو پورا کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔
          اے حذیفہ! اگر دنیا کا صرف ایک دن باقی رہے تو خداوند متعال اس کو طولانی کردے گا یہاں تک کہ ایک شخص میرے اہل بیت میں سے اس کائنات کا مالک ہوگا اور اسلام کو آشکار کرے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کبھی بھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا وہ اپنے وعدے پورا کرنے کی طاقت رکھتا ہے“۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ ینابیع المودة، ج۳، ص ۲۹۸، عقد الدّرر، ص ۶۲۔
حضرت مہدی - پیغمبر اسلام کے بارہویں جانشین ہیں۔
          ۳۹۔ شیخ الاسلام حموینی اپنی کتاب میں اپنی سند کے ساتھ ابن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا نے فرمایا:
          ”اِنّ خُلَفائی اوصیائی حُجَجُ اللّٰہِ عَلَی الخلق بَعدی الاَثنا عَشَرَ ، اَوّلُھُمْ عَلیّ وَآخرھُمُ وَلدی المَھدی ، فینزلُ رُوْح اللّٰہِ عیسیَ بن مَریمَ فیُصَلّیٖ خَلْفَ المہدیِّ ، وَتشرُقُ الارضُ بنورِرَبّھا وَیبلغُ سلطانُہُ المشرِقَ وَالمغرِبَ “ (۱)
          ”یقینا میرے خلفاء اور میرے اوصیاء میرے بعد مخلوق پر خدا کی حجّت ہیں جو بارہ افراد ہیں، ان میں سے پہلا حضرت علی ابن ابی طالب - ہے اور ان میں کا آخری میرا بیٹا مہدی ہے کہ روح اللہ حضرت عیسیٰ ابن مریم جب آسمان سے نازل ہوں گے تو ان کے پیچھے ان کی اقتدا میں نماز پڑھیں گے، تو زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی حضرت مہدی کی سلطنت مشرق اور مغرب میں ہوگی“۔
          ۴۰۔ حموینی اسی طرح ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم (ص) نے ارشاد فرمایا:
          ”اناَ سَیِّدُ النبیّینَ وَعَلِیٌّ سیّدُ الوَصیّینَ وَانَّ اوصیآئی بَعدی اِنثا عَشَرَ ، اولُھم عَلیٌّ وَآخِرھُمُ المَہدیُّ علیہ السلام “ (۲)
          ”میں تمام انبیاء کا سید و سردار ہوں اور حضرت علی - تمام اوصیاء کے سردار ہیں میرے بعد میرے بارہ اوصیاء ہیں ان میں سے پہلا علی اور ان میں سے آخری مہدی ہے“۔
          ۴۱۔ ابو الموٴیّد احمد ابن محمد اخطب خوارزم حضرت علی ابن موسیٰ الرضا - سے بطور مسند اپنے آبائے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ ینابیع المودة، ج۳، ص ۲۹۵، فرائد السمطین، ج۲، ص ۳۱۲۔
(۲)۔ ینابیع المودة، ج۳، ص ۲۹۶، فرائد السمطین، ج۲، ص ۳۱۳۔
کرام سے حضرت رسول اکرم (ص) سے اس ایک حدیث میں کہ جس میں اپنے اہل بیت گرامی کی فضیلت و عظمت اور حدیث کے بعض حصے میں اپنی معراج کے بارے میں گفتگو کی ہے فرمایا:
          ”فقُلت یارَبّی وَمَن اوصیآئی ؟ فنودیتُ : یا محمَّد اٴوصیائُکَ المَکتوبُونَ عَلیٰ سُرادِقِ عَرشی، فَنَظَرتُ فَرَاٴیْتُ اثنی عَشَرَ نوراً ، و فی کُلِّ نوُرٍ سَطرٌ اخضَر ، عَلَیہ اِسمُ وَصِیٍّ مِن اوصیآئی اَوَّلُھُم عَلِیٌّ وَآخرِھُمُ القائِمُ الُمَہْدِیُّ علیہ السلام “ (۱)
          ”میں نے عرض کیا: اے میرے پروردگار! میرے اوصیاء کون ہیں؟ آواز قدرت آئی: اے محمد! تیرے اوصیاء کے نام میرے عرش کے سرورق پر لکھے ہوئے ہیں میں نے نظر کی تو بارہ انوار کا مشاہدہ کیا ہر ایک نور میںایک سبز سطر موجود ہے کہ جس میں میرے اوصیاء میں سے ایک وصی کا اسم گرامی تحریر ہے ان میں سے پہلے علی اور ان کے آخر میں قائم مہدی (آل محمد) ہےں“۔
          ۴۲۔ ابو موید موفق ابن احمد خوارزمی اپنی سند کے ساتھ ابو سلیمان رسول خدا کے چوپان سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ: میں نے رسول اکرم (ص) کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
          ”لیلةً اُسْرِیَ بیٖ اِلَی السَّمآءِ ( وَساق الحدیثَ اِلیٰ اَن قالَ :) قالَ اللّٰہ تعالیٰ : یا محمَّدُ تحِبُّ ان تراھُم ؟ قُلتُ : نَعَم یا رَبِّ ، قال لی : اُنظر اِلٰی عَینِ العَرشِ ، فَنَظَرتُ فَاذِاً عَلِیٌ وَالحَسن وَالحُسَینُ وَعَلیُّ بنُ الحُسَینِ وَمحمدُ بنُ عَلیٍ وَجعفر بنَ محمَّدٍ وَموسیَ بنُ جعفرٍ وَعَلیُّ بنُ مُوسیٰ وَمحمَّدُ بنُ عَلیٍّ وَ عَلیُّ بنُ محمَّدٍ وَالحَسَنُ بنُ عَلیٍّ وَمحمَّد نِِ المہدیُّ ، ابنُ الحَسَنِ ، کَاَنَّہُ کَوکَبٌ دُرِّیٌّ بَینَھُم
          وقالَ تعالیٰ: یا محمُد ھٰوٴُلآء حججی عَلیٰ عِبادی وَھُم اوصیائکَ “ (۲)
          ”جس رات مجھے آسمان کی طرف لے جایا گیا ․․․ تو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد! تم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ ینابیع المودة، ج۳، ص ۳۷۹۔
(۲)۔ ینابیع المودة، ج۳، ص ۳۸۰، فرائد السمطین، ج۲، ص ۳۱۹، غایة المرام، ج۲، ص ۲۵۶۔
انہیں دیکھنا چاہتے ہو؟ میں نے عرض کیا: ہاں اے پروردگار! تو اللہ نے مجھ سے کہا: عرش کے داہنی جانب دیکھو میں نے نظر کی تو اس وقت ناگاہ کیا دیکھتا ہوں کہ (حضرات) علی ، فاطمہ ، حسن ، حسین ، علی ابن الحسین ، محمد ابن علی ، جعفر ابن محمد ، موسی ابن جعفر ، علی ابن موسیٰ ، محمد ابن علی ، علی ابن محمد ، حسن ابن علی اور محمد مہدی ابن حسن علیہم السلام موجود ہیں جو گویا ان کے درمیان روشن (ستارے)کی طرح ہیں“۔
          اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد! یہ روئے زمین پر میرے حجج ہیں اور لوگوں کے درمیان تیرے جانشین ہیں“۔
          ۴۳۔ حموینی نے سعید ابن حبیب سے، ابن عباس سے انہوں نے نبی اکرم (ص) سے روایت کی ہے کہ آنحضرت (ص) نے فرمایا:
          ”ان اوصیائی وَحُجَجَ اللّٰہ عَلیٰ الخلق بَعدی الاثنی عَشَرَ اَوّلُھُم اخی وَآخِرُھُم وَلَدی قیل یا رسوُلَ اللّٰہ (ص) مَن اخوُک ؟ قالَ عَلی علیہ السلام قیلَ : مَن وَلدَکَ ؟ قالَ: المَہدی الَّذی یملاء الارضَ قِسطاً وَ عَدلاً کَما مُلئِت جَوراً وَظُلماً وَالذی بعَثَنی بالحَق بشیراً وَنذیراً لو لَم یبق مِنَ الدُّنیا الاَّ یومٌ واحِدٌ لِطَوَّل اللّٰہُ ذٰلِکَ الیومَ حَتی یخرَج فیہِ وَلَدی المَھدی فینزِل روُحُ اللّٰہ عیسیٰ بنُ مَرَیمَ فَیصلّی خَلفَ وَلَدی و تشرق الاَرضُ بنورِ ربّھا وَیبلغُ سلطانُہُ المشرق و المغرِبَ․ (۱)
          میرے خلفاء اور اوصیاء میرے بعد مخلوق پر خدا کی حجّت ہیں جو بارہ ہیں ان میں کا پہلا علی - ہے اور ان میں کا آخری میرا بیٹا ہے، دریافت کیا گیا: یا رسول اللہ! آپ کے بھائی کون ہیں؟ فرمایا: علی -۔ آپ کا بیٹا کون ہے؟ فرمایا: مہدی، جو زمین کو عدل و انصاف سے بھردے گا جس طرح وہ ظلم و جور
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ ینابیع المودة، ج۳، ص ۴۸۶۔
سے بھرچکی ہوگی قسم ہے مجھے اس خدا کی ! کہ جس نے مجھے حق کے ساتھ بشارت دینے والا اور ڈرانے والا مبعوث کیا اگر دنیا کا صرف ایک ہی دن باقی رہے تو اللہ تعالیٰ اس دن کو طولانی کردے گا یہاں تک کہ اس میں میرا بیٹا مہدی ظہور کرے گا اور عیسی ابن مریم آسمان سے نازل ہوں گے تو ان کے پیچھے ان کی اقتدا میں نماز پڑھیں گے، زمین اپنے پروردگار کے نور سے روشن ہوجائے گی حضرت مہدی کی سلطنت مشرق و مغرب میں ہوگی (انشاء اللہ)۔
          ۴۴۔ ”وفیہ عن مناقب الخوارزمی باسنادہ عَن اَبی حمزَةِ الثُمالی عَن محمَّدٍ الباقِرِ عَن ابَیہِ عَلیِ بن الحُسینِ عَن اَبیہِ الحُسَینِ بن علیٍ (سَلامُ اللّٰہ عَلَیہم ) قالَ دَخَلَتُ عَلیٰ جَدی رَسُول اللّٰہِ (ص) فاجلَسَنی عَلیٰ فَخِذہِ وَقال لی: اِنَّ اللّٰہ اختارَ مِن صُلبِکَ یا حُسَینُ تِسعَة ائمَةٍ تاسِعُھُم قائِمُھُم وَکُلُّھُم فی الفَضِل والمنزِلة عِند اللّٰہِ سواءٌ “ (۱)
          اسی کتاب میں مناقب خوارزمی اپنی سند کے ساتھ ابو حمزہ ثمالی سے حضرت امام محمد باقر   - سے انہوں نے اپنے آباء و اجداد طاہرین سے انہوں نے امام حسین - سے روایت کی ہے کہ میں اپنے جد بزرگوار رسول خدا (ص) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا آپ نے مجھے اپنے زانوئے مبارک پر بٹھایا اور مجھ سے فرمایا: اے حسین! یقینا اللہ تعالیٰ نے تیرے صلب سے نو ائمہ کو منتخب کیا ہے کہ ان میں سے نواں قائم ہے اور وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کے نزدیک فضیلت و منزلت میں برابر ہیں۔
          ۴۵۔ ”وفیہ عن مناقب الخوارزمی بسندہ عَن سُلیمِ بن قَیسِ الہِلالی عَن سَلمانِ الفارِسی قالَ دَخَلت عَلیٰ رَسوِلِ اللّٰہِ (ص) واِذاً الحسینُ بن علی ، عَلیٰ فَخذِہِ وَھُوَ یُقَبِّل عینیہ وَیلثم فاہ وَھُوَ یَقولُ انتَ سَیّد ابنِ سَیّدٍ اخو سَیّدٍ انتَ اِمامُ ابنُ اِمامٍ اخو
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ ینابیع المودة، ج۳، ص ۴۲۹۔
اِمامٍ انتَ حجةُ ابنُ حجةِ اخوُ حجَّةٍ واَنتَ ابو حجَجٍ تِسعة تاسِعُھُم قائمھُمْ “ (۱)
          پھر اسی کتاب میں سلیم ابن قیس ہلالی سے وہ سلمان فارسی رضوان اللہ علیہم سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اکرم (ص) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو ناگاہ میں نے دیکھا کہ حضرت حسین ابن علی - آنحضرت کے زانوئے مبارک پر تشریف فرما ہیں اور آنحضرت (ص) آپ کی دونوں آنکھوں کو بوسہ دے رہے تھے، ان کے دہن مبارک کو چوم رہے تھے اور فرماتے تھے: تم سید و سردار ہو، سید و سردار کے فرزند ہو، سید و سردار کے بھائی ہو، تم امام ہو امام کے فرزند ہو، امام کے بھائی ہو تم خود حجّت ہو حجّت کے بھائی ہو اور تم نو حجّتوں کے باپ ہو ان میں نواں ان کا قائم (مہدیِ فاطمہ سلام اللہ علیہا) ہے“۔
          ۴۶۔ ”وفیہ عن المناقب الخوارزمی عن جابر بِن عَبد اللّٰہِ الاَنصاری قالَ قالَ لی رَسُولُ اللّٰہِ   (ص) یا جابِرِ انَّ اوصیائی وائمة المُسلِمینَ مِن بَعدی ، اوَّلُھُم عَلیٌ ثُم الحسنَ ثُم الحُسین ثُمَ عَلِی بنُ الحسینُ ثُمَ محمّد بن عَلِیٍّ المعروُفُ بالباقُرُ ، ستدرِکُہُ یا جابِر ، فَاذِا لقیتَہُ فاقراہُ مِنّی السَّلام ثُمَ جَعفَر بن محمَّدُ ثُمَ مُوسیٰ بن جعفَرٍ ثُمّ عَلِی بن موُسیٰ ثُمّ محمَّدُ بن عَلِیٍ ثُمَ عَلی بن محمّدٍ ثُم الحسَنُ بنُ عَلیٍ ثُمَّ القآئم، اسمُہُ اسمی وَکنیتُہ کنیتی ابنُ الحَسَن بن عَلیٍ ، ذلِکَ الذی یفتح اللّٰہ تبارکَ وَ تعالیٰ عَلیٰ یَدیہ مَشارِق الارضِ وَمَغارِبھَا، ذلِکَ الذی یغیب عَن اولیآئہِ غیبةً لا یثبتُ عَلَی القولِ بامامتِہِ اِلاَّ مَن امتَحَن اللّٰہ قَلبہ للایمانِ : قالَ جابِر فَقلتُ : یا رَسوُلَ اللّٰہِ فَھَل لِلنّاسِ الانتِفاعُ بِہِ فی غَیبتہِ ؟ فَقالَ : ای والَّذی بَعَثَنی بالنبوةُ انَّھُم یستضیئون نبورِ ولایتہِ فی غیبتہ کانتفاعِ النّاس بالشمسِ وَاِن سَتَرَھا سِحابٌ ، ھذا
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ گزشتہ حوالہ، ص ۴۹۲۔
مِن مکنوُنِ سِرّ اللّٰہِ ومخزونِ عِلم اللّٰہِ فاکتمہُ اِلاَّ عَن اھلہ “ ․ (۱)
          اسی کتاب میں مناقب خوارزمی سے جابر ابن عبد اللہ انصاری سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ رسول خدا (ص) نے مجھ سے فرمایا: اے جابر ! یقینا میرے اوصیاء جو میرے بعد ائمہٴ مسلمین ہیں ان میں سے جو پہلے ہیں علی پھر حسن پھر علی ابن الحسین پھر محمد ابن علی جو باقر کے نام سے مشہور ہیں اے جابر! عنقریب تم ان کا دیدار کرو گے جب تم ان سے ملاقات کرنا تو ان کو میرا سلام کہنا، پھر جعفر ابن محمد پھر موسی ابن جعفر پھر علی ابن موسی، پھر محمد ابن علی پھر علی ابن محمد پھر حسن ابن علی پھر قائم (آل محمد) ہوں گے کہ جو میرے ہم نام ہوں گے اس کی کنیت میری کنیت پر ہوگی وہ محمد ابن حسن ابن علی ہوں گے ، یہ وہ ہیں کہ جن کے دست مبارک سے خداوند تبارک و تعالیٰ زمین کے تمام مشرق و مغرب کو فتح کرے گا ، یہ وہ ہیں جو اپنے اولیاء سے ایک عرصہ تک ایسا غائب ہوں گے کہ ان کی امامت پر صرف وہی لوگ ثابت قدم رہیں گے جن کے دل کا اللہ تعالیٰ نے امتحان لے لیا ہوگا۔
          جابر کہتے ہیں: میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ! کیا آپ کی غیبت کے زمانہ میں لوگ فائدہ اٹھائےں گے؟ فرمایا: ہاں قسم ہے اس خدا کی کہ جس نے مجھے نبوت ے ساتھ مبعوث کیا! وہ لوگ آپ کی غیبت میں آپ کی ولایت کے نور کی ضو سے اس طرح فائدہ اٹھائیں گے جس طرح سورج کو بادل پنہان کرلیتا ہے مگر لوگ پھر بھی سورج کی روشنی سے فائدہ حاصل کرتے ہیں، یہ بات تمام لوگوں کے لیے اسرار الٰہی میں سے ہے اور اللہ کے علم میں مخزون ہے اس کو اس کے غیر اہل سے مخفی رکھو۔
          ۴۷۔ ”وفی نہج البلاغة: قالَ علیٌّ امیر الموٴمنین علیہ السلام : بَلی لا تخلُوا الارضُ مِن قائِمٍ للّٰہِ بحجةٍ امّٰا ظاہِرٌ مَشہُورٌ او خائِفٌ مغموُرٌ“ (۲)
          ”وَعَن التفتازانی قال قالَ علیٌ کَرَّمَ اللّٰہ وَجھَہُ لا تخلوا لارض مِن امامٍ قائِمٍ للّٰہِ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ گزشتہ حوالہ، ص ۴۹۵۔
(۲)۔ نہج البلاغہ، خطبہ۷۔
 بحجةٍ اِمّا ظاہِرٌ مشہُورٌ او خائِفٌ مضمودٌ انتھی ۔“ (۱)
          نہج البلاغہ میں مولا حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب - فرماتے ہیں: ہاں روئے زمین کبھی بھی حجّت خدا سے خالی نہیں ہوتی جو دین خدا کو قائم رکھتی ہے، خواہ وہ امام اور حجّت یا ہر ایک گیارہ اماموں کی طرح ظاہر اور مشہور ہو یا امام عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی طرح خوف زدہ اور پوشیدہ ہو۔
          تفتازانی نے بھی اس حدیث کو حضرت علی کرم اللہ وجھہ سے اسی مضمون کی طرح الفاظ کے مختصر فرق کے ساتھ ذکر کیا ہے۔
          ۴۸۔ ”وفی کتاب المھدی لآیة اللّٰہ السید صدر الدین المعروف بالصّدر(۲) بِاِسنادِہِ عَن عَبدِ الرَّحمنِ بن سمرة قالَ قُلتُ لِلنبی (ص) یا رِسوُلَ اللّٰہِ ارشِدنی اِلیَ النَجاةِ فَقالَ یابنَ سَمَرة اِذا اختلفَ الاھواءُ وَتَفَرَّقَتِ الآراء فَعَلیکَ بِعَلِی بن ابی طالِبٍ فَانَّہ امامُ اُمَّتی وخلیفَتی علیھمِ مِن بَعدی ، الی ان قالَ : وَانَّ منھُم امامُ امَّتی وَسَیّدی شَباب اھل الجَنَّةِ الحَسَن والحُسینُ وَتسعَةٌ مِن ولد الحُسینِ تاسِعُھُم قائِم امَّتی ۔“ (۳)
          آیت اللہ صدر رحمة اللہ علیہ اپنی سند کے ساتھ عبد الرحمن ابن کمرہ سے نقل کرتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں: میں نے پیغمبر اکرم (ص) سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے راہ نجات کی طرف رہنمائی فرمائیں۔ تو فرمایا: اے کمرہ کے بیٹے! جب لوگوں کی ہوائے نفس مختلف ہوجائے اورلوگوں کی رائیں متعدد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ المہدی، سید صدر، ص ۱۰۱۔
(۲)۔ حضرت آیت اللہ العظمی سید صدرالدین صدر منجملہ مراجع تقلید عظام میں سے ایک ہیں جو حضرت آیت اللہ العظمیٰ حائری رضوان اللہ علیہم اجمعین کی رحلت کے بعد تین آیات عظام میں سے تھے۔
(۳)۔ المہدی سید صدر، ص ۱۰۱۔
ہوجائیں تو تمہارے لیے لازم ہے کہ حضرت علی ابن ابی طالب - کے دامن سے متمسک رہو کیونکہ وہ میری امت کا امام اور میرے بعد ان کے لیے میرا جانشین ہے (یہاں تک کہ فرمایا:) اس سے میری امت کے دو امام ایسے ہیں جو جوانان اہل بہشت کے سید و سردار حسن و حسین ہیں اور اولاد حسین میں سے دوسرے نو افراد ہیں کہ جن میں سے نواں میری امت کا قائم، حضرت مہدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) ہے۔
          ۴۹۔ ”وفیہ باسنادہ عن ابن مغازلی عَن ابی امامَةٍ عَنِ النَّبیِ (ص) وَاِنَّہ قالَ الائمِة بَعدی اِثنا عَشَرَ کُلُّھم مِن قرَیشٍ تسعةٌ مِن صُلب الحُسینِ وَالمھدِیُّ مِنھُم “ (۱)
          اسی کتاب میں ابو امامہ نے نبی اکرم (ص) سے روایت کی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا: ”میرے بعد بارہ ائمہ ہیں جو سب کے سب قریش سے ہیں ان میں سے نو افراد اولاد حسین میں سے ہیں اور مہدی بھی ان میں سے ہے۔
          ۵۰۔ ”وفیہ باسنادہ عَن اَبی صالح عَن زَید بِن ثابِتٍ عَنِ النَّبیِ (ص) اِنہ قالَ لا یذھَبُ الدنیا حَتّیٰ یقومَ باَمرامَّتی رَجُلٌ مِن صلبِ الحُسین یملاٴھا ( عَدلاً) کَما ملئت جَوراً قُلنا: مَن ھُوَ؟ قالَ ھُوَ الاِمامُ التاسِعُ مِن ولد الحُسینِ علیہ السلام“(۲)
          اسی کتاب میں ابو صالح سے وہ زید ابن ثابت سے وہ رسول اکرم (ص) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ آنحضرت نے فرمایا: ”دنیا ختم نہیں ہوگی اور اپنی آخری مدت تک نہیں پہنچے گی یہاں تک کہ ایک شخص حسین - کی صلب سے میری امت کے امر کے لیے قیام کرے گا اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھردے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھرچکی ہوگی، میں نے عرض کیا: وہ کون (بزرگوار) ہیں؟ فرمایا: اولاد حسین سے نواں امام ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ المہدی، سید صدر، ص ۱۰۴۔
(۲)۔گزشتہ حوالہ۔
          ۵۱۔ ”وفی تذکرة الاٴمة فی بیانِ اولادِ ابی محمَّدٍ الحَسَن العَسکَری قالَ: مِنھم محمَّدُ الاِمامُ ھُوَ محمَّدُ ابنُ الحَسَنِ بن عَلی بن محمَّد بن عَلی بن مُوسیٰ بن جعَفِر بن محمَّد بِن عَلیّ بن الحُسین بن عَلی بن ابی طالِبٍ وَکنیتہُ ابو عَبِد اللّٰہ وَاَبُو القاسم وَھُوَ الخَلَفُ الحُجةُ صاحِبُ الزَمانِ القائِم والمنتظر والتالی وَھُوَ اخِر الائِمةَ “ (۱)
          صاحب تذکرة الامة حضرت ابو محمد حسن عسکری کی اولاد کے بیان میں رقم طراز ہیں: ان میں سے محمد امام ہے اور وہ محمد ابن حسن ابن علی ابن محمد ابن علی ابن موسی ابن جعفر ابن محمد ابن علی ابن الحسین ابن علی ابن ابی طالب (علیہم السلام) ہیں ان کی کنیت ابو عبداللہ اور ابو القاسم ہے ان کا خلف صالح حجّت، صاحب الزمان، قائم ، منتظر اور قائم ان کے ائمہ میں سے آخری امام ہے۔
          ۵۲۔ ”وفی صحیحة ابی داوٴد عَن عَلیٍ ( سلامُ اللّٰہ عَلیہِ ) عَنِ النَّبیِ (ص) انَّہُ لَو لَم یبق مِنَ الدھرِ اِلاَّ یومٌ لَبَعَثَ اللّٰہ رَجُلاً مِن اھلِ بَیتی یملاءُ ھا عَدلاً کما مُلِئَت جَوراً الحدیث “ (۲)
          کتاب صحیح ابو داؤد میں حضرت علی - نے انہوں نے رسول خدا (ص) سے روایت کی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا: ”اگر زمانہ ایک ہی دن باقی رہے تو اس دن یقینا خداوند متعال میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کو بھیجے گا وہ زمین کو عدل و انصاف سے اسی طرح بھردے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھرچکی ہوگی۔
          ۵۳۔ ”محمّد بن یوسف الکنجی فی کتاب البیان ومحمّد بن طلحة الشافعی فی کتاب مطالب السئول وسبط بن الجوزی فی کتاب تذکرة الائمة والشعرانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ گزشتہ حوالہ، ص ۱۱۶۔
(۲)۔ گزشتہ حوالہ، ص ۷۷، صحیح ابن داؤد، ج۴، ص ۸۷۔
فی الیواقیت والجواہر قالَ: المھدِیُّ مِن ولدِ الامامِ الحَسنِ العَسکَری مَولدُہُ لیلَةُ النِّصفِ مِن شعبان سَنَةَ خمسٍ وخمسینَ وَ مِاٴتَینِ وَھُو باقٍ الیٰ انَ یجتمع لعیسی بن مریمَ علیہ السلام “ (۱)
          محمد ابن یوسف گنجی اپنی کتاب البیان میں ، محمد ابن طلحہ شافعی اپنی کتاب مطالب السوول میں سبط ابن جوزی اپنی کتاب تذکرة الائمة میں اور شعرانی نے اپنی کتاب الیواقیت و الجواہر میں ذکر کیا ہے کہ حضرت مہدی حضرت امام حسن عسکری کی اولاد میں سے ہیں ان کی ولادت باسعادت شب نیمہٴ شعبان سن دو سو پچپن ہجری میں واقع ہوگی وہ زندہ و پائندہ ہیں یہاں تک کہ عیسی ابن مریم امام زمانہ کے ظہور کے وقت باہم جمع ہوں گے۔
          ۵۴۔ ”عن کتاب فصل الخطاب قالَ وَمِن ائمة اہلِ البَیتِ الطَّیبینَ ابوُ محمَّدٍ الحَسن العَسکَری ․․․ الی ان قال : وَلَم یُخْلفِ وَلَداً غَیر اَبی القاسم محمَّدٍ المنتظِر المُسمّیٰ بالقائم والحجةِ والمھدی وَصاحِبِ الزمانِ وَخاتِمِ الائِمةِ الاثنا عَشَرَ ․( عند الامامیة) وَکانَ مَولَد المنتظَرِ لَیلَة النِّصف مِن شعبان سَنَة خمس وخمسینَ وَماٴتَینِ امّہُ امُ وَلَدٍ یقالُ لاٴنھا نرجس توفّی ابوُہُ وَھُوَ ابن خَمسِ سنین فاختفی اِلَی الانِ ، وابو محمَّدٍ الحَسَن العَسکری ، ولدُہُ محمَّدٍ المنتظَرِ المھدی رَضی اللّٰہ عنھُما “ (۲)
          صاحب کتاب فصل الخطاب کہتے ہیں: ائمہٴ اہل بیت طیبین و طاہرین میں سے حضرت ابو محمد امام حسن عسکری ․․․․ ہیں یہاں تک کہتے ہیں کہ: ان کا کوئی فرزند خلف موجود نہیں ہے سوائے ابو القاسم محمد منتظر کے کہ جن کا نام قائم، حجّت، مہدی اور صاحب الزمان ہے، اور بارہ اماموں میں سے آخری امام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔دانشمندان عامہ و مہدی موعود کی طرف رجوع کریں، ص ۶۸، ص ۱۲۱۔
(۲)۔ ینابیع المودة، ج۳، ص ۴۵۱۔
کی ولادت شبِ نیمہٴ شعبان میں دو سو پچپن ہجری میں واقع ہوئی، ان کی مادر گرامی کنیز تھیں جن کا اسم گرامی نرجس خاتون تھا وہ صرف پانچ سال کے تھے کہ ان کے پدر بزرگوار دنیا سے رحلت فرما گئے اور فردوس اعلیٰ کی طرف چلے گئے حضرت اس وقت سے اب تک لوگوں کی نظروں سے غائب ہیں اور وہ ابومحمد امام حسن عسکری - کے فرزند ارجمند حضرت محمد منتظر مہدی (سلام اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین) ہیں۔
          ۵۵۔ ”و فی عقدالدرر فی الباب الثانی عن الحافظ ابی نعیم فی کتابہ صفة المہدی والامام ابی عمر المقری فی سننہ عن عبد اللّٰہ بن عمر قالَ قالَ رَسوُل اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وآلہِ وَسَلَّم یخرجُ رَجُلٌ مِن اھلِ بیتی یواطی اِسمہ اسمی وخلقُہ خُلقی یملاءُ الاَرض قِسطاً وَعَدلًا الحدیث “ (۱)
          کتاب عقد الدرر کے دوسرے باب میں حافظ ابو نعیم سے اپنی کتاب صفة المہدی میں اور امام ابو عمر مقری اپنی کتاب سنن میں عبد اللہ بن عمر سے نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا نے فرمایا: ایک شخص میرے اہل بیت میں سے جس کا نام میرے نام پر ہوگا اور اس کا اخلاق میرا اخلاق ہوگا وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھردے گا۔
          ۵۶۔ ”وفیہ فی الباب المذکور عن الحافظ ابی نعیم فی کتابہ صفة المہدی عن حذیفة بن یمان قالَ قالَ رسوُل اللّٰہ (ص) : لولَم یبقَ مِنَ الدُّنیا اِلاَّ یَوم واحِدٌ لَبَعثَ اللّٰہ رَجُلاً اِسمُہ اسمی وَخُلقُہ خُلقی یُکَنی ابُو عَبدِ اللّٰہِ “ (۲)
          اس کتاب میں حافظ ابو نعیم سے اپنی کتاب صفة المہدی میں حذیفہ ابن یمان سے نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا نے فرمایا: اگر دنیا کا صرف ایک ہی دن باقی رہے تو اس دن یقینا خداوند متعال ایک شخص کو بھیجے گا جس کا نام میرے نام پر ہوگا اور اس کا اخلاق میرا اخلاق ہوگا اس کی کنیت ابو عبداللہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ عقد الدرر، ص ۳۱۔
(۲)۔ گزشتہ حوالہ۔
          ۵۷۔ ”فی ینابیع المودة : فی سورة الدخان <حم وَالْکِتَابِ الْمُبِینِ إِنَّا اٴَنزَلْنَاہُ فِی لَیْلَةٍ مُبَارَکَةٍ إِنَّا کُنَّا مُنذِرِینَ فِیہَا یُفْرَقُ کُلُّ اٴَمْرٍ حَکِیمٍ > :
          عن عبد اللّٰہ بن مسکان عَنِ الباقِرِ والصّادِقِ وَالکاظِمِ ( سَلام اللّٰہ عَلَیہم ) قالُوا:انزَلَ اللّٰہ تبارَکَ وَ تَعالی القرآن فی لیلَةٍ مبارکةٍ وَھِیَ لَیلَةُ القَدرِ انزلَ القرآنَ فیھا اِلی البیتِ المعمُورِ جُملَةً واحَدِةً ثُمَّ انزَلَ مِنَ البَیتِ المعمورُ ، علیٰ رَسُولِ اللّٰہِ (ص) فی طُولِ ثَلاثٍ وَ عشرین سَنَةً یقدِّرُ اللّٰہ کُلَّ امرِ مِنَ الحَقِ والباطِلِ وَما یَکُونُ فی تِلکَ السَّنَةِ وَلَہُ فیھا البَداء والمَشیَّةُ یُقَدم ما یشآءُ ویوٴخِّرَ ما یَشآء مِنَ الآجالِ والارزاقِ وَالاٴمنِ والسَّلامَةِ والعافِیَةِ وَغَیر ذٰلِکَ ، وَیُلقیہِ رَسُولُ اللّٰہ (ص) اِلیٰ امیرِ الموٴمنینَ علیہ السلام وَھُوَ اِلَی الائِمة مِن اولادِہِ عَلَیھِم السَّلامُ حَتّیٰ یَنتھی الیٰ صاحِبِ الزَّمانِ المَھدی علیہ السلام “ (۱)
          ینابیع المودة میں نقل ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قول سورہ دخان میں ذکر ہوا <حم و الکتاب المبین> ”واو“ قسم کے لیے ہے روشن کتاب کی قسم ہے ہم نے اس قرآن کو ایک مبارک رات میں جو شب قدر ہے نازل کیا ہے ہم بے شک ہمیشہ عذاب سے ڈرانے والے تھے اس رات میں تمام حکمت و مصلحت کے امور کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔
          عبد اللہ ابن مسکان امام محمد باقر ، امام جعفر صادق اور امام موسیٰ کاظم (علیہم السلام) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن کو مبارک رات میں نازل کیا اور وہ شب قدر ہے اللہ تعالیٰ نے اس رات تمام قرآن کو بیت المعمور (چوتھے آسمان) پر ایک دفعہ نازل کیا، پھر اسے اللہ تعالیٰ نے بیت المعمور سے رسول اکرم (ص) پر تیئیس سال کی طویل مدت میں (ضرورت
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۲)۔ ینابیع المودة، ج۳، ص ۴۲۸۔
کے مطابق تدریجی طور پر) نازل فرمایا اس سال میں جو امر حق اور باطل واقع ہونے والا ہے اللہ ان کو مقدر فرماتا ہے۔
          اللہ تعالیٰ اس سال کے اندر بدا اور مشیت الٰہی کے ذریعہ زندگی، رزق، امن و سلامتی اور عافیت وغیرہ کے متعلق جس کے لیے چاہتا ہے تقدیم اور تاخیر کرتا رہتا ہے۔
          اور ان مقدّرات کو حضرت رسول اکرم کو عطا کرتا ہے وہ حضرت امیر المومنین کے حوالے کرتے ہیں اور وہ اپنی اولاد کے ائمہ کے سپرد کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ حضرت صاحب الزمان مہدی آل محمد علیہم السلام عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف تک پہنچتا ہے۔
          سورئہ دخان کی پہلی آیت جو حروف مقطعات میں سے شروع ہوتی ہے بعض سوروں کے آغاز میں ذکر ہوئے ہیں مفسرین میں سے قدماء اور متاخرین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے شیخ جلیل طبرسی رحمة اللہ علیہ نے مجمع البیان (۱) میں گیارہ اقوال ذکر کیے ہیں اور اس کے بارے میں مطالب بیان کیے ہیں علامہ طباطبائی رحمة اللہ علیہ نے تفسیر المیزان میں سورہ شوریٰ کی تفسیر میں ضروری تحقیقات کو انجام دیا ہے کہ ان سب کی طرف اشارہ کرنا اس مختصر کتاب کے دائرہ سے خارج ہے، صرف اس قدر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان حروف مقطعات اور دوسرے سوروں کے مضامین میں جن کا اسی سے آغاز ہوتا ہے ایک خاص ربط پایا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ حروف حضرت رسول اسلام (ص) اور خداوند سبحان کے درمیان مخفی اسرار میں سے ہیں کہ جسے عام عقلیں نہیں درک کرسکتیں۔
          ۵۸۔ ”وفی قولہ تعالیٰ : <والسّماءِ ذاتِ البُرُوجِ >
          عَن الاصبَغِ بن نُباتة قالَ سَمِعت ابِن عَبَّاس رَضی اللّٰہ عنھما یقُولُ قالَ رَسُول اللّٰہِ (ص) : انَا السّمآء واَمَّا البُرُوجُ فالائِمةُ مِن اھلِ بیتی وَعِترتی ، اوَّلُھُم عَلیٌّ
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ مجمع البیان، ج۱، ص ۴۰۔
واخرھُم المھدِیُّ وھُم اِثناعَشَرَ علیہم السلام “ (۱)
          قولہ تعالیٰ <والسمآء ذات البروج> :”واو“ قسم ہے، قسم ہے اس آسمان کی جس کے متعدد برج ہیں۔
          اصبغ ابن نباتہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس سے یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا: آسمان سے مراد میں ہوں اور بروج میرے اہل بیت اور میری عترت کے بارہ ائمہ ہیں ان میں سے پہلے حضرت علی اور ان میں سے آخری حضرت مہدی جو بارہویں بزگوار ہیں۔
          ۵۹۔ ”وفیہ نقلاً عَن فَرائِدِ السِمطینِ بِسَنَدِہِ عَن مُجاھِدٍ عَن ابنِ عَبّاسَ رَضِی اللّٰہ عَنھُما قالَ: قَدِمَ یھودِیٌ یقالُ لَہُ نعثل فَقالَ : یا محَمَّدُ اسئلَکَ عَن اشیاء تلجلج فی صَدری مُنذُ حینٍ فاَنِ اجَابَتنِي عَنھا اسلَمتُ عَلی یَدَیکَ ، قال: سَل یا اٴبا عَمارةَ فقالَ: یا محمَّداً صِف لِی رَبَّکَ فَقالَ (ص) لا یُوصَف اِلاَّ بِما وَصَفَ بِہِ نَفَسہُ وَکیفَ یُوصَف الخالِقُ الذی تعجز العقولُ ان تُدرِکَہُ وَالاوھامُ ان تَنالَہُ وَالخطراتُ ان تحِدَہ والابصارُ اَن تحیطَ بہِ جَلّ وَعَلا عمّا یصِفُہ الواصِفونَ نایٴٍ فی قربِہِ وَقَریبٌ فی نائِہِ ، ھُوَ کَیَّفَ الکَیفَ وَایَّنَ الاینَ ، فَلا یقالَ لَہُ : اینَ ھُو وَھُوَ منقعُ الکَیفیةَ وَالاٴینونیّة ھو الاحَد الصَّمد کَما وَصَفَ نفسہُ والواصِفُونَ لا یبلغُون نعتہ ، <لَم یلد وَلَم یُولَد وَلَم یکن لَہُ کُفُواً احَدٌ >، قالَ: صَدَقتَ یا محمَّدَ (ص)
          فَاخبرنی عَن قولکِ انّہُ واحِدٌ لا شَبیہ لَہُ ، الیسَ اللّٰہ واحِدٌ وَالاِنسانُ واحِدٌ؟ فَقالَ (ص) اللّٰہُ عَزَّوَعَلا واحِدٌ حقیقیٌ احَدی المَعنی ، ای لا جزء لَہُ ولا تَرکُب لَہ وَالاِنسانُ واحِدٌ ثُنائیّ المَعنی مَرکَّبٌ مِن روُحٍ وَبَدنِ ، قال : صدَقتَ ، فَاَخبِرنی
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ ینابیع المودة، ج۳، ص ۴۳۰۔
عَن وَصِیَّکَ مَن ھُوَ ؟ فَما من بَنّیٍ الَّا وَلہُ وصیٌّ وانَّ نبینا مُوسیٰ بن عِمران اوصیٰ یُوشع بن نونٍ ، فَقالَ : انَّ وَصیی عَلی بنُ ابی طالِبٍ وَبَعدَہ سبطای الحَسَنُ والحسینُ ، تتلُوہ تسعَةُ ائمّةٍ مِن صُلبِ الحُسین ، قالَ: یا محمَّد فَسَمِّیِھِم لہ ، قالَ اذا مَضَی الحسینُ فَاِبنُہُ عَلیٌ ، فَاِذا مَضی عَلیٌ فابنُہُ محمَّدٌ ، فَاِذا مضیٰ محمَّد فابنُہُ جَعفَرُ، فاِذا مضیٰ جعفَر فابنہُ موسیٰ ، فَاِذا مَضی مُوسیٰ فابنُہُ عَلی ، فاذا مَضی عَلیٌّ فابنہ محمَّد، فاذا مَضیٰ محمدٌ فاِبنہُ عَلیّ ، فاذا مَضیٰ عَلیُّ فابنہُ الحَسَنُ ، فاِذا مَضیٰ الحسَنُ ، فَابنہُ الحجةُ محمَّدُ المہَدی ، فھولاءِ اثناعَشَرَ
          قالَ اخبرنی کیفیّةِ مَوتِ عَلِیٍ والحَسنَ والحُسینِ ؟قالَ (ص): یُقتلُ عَلِیٌ بِضرَبَةٍ مِن قرْنِہِ والحَسَنُ یُقتلَ بِالسّمِ وَالحُسینُ بِالذّبحِ ․ قالَ فَاینَ مَکانُھُم ؟ قالَ فی الجَنَّةِ فی دَرَجَتی ، قالَ اشھَدُ ان لا اِلہَ اِلاَّ اللّٰہ وَانَّکَ رَسوُلُ اللّٰہِ وَاشھَدُ اَنَّھُمُ الاوصیآء بَعدَکَ وَلَقد وَجَدتُ فی کُتُب الانبیآء المتقدِّمةِ وَفیما عَھِدَ اِلینا مُوسیٰ بنُ عِمران علیہ السلام اِنَّہُ اِذا کانَ آخر الزمانِ یخرجُ نبیٌ یقالُ لَہ احمدُ ومحمَّد، ھُوَ خاتِم الانبیاء لا نبیَّ بعدَہُ فیکُونُ اوصیآئہُ بعدَہُ اِثنا عَشَرَ ، اَوَّلُھُم ابن عَمَّہ وختنِہ والثانی والثالِثُ کانا اخَوَینِ مِن وُلدِہِ ویقتل امَّةُ النبی الاوَّلَ بالسَیفِ وَالثانیِ بِسّمِّ وَالثالِثَ مَعَ جَماعَةٍ مِن اھل بیتہِ باِلسَّیفِ وَبالعطشَ فی موضِعٍ الغربةِ فھوُ کولد الغنَمِ یذبَحُ وَیصبرُ عَلَیٰ القتل لرَفعِ دَرَجاتِہ ودَرجاتِ اَھلِ بَیتہِ وَ ذُرِّیَتہِ ولا خراجِ محبیّہِ واَتباعِہِ مِنَ النّارِ وَتسعةُ الاوصیآء منھُم من اولادِ الثالِثِ فَھولآء الاثِنا عَشَرَ عَدَدَ الاسباطِ
          قال (ص): اتَعرِفُ الاسباطَ قالَ نَعَم کانوا اِثنا عَشَرَ اَوَّلُھُم لاوِی بن بَرخِیا وَھُو الَّذی غابَ عَن بنی اسرائیلَ غیبةً ثُمَّ عادَ فَاظھَرَ اللّٰہ بِہِ شَریعَتَہُ بَعد اندرِاسِھا وَقاتَلَ قَرسیطیا الملکَ حَتیٰ قَتَلَ الملِکَ․ قالَ (ص) کائنٌ فی امَتی ما کانَ فی بَنی اسرائیل حذو النعَل بِالنعل والقذة بِالقذَةِ وَانَّ الثانی عَشَرَ مِن وُلدی یَغیبُ حَتیٰ لا یُری وَیاٴتی عَلیٰ امَتی بِزَمنٍ لا یبقی مِنَ الاسلامِ اِلاَّ اِسمُہُ وَلایبقی مِنَ القرآنِ اِلاَّ رسمُہُ فحینئذٍ یاٴذَنُ اللّٰہ تَبارکَ و تعالیٰ لَہُ بالخروُجِ فیظھِر اللّٰہ الاِسلام بِہِ ویُجدَّدُہُ ، طوبیٰ بِمَن احبَّھُمْ وتبعھُمْ والوَیل لِمَن ابغضَھُم وَخالفَھُم وَطوبیٰ لمَن تَمسَّکَ بِھُدٰاھُمْ“ (۱)
          صاحب فرائد السمطین اپنی سند کے ساتھ مجاہد سے روایت کرتے ہیں کہ ابن عباس ناقل ہیں : ایک یہودی پیغمبر اکرم (ص) کی خدمت اقدس میں وارد ہوا جس کا نام نعثل تھا عرض کیا: اے محمد! میں آپ سے چند چیزوں کے بارے میں سوال کرتا ہوں جو دراز مدت سے میرے سینے میں محفوظ ہے اگر آپ اس کا جواب دیں گے تو میں اسلام قبول کروں گا تو آنحضرت نے فرمایا: اے ابو عمارہ! سوال کرو عرض کیا: اے محمد! مجھے اپنے رب کی صفت بیان فرمائیے تو آنحضرت نے فرمایا: اس کی صفت صرف اتنی بیان ہوسکتی ہے جس قدر خود اس نے اپنی صفت بیان کی ہے، وہ پیدا کرنے والے کی توصیف سے کیسے بیان ہوسکتی ہے جس کو پانے سے تمام عقلیں عاجز اور خیالات اس کو حاصل کرنے سے قاصر ہیں نیز تمام قلبی خطورات اس کو محدود یا اس کی تعریف نہیں کرسکتے نہ ہی آنکھیں اس کا احاطہ کرسکتی ہیں جس قدر اس کی صفت بیان کرنے والے بیان کرتے ہیں وہ اس سے بزرگ و برتر ہے، وہ دور ہونے کے باوجود قریب ہے قریب ہونے کے باوجود دور ہے کیف الکیف اور این الاین ہے اس نے کیف کو کیف بنایا اور کہاں کو کہاں اس نے بنایا، اللہ تعالیٰ واحد حقیقی احدی المعنی ہے وہ ہر جگہ ہے اور تمام چیزوں پر احاطہ کیے ہوئے ہے جس طرح اس نے اپنی توصیف کی ہے وصف بیان کرنے والے اس
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ فرائد السمطین، ج۲، ص ۳۱۸۔
کی صفت کی کنہ اور حقیقت تک نہیں پہنچ سکتے
          ”اس کی نہ کوئی اولاد ہے اور نہ ہی والد اور نہ اس کا کوئی کفوو ہمسر ہے
          یہودی نے عرض کیا: اے محمد! آپ نے سچ فرمایا اب مجھے اپنے اس فرمان سے باخبر کیجیے کہ جس میں آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ یکہ وتنہا ہے اس کا کوئی شبیہ و نظیر نہیں ہے کیا اللہ ایک نہیں اور انسان بھی ایک نہیں؟ تو آنحضرت نے فرمایا: خدائے عزوجل۱ حد حقیقی ہے ایک سے زیادہ معنی نہیں ہے یعنی نہ اس کے لیے کوئی جزء ہے اور نہ ہی اس کے لیے مرکب ہوتا ہے۔ انسان کا ایک ہونا ثنائی المعنی کے اعتبار سے ہے جو روح اور بدن سے مرکب ہے۔
          عرض کیا: آپ نے سچ فرمایا: اے محمد! مجھے اپنے وصی کے بارے میں آگاہ فرمائیے وہ کون ہے؟ کیونکہ ہر آنے والے نبی کا ایک وصی ہوا کرتا ہے ہمارے نبی موسی بن عمران نے یوشع بن نون کو اپنا وصی قرار دیا تھا آنحضرت نے فرمایا: میرے وصی علی ابن ابی طالب - ہیں آپ کے بعد میرے دو سبط ہیں وہ حسن - و حسین - ہیں آپ کے ساتھ ساتھ نو امام، حسین - کے صلب سے پیدا ہوں گے۔
          عرض کیا: اے محمد! مجھے ان کے اسمائے گرامی سے آگاہ فرمائیے؟ تو آنحضرت نے فرمایا: جب حسین دنیا سے رخصت ہوجائیں گے تو آپ کے فرزند علی - امام ہوں گے جب آپ رخصت ہوجائیں گے تو آپ کے فرزند محمد - ہوں گے جب محمد - تشریف لے جائیں گے تو آپ کے فرزند جعفر - ہوں گے جب جعفر - تشریف لے جائیں گے تو آپ کے فرزند موسیٰ - ہوں گے جب موسی - تشریف لے جائیں گے تو آپ کے فرزند علی - ہوں گے جب علی - تشریف لے جائیں تو آپ کے فرزند محمد - ہوں گے جب محمد   - تشریف لے جائیں گے تو آپ کے فرزند علی - ہوں گے جب علی - تشریف لے جائیں گے تو آپ کے فرزند حسن - ہوں گے جب حسن - تشریف لے جائیں گے تو آپ کے فرزند حجّت خدا محمد مہدی - (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ) ہوں گے پس میری امت کے یہ میرے بارہ اوصیاء اور ائمہ ہیں۔
          عرض کیا: مجھے علی - ، حسن - اور حسین - کی موت کے بارے میں آگاہ فرمائیے؟ تو آنحضرت نے فرمایا: علی - ایک ( زہر آلود) شمشیر کی ضربت سے اور سر مبارک شکافتہ شدہ قتل اور شہید کیے جائیں گے حسن - کو زہر سے قتل کیا جائے گا اور حسین - کو ذبح کرکے ان کا سربدن سے جدا کرکے شہید کیا جائے گا۔
          یہودی نے عرض کیا: ان کا ٹھکانہ کہاں ہے؟ آنحضرت نے فرمایا: جنت میں میرے درجے میں ہوں گے تو پھر یہودی نے عرض کیا: میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا ئے وحدہ لاشریک کے علاوہ کوئی خدا نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ حضرات آپ کے بعد آپ کے اوصیاء ہیں۔
          خدا کی قسم ! ان سب کا ذکر گزشتہ انبیاء کی کتابوں میں موجود ہے اور ہم لوگوں سے اس بات کا موسی ابن عمران نے بھی عہد لیاتھا کہ جب آخری زمانہ آئے گا تو ایک نبی تشریف لائیں گے کہ جن کا نام احمد اور محمد ہوگا۔ وہ انبیاء کے خاتم ہوں گے آپ کے بعدکوئی نبی نہیں ہوگا آپ کے بعد بارہ اوصیاء ہوں گے پہلا وصی آپ کے چچا کا بیٹا ہوگا جو آپ کا داماد بھی ہوگا۔ دوسرا اور تیسرا وصی دو بھائی ہوں گے جو آپ کے فرزند ہوں گے پہلے کو یعنی علی ابن ابی طالب کو نبی کی امت تلوار سے دوسرے کو زہر سے تیسرے کو آپ کے اہل بیت کی ایک جماعت کے ساتھ تلوار سے پیاس کے حالت میں عالمِ مسافرت میں گوسفند کے بچے کی طرح ذبح کرے گی۔ (اس کے باوجود) آپ قتل پر صبر کریں گے تاکہ آپ کے اہل بیت کی اولاد کے درجات بلند ہوں اور اپنے دوستوں اور اتباع کرنے والوں کو آتش جہنم سے نجات دے سکیں۔ نو امام اس تیرے (امام حسین -) کی اولاد سے پیدا ہوں گے جو اسباط کی عدد کے برابر مجموعی طور پر بارہ ہیں۔ پھر حضرت رسول اکرم (ص) نے دریافت فرمایا: کیا تم اسباط کو جانتے ہو؟ عرض کیا: ہاں وہ بارہ حضرات تھے ان میں سے پہلا شخص لاوی بن برخیا تھا۔ یہ وہ شخص ہیں جو ایک عرصہ تک بنی اسرائیل سے غائب تھے پھر واپس تشریف لائے تھے اللہ تعالیٰ نے اپنی شریعت کے مٹ جانے کے بعد ان کے ذریعہ ظاہر کیا تھا اس نے قرسطیا بادشاہ کو قتل کیا تھا۔
          آنحضرت (ص) نے فرمایا: میری امت میں ہوبہو ایسا ہونے والا ہے جس طرح بنی اسرائیل میں جو کچھ واقع ہوا تھا۔ اور یہ کہ میرے فرزندوں میں سے گیارہواں فرزند غائب ہوجائے گا اور دکھائی نہیں دے گا۔
          میری امت پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اسلام کا صرف نام (یعنی اس کے دستورات و احکام پر عمل نہیں کیا جائے گا) باقی رہ جائے گا اور قرآن صرف رسمی طور پر باقی رہے گا (یعنی اس کی جلد سونے کے پانی سے کتابت اور اس کے رسم الخط کو لوگ اہمیت دیں گے لیکن اس کے مضمون ، دستورات زندگی اور احکام و قوانین کی کسی بھی حیثیت سے کوئی خبر نہ ہوگی۔
          اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے زمانہ کے ولی اعظم امام عصر (سلام اللہ علیہ) کو خروج کے لیے اجازت دے گا، اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اسلام کو (تمام دنیا میں) ظاہر اور غائب کرے گا اور ظلم و جور کا روئے زمین سے خاتمہ ہوگا اور عدل و انصاف پھیل جائے گا آنحضرت نے فرمایا: اس شخص کے لیے خوش خبری ہے جس نے ان حضرات کو دوست رکھا اور ہر حالت میں ان کا تابع فرماں رہا۔
          اور اس شخص کے لیے ہلاکت ہے جس نے ان سے دشمنی رکھی اور ان کی مخالفت کی اور اس شخص کے لیے خوش خبری ہے کہ جس نے ان کے دامن سے وابستگی رکھی اور ان کی راہ ہدایت پر گامزن رہا۔
          اللّٰھم وفّقنا لما تحبّ و ترضی وثبّتنا علی ولایتھم وھدایتھم واحشرنا معھم فی الدنیا والآخرة بفضلک واحسانک یاکریم
          اے خدا! ہمیں ان چیزوں کی توفیق دے جس کو تو دوست رکھتا ہے اور اس سے راضی ہے اور ہمیں ان کی ولایت اور راہ ہدایت پر ثابت قدم رکھ اور ہمیں اپنے فضل اور احسان کے ذریعہ دنیا اور آخرت میں ان کے ساتھ محشور فرما اے رب کریم! آمین۔
          ۶۰۔ ”وفیہ : عَن جابِرِ بن یزَیدِ الجفعی قالَ قُلتُ لِلباقرٍ ( سَلام اللّٰہ عَلَیہِ ) یا بنَ رَسوُل اللّٰہِ انَّ قوماً یقولونَ اِنَّ اللّٰہ تعالیٰ جَعَلَ الاِمٰامة فی عَقِبِ الحَسَن علیہ السلام رَضِیَ اللّٰہ عنہ قالَ یا جابِر اِنَّ الائمةَ ھُمُ الذین نَصَّ علَیھم رَسوُل اللّٰہ (ص) بِاِمامتِھم وَھُم اثنا عَشَر وَقالَ لَمّا اسرِی بی الَی السَمآء وَجَدتُ اسمائُھم مَکتوبةٌ عَلی ساقِ العَرشِ بالنّورِ ، اِثنا عَشَرَ اسِماً اَوَّلُھُم عَلی وَسِبطاہُ وَ عَلیٌ وَمحمدٌ وَ جَعفَر وَمُوسیٰ وَعَلِیٌ وَمَحمّدٌ وَعَلیٌ وَالحَسَنٌ وَمَحمَّدٌ القائمُ الحجةُ المَھدی علیہم السلام۔“ (۱)
          اسی کتاب میں جابر ابن یزید جعفی کا بیان ہے کہ میں نے حضرت امام محمد باقر   - سے عرض کیا: اے رسول خدا (ص) کے فرزند! ایک قوم کے لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے امامت کو امام حسین - کے عقب (نسل) میں قرار دیا ہے۔آنحضرت نے فرمایا: اے جابر! یقینا ائمہ وہ لوگ ہیں جن کی امامت کی رسول خدا (ص) نے تصریح کی ہے اور معین فرمایا ہے وہ بارہ حضرات ہیں۔ آنحضرت نے فرمایا:جب مجھے آسمان (معراج) پر لے جایا گیا تو میں نے ان حضرات کے ناموں کو ساق عرش پر نور سے لکھا ہوا دیکھا وہ بارہ نام تھے ان میں پہلا نام علی کا تھا اور آپ کے دونوں فرزندوں کا تھا، علی، محمد، جعفر، موسیٰ، علی، حسن اور محمد قائم حجّت مہدی علیہم السلام کے اسمائے گرامی تھے۔
          ۶۱۔ ” و فیہ نقلاً عَنِ المَناقِب عَن واثلةِ بن الاسقَعِ بن فَرخابَ عَن جابِرِ بن عَبدِ اللّٰہِ الانصاری قالَ دَخَلَ جندَلُ بن جُنادَةِ بن جُبَیر الیَھوُدی عَلیٰ رَسُولِ اللّٰہِ (ص) فَقال یا محمّد (ص) اخبرنی عَمّا لَیسَ للّٰہِ وَعَمّا لَیسَ عندَ اللّٰہِ وَعَمَّا لا یعلمُہُ اللّٰہُ ؟ فَقالَ (ص) امّا ما لَیس للّٰہِ لَیسَ للّٰہِ شَریکٌ وَاَمَّا ما لَیسَ عِند اللّٰہِ ، فَلَیسَ للّٰہِ عِند اللّٰہِ ظُلمٌ للعِبادِ وَامّا ما لا یعلَمُہُ اللّٰہ فَذلِکَ قولُکُم یا معشَرَ الیھودِ انَّ عزیز ابن اللّٰہِ وَاللّٰہِ لا یعَلَم اَنّ لہُ وَلداً بَل یعَلم اٴنّہُ مخلوقُہُ وَ عَبدُہُ ، فَقالَ: اشھَدُ ان لا اِلہ الاَّ اللّٰہَ
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ینابیع المودة، ج۳، ص ۴۲۷۔
وَانّکَ رَسُولُ اللّٰہِ حَقاً وَصِدقاً “۔
          ثُمَ قالَ انّی رایتُ البارِحَةَ فی النومِ مُوسیَ بنَ عِمرانَ علیہ السلام فَقالَ یا جُندَل اٴسلم عَلیٰ یدِ محمَّدٍ خاتم الانبیاء واستمسک اوصیائہ من بعدہ ، فقلت اٴسلم ، فللہ الحمد اسلمت وھدانی بک ثُمَّ قالَ اخبِرنی یا رَسُولَ اللّٰہِ عَن اوصیآئِکَ مِن بَعدِکَ لاٴتمَسِکَ بھِم قالَ اوصیآئی الا ثنا عَشَرَ قالَ جندل ھکذا وَجَدناھُم فی التَوراةِ   وَ قالَ : یا رَسُولَ اللّٰہِ سَمِّھِم لی ، فَقالَ : اوّلھُم سَیّد الاوصیآء ابو الائِمةِ عَلی علیہ السلام ثُمَ ابناہُ الحَسَن وَالحُسَین فاستمسِکْ بھِم وَلا یُغَرنَکَ جھلُ الجاھِلینَ ، فَاذِا وُلدِ عَلِِیّ بن الحُسینِ زَینُ العابِدینَ یقضی اللّٰہ عَلیکَ وَیَکُوُنُ آخِر زادِکَ مِنَ الدُّنیا شَرَبةً لَبَنٍ تَشربُہَ فَقالَ جُندَلُ وَجَدنا فی التَوراةِ وَفی کُتُبِ الانبیآء علیہم السلام ایلیا وَ شَبَّراً وشُبیراً ، فَھذہِ اسمُ عَلیٍ و الحَسَن والحُسینَ ، فَمَن بعد الحسین ؟ فَما سامیھم ؟ قالَ اذا انقضَت مدة الحُسین فالاِمامُ ابنہ عَلِیٌ ویلقَّب بزینِ العابدینَ فَبعدَہ ابنہُ محمَّد یلقَّبُ بِالباقِرِ ، فبعَدہُ ابنُہُ جَعفَرُ یُدعیٰ بِالصَّادِقِ فبَعدہُ ابنہُ موسیٰ یدعیٰ بالکاظِمِ فَبَعدہُ ابنہُ عَلِیٌ یدعیٰ بالرّضا فَبَعدہ اِبنہ محمَّد یدعیٰ بالتقیِ والزکیّ فَبَعدُہُ اِبنہُ علیٌ یُدعیٰ بالنَّقی والھادی فَبعدہُ اِبنُہُ الحَسَنُ یدعیٰ بالعَسکَری ، فبعدَہ اِبنہُ محمدٌ یدعیٰ بالمھدِیِ والقائِمِ والحُجَّةِ فَیَغیبُ ثُمَ یخرجُ فاَذِا خَرَجَ یملاءُ الاَرض قِسطاً وَ عَدلاً کَما ملئت جوراً و ظلماً طوبی للصّابرینَ فی غیبتہ طُوبی للمُقیمینَ عَلیٰ حجتِہِم اولئک الذینَ وَصفَھُم اللّٰہ فی کِتابِہِ وَ قالَ : <ھَدیً للمتقینَ الذینَ یوٴمِنونَ بِالغَیبِ > ثُمَ قالَ تعالیٰ : <اولیک حِزبُ اللّٰہِ الا اِنَّ حِزب اللّٰہِ ھُمُ الغالِبُونَ >․ فقالَ جندلُ الحمد للّٰہِ الَّذی وفقَنی
 
بِمعرِفتھِم “ (۱)
          اسی کتاب میں مناقب سے واثلہ ابن اسقع بن فرخاب جابر ابن عبد اللہ انصاری سے نقل کرتے ہیں کہ جندب ابن جنادة ابن جبیر نامی یہودی حضرت رسول خدا (ص) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے محمد! مجھے خبر دیجیے کہ وہ کون سی چیز ہے جو اللہ کے لیے نہیں ہے؟ اور وہ کون سی شے ہے جو اللہ کے پاس نہیں ہے اور وہ کون سے چیز ہے جس کو اللہ تعالیٰ نہیں جانتا؟ تو رسول خدا (ص) نے فرمایا: وہ چیز جو اللہ کے لیے نہیں ہے تو خدا کے لیے شریک نہیں ہے اور جو شے خدا کے پاس نہیں ہے تو وہ ظلم نہیں ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا اور وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نہیں جانتا وہ یہ ہے کہ اے گروہ یہود! وہ تمہارا قول ہے کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے البتہ اللہ تعالیٰ نہیں جانتا کہ اس کے لیے کوئی فرزند ہو بلکہ اللہ تعالیٰ یہ جانتا ہے کہ عزیر اس کی مخلوق اور اس کا بندہ ہے ۔ یہودی نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا خدا نہیں ہے اور آپ اللہ کے برحق اور سچے رسول ہیں۔
          اس کے بعد اس نے کہا: میں نے کل رات موسی ابن عمران کو عالم خواب میں دیکھا تھا تو انہوںنے مجھ سے فرمایا: اے جندل! تم محمد خاتم الانبیاء کے دست مبارک پر اسلام لاؤ اور ان کے بعد ہونے والے اوصیاء کے دامن سے متمسک رہو، میں نے عرض کیا: اللہ کا شکر ہے کہ میں اسلام لایا ہوں اور آپ کے ذریعہ مجھے ہدایت دی گئی۔
          پھر اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اپنے اوصیاء کے بارے میں آگاہ فرمائیے تاکہ میں ان سے تمسک اختیار کرسکوں، آنحضرت نے فرمایا: میرے اوصیاء بارہ ہیں، جندل نے عرض کیا: اسی طرح ہم لوگوں نے توریت میں دیکھا ہے جس طرح آپ نے فرمایا۔
          اور عرض کیا: اے رسول خدا (ص)! ان حضرات کے ناموں سے مجھے آگاہ فرمائیے۔ تو فرمایا: ان
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ گزشتہ حوالہ، ج۳، ص ۲۸۴۔
میں سے پہلے اوصیاء کے سید و سردار ہیں اور تمام ائمہ کے باپ علی (ابن ابی طالب) ہیں پھر آپ کے دونوں فرزند حسن - و حسین - ہیں۔
          لہٰذا ان کے دامن سے وابستگی اختیار کرو کہیں تم کو جاہلوں کی جہالت مغرور و گمراہ نہ کردے، جب علی ابن الحسین زین العابدین پیدا ہوں گے اللہ تعالیٰ مجھے موت دے گا تیری دنیا کی آخری خوراک دودھ کا ایک گھونٹ ہوگا جس کو تو پیے گا۔
          اس کے بعد جندل نے عرض کیا: ہم لوگوں نے توریت اور انبیاء علیہم السلام کی کتابوں میں اسی طرح ایلیا، شبر و شبیر کا نام دیکھا ہے یہ نام علی -، حسن -، حسین - کے ہیں۔ حسین - کے بعد کون حضرات ہوں گے؟ ان کے نام کیا ہیں؟ آنحضرت نے فرمایا: جب حسین - کی زندگی ختم ہوجائے گی تو ان کے فرزند علی - امام ہوں گے جن کا لقب زین العابدین - ہے آپ کے بعد آپ کے فرزند محمد - امام ہوں گے جن کا لقب باقر   - ہے آپ کے بعد آپ کے فرزند جعفر - امام ہوں گے کہ جن کا لقب صادق   - ہے آپ کے بعد آپ کے فرزند موسیٰ   - امام ہوں گے جن کو کاظم کہا جاتا ہے، آپ کے بعد آپ کے فرزند علی - ہوں گے کہ جن کو رضا - کہا جاتا ہے آپ کے بعد آپ کے فرزند محمد - امام ہوں گے جن کو تقی اور ذکی   - کہا جاتا ہے، آپ کے بعد آپ کے فرزند علی - ہوں گے جن کو نقی اور ہادی - کہا جاتا ہے آپ کے بعد آپ کے فرزند حسن - ہوں گے جن کو عسکری - کہا جاتا ہے، آپ کے بعد آپ کے فرزند محمد - ہوں گے جن کو مہدی ، قائم اور حجّت - کہا جاتا ہے پھر لوگوں کی نظروں سے جب تک خدا چاہے گا غائب ہوں گے پھر اپنے پروردگار کی اجازت سے خروج فرمائیں گے جب خروج فرمائیں گے تو جس طرح زمین ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی اسی طرح اس کو عدل و انصاف سے بھردیں گے۔
          آپ کی غیبت میں صبر کرنے والوں کے لیے خوش خبری ہے ان حضرات سے محبت کرنے والے پرہیز گاروں کے لیے خوش خبری ہے یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کی تعریف اللہ نے اپنی کتاب میں کی ہے اور کہا ہے: ”قرآن صاحبان تقویٰ اور پرہیز گاروں کے لیے مجسمہٴ ہدایت ہے جو لوگ غیب پر ایمان رکھتے ہیں“ پھر فرمایا: یہی خدا کا گروہ ہے اور جان لو کہ خدا کا گروہ ہمیشہ غالب ہے“ پھر جندل نے کہا: اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے ان حضرات کی معرفت کی توفیق مرحمت فرمائی۔ (۱)
                   ۶۲۔ ”و فی الدرر الموسویة (۲) قال محمّد بن محمّد بن محمود الحافظ البخاری المعروف بخواجہ پارسا فی حاشیتہ علی ہامش کتابہ فصل الخطاب عند ذکرہ ولا دة المھدی (علیہ السلام) ما لفظہ : انَّ الاحادیثَ فی ھذا البابِ فوقَ حَدِّ الاحصاء وَ مَناقِب المھَدی رَضِی اللّٰہ عنہُ صاحِبُ الزمانِ الغائب عَنِ العَیانِ الموجودُ فی کُلِ الاٴزمانِ کثیرة مُتَظافِرةٌ والاخبارُ فی ظھُورہِ وَشوارِقِ نُورِہِ وتجدید الشَّریَعةِ المحمَّدیةَ و مجاھَدَتہِ فی اللّٰہ حق جھادِہِ وَتطہیر الاقطارِ مِن سائِرِ الادناس مقطوُعٌ بِہِ وَاصحابُہُ قَد خَلَصُوا مِنَ الرَّیبِ وَسَلمُوا مِنَ العَیبِ وَاخَذَوا طَریق الھِدایَةَ وَسَلکُوا مِن طَریقِ الحَقِ الیِ التحقیق وَبِہِ ختمَتِ الخِلافةُ والاِمامة وَھُوَ اِمامٌ منذُ وَفاةِ ابیہِ اِلیٰ یومِ القیامةَ وَعیسیٰ علیہ السلام یُصلی خَلفَہ ویُصدِّقُہُ ویدعُوا النّاس اِلیٰ مِلَّتِہِ وَ ھِیَ مِلَّةُ النّبی (ص) ۔“ (۳)
          صاحب الدّرر الموسویہ کہتے ہیں : محمد ابن محمود حافظ بخاری جو خواجہ پارسا کے نام سے مشہور ہیں اپنی کتاب فصل الخطاب میں اپنی برہان نامی کتاب کے حاشیہ میں حضرت مہدی (عجل اللہ فرجہ الشریف)
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ وہ اس کے بعد زندہ رہا یہاں تک کہ حضرت علی ابن الحسین امام زین العابدین - کی ولادت ہوئی پھر وہ طائف گیا اور وہاں وہی دودھ پیا اور کہا: پیغمبر خدا (ص) نے مجھ سے فرمایا تھا کہ زندگی میں تمہاری آخری خوراک دودھ کا ایک گھونٹ ہوگا وہاں اس کا انتقال ہوا اور طائف کے زارہ نامی مشہور محلہ میں دفن ہوا اور رحمت و رضوان خدا سے جاملا۔
(۲)۔ الدرر الموسویہ فی شرح الجعفریة۔
(۳)۔ المہدی، سید صدر رحمة اللہ علیہ، ص ۱۰۶۔
 کی ولادت کے متعلق گفتگو کرتے ہیں اس بیان سے کہ اس باب میں موجودہ احادیث بے حد و حصر ہیں اور حضرت مہدی صاحب الزمان کے فضائل و مناقب ہر زمانہ میں بہت زیادہ ہیں وہ لوگوں کی نظروں سے غائب ہیں ان کے ظہور کے بارے میں ان کے نور کے چمکنے اور شریعت محمدیہ کی تجدید کرنے نیز ان کی راہ خدا میں خدمات انجام دینے اور وہ تمام دنیا کی ناپاکیوں کو بلا شک و شبہ یقینا پاک کریں گے اور ان کے اصحاب کرام ہر شک و شبہ سے خلاص اور تمام عیوب سے سالم ہیں انہوں نے راہ ہدایت کو اپنایا ہے اور راہ حق سے تحقیق و یقین کی منزل تک پہنچے ہیں ان بزرگوار کے ذریعے خلافت و امامت کا سلسلہ ختم ہوا ہے اور وہ اپنے والد گرامی کی وفات کے وقت سے صبح قیامت تک امام زمانہ ہیں۔ حضرت عیسیٰ ان کے پیچھے ان کی اقتدا میں نماز پڑھیں گے ان کی تصدیق کریں گے اور تمام لوگوں کو ان کی قوم وملت کی طرف دعوت دیں گے اور وہ قوم و ملت نبی اکرم (ص) کی قوم و ملت ہے۔
          محمد ابن محمد ابن محمود حافظ بخاری جو خواجہ پارسا کے نام سے مشہور ہیں انہوں نے کتاب فصل الخطاب کے اپنے حاشیے میں حضرت بقیة اللہ الاعظم مہدی موعود (عجل اللہ فرجہ الشریف) کے بارے میں بعض مطالب ذکر کیے ہیں ضمنی طور پر ان کے ظہور نیز ان کے نور کے چمکنے اور شریعت محمدیہ کی تجدید وغیرہ کے بارے میں اشارہ کیا ہے، مولف بعنوان حسن اختتام ان میں ہر ایک سے دو حدیث بطور تبرک نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں اور یہ کہ پہلی فصل میں جو عنوان ذکر ہوا ہے کہ جس طرح قرآن کریم آخری آسمانی کتاب ہے حضرت بقیة اللہ الاعظم(عجل اللہ فرجہ الشریف) بھی آخری اوصیاء میں سے ہیں ہم اس بحث کو یہیں ختم کرتے ہیں۔
          ۶۳۔ ”و فی عقد الدرر فی الباب الثانی عَن عَبدِ اللّٰہِ بْن عُمَر قالَ قالَ رَسُول اللّٰہِ (ص) : یَخْرُجُ فی آخِرِ الزّمانِ رَجُلٌ مِنْ وُلْدی اسْمُہُ کَاسمِی وَکُنْیَتُہُ کَکُنْیَتی یَملَاُ
 
الْارْضَ عَدْلاً کَما مُلِئَت جَوْراً “۔ (۱)
          عبد اللہ ابن عمر نقل کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (ص) نے فرمایا: ایک شخص آخری زمانہ میں میری اولاد میں سے خروج کرے گا اس کا نام میرے نام پر ہوگا (محمد) اور اس کی کنیت (ابو القاسم) ہے زمین کو عدل و انصاف سے بھردے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھرچکی ہوگی۔
          ۶۴۔ ”وفی ینابیع المودة عَنْ مِشْکوةِ المَصابیح عَنْ صحیح مُسْلِم ومُسْنَدِ احْمَد عَن جابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہ قال قالَ رَسُولُ اللّٰہ (ص) : یَکوُنُ فی آخِرِ الزّمانِ خَلیفَةٌ یُقَسِّمُ المال وَلا یَعُدُّہُ ․ وَفی رِوایة یَکوُنُ فی آخِرِ اُمَّتی خَلیفَة یُحْثِی المالَ حثاً وَلا یَعَدُّہُ عَدّاً “ (۲)
          جابر ابن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت رسول اکرم (ص) نے فرمایا: آخری زمانہ میں ایک خلیفہ آئے گا جو مال کو تقسیم کرے گا اور اس کو شمار نہیں کرے گا۔ اور دوسری روایت میں ذکر ہوا ہے کہ میری امت کے آخر میں ایک خلیفہ ہوگا جو مال مٹھی بھر بھر کے تقسیم کرے گا اور کو شمار نہیں کرے گا۔ یعنی امام زمانہ - کے مقدس اور بابرکت وجود سے اتنی فراوانی ہوگی کہ عطا و بخشش بے شمار ہوگی۔
          ۶۵۔ ”وفیہ : عن فرائد السمطین عَنِ الْحَسَن بْنِ خالِدٍ عَنْ اَبی الْحَسَن عَلیِّ بن مُوسیٰ الرِّضا علیہ السلام فی حَدیثٍ ذَکَر فیہِ الْمَھدیَّ وغَیْبَتَہُ وَانَّہُ الرّابعُ مِنْ وُلْدِہِ الی ان قال وَھُوَ الّذی ینادی مُنادٍ مِنَ السّماءِ یَسْمَعُہُ جَمیعُ اَھْلِ الارْض : اَلا اِنَّ حُجَّةَ اللّٰہِ قَدْ ظَھَرَ عِنْدَ بَیْتِ اللّٰہِ فاَتّبِعُوہُ فاِنَ الحقَ فیہِ وَمَعَہُ الحدیث“ (۳)
          اسی کتاب میں فرائد السمطین سے حسن ابن خالد سے ایک روایت حضرت ابو الحسن علی ابن موسی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ المہدی، سید صدر، ص ۲۰۶۔
(۲)۔ ینابیع المودة، ج۳، ص ۴۳۰۔
(۳)۔ ینابیع المودة، ج۳، ص ۴۴۸۔
الرضا سے ذکر ہوئی ہے جس میں ایک حدیث کے ضمن میں حضرت مہدی اور ان کی غیبت کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے اور یہ کہ وہ حضرت امام رضا   - کے چوتھے فرزند ہیں یہاں تک کہ فرمایا: آپ وہ ہیں جن کے لیے آسمان سے ایک آواز دینے والا اس طرح آواز دے گا کہ جس کی آواز کو تمام زمین و والے سنیں گے: اے لوگو! خبردار ہوجاؤ اللہ کے گھر کے پاس حجّت اللہ ظاہر ہوگئے ہیں لہٰذا ان کی پیروی کرو یقینا حق ان میں ہے اور ان کے ساتھ ہے۔
          ۶۶۔ ”فی ینابیع المودة : عن فرائد السمطین عن سعَید بْنِ جُبیر عَن ابنِ عَباس قالَ: قالَ رَسُولُ اللّٰہ (ص) :” اِنَّ خُلَفائی اوصیآئی حُجَجُ اللّٰہُ عَلَی الخلقِ بَعدیِ اثنا عَشَرَ ، اولُھُم عَلیٌ وَآخِرِھُمُ وَلَدی المھدیُّ ، فینزِلُ رُوح اللّٰہِ عیسیٰ بنُ مریمَ فیصلّی خَلفَ المہدی ، وتَشرقُ الارض بنورِرَبّھا وَیبلغُ سُلطانہُ المشرِقَ والمغرِب“ (۱)
          ینابیع المودة میں فرائد السمطین سے سعید ابن جبیر سے وہ ابن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (ص) نے فرمایا: یقینا میرے خلفاء اور اوصیاء میرے بعد مخلوق خدا پر خدا کی حجّت ہیں جو بارہ ہیں ان میں کا پہلا علی - ہے اور ان میں کا آخر میرا بیٹا مہدی ہے کہ روح اللہ حضرت عیسی ابن مریم جب آسمان سے نازل ہوں گے تو ان کے پیچھے ان کی اقتداء میں نماز پڑھیں گے زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی حضرت مہدی کی سلطنت مشرق اور مغرب میں ہوگی۔
          ۶۷۔ ”وما رواہ الشیخ الجلیل علیّ بن ابراہیم القُمیۺ فی تَفسیرہِ مسنَداً عَنِ المُفضَّل بن عمَرۺ انّہُ سَمعَ ابا عَبد اللّٰہ علیہ السلام یقُولُ فی قولِ اللّٰہ تعالیٰ <واشرقَتِ الارضُ بنورِ رَبّھا > قالَ رَبُّ الارضِ یَعنی اِمامُ الارضِ ، قُلتُ فَاِذا ؟
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ گزشتہ حوالہ، ص ۴۴۷۔
خَرَجَ یکُون ماذا قالَ علیہ السلام اَذاً استغنی الناسُ عَن ضوء الشَّمسِ وَنُور القَمَر ویجتزُون بِنورِ الاِمام“ (۱)
          شیخ جلیل علی ابن ابراہیم قمی نے اپنی تفسیر میں مفضل ابن عمر سے اپنی سند کے ساتھ روایت کی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے امام جعفر صادق   - کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: کلام خدا اور (واشرقت الارض بنور ربھا) (اور جب زمین اپنے پروردگار کے نور سے روشن ہوجائے گی) کی تفسیر میں فرمایا: رب الارض یعنی روئے زمین پر امام مراد ہیں، میں نے عرض کیا: جس زمانہ میں وہ خروج کریں گے تو کیا ہوگا؟ فرمایا: اس وقت لوگوں کو آفتاب کی روشنی اور نور ماہتاب کی ضرورت نہ رہے گی اور لوگ نور امام پر اکتفا کریں گے۔
          ۶۸۔ ”وما رواہ العالم الکامل المجلسیۺ فی البحار عَن المفضّلِ ایضاً قال: سمعتُ ابا عَبدِ اللّٰہ علیہ السلام یقُولُ : انّ قائِمنا اِذا قامَ اشرَقتِ الارضُ بنُور رَبّھا واستغنیَ العبادُ عَن ضوء الشَّمسِ و ذھَبَتِ الظلامةُ “ (۲)
          اس حدیث کو عالم کامل علامہ مجلسی نے بحار میں مفصل طور سے نقل کیا ہے کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ اُنہوں نے امام جعفر صادق   - کو یہ کہتے ہوئے سنا: یقینا جب میرا قائم ظہور کرے گا تو زمین اپنے پروردگار کے نور سے روشن و منور ہوجائے گی اور بندگان خدا کو آفتاب کی روشنی کی ضرورت نہ رہے گی نیز تمام تاریکیاں ختم ہوجائیں گی۔
          ۶۹۔ ”منھا مارواہ ثقة الاسلام محمد بن یعقُوبَ الکلینیۺ فی اصُولِ الکافی عَن ابی خالِدِ الکابلی عَن ابی جعفَرٍ علیہ السلام قالَ:یا اَبا خالدٍ لَنُورُ الامام فی قُلوب الموٴمنین اَنوَرُ مِن الشّمس المُضئیة بالنھارِ وھم وَاللّٰہ یُنوّرونَ قُلوبُ الموٴمنین ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ تفسیر قمی، ج۲، ص ۲۵۳، تفسیر نور الثقلین، ج۴، ص ۵۱۳۔
(۲)۔ بحار الانوار، ج۵۲، ص ۳۳۷۔
وَیَحجَب اللّٰہ عزّوجلّ نُورَھم عَمّن یَشآء فَتظلَم قُلوبُھم وَاللّٰہ یا ابَا خالِدٍ لا یُحبّنا عَبدٌ وَ یَتولانا حَتّی یُطھّر اللّٰہ قَلبَہ وَلا یُطھِر اللّٰہ قَلب عَبدٍ حَتّی یسلم لَنا وَ یَکون سِلماً لَنا فَاذا کانَ مُسلماً لنا سلّمہ اللّٰہ مِن شدید الحِسابِ وَآمَنَہُ مِن فَز ع یَوم القیامَة الاکبر “ (۱)
          ثقة الاسلام محمد ابن یعقوب کلینی نے اصول کافی میں نقل کیا ہے کہ ابو خالد کابلی کا بیان ہے کہ حضرت امام محمد باقر   - نے فرمایا: اے ابو خالد! خدا کی قسم! جو نورِ امام قلوبِ مومنین میں ہے وہ نصف النہار کے سورج سے زیادہ روشن ہوتا ہے اور وہ (ائمہ) قلوب مومنین کو منور کرتے رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے نور کو جس سے چاہتا ہے چھپاتا ہے تو ان کے قلوب تاریک ہوجاتے ہیں خدا کی قسم! اے ابو خالد! ہم سے کوئی بندہ محبت نہیں کرتا اور نہ ہی ہم کو دوست رکھتا ہے مگر یہ کہ اللہ اس کے قلب کو پاک و پاکیزہ کرتا ہے اور کسی بندہ کا دل پاک نہیں کرتا جب تک وہ ہم کو تسلیم نہ کرے اور ہم سے صلح و مصالحت سے پیش نہ آئے لہٰذا جب وہ ہم سے صلح و مصالحت سے پیش آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن سخت حساب اور عظیم خوف سے محفوظ رکھتا ہے۔
          ۷۰۔ ”وما فی البحار عن السیدِ عَلیِ بن عَبدِ الحَمید فی کِتابِ سلطانِ المُفَرجِ عَن اھلِ الایمانِ عِند ذِکر مَن رآ القآئِم علیہ السلام قالَ: فمِن ذلِکَ ما شتَھَر وذاعَ وَمَلاء البُقاعَ وَشَھِدَ بالعَیانِ ابناءُ الزَّمانِ وھُو قصَّةُ
          اَبی راجح الحمَّامی بِالحلّةِ وَقَد حکَی ذلِکَ جَماعَةٌ مِنَ الاعیان الاَماثِلِ وَاَھل الصِّدقِ الافاضِلِ
          مِنھمُ الشَیخُ الزَّاہِدِ العابِدِ المحققِ شَمسُ الدین محمَّد بنُ قارُونَ سَلَّمَہُ اللّٰہ
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ کافی، ج۱، ص ۱۹۴۔
تعالیٰ قال: کانَ الحاکِمُ بالحِلّةِ شَخصاً یُدعیٰ مَرجانُ الصَّغیرُ فَرفع الَیہِ اَنَّ ابا راجح ھذا یسبّ الصَّحابَةَ فاحضَرَہُ واَمَر بضَربہِ ، فضُرِبَ ضرباً شَدیداً مُھلِکاً عَلی جَمیع بَدَنِہِ ، حَتٰی اِنَّہُ ضَرَبَ عَلیٰ وَجھِہِ فَسَقَطَت ثَنایاہُ واخرَجَ لِسانَہُ فجعَلَ فیہِ مَسَلّةً مِن الحدیدِ وَخَرَقَ انفہُ وَوَضَعُ فیہِ شَرِکَةً مِنَ الشَعرِ وَ شَدَّ فیھا حَبلاً وَسَلّمہ الیٰ جَماعَةٍ مِن اصحابِہِ وامَرَھُم انْ یدُورُوا بہِ ازقَّةَ الحِلَّةِ والضَرب یاٴخُذُ مِن جَمیع جوانِبہِ حَتّٰی سَقَطَ اِلَی الارضِ وَعایَنَ الھَلاکَ ، فاخبَر الحاکمُ بِذلِکَ فَاَمَرَ بقَتلِہِ فَقالَ الحاضِرُونُ انَّہُ شَیخ کبیرٌ وَقَد حَصَلَ لَہُ ما یَکفیہ وَھُوَ مَیتٌ لِما بِہِ فاترکُہُ وَھُو یموتُ حَتفَ انفِہِ وَلا تَتَقَلّد بِدمِہِ ، وَبالَغوا فی ذٰلِکَ حَتیٰ امَرَ بتخلیتہ وَقَد انتفَخ وَجھُہُ وَلِسانُہُ فَنَقَلَہُ اھلُہُ فی الموتِ وَلَم یَشُکَّ اَحدُ انَّہ یمُوتُ مِن لَیلَةِ
          فَلَما کانَ مِنَ الغَدِ غَدا عَلَیہِ النّاسُ فَاِذا ھُوَ قائِمٌ یُصلّی عَلیٰ اتَمِ حالَةٍ وَقَد عادَت ثَنایاہُ الَتی سَقَطَت کَما کانَت وَاندَمَلت جَراحاتہُ وَلَم یبَق لَھَا اثَرٌ والشَّجَّةُ قَد زالَت من وَجھِہِ ، فَعَجب النّاس مِن حالِہِ وَ سائلوُہُ عَن امرِہِ فَقالَ انّی لَمّا عاینتُ المَوتَ وَلَم یبق لیٖ لِسانٌ اٴسالُ اللّٰہ تَعالیٰ بِہِ، فکنت اٴساٴلہ بقلبی واستغثتُ اِلی سَیِّدی وَمَولایَ صاحِب الزَّمانِ علیہ السلام
           فَلَمَّا جَنَّ عَلَیّ الَّلیلُ فَاِذاً بَالدّارِ قَد امْتَلاٴت نوُراً وَ اِذاً بمولایَ صاحِبِ الزمانِ قَد امَرَّ یَدَہُ الشرَیف عَلیٰ وَجھی وَقالَ الی اخُرجُ وَکَدِّا عَلیٰ عَیالِکَ عافاکَ اللّٰہ تَعالیٰ فاصحبتُ کَما تَرون
          وَحَکَی الشیخ شَمس الدّین محمَّد بن قارُونَ المذکُور قالَ واقسِمُ بِاللّٰہ تَعالیٰ اِنَّ ھذا ابو راجح کانَ ضعیفاً جِداً ضَعیف الترکیبِ اَصفَر اللون شینَ الوَجہ مُقَرِضَ اللحیَةِ وَکُنتُ دائِماً ادخُلُ الْحمامَ الَّذی ھُوَ فیہِ وَکُنتُ دائِماً اٴراہُ عَلیٰ ھذِہِ الحالَة وَھذا الشَّکلِ فَلمَّا اصبَحتُ کُنتُ مِمَّن دَخَلَ عَلَیہِ فَراٴیتُہُ قَدِ اشتَدّت قوَّتہُ وَانتَصَبت قامَتُہُ وطالَت لحیتُہُ وَاحمّرِ وجھہُ وَعاد کاٴنَّہُ ابِن عِشرین سَنة وَلَم یزَل عَلیٰ ذلِکَ حَتّیٰ ادرَکَہُ الوفاة “ (۱)
          بحار میں سید علی ابن عبد الحمید سے جنہوں نے اپنی کتاب ”السلطان المفرّج عن اھل الایمان“ میں ان لوگوں کا تذکرہ کیا ہے کہ جن افراد نے حضرت قائم سے ملاقات کی ہے چنانچہ وہ تحریر کرتے ہیں: وہ واقعہ جو تمام شہروں میں سب سے زیادہ مشہور و معروف ہوا ہے اور لوگوں نے ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے وہ حلّہ میں ابو راجح حمامی کا واقعہ ہے جسے وہاں کے علماء و افاضل کی ایک جماعت نے بیان کیا ہے، منجملہ ان افاضل میں سے ایک فاضل، زاہد، عابد محقق شمس الدین محمد ابن قارون حفظہ اللہ تعالیٰ بھی ہیں ان کا بیان ہے کہ حلّہ میں ایک حاکم تھا جس کو لوگ مرجان صغیر کے نام سے یاد کرتے تھے اس کو لوگوں نے بتایا کہ یہ ابو راجح، صحابہ پر لعنت کرتا ہے اور گالی دیتا ہے چنانچہ راجح کو پکڑ کر لایا گیا اور حکم دیا کہ جتنا زیادہ ہوسکے شدید طور پر اس کو مارو تاکہ وہ مرجائے تو یہ حکم عملی شکل میں تبدیل ہوا لوگوں نے اس کو اتنی شدید ضرب لگائی کہ اس کے سامنے کے دانت تک توڑ کر گرا دیے اس کی زبان کھینچ لی گئی اس کی ناک میں سوراخ کرکے اس میں ایک بال کی رسی باندھی گئی اور اپنے اصحاب کی ایک جماعت کے حوالے کیا اور حکم دیا کہ اس کو حلّہ کی گلیوں میں پھراؤ اور ہر طرف سے جتنا ہوسکے اس کو زد وکوب کرو۔ چنانچہ ویسا ہی ہوا اور وہ مار کھاتے کھاتے مرنے کے نزدیک پہنچ گیا حاکم کو اطلاع دی گئی تو اس نے قتل کرنے کا حکم دے دیا۔
          دربار کے حاضرین نے حاکم سے کہا: یہ ایک بوڑھا آدمی ہے اس کے خودبخود مرنے کے لیے وہی کافی ہے جو اتنی زیادہ اس کو مار پڑی ہے اب اسے چھوڑ دیجیے، یہ خود اپنی موت مرجائے گا آپ اس کا
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ بحار الانوار، ج۵۲، ص ۷۰۔
خون اپنی گردن پر کیوں لیتے ہیں۔ جب لوگوں نے بہت زیادہ اصرار کیا تو حکم دیا کہ اسے چھوڑ دو اس کا منہ ورم کر گیا ہے اور زبان بھی سوج چکی ہے۔ چنانچہ اس کو اس کے گھر والوں کے پاس منتقل کیا اور اس کے اہل خانہ اس کے اسی رات مرنے میں کسی طرح کا شک و شبہ نہیں رکھتے تھے۔
          دوسرے دن جب صبح ہوئی لوگ اسے دیکھنے کے لیے احوال پرسی کی غرض سے آئے تو دیکھا کہ وہ بالکل صحت مند ہے اور کھڑے ہوکر نماز پڑھ رہا ہے اس کے دانت جو توڑ دیے گئے تھے سب بعینہ اس کے منہ میں موجود ہیں اس کے جسم کی تمام جراحت اور منہ کے زخم اس طرح مندمل ہوچکے تھے کہ گویا اسے چوٹ کی کوئی تکلیف تھی ہی نہیں اور زخم کے نشانات بھی نہیں تھے۔ یہ دیکھ کر لوگوں کو بڑا تعجب ہوا اور اس سے دریافت کیا کہ یہ کیا ماجرا ہے؟
          اس نے جواب دیا: میں موت کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہا تھا زبان تو گویا تھی ہی نہیں جس سے دعا کرتا، لہٰذا میں نے دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اپنے آقا و مولا سے فریاد کی، جب شب کا کافی حصہ گزر گیا تو ناگہاں میں نے دیکھا کہ تمام گھر روشنی سے منور ہوگیا ہے اور میرے سید و سردار حضرت صاحب الزمان - تشریف لائے ہیں اور اپنا دست مبارک میرے چہرے پر مس کر رہے ہیں اور یہ فرما رہے ہیں: اب اٹھ جاؤ اپنے اہل و عیال کے پاس جاؤ اور ان کی ضروریات زندگی پوری کرو اللہ تعالیٰ نے تمہیں صحت و عافیت عطا کی پھر صبح ہوئی اور میں ایسا صحت مند اٹھا کہ جس طرح تم لوگ دیکھ رہے ہو۔
          شمس الدین محمد ابن قارون مذکور کا بیان ہے کہ: خدا کی قسم! یہ راجح بہت ضعیف، نحیف و لاغر، زرد رنگ بدصورت تھا اور اس کی چھوٹی سی داڑھی تھی، میں ہمیشہ اس حمام میں جاتا کرتا جس میں وہ موجود ہوا کرتاتھا اور میں ہمیشہ اس کو اسی حالت میں پاتا تھا، مگر اس دن صبح کو جب میں دوسرے لوگوں کے ساتھ پہنچا تو دیکھا کہ اس کا جسم مضبوط، اعضاء و جوارح توانا وقدرت مند اور قدو قامت طولانی ہے اور داڑھی پہلے سے بڑی ہے اور چہرہ سرخی مائل ہے معلوم ہوتا تھا کہ وہ بیس سال کا نوجوان ہے پھر وہ مرتے دم تک اسی حالت میں رہا۔
          ۷۱۔ ”وفی ینابیع المودة عَنِ المنَاقِبِ عَن عَلیّ بن مُوسیٰ الرّضا عَن آبائِہِ عَن رَسُول اللّٰہِ (ص) فی حَدیثٍ طویلٍ ذکَرَ فیہِ فضلَھُم وَشیئاً مِن حَدیثِ المِعراجِ اِلٰی ان قالَ فقُلتُ : یا رَبّی وَمَن اوَصِیآئی ؟ فنودیتُ یا محمَّد اوصیآئکَ المکتوبُونَ عَلی سُرادِق عَرشی ، فَنَظَرت فَراٴیَتُ اثنی عَشَرَ نوراً وفی کُلّ نُورٍ سترٌ اخضَر عَلَیہ اسِمُ وَصِیِّ مِن اوصیآئی ، اوَّلُھُم عَلِیّ وآخِرھُمُ المھَدی ، فَقُلتُ : یا رَبِّ ھوٴلائی اوصِیآئی مِن بَعدی؟ فَنودیتُ یا محمَّد : ھوٴ لاء اولیائی واحِبّائی واصِفیائی وَحُجَجی بَعدَکَ عَلیٰ بَرّیتی، وَھُم اوصِیآئکَ وَعِزَّتِی وَجَلالی لاُ طَھِّرَنَّ الاٴرضَ بآخِرِھِم المَھدی مِنَ الظُلمِ وَلاٴ مِکَّننّہُ مَشارِقَ الارضِ وَمَغارِبَھا وَلا سَخِّرنَّ لَہُ الرِّیاح وَ لاٴذَلِلَّن لَہُ السَّحابَ وَلاٴ رقینَّہُ فی الاٴسبابِ وَلاٴ نصِرَنَّہُ بجندی وَلاُ مِدنَّہُ بملائکَتی حَتّی تَعلُوَ دَولَتی وَیجتمعَ الخَلقُ عَلَی توحیدی ، ثُمَّ لاُ دیمَنَّ مُلکَہُ وَلاُدٰاوِلَنَّ الایام بَینَ اولیآئی اِلیٰ یَوْمِ القِیٰمةِ “ (۱)
          ینابیع المودة میں مناقب سے حضرت علی ابن موسی الرضا - اپنے آبائے کرام سے ان حضرات نے حضرت رسول اکرم (ص) سے ایک مفصل حدیث میں کہ جس میں ان کی فضیلت و منقبت اور حدیث معراج کا بعض حصہ ذکر کیا ہے یہاں تک کہ فرمایا: میں نے کہا: اے پروردگار! میرے اولیاء کون ہیں؟ آواز آئی: اے محمد!تیرے اوصیا کے نام میرے عرش کے سرورق پر لکھے ہوئے ہیں میں نے نظر کی تو بارہ انوار کو دیکھا۔ ہر ایک نور کی سبز سطر ہے جس پر میرے اوصیاء میں سے میرے وصی کا نام موجود ہے ان میں اول علی ابن ابی طالب اور ان میں آخری مہدی - ہیں۔ میں نے عرض کیا : اے
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ ینابیع المودة، ج۳، ص ۴۸۶۔
پروردگار! میرے بعد یہ میرے اوصیاء ہیں، آواز آئی اے محمد! یہ میرے اولیاء ہیں ، مجھے میری عزت اور جلال کی قسم! زمین کو ضرور ضرور ان کے آخری مہدی کے ذریعہ ظلم سے پاک کروں گا میں اس کو زمین کے مشرق و مغرب کا مالک بناؤں گا۔ پس اس کے لیے ہواؤں کو اس کا فرماں بردار قرار دوں گا سخت بادلوں کی گردنیں اس کے لیے جھکادوں گا۔ میں اس کو اسباب میں بلند کروں گا۔ میں اس کی اپنے لشکر کے ذریعے مدد کروں گا اپنے فرشتوں سے اس کی نصرت کروں گا۔ آخرکار میری حکومت عروج پر پہنچے گی میری تمام مخلوق میری توحید پر جمع ہوجائے گی میں اس کی سلطنت کو دوام بخشوں گا۔ بڑے دنوں کو اپنے اولیا کے درمیان قیامت کے روز گردش دوں گا۔
          ۷۲۔ مشہور و معروف اور معتبر دعا جس کو شیخ ابو عمر و عثمان ابن سعید امام زمانہ - کے پہلے نائب نے املا کرایا تھا اور سید ابن طاووس علیہ الرحمہ نے بھی حضرت کے زمانہٴ غیبت میں پڑھنے کی خصوصی تاکید کی ہے اس کا آغاز یوں ہوتا ہے: اللّٰھُمَّ عَرِّفنی نَفَسَکَ الیٰ قولہ
          ”اللّٰھم عَجِّل فَرَجَہ وایِّدہُ بالنصر ․․․ حَتّیٰ لا تَدَعَ مِنْھُم دَیّاراً وَلا یبقَی لھُم آثاراً طَھِّر مِنْھُم بِلادَکَ وَاشفِ منھُم صُدُور عِبادِکَ وَجَدّد بِہِ ما امتَحیٰ مِن دینِکَ واصلحُ بِہِ ما بُدِّلَ مِن حکمِکَ وَغُیِّرَ مِن سنتکَ حَتیٰ یعُودَ دینُکُ بِہِ وَعَلیٰ یَدَیہِ غَضّاً جَدیداً صَحیحاً لا عِوَجَ فیہِ ولا بِدعةَ مَعَہُ حَتّیٰ تطفِیَّ بعدلِہِ نیزٰانَ الکافِرینَ ․․․اللّھُمَّ واَحْیِ بوَلیِّکَ القرآن وَاٴرِنا نورَہُ سَرمَداً لالیلَ فیہِ وَاٴحْیِ بِہِ القُلُوب المیتة واشف بہ الصدور الوغرة واجمَع بِہِ الْاٴھوآءَ المختلفَةَ عَلَی الحَقّ وَاٴقِم بِہِ الحدوُدَ المُعَطَّلةَ والاٴحکامَ المھملَةَ حَتیٰ لا یبقی حَقٌ الاَّ ظھر ولا عَدلٌ الاَّ زَھَر۔“(۱)
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ مصباح المتھجد، ص ۴۱۴، جمال الاسبوع، ص ۳۱۲، بحار الانوار، ج۵۳، ص ۱۸۹۔
          اے پروردگار! تو مجھے اپنی ذات کی معرفت عطا فرما یہاں تک کہ فرمایا:
          اے پروردگار! تو حضرت امام مہدی - کے ظہور میں تعجیل فرما اور اپنی نصرت سے ان کی تائید فرما․․․ یہاں تک کہ ان کا کوئی گھر باقی نہ رہے اور ان کا نام و نشان تک نہ رہنے دے اور ان سے اپنے شہروں کو پاک و پاکیزہ اور ان لوگوں کو برباد کرکے اپنے بندوں کے دلوں کو شفا بخش اور حضرت - کے ذریعہ تیرے دین سے جو محو کر دیا گیا ہے اس کی تجدید فرما اور تیرے احکام میں جو تبدیلی کی گئی ہے اور تیری سنت میں جو تفسیر کی گئی ہے حضرت - کے ذریعے ان سب کی اصلاح فرما یہاں تک کہ تیرا دین حضرت کے ذریعے جدید اور صحیح انداز میں پھر سے پلٹ آئے اس طرح کہ اس میں نہ کوئی کجی ہو اور نہ اس کے ساتھ کوئی بدعت واقع ہو یہاں تک کہ ان کے عدل و انصاف کی وجہ سے کافروں کی بھڑکائی ہوئی آگ بجھ جائے․․․ اے میرے پروردگار! تو اپنے ولی کے ذریعے قرآن میں تازہ روح پھونک ہمیں اس کا وہ سرمدی (ازلی و ابدی) نور دکھا جس میں ظلمت نام کی کوئی شے نہ ہو اور ان کے ذریعے مردہ دلوں کو زندہ کر نیز ان کے ذریعے لوگوں کے دلوں کی آگ کو خاموش کر مزید یہ کہ لوگوں کے مختلف خیالات کو حق پر جمع کردے اور ان کے ذریعے معطل حدود اور غیر موٴثر کیے ہوئے احکام کو پھر سے قائم کردے تاکہ کوئی حق بغیر ظاہر ہوئے باقی نہ رہ جائے اور کوئی عدل بغیر نمایاں ہوئے نہ رہے۔
          ۷۳۔ اسی طرح دعا کے ان جملوں میں کہ جسے سید ابن طاووس رحمة اللہ علیہ نے سرداب مقدس کے اعمال میں اور شیخ نے مصباح میں روز جمعہ کے اعمال میں حضرت امام رضا - سے نقل کیا ہے اور ضمنی طور پر یونس ابن عبد الرحمن نے بھی نقل کیا ہے کہ حضرت امام رضا   - نے حضرت صاحب الامر کے لیے اس دعا کے پڑھنے کا حکم دیا ہے: اللّھُمَّ ادفَع عَن وِلیِّکَ وَخَلیفَتِکَ․․․
          اللّھُمَّ طَھِّر مِنھُم بِلادکَ واشفِ منھم عبادَکَ وَاَعزَّ بِہِ الموٴمنینَ وَاٴحْیِ بِہِ سنَنَ المُرسَلینَ وَدارِسَ حُکم النّبیینَ وَجَدِّد بِہِ ما امتَحی مِن دینکَ وَبُدِّلَ مِن حکمِکَ حَتیٰ تعید دینک بہ وَعَلی یَدَیہ جَدیداً غَضّاً محضاً صحیحاً لا عِوَجَ فیہِ وَلا بِدعَةَ مَعَہُ ، وَحَتیٰ تُغیِّر بِعَدلِہِ ظُلَمَ الجورِ وَتُطفِیَ بہِ نیرٰانَ الکُفرِ وَ توضِحَ بِہِ مَعاقد الحقِ وَمجھُولَ العَدلِ۔ (۱)
          اے پروردگار! شہروں کو ان سے پاک و پاکیزہ کر، اور ان لوگوں کی نابودی کے ذریعہ اپنے بندوں کے دلوں کو شفا بخش اور حضرت امام مہدی - کے ذریعہ مومنین کو عزت عطا فرما اور پیغمبروں کی سنتوں کو اس کے ذریعہ احیا کر۔ اور حضرت - کے ذریعہ تیرے دین سے جو محو کردیا گیا ہے اس کی تجدید فرما، اور اپنے احکام میں تبدیلی لادے یہاں تک کہ اس کے ذریعہ تیرا دین واپس آجائے اور حضرت کے ذریعے ان سب کی اصلاح فرما یہاں تک کہ تیرا دین خالص ہوجائے اس میں کوئی کجی اور بدعت نہ رہ جائے، تاکہ حضرت - کی عدالت کے ذریعہ تاریکیاں روشنائی میں تبدیل ہوجائےں کافروں کی بھڑکائی ہوئی آگ خاموش ہوجائے اور حضرت کے ذریعہ تمام مشکلات برطرف فرما نیز حق کی گرہیں کھول دے اور ان کی نامعلوم عدالت کو لوگوں کے لیے آشکار فرما۔
          ۷۴۔ دعائے ندبہ میں ہم پڑھتے ہیں: ”اینَ بَقِیَّةُ اللّٰہِ الَّتی لا تخلُومِنَ العِترةِ الھادِیةِ ، اینَ المُعَدُّ لقطع دابِرِ الظَّلَمةِ ، اینَ المُنْتَظَرُ لا قٰامةِ الاٴمتِ وَالعِوَجِ اینَ المرتجی لاِ زٰالةِ الجَور والعُدوٰانِ ، اینَ المدّخُر لِتجدیدِ الفرایِضِ والسُّنَنَ
          وہ بقیة اللہ کہاں ہے؟ جس سے ہدایت کرنے والی عترت پیغمبر سے دنیا خیال نہیں ہوسکتی وہ کہاں ہے؟ جسے سلسلہٴ ظلم کو قطع کرنے کے لیے مہیا کیا گیا ہے وہ کہاں ہے؟ جس کا کجی او ر انحرافات کو درست کرنے کے لیے انتظار ہورہا ہے وہ کہاں ہے؟ جس سے ظلم و تعدی کو زائل کرنے کی امیدیں وابستہ ہیں وہ کہاں ہے؟ جسے فرائض اور سنن کی تجدید کے لیے ذخیرہ کیا گیا ہے۔
          ۷۵۔ وہ صلوات کہ جسے شیخ کفعمی نے کتاب مصباح میں نقل کی ہے اور کہا ہے کہ یہ صلوات
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ مصباح المتھجد، ص ۴۱۰، جمال الاسبوع، ص ۳۰۸، بحار الانوار، ج۹۲، ص ۳۳۱۔
حضرت صاحب الزمان - سے مروی ہے جو ابو الحسن ضرّاب اصفہانی کے لیے حضرت کے وجود مقدس کی طرف سے مکہ میں صادر ہوئی ہے اور اس کی سند کو مختصر طور پر ذکر کیا ہے۔ ”بِسمِ اللّٰہِ الرحمٰنِ الرحیمِ اللّٰھُمَّ صَلّ عَلیٰ محمَّدٍ سیدِ المُرسَلینَ وخاتَم النبیینَ وحجة ربّ العالمین ، الیٰ ان قال : اللھُم جَدِّد بہِ ما امتحیٰ مِن دینک واَحْیِ بِہِ ما بُدِّلَ مِن کِتابِک وَاٴظھِر بِہِ ما غُیِّر مِن حُکمِکَ حَتّی یَعُودَ دینکَ بِہِ وَعَلیٰ یَدَیہِ غَضّاً جَدیداً خالصِاً مخلَصاً لا شَکَّ فیہِ وَلا شُبھة مَعَہُ ولا باطِلَ عِندَہُ وَلا بِدْعَةَ لَدَیہِ“․(۱)
          عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے: اے پروردگار! اپنا درود و سلام بھیج محمد پر جو تمام رسولوں کے سردار خاتم النبین اور تمام عالمین پر پروردگار کی حجّت ہیں یہاں تک کہ فرمایا: اے پروردگار! حضرت - کے ذریعہ جو تیرے دین سے محو ہوگیا ہے اس کی تجدید فرما اور حضرت - کے ذریعہ جو کچھ تیری کتاب میں (تحریف کرنے والوں کی وجہ سے) تبدیلی ہوئی ہے اس کا احیاء فرما اور جو کچھ تیرے حکم میں ردّ و بدل کیا گیا ہے حضرت - کے ذریعہ ظاہر فرما یہاں تک کہ تیرا دین واپس آجائے اور حضرت - کے دست مبارک سے وہ ایسا خالص ہوجائے کہ اس میں کبھی بھی کوئی شک و شبہ باقی نہ رہ جائے اور نہ ہی اس میں کوئی باطل یا بدعت باقی رہ جائے۔
          روحی لہ الفداء و عجل اللّٰہ تعالیٰ فرجہ الشریف وجعلنا وجمیع الموٴمنین من اٴعوانہ واٴنصارہ وشیعتہ آمین
          ہماری جان ان پر قربان! اور خدا ان کے مبارک ظہور میں تعجیل فرمائے اور ہمیں اور تمام مومنین کو ان کے اعوان و انصار اور ان کے شیعوں میں قرار دے۔ آمین یارب العالمین ۔
 
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ مصباح المتھجد، ۲۰۸، دلائل الامامة، ص ۵۵۱۔
 
 
۲۔ تازگی
          ” القرْآنُ غَضٌّ طَرِیٌ لا یَنْدرِسُ بمرُورِ الزَمّانِ وَکَذٰلِکِ الحجةُ علیہ السلام
          قرآن اور امام زمانہ - ہمیشہ تازہ ہیں اور کبھی بھی مرور زمانہ سے ان کی طراوت و شادابی اور تازگی کم نہیں ہوگی۔
          ۷۶۔ ”عَنِ الرِضا عَنْ اَبیہ علیہما السلام انَّہ سُئِلَ اَبو عَبدِ اللّٰہِ علیہ السلام ما بالُ القرآنْ لا یَزْدادُ عَلَی النّشر والدَّرس الاَّ غَضّاً ؟ فَقال علیہ السلام : لاٴ نَّ اللّٰہَ تَبارکَ وَ تَعالیٰ لَمْ یَجْعَلْہُ لِزَمانٍ دوُنَ زَمانٍ وَلا لِناسٍ دوُنَ ناسٍ ، فَھُو فی کلِّ زَمانٍ جَدیدٌ وَعِندَ کُلّ قومٍ غَضٌّ اِلیٰ یَومِ القیٰمة “ (۱)
          حضرت امام رضا - نے اپنے پدر بزرگوار (علیہما السلام) سے روایت کی ہے کہ حضرت امام جعفر صادق - سے سوال کیا کہ کیوں قرآن کی جتنا زیادہ نشرو اشاعت کرتے ہیں اور اس کی تدریس کرتے ہیں اس کی شادابی اور تازگی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے (اس سے احساس خستگی نفرت اور دوری نہیں پیدا ہوتی) تو امام - نے فرمایا: چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید کو کسی ایک ہی زمانہ سے مخصوص نہیں کیا ہے اور اسی طرح صرف خاص لوگوں کے لیے نہیں نازل فرمایا بلکہ ہر زمانے میں اور وہ ہر قوم کے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ عیون اخبار الرضا -، ج۱، ص ۹۳۔ امالی طوسی، ص ۵۸۰۔ بحار الانوار، ج۲، ص ۲۸۰۔ ج۱۷، ص ۲۱۳، ج۸۹، ص ۱۵۔
 نزدیک صبح قیامت تک ہر دل عزیز اور شادابی و تازگی کے ساتھ ہے۔
          مولف کہتے ہیں: حضرت حجّت بقیة اللہ الاعظم ولی عصر ناموس دہر امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کا ہر دل عزیز وجود بھی خدا ئے حی و قدیر کی قدرت سے جہاں تک اس کی مشیت و مرضی ہوگی زندہ و شاداب اور جوان رہے گا، کبھی بھی فرسودگی ، پیری ، سستی اوران کے مقدس وجود میں کسی قسم کے عیوب و نقائص ان میں عارض نہیں ہوسکتے اور ان کی امامت و خلافت اور تمام موجودات پر ان کا حجّت ہونا کسی خاص زمانہ اور صدی سے مخصوص نہیں ہے، بلکہ جب تک خدائے حی و قیّوم ازلی و ابدی جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا امام زمانہ - کا پر برکت وجود بھی فریقین کی مسلّم اور معتبر روایت کی صراحت کی بنا پر باقی رہے گا روئے زمین حجّت خدا سے خالی نہیں رہے گی یعنی جس زمانہ تک زمین و زمان باقی ہیں واضح طور پر امام زمانہ - کا بھی ہونا ضروری ہے تاکہ خدا کے بندے بے سرپرست حیراں و سرگرداں نہ ہوں۔
          ۷۷۔ ”وَفی الکافی بِسَندٍ صَحیح عَن الوَشّا( اسمہ حسن بن علی ) قالَ سَئَلتُ اَبَا الحَسَن الرّضا علیہ السلام ھَل تَبقی الاَرضُ بِغیرِ امامٍ ؟قالَ لا، قُلتُ: انّا نَروی انَھّا لا تَبقی اِلاَّ انی یَسخَطَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ عَلی العِبادِ ․ قالَ: لا تَبقی ، اِذاً لَساخَتْ“(۱)
          کافی میں صحیح سند کے ساتھ وشا (کہ جن کا نام حسن ابن علی ہے) سے روایت نقل کی گئی ہے کہ میں نے ابو الحسن امام علی رضا - سے دریافت کیا : کیا امام کے بغیر زمین باقی رہے گی؟ فرمایا: نہیں میں نے عرض کیا: ہم روایت کرتے ہیں کہ بغیر امام کے نہ رہے گی مگر جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے ناراض ہو۔ فرمایا: اس وقت یقینا وہ اضطراب میں آجائے گی۔
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ کافی، ج۱، ص ۱۷۹۔
          ۷۸۔ ”وَ فی رِوایةٍ اُخریٰ عَن ابی عبدِ اللّٰہ علیہ السلام لَو بَقَیتِ الاَرضُ بِغیر امامٍ لَساخَتْ“ (۱)
          دوسری روایت میں امام جعفر صادق   - سے نقل ہوا ہے کہ اگر زمین بغیر امام کے ہو تو وہ ویران و برباد ہوجائے گی۔
          ۷۹۔ ”وَعَن غیبة النّعمانی عَن الّصادِق عَنْ امیرِ الموٴمنینَ علیہما السلام : وَاعْلَمُوا اَنَّ الاَرضَ لاتَخلوُمِن حُجّةٍ للّٰہِ وَلٰکنَّ اللّٰہ سَیعمیٰ خَلقَہُ مِنھا بِظُلمِھِم وَجَورِھِم وَاسِرافِھِم عَلیٰ اَنفُسھِمِ وَلَوْ خَلَتِ الارض ساعَةً واحِدةً مِن حُجةٍ للّٰہِ لسَاخَتْ بِاھْلِھا “ (۲)
          غیبت نعما نی میں امام صادق   - سے انہوں نے امیر المومنین علیہما السلام سے روایت کی ہے کہ : یاد رکھو کہ زمین کبھی بھی حجّت خدا سے خالی نہیں رہتی بس اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان سے ظلم و ستم جور و جفااور زیادتی کی وجہ سے اندھا بنا دیتا ہے ورنہ اگر زمین ایک لمحے کے لیے بھی حجّتِ خدا سے خالی ہوجائے تو شق ہوجائے اور تمام اہل زمین اس میں سما جائیں۔
          ان روایت کی کثرت سے جو اس باب میں ذکر ہوئی ہیں یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ زمین ایک لمحہ کے لیے بھی امام اور حجّت خدا کے بغیر ناممکن ہے کہ باقی رہ جائے ورنہ تمام زمین و زمان اور لوگ فنا ہوجائیں۔
          قابل توجہ یہ ہے کہ یہ روایات اس زمانہ میں امام زمانہ - کے وجود کو حتماً باقی رہنے پر محکم دلیل اور برہان قاطع ہے جو اِن لوگوں کے لیے ایک دندان شکن جواب بھی ہے کہ بعض کوتاہ نظر لوگوں کو حضرت کی طولانی غیبت ان کے افکار کے تشویش کا باعث ہوئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ غیبت نعمانی، ص ۱۴۱۔
(۲)۔ غیبت نعمانی، ص ۱۴۱۔
          نتیجہ میں اس عالمی مصلح کی عمر مبارک کی کمیّت (مدّت) اور کیفیّت کے بارے میں گفتگو میں الجھے ہوئے ہیں۔ جب کہ اس عظیم ہستی کی طولانی عمر خواہ اعتقادی نقطہٴ نظر سے ہو یا علمی نظریہ کی بنا پر ہو بہت واضح ہے اور کسی قسم کا اس میں شک و شبہ نہیں پایا جاتا ہے، اس کے علاوہ قرآنی آیات اور بیرونی اور طبیعی شواہد بھی بہت ہیں قارئین اس کے مقامات اور مطالب کی طرف رجوع کریں۔ یہاں بھی قرآن مجید کی ایک آیت ہے کہ جس میں حضرت یونس (علی نبینا و آلہ علیہ السلام) کے واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ہم اس پر اکتفا کرتے ہیں۔
          قالَ اللّٰہ تعالیٰ<فَلَوْلاَاٴَنَّہُ کَانَ مِنْ الْمُسَبِّحِینَ # لَلَبِثَ فِی بَطْنِہِ إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ>:(۱)
          اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”پھر اگر حضرت یونس مچھلی کے شکم میں خدا ئے سبحان کی تسبیح و تقدیس نہ کرتے اور ندائے <لَا إِلَہَ إِلاَّ اٴَنْتَ سُبْحَانَکَ إِنِّی کُنتُ مِنْ الظَّالِمِینَ >(۲) تیرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے تو پاک و بے نیاز ہے اور میں اپنے نفس پر ظلم کرنے والوں میں تھا۔ نہ دیتے تو یقینا روز قیامت تک مچھلی کے شکم میں رہتے۔
          فطری بات ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی لازوال قدرت سے مچھلی اسی طرح حضرت یونس - کو صبح قیامت تک محفوظ رکھتا ، تو پھر کیا بڑی بات ہے کہ وہ اپنے نمائندہ اور حجّت قائم آل محمد - کے مبارک وجود کو اور ان کے آباء و اجداد طاہرین کو اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کے گرنے اور برباد ہونے سے محفوظ رکھے، اور اپنی رحمت کو بندوں پر نازل کرے ان کی دعا مستجاب فرمائے اور بلاؤں کو ان سے دور کرے۔ اللّھُمَّ عَجِّل فرَجَہ وَسَھِّل مَخرجہُ وَبَلّغہ اَفضَلَ مَا امّلَہَ ، واجعَلنا مِنْ اٴعوانِہِ وَاَنصارِہِ وَشیعتَہِ وَالمستشھدینَ بَینَ یدَیہ، بحمدٍ وآلہ الطیبینَ الطّاھرینَ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ صافات، آیات ۱۴۳، ۱۴۴۔
(۲)۔ سورئہ انبیاء، آیات ۸۷۔
صلواتکَ عَلیھِم اجمَعینَ ۔
          اے خدا ! اس کے ظہور میں تعجیل فرما اس کے خروج کو آسان فرما اور اس کو اس کی بہترین آرزوؤں تک پہنچا دے، اور ہمیں اس کے اعوان و انصار اور شیعوں میں قرار دے اور اس کے حضور میں ہمیں شہادت نصیب فرما۔ بحق محمد وآلہ الطیبین الطاہرین صلواتک علیہم اجمعین۔
          مولی الموحدین حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب نے نہج البلاغہ میں کتاب اللہ العزیز کے اوصاف کے بارے میں مختلف مقامات پر اور قرآن مجید کی خصوصیات نیز عظمت و منزلت کے متعلق بہترین مطالب بیان فرمائے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک جملہ قابل تعریف ہے ناچیز حقیر نے ان سے جو بہت زیادہ جامع اور قابل توجہ ہے اس میں بیالیس قسم کی فضیلت و منقبت ذکر کی ہے۔ ہم اسے بطور تبرک ذکر کرتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کو امام زمانہ - کے مقدس وجود پر منطبق کرتے ہوئے بیان کریں گے۔
          حضرت امیر المومنین - نے اس خطبہ میں پیغمبر کی بعثت اور اس کے عظیم فوائد کے بارے میں گفتگو فرمائی ہے اور مزید فرماتے ہیں:
          ۸۰۔ ”ثُمَّ اَنَزْلَ عَلَیہِ الکِتابَ نُوراً لا یُطفَاٴ مَصابیحُہُ وَ سِراجاً لا یَخْبُو تَوَقُّدُہُ وَبَحراً لا یُدرَکُ قعرہُ وَمِنھاجاً لا یَضِلّ نَھجُہُ وَشعاعاً لا یظلمُ ضوئہ وَفرقاناً لا یخْمد بُرھانُہُ وَبُنیاناً لا یُھدَم اٴرکانُہُ وَشِفاءً لا تُخشیٰ اٴسقامُہُ وَعِزّاً لا تُھزمُ اٴنصارُہُ وَحَقّاً لا تُخْذَلُ اٴعْوانُہُ
          فَھُوَ مَعدِنُ الایمانِ وَبُحبُوحَتُہُ وَیَنابیعُ العِلِم وَبُحوُرُہُ وَریاضُ العَدلِ وَغُدرانُہُ اٴثافیّ الاسلامِ وَبُنیانہُ وَاَودِیةُ الحِقّ وَغیطانُہُ ، بَحر لا یَنزِفُہُ المُستنَزفونَ ( الْنْتَزِفُون خ ل ) وَعیونٌ لا یُنضِبُھا الماضونَ وَمناھِل لا یغُضَھا الواردونُ وَمَنازلُ لا یَضلُّ نَھجھَا المسافِرُونَ وَاَعلامُ لا یَعمیٰ عَنھا السّائِرُونَ وَآکامٌ لایَجُوزُ عَنھا القاصِدُونَ
          جَعَلَہ اللّٰہ رَیّاً لِعَطَشِ العلمآء وَرَبیعاً لِقلوبِ الفقَھاء وَمحاجّاً لِطُرقِ الصُّلَحاء وَ دَوآءً لَیْسَ مَعَہ (بَعدہُ خ ل ) داءٌ وَ نوراً لَیسَ مَعَہ ظُلمةٌ ، حبلاً وَثیقاً عُروتَہُ وَمَعقِلاً مَنیعاً ذِروتُةُ ، عِزّاً لِمَنْ تَولاَّہُ وَسِلماً لِمَنْ دَخَلَہ وَھُدیً لِمَنِ ائتم بِہِ وَعذراً لِمنَ اِنْتَحلَہ وَبُرھاناً لِمَنْ تَکَلَّم بِہِ وَ شاھِداً لِمَن خٰاصَمَ بِہِ وَفلجاً لِمَن حاجَّ بِہِ وَحامِلاً لِمَنْ حَمَلَہُ وَمَطیّةً لِمَنْ اٴعملہ وَآیةً لِمنْ تَوسَّمَ وَجُنَّةً لَمَنِ استَلامَ وَعِلماً لِمَنْ وَعیٰ وحَدیثاً لِمَنْ رَویٰ وَحُکْماً لِمَنْ قضیٰ “ (۱)
          اس کے بعد ان پر اس کتاب کو نازل کیا جس کی قندیل بجھ نہیں سکتی اور جس کے چراغ کی لو مدہم نہیں پڑ سکتی ہے وہ ایسا سمندر ہے کہ جس کی تھاہ مل نہیں سکتی اور ایسا راستہ ہے جس پر چلنے والا بھٹک نہیں سکتا ہے۔ ایسی شعاع ہے جس کی ضو تاریک نہیں ہوسکتی اور ایسا حق و باطل کا امتیاز ہے جس کا برہان کمزور نہیں ہوسکتا ہے۔ ایسی وضاحت ہے کہ جس کے ارکان منہدم نہیں ہوسکتے ہیں اور ایسی شفا ہے جس میں بیماری کا کوئی خوف نہیں ہے ایسی عزت ہے جس کے انصار پسپا نہیں ہوسکتے ہیں اور ایسا حق ہے جس کے اعوان بے یارو مددگار نہیں چھوڑے جاسکتے ہیں۔
          یہ ایمان کا معدن و مرکز، علم کا چشمہ اور سمندر، عدالت کا باغ اور حوض، اسلام کا سنگ بنیاد اور اساس، حق کی وادی اور اس کا ہموار میدان ہے۔ یہ وہ سمندر ہے جسے پانی نکالنے والے ختم نہیں کرسکتے ہیں اور وہ چشمہ ہے جسے اُلچنے والے خشک نہیں کرسکتے ہیں۔ وہ گھاٹ ہے جس پر وارد ہونے والے اس کا پانی کم نہیں کرسکتے ہیں اور وہ منزل ہے جس کی راہ پر چلنے والے مسافر بھٹک نہیں سکتے ہیں۔ وہ نشانِ منزل ہے جو راہ گیروں کی نظروں سے اوجھل نہیں ہوسکتا ہے اور وہ ٹیلہ ہے جس کا تصور کرنے والے آگے نہیں جاسکتے ہیں۔
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ نہج البلاغہ، خطبہ ۱۹۸۔
          پروردگار نے اسے علماء کی سیرابی کا ذریعہ فقہاء کے دلوں کی بہار، علماء کے راستوں کے لیے شاہراہ قرار دیا ہے یہ وہ دوا ہے جس کے بعد کوئی مرض نہیں رہ سکتا اور وہ نور ہے جس کے بعد کسی ظلمت کا امکان نہیں ہے۔ وہ ریسمان ہے جس کے حلقے مستحکم ہیں اور وہ پناہ گاہ ہے جس کی بلندی محفوظ ہے چاہنے والوں کے لیے عزت، داخل ہونے والوں کے لیے سلامتی، اقتداء کرنے والوں کے لیے ہدایت نسبت حاصل کرنے والوں کے لیے حجّت، بولنے والوں کے لیے برہان اور مناظرہ کرنے والوں کے لیے شاہد ہے بحث کرنے والوں کی کامیابی کا ذریعہ، اٹھانے والوں کے لیے بوجھ بٹانے والا، عمل کرنے والوں کے لیے بہترین سواری، حقیقت شناسوں کے لیے بہترین نشانی اور اسلحہ بیچنے والوں کے لیے بہترین سپر ہے، فکر کرنے والوں کے لیے علم اور روایت کرنے والوں کے لیے حدیث اور قضاوت کرنے والوں کے لیے قطعی حکم اور فیصلہ ہے۔
          ہم حضرت مولی الموحدین امیر المومنین - کے اس مبارک خطبہ کا ترجمہ اور تشریح قرآن اور امام زمانہ - کے موازنہ کے ساتھ پیش کرتے ہیں
          امام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام کو مبعوث کرنے کے بعد قرآن مجیدکو آنحضرت کے قلب مبارک پر نازل فرمایا جو اِن تمام مندرجہ ذیل اقدار اور معیار پر مشتمل ہے۔
 

[ دیدار کی تعداد : 422]

صارفین کے نظریات

نام
ایمیل ایڈرس
تحریر
حفاظتی کوڈ