مهدويت اور قرآن ->


ایسا نور جس کے بعد کسی ظلمت کا امکان نہیں ہے

اس کی حفاظت کی طرف اشارہ ہے کہ کسی بھی صورت میں باطل اس میں نہیں جاسکتا اور اس سے آلودہ نہیں ہوسکتا پانچویں منقبت میں ان بزرگوار کے قول کی وضاحت میں فرمایا: ”و شعاعاً لا یظلم نورہ“ وہ ایسی شعاع ہے کہ اس کی ضوء تاریک نہیں ہو سکتی۔ تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے۔

ایسا نور جس کے بعد کسی ظلمت کا امکان نہیں ہے

۲۶/ ۲۔ نور
          ۲۶۔ وَنُوراً لَیسَ مَعَہُ ظُلمَةٌ ․ (ایسا نور ہے کہ اس کے بعد کسی ظلمت کا امکان نہیں ہے)
          اس کی حفاظت کی طرف اشارہ ہے کہ کسی بھی صورت میں باطل اس میں نہیں جاسکتا اور اس سے آلودہ نہیں ہوسکتا پانچویں منقبت میں ان بزرگوار کے قول کی وضاحت میں فرمایا: ”و شعاعاً لا یظلم نورہ“ وہ ایسی شعاع ہے کہ اس کی ضوء تاریک نہیں ہو سکتی۔ تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے۔
          ۱۵۶۔ ” وفی الکافی بِاِسنادِہِ عَن اَبی جَمیلة قالَ قالَ اَبُو عَبدِ اللّٰہِ علیہ السلام کانَ فی وَصیَّةِ اَمیر المُوٴمنینَ علیہ السلام اَصحابَہُ اَنَّ ھذا القرآنَ ھُدیٍ النّھارِ وَنُورُاللَّیل المُظلم عَلیٰ ماکانَ مِن جُھدٍ وَفاقَةٍ “ (۱)
          کافی میں ابو جمیلہ سے کلینی ۺ نے روایت کی ہے کہ ان کا بیان ہے: امام جعفر صادق   - نے فرمایا: حضرت امیر المومنین - نے اپنے اصحاب کو وصیت کی تھی کہ آگاہ ہو کہ قرآن دن اور رات میں ہدایت کرنے والا ہے اور ضلالت کی تاریکی میں روشنی دینے والا چراغ ہے جس قدر تلاش اور ضرورت ہو۔
          ۱۵۷۔ ”وفیہ عَن طلحَة بِن زَیدٍ عَن ابی عَبد اللّٰہ علیہ السلام اِنَّ ھذ القُرآنَ فیہ منَار الھُدیٰ وَمَصابیحُ الدُّجی فَلیُجْلِ جالٍ بَصَرَہُ وَفَتح لِلضِّیاءِ نَظَرَہ ، فَاِنَّ لتَّکَفرُ حَیاةُ قَلبِ البَصیرِ کَما یَمشی المُستَنیرٌ فی الظّلُماتِ بِالنّورُ “ (۲)
          مزید اسی کتاب میں طلحہ ابن زید نے امام جعفر صادق سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت - نے فرمایا: اس قرآن میں ہدایت و سعادت کے روشن منارے ہیں تاریکی اور اسے ختم کرنے کے لیے چراغ ہیں۔
          (بہت بجا اور مناسب ہے) جو افراد اس جادہ مستقیم اور پُر نور راہ میں کہ جس میں ہدایت و سعادت کی علامات پائی جاتی ہیں انہیں بصیرت اور چشم دل کو کھول کر تمام غورو فکر کے ساتھ اس راستہ کو طے کریں، جس طرح تاریک شب میں چلنے والے روشنی سے استفادہ کرکے خود کو ظلمت کے حوادث اور نشیب و فراز سے محفوظ رکھتے ہیں عمیق غور وفکر سے قرآن مجید کی رہنمائیوں سے صاحب بصیرت افراد کے دلوں کو تازہ روح ملتی ہے اور اس کے گراں قدر مطالب سے استفادہ کرتے ہیں۔
          امام - کا مقدس نور بھی مومنین کے دلوں میں چمکتا ہے اور انہیں روشن کرتا ہے لہٰذا اس عظیم ہستیوں کی عظمت و منزلت کی کماحقہ معرفت رکھنی چاہیے اور ہر حال میں ان کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہیے۔
          ۱۵۸۔ ” وفی کمال الدّین للصدوقۺ عَن جابِرِ الاٴنصاری فی حَدیثٍ نَصَّ رَسُولُ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ اصول کافی، ج۲، ص ۲۱۶، ص ۶۰۰۔ بحار الانوار، ج۶۵، ص ۲۱۲۔
(۲)۔ اصول کافی، ج۲، ص ۶۰۰۔ وسائل الشیعہ، ج۴، ص ۸۲۸۔
اللّٰہ (ص) عَلَی الائمة الاثنی عشَرَ ، الیٰ اَن قالَ (ص)   ثُمَ سمیّی وَکنیّی حُجَّة اللّٰہ  فی ارضِہِ وَبقیِتہ فی عِبادِہِ ، ابن الحَسَن بن عَلی ، ذَاکَ الذَی یَفتَح اللّٰہ تعالیٰ ذِکرہُ عَلیٰ یَدیْہِ مَشارِقَ الاٴرض وَمَغارِبھا ، ذاکَ الذَی یَغیب عَن شیعتہ وَاَولیائِہِ غَیبةً لا یَثبُتُ فیہا عَلَی القَولِ بِامامَتِہِ الاَّ مَنِ امتَحَن اللّٰہ قَلبَہُ للایمان ،قال جَابِرُ: فَقُلتُ یا رَسُول اللّٰہِ فَھَل یَقع لشیعتہ الاٴتنفاعُ بہ فی غَیبتہ ؟فَقالَ علیہ السلام ای والّذی بَعَثَنی بالنّبوة اِنّھم یَستَضیئونَ بنورِہِ وَینتفعونَ بِولایتہِ فی غَیبتِہِ کانتفاعِ الناسِ بالشمسِ وَاِن تجلَّلھَا سحابٌ ، یا جابر ھذا مِن مَکنُون سرّ اللّٰہِ ، وَمَخزونِ عِلمِ اللّٰہِ فاکتمہ الاَّعَن اہلِہِ “ (۱)
                   اسی کتاب میں مناقب خوارزمی سے جابر ابن عبد اللہ انصاری سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ رسول خدا (ص) نے مجھ سے فرمایا: اے جابر ! یقینا میرے اوصیاء جو میرے بعد ائمہٴ مسلمین ہیں ان میں سے پہلا علی پھر حسن پھر علی ابن الحسین پھر محمد ابن علی جو باقر کے نام سے مشہور ہیں اے جابر! عنقریب تم ان کو پاؤ گے جب تم ان سے ملاقات کرنا تو ان کو میرا سلام کہنا، پھر جعفر ابن محمد پھر موسی ابن جعفرپھر علی ابن موسی، پھر محمد ابن علی پھر علی ابن محمد پھر حسن ابن علی پھر قائم (آل محمد) ہوں گے کہ جو میرا ہم نام ہوگا اس کی کنیت میری کنیت پر ہوگی وہ محمد ابن حسن ابن علی ہوں گے ، یہ وہ ہیں کہ جن کے دست مبارک سے خداوند تبارک و تعالیٰ زمین کے تمام مشرق و مغرب کو فتح کرے گا ، یہ وہ ہیں کہ جو اپنے اولیاء سے ایک عرصہ تک ایسا غائب ہوں گے کہ ان کی امامت پر صرف وہی لوگ ثابت قدم رہیں گے کہ جن کے دل کا اللہ تعالیٰ نے امتحان لے لیا ہوگا۔
          جابر کہتے ہیں: میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ! کیا آپ کی غیبت کے زمانہ میں لوگ فائدہ اٹھائیں
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ کمال الدین، ج۱، ص ۱۵۳، کفایة الاثر، ص ۵۵، بحار الانوار، ج۵۲، ص ۹۳۔
گے؟ فرمایا: ہاں قسم ہے اس خدا کی کہ جس نے مجھے نبوت کے ساتھ مبعوث کیا! وہ لوگ آپ کی غیبت میں آپ کی ولایت کے نور کی ضو سے اس طرح فائدہ اٹھائیں گے جس طرح سورج کو بادل پنہان کرلیتا ہے مگر لوگ پھر بھی سورج کی روشنی سے فائدہ حاصل کرتے ہیں، یہ بات تمام لوگوں کے لیے اسرار الٰہی میں سے ہے اور اللہ کے علم میں مخزون ہے اس کو اس کے غیر اہل سے مخفی رکھو۔
 
۲۷/ ۲۔ ریسمان الٰہی
          ۲۷۔ وَحَبلاً وَثیقاً عُروَتُہُ ․ (وہ ریسمان ہے کہ جس کے حلقے محکم ہیں)
          قرآن مجید ایسی رسی ہے کہ اس کا دستہ بہت محکم اور ٹوٹنے والا نہیں ہے جس نے بھی اسے مضبوطی سے پکڑ لیا نجات پائے گا اور اس کی کامیابی محقق ہے ، کبھی بھی وہ وادی ضلالت و گمراہی میں نہیں جاسکتا یہاں تک کہ حوض کوثر پر پیغمبر اکرم (ص) کے پاس وارد ہوگا، جیسا کہ حدیث ثقلین اس معنی کے لیے گویا اور صریح ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: < فَمَنْ یَکْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَیُؤْمِنْ بِاللهِ فَقَدْ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَی لاَانفِصَامَ لَہَا > (۱) اب جو شخص بھی طاغوت کا انکار کرکے اللہ پر ایمان لے آئے وہ اس کی مضبوط رسی سے متمسک ہوگیا ہے جس کے ٹوٹنے کا امکان نہیں ہے۔
          مولف کہتے ہیں: حبل، ریسمان کے معنی میں ہے اور ہر اس شے کے لیے استعمال ہوتی ہے جس کے ذریعہ ہدف تک پہنچا جائے اور کتاب خدا اور عترت پیغمبر (ص) کو اس سے اس وجہ سے تشبیہ دی ہے کہ ان دونوں محکم و مضبوط رسیوں سے تمسک اختیار کرنے والوں کو رضائے الٰہی اور قرب پروردگار تک پہنچاتی ہے نیز اس (خدائے سبحان) کی محبت اور ثواب پر فائز کرتی ہے۔
          ۱۵۹۔ شیخ بزرگوار طبرسی علیہ الرحمہ نے حبل کے معنی کے لیے چند اقوال نقل کیے ہیں:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ بقرہ ، آیت ۲۵۶۔
          ان میں سے ایک یہ ہے کہ حبل قرآن مجید ہے۔ دوسرے یہ کہ دین اور اسلام ہے۔ تیسرے معنی کے لیے ابان ابن تغلب کی امام جعفر صادق   - سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت - نے فرمایا:
          نَحن حبلُ اللّٰہِ الذَی قالَ اللّٰہ تعالیٰ:<وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِیعًا > (۱) الآیہ ۔ یعنی ہم حبل اللہ ہیں جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور تم سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہو۔ بہتر ہے کہ تمام معانی پر حمل کیا جائے۔ (۲)
          پیغمبر اکرم (ص) جو تمام صفات جمیلہ و جلیلہ اور سارے علوم کے حامل ہیں فرمایا: میں معراج سے واپس نہیں ہوا مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمام چیزوں کا علم عطا کیا اور جو کچھ میرے پاس تھا اسے علی ابن ابی طالب - کو تعلیم دیا۔ اس کے بعد امام حسن و امام حسین علیہما السلام کو پھر یکے بعد دیگرے یہاں تک کہ اس امت کے مہدی حضرت حجة ابن الحسن العسکری عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کو یہ سب کے سب انبیاء علوم کے وارث ہیں۔ اس بنا پر جیسا کہ حضرت امیر المومنین - حبل اللہ ہیں تمام ائمہٴ اطہار علیہم السلام اور امام زمانہ - کا مقدس وجود حبل المتین میں سے ہے۔
          ۱۶۰۔ ”وفی کمال الدّین وتمام النعمة باسنادہ عَنْ یَونِسِ بن عَبد الرَّحمن : دَخَلتُ عَلیٰ موسیٰ بن جَعفرَ علیہما السلام فَقلت لَہ یا بنَ رَسولِ اللّٰہ (ص) انتَ القائِم بِالحَقَّ ؟ فَقالَ علیہ السلام اَنا القائم بِالحَق وَلکِنَّ القائِم الذَی یُطھّر الاَرض مِن اَعداء اللّٰہ عَزَّوجَلَّ وَیملاٴھا عَدلاً کما ملِئت جوراً وَظلماً ھوَ الخامِس مِن وُلدی ، لَہَ غَیبةٌ یَطُولُ اٴمَدُھا خَوفاً عَلیٰ نَفسِہِ یَرتَدَّ فیھا اقوامٌ وَیَثبُتُ فیھا آخرُونَ ثُمَّ قالَ علیہ السلام : طوبی لشیعتِنا المُتمسکین بحبلنا فی غیبِةِ قائمِنا الثَّابِتینَ عَلیٰ موالا تِنا وَالبَرائة مِن اعدائِنا، اولئِک مِنّا وَنَحنُ مِنھُم ، فَقَد رضوا بِنا ائمّةً وَرَضینا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورہ آل عمران، آیت ۱۵۹۔
(۲)۔ بحار الانوار، ج۳۶، ص ۱۹۔
بِھِم شِیعةً ، فطوبی لَھُم ثُمَّ طُوبی لَھم ، ھُم واللّٰہِ مَعَنا فی دَرَجاتِنا یَومَ القٰیمةَ “ (۱)
          عالم جلیل القدر شیخ صدوق (علیہ الرحمہ) نے اپنی کتاب کمال الدین میں اپنی سند کے ساتھ یونس ابن عبد الرحمن سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا: میں امام موسی ابن جعفر - کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: فرزند رسول (ص)! کیا آپ قائم بالحق ہیں؟ تو امام نے فرمایا: میں قائم بالحق ہوں لیکن وہ قائم جو زمین کو دشمنان خدا سے پاک کریں گے اس کو عدل و انصاف سے اس طرح بھردیں گے جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی وہ میرے پانچویں فرزند ہوں گے اور ان کی غیبت بہت طولانی ہوگی اپنے (مقدس) نفس پر خوف (و ہراس) کی بنا پر (اور اس طولانی غیبت میں بہت سے لوگ اپنے دین سے پھر جائیں گے مرتد ہوجائیں گے اور بہت سے دوسرے لوگ ہدایت پر باقی رہیں گے پھر فرمایا:
          ہمارے ان شیعوں کے لیے خوش خبری ہے جو ہمارے قائم کی غیبت کے زمانہ میں بھی ہماری دوستی و محبت سے متمسک رہیں گے اور ہماری دوستی پر ثابت قدم رہیں گے نیز ہمارے دشمنوں سے بیزاری کا اظہار کرتے رہیں گے وہی لوگ ہمارے ہیں اور ہم ان کے ہیں۔ یقینا وہ لوگ اس بات پر راضی و خوش ہوں گے کہ ہم ان کے امام ہیں اور ہم اس پر خوش ہیں کہ وہ ہمارے شیعہ ہیں۔ انہیں خوش خبری ہو کہ وہ لوگ خدا کی قسم! قیامت کے دن ہمارے ساتھ ہمارے درجے میں ہوں گے۔
          ۱۶۱۔ ” وفی امالی الشیخ طوسی رضوان اللّٰہ تعالیٰ باسنادہ عن ابان بن عثمان عن ابی عبد اللّٰہ جعفر بن محمد علیہما السلام قالَ: اِذا کانَ یَوم القِیٰمةِ نادیٰ منادٍ مِن بطنانِ العَرش اینَ خَلیفة اللّٰہ فی اَرضِہِ؟ فیقوم داوُدُ النَّبی علیہ السلام فَیَاٴتی النّدآءُ مِن عِندِ اللّٰہِ عزوجَل لسنا اِیّاکَ ارَدنا وان کُنتَ للّٰہِ خَلَیفة ، ثمّ ینادی ثانیةً اینَ
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ کمال الدین، ج۲، ص ۳۶۱۔
خَلیفة اللّٰہِ فی اَرضِہِ ؟ فَیَقوم اَمیر الموٴمنینَ علیہ السلام فَیَاٴتی النّدآء مِن قِبل اللّٰہ عَزوجَل : یا مَعاشر الخلائق ھذا عَلیّ بن ابی طالبٍ خَلفیة اللّٰہ فی ارضِہِ وَحجتہ عَلیٰ عبادِہِ فَمن تَعَلّقَ بحبلہِ فی دارِ الدُّنیا فَیتعَلَّق بحبلہ فی ھذا الیوم لِیَستضی بِنورِہِ وَلیتَّبِعْہُ الی الدرَجات العُلیٰ مِن الجنانِ قالَ فَیقوم اناسٌ قد تعلقوا بحبلِہِ فی الدنیا فیتّبعونہ الی الجنة ، ثُمَّ یاٴتی النّداء مِن عِند اللّٰہ عَزَّوجَلَّ الا مَن ائتمّ بامامٍ فی دارِ الدُنیا فَلیتّبعہ الیٰ حدیث یَذھبُ بِہِ ، فحینئذٍ یَتَبَرَّء<الَّذِینَ اتُّبِعُوا مِنْ الَّذِینَ اتَّبَعُوا وَرَاٴَوْا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِہِمْ الْاٴَسْبَابُ # وَقَالَ الَّذِینَ اتَّبَعُوا لَوْ اٴَنَّ لَنَا کَرَّةً فَنَتَبَرَّاٴَ مِنْہُمْ کَمَا تَبَرَّئُوا مِنَّا کَذَلِکَ یُرِیہِمْ اللهُ اٴَعْمَالَہُمْ حَسَرَاتٍ عَلَیْہِمْ وَمَا ہُمْ بِخَارِجِینَ مِنَ النَّارِ >“ (۱)
          محقق بزرگوار عالم جلیل القدر شیخ طوسی رحمة اللہ علیہ اپنی کتاب امالی میں اپنی سند کے ساتھ ابان ابن عثمان سے انہوں نے صادق آل محمد   سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک آواز دینے والا عرش کے درمیان آواز دے گا:
          روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کا خلیفہ کہاں ہے؟ تو حضرت داؤد کھڑے ہوں گے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آواز آئے گی اگرچہ آپ زمین میں خلیفہ ہیں لیکن میری مراد آپ نہیں تھے پھر دوبارہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آواز آئے گی کہ روئے زمین میں اللہ تعالیٰ کا خلیفہ کہاں ہے؟ پھر حضرت امیر المومنین علی   کھڑے ہوں گے، خدائے بزرگ و برتر کی طرف سے آواز آئے گی: اے گروہ خلائق! (جو عرصات محشر میں جمع ہو) یہ علی ابن ابی طالب - روئے زمین پر اللہ کا خلیفہ اور اس کے بندوں پر حجّت ہے جس شخص نے بھی دنیا میں اس کی حبل اور دامن سے تمسک اختیار کیا تھا آج بھی اس کی حبل سے تمسک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ بقرہ، آیت ۱۶۶، ۱۶۷۔
اختیار کرے ان کے دامن سے وابستہ رہے تاکہ ان کے ذریعہ روشنی حاصل کرے اور ان کی قیادت میں بہشت کے درجات عالیہ میں جائے، فرمایا: پھر کچھ لوگ بلند ہوں گے کہ جنہوں نے دنیا میں ان کے مقدس دامن سے تمسک اختیار کیا تھا تو وہ حضرت - کے پیچھے بہشت میں داخل ہوں گے۔ پھر خدائے بزرگ و برتر کی طرف سے آواز آئے گی، جان لو آگاہ ہوجاؤ جس شخص نے اپنے امام کی دنیا میں اقتدا اور اتباع کیا ہوگا اس مقام پر بھی وہ جہاں جائیں گے ان کے پیچھے ان کے ساتھ چلا جائے ، اس وقت حضرت - نے اس آیہٴ کریمہ کی تلاوت کی: اس قت جب کہ پیر اپنے مریدوں سے بیزاری کا اظہار کریں گے اور سب کے سامنے عذاب ہوگا اور تمام وسائل منقطع ہوچکے ہوں گے اور مرید بھی یہ کہیں گے کہ اے کاش! ہم نے ان سے اس طرح بیزاری اختیار کی ہوتی جس طرح یہ آج ہم سے نفرت کر رہے ہیں خدا ان کے اعمال کو اسی طرح حسرت بنا کر پیش کرے گا اور ان میں سے کوئی جہنم سے نکلنے والا نہیں ہے۔
          ۱۶۲۔ ”وفی المناقب شیخ الاھل قطب المحدثین محمّد بن شہر آشوب عن النبی (ص) انّہ ساٴل اعرابیٌ عَن قولِہِ تعالیٰ : <وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰہِ >(۱) فَاَخَذَ رَسُولُ اللّٰہ (ص) یَدَہُ فَوَضَعَھا عَلیٰ کِتف عَلیٍ علیہ السلام فَقالَ یا اعرابی ھذا حبل اللّٰہ فاعتَصِم بِہِ فَدٰارَ الاعرابی مِن خَلفِ عَلیٍ علیہ السلام وَالتَزَمہ ، ثمَ قالَ انّی اشھِدک انّی اِعتصمْت بحبْلکَ فَقالَ رَسُولُ اللّٰہ (ص) مَن اراد ان ینظر الیٰ رَجلٍ مِن اھل الجنةِ فلینظر الیٰ ھذا “ (۲)
          سفینہ میں مناقب محمد ابن شہر آشوب سے پیغمبر اکرم (ص) سے نقل کیا ہے کہ ایک اعرابی نے آنحضرت (ص) سے اللہ تعالیٰ سے اس قول <و اعتصموا بحبل اللّٰہ> یعنی اللہ کی رسی کو مضبوطی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ آل عمران، آیت ۱۰۳۔
(۲)۔ مناقب ابن شہر آشوب، ج۳، ص ۹۳۔
سے تھامے رہو) کے بارے میں دریافت کیا کہ یہ حبل کیا ہے کہ جس سے اللہ تعالیٰ متمسک رہنے کا حکم دیتا ہے؟ تو رسول خدا (ص) نے اعرابی کا ہاتھ پکڑا اور حضرت علی - کے شانہٴ مبارک کے اوپر رکھ کر فرمایا: اے اعرابی یہ حبل اللہ ہے، اس سے متمسک رہو (اس کا دامن تھامے رہو) اعرابی نے حضرت علی - کے پسِ پشت چکر لگایا (آگے کی طرف آیا اور انہیں اپنی بانہوں میں لے کر ) کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یقینی طور پر آپ سے تمسک اختیار کیا، پھر رسول خدا (ص) نے فرمایا: جو شخص بھی اس بات کا خواہش مند ہے کہ اہل بہشت کے کسی مرد کو دیکھے تو اسے اس اعرابی مرد کو دیکھنا چاہیے۔
          ۱۶۳۔ اسی جیسی روایت مفصل طورپر بحار الانوار میں نقل ہوئی ہے اور اس کے آخر میں ذکر ہوا ہے ” انَّ الرجُلَ خَرَجَ فَیلحقُھا الثانی وسَاٴلہ انّ یَستَغفِر لَہُ فَقال لَہُ ھَل فَھمتَ ماقالَ لی رُسُول اللّٰہ (ص) وَما قُلتَ لَہُ قالَ نَعَم فَقالَ لَہُ اٴنِ کنتَ متمسکاً بِذلِکَ الحبل فَغَفَر اللّٰہ لَکَ وَالا فلا غفر اللّٰہ لک ۔“ (۱)
          البتہ اس طرح کی روایت کو تفصیل کے ساتھ کنز الفوائد میں کراجکی علیہ الرحمہ نے نقل کیا ہے اور اس کے آخر میں ذکر ہوا ہے کہ وہ شخص رسول خدا (ص) کے پاس سے باہر آیا تو عمر ابن خطاب نے اس سے ملاقات کی اور اس اعرابی سے درخواست کی کہ اس کے حق میں طلب مغفرت کرے، اعرابی نے ان سے کہا: کیا تم جانتے اور سمجھتے ہو کہ مجھ سے رسول خدا (ص) نے کیا فرمایا اور میں نے ان سے کیا عرض کیا؟ کہا: ہاں میں سمجھتا ہوں ، تو اعرابی نے خلیفہٴ دوم سے کہا: آپ بھی اس حبل یعنی علی - سے متمسک ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے گا ورنہ (اگر مخالفت کی اور ان سے تمسک اختیار نہ کیا تو) اللہ آپ کی مغفرت نہیں کرے گا۔
          ہم اللہ تعالیٰ کو خود اپنے آقا امیر المومنین - کے مقام ولایت و عظمت کی قسم دیتے ہیں کہ اس حقیر کو
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ بحار الانوار، ج۳۶، ص ۱۶۔ تفسیر کنز الدقائق، ج۲، ص ۱۸۶۔ تاویل الآیات، ج۱، ص ۱۱۸۔
اور تمام شیعوں اور مومنین کو ان دونوں حبل قرآن عترت جو آنحضرت کے اہل بیت ہیں بالخصوص حضرت بقیة اللہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے مقدس وجود سے متمسک رہنے والوں میں قرار دے۔ بحمد وآلہ الطاہرین ۔
 
۲۸/ ۲۔ پناہ گاہ
          ۲۸۔ ”ومَعقَلاً منیعاً ذِروَتُہُ․“ (اور وہ پناہ گاہ ہے کہ جس کی بلندی محفوظ ہے)
          قرآن کریم ملجا و مآوی اور ایسی پناہ گاہ ہے جو بہت بلند، اور ایسا قلعہ اور حصار ہے جو فوق العادت مضبوط و مستحکم ہے کہ اس کی بلندی اور استحکام اس بات سے مانع ہے کہ اس کے پناہ لینے والے کے پاس کوئی ناپسند شے یا عذاب و ناراضگی پہنچے۔
          ۱۶۴۔ ”وفی تَفسیر العیَّاشی عَن جَعفر بن محمَّدٍ عَن ابیہ عَن آبائِہِ عَلیہم السلام قالَ قالَ رَسُولُ اللّٰہ (ص) ایّھا النّاسُ اِنَّکُم فی زمان ھدنَةٍ وَانتُم عَلیٰ ظَھر السَّفَر والسَّیر بِکُم سَریعُ فَقَد رَاٴَیتم اللّیلَ والنّھار وَالشَّمسَ وَالقَمَر یُبلیان کُلَّ جدیدٍ وَیقرّبان کلَّ بَعیدٍ وَیاٴتیانِ بِکلّ موعودٍ، فَاَعِدّوا الجھَازَ لِبُعد المفازِ ، فَقامَ المِقداد فَقالَ: یا رَسولَ اللّٰہ (ص) مادار الھدنةِ ؟ قالَ دار بَلیً وانقطاعٍ ، فَاِذا التَبَسَت عَلَیکم الفِتَن کَقِطَع اللَّیلِ المُظلم فَعَلَیکُم بِالقرآن فَانَّہ شافعٌ مُشَفَّعٌ وَماحِلٌ مُصَدَّقٌ مَن جَعَلَہ اٴمامَہُ قادہ اِلی الجنَّةِ وَمَن جَعَلَہ خَلفَہ ساقہ اِلَی النّارِ ، الیٰ قولہ لا تحصیٰ عَجائِبُہُ وَلا تُبلیٰ غرائِبہ ، فیہِ مَصابیح الھُدی َومنار الحِکمَةِ وَدَلیلٌ عَلَی المَعروفِ لِمَن عَرَفَہ“ (۱)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ تفسیر عیاشی، ج۱، ص ۲۔ بحار الانوار، ج۸۹، ص ۱۷۔
          عیاشی نے اپنی تفسیر میں امام جعفر صادق   - سے انہوں نے اپنے آبائے طاہرین سے روایت کی ہے کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا: تم ہدنہ کے گھر میں ہو تم سفر میں ہو (ایسی سواری جو بہت تیز رفتار ہے) اور نہایت تیزی سے سفر کر رہے ہو یقینا تم نے دیکھا کہ رات اور دن (طلوع و غروب) سورج اور چاند ہر نئی چیز کو کُہن بنا رہے ہیں اور ہر بعید کو قریب کرتے جا رہے ہیں اور وعدہ کیے ہوئے کو لا رہے ہیں لہٰذا راستہ دور ہے اور اپنی کوششوں سے کوچ کو آمادہ رکھو تاکہ مفاز جو فلاح و نجات کی جگہ ہے پہنچ جاؤ۔ اس وقت مقداد نے کھڑے ہوکر عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کیا ہے؟ فرمایا: وہ امتحان (و آزمائش) کا گھر ہے اور اسی طرح کی لذتوں سے قطع کرنے کا مقام ہے لہٰذا جب بھی فتنے تمہارے اوپر مشتبہ ہوجائیں اور تاریک رات کی طرح چھا جائیں تو تم قرآن کی طرف رجوع کرو اس سے متمسک رہو کیونکہ وہ شفاعت کرنے والا بھی ہے اور شفاعت کو قبول کرنے والا بھی اور جو خدا کی طرف سے آیا ہے اس کی تصدیق کرنے والا جس نے اُسے آگے رکھا وہ جنت کی طرف لے گیا اور جس نے اسے پیچھے ڈالا اور اس کا احترام ملحوظ خاطر نہیں رکھا تو وہ اسے دوزخ کی طرف کھینچ لے گیا (روایت مفصل ہے) یہاں تک کہ فرمایا: قرآن مجید کے عجائب و غرائب شمار میں نہیں آتے اس کی حد شمار سے باہر اور اس کے غرائب ہمیشہ جدید اور تازہ ہیں ، بوسیدہ و کہنہ نہیں ہوتے وہ ہدایت کے چراغ ہیں اور حکمت کے منارے ہیں اور جس نے اس کی حقیقت اور با ارزش مطالب کو پہچان لیا وہ اس کے لیے تمام نیکیوں کے لیے دلیل و راہ گشا ہوگیا۔
          مولف کہتے ہیں: ائمہٴ اطہار   کا مقدس وجود ہر زمان و مکان میں ان کی امامت کے زمانے میں ان کی موت و حیات کے دوران وہ تمام لوگوں کے مرجع و ملجا و ماوی اور پناہ گاہ تھے اور ہیں بھی، بالخصوص مہدی آل محمد حضرت بقیة اللہ الاعظم ولی مطلق رب العزت صاحب العصر و الزمان - عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کا ہر دل عزیز وجود جو ہر بے پناہ اور مستضعف لوگوں کے لیے ملجا و مآوی ہے نیز وہ دنیائے واقعی مستضعفین کا انتقام لینے والے ہیں۔
          ۱۶۵۔ ”وفی الامالی للشیخ الطوسی رضوان اللّٰہ تعالیٰ علیہ ) بالاٴسناد الیٰ احمد بن المعافا بقَصر صَبیح ، قالَ حدثَنا عَلیّ بن مُوسیٰ الرِضا علیہ السلام عن ابیہِ مُوسیٰ عن اَبیہِ جَعفر بن محمَّد عن اَبیہ محمَّد بن علی عَن اَبیہ عَلیّ بن الحسین عن اَبیہ الحُسین بن علیِّ ابن ابی طالبٍ علیہ السلام ، عن النّبی (ص) عن جبرائیلَ عَن میکلائیل عَن اسرافیل - صلوات اللّٰہ علیہم - عَن القَلَم عَنِ اللوح عَنِ اللّٰہ تعالیٰ : عَلیٌ علیہ السلام حِصنی من دَخلَہ اَمِنَ ناری “ (۱)
          محدث اور فقیہ عالی قدر شیخ جلیل علامہ طوسی نے اپنی سند کے ساتھ احمد ابن معافا سے قصر صبیح سے کہا کہ مجھ سے حضرت علی ابن موسی الرضا - نے اپنے پدر بزرگوار موسی کاظم - سے انہوں نے اپنے والد گرامی جعفر صادق - سے انہوں نے اپنے پدر گرامی محمد باقر   - سے انہوں نے اپنے پدر بزرگوار علی ابن الحسین - سے انہوں نے اپنے والد گرامی حسین ابن علی ابن ابی طالب سے انہوں نے نبی اکرم سے انہوں نے جبرئیل سے انہوں نے میکائل سے انہوں نے اسرافیل سے انہوں نے قلم سے انہوں نے لوح سے اس نے اللہ تعالیٰ سے یہ حدیث بیان کی ہے:” علی میرا قلعہ ہے جو اس میں داخل ہوگیا وہ میری آتش جہنم سے امان میں ہے
          مولف کہتے ہیں: بارہویں حجّت خدا آسمان ولایت کے درخشاں ستارے کی ولایت اور محبت و دوستی اور تمام اہل بیت عصمت و طہارت   کی ولایت ایسا گوہر ہے جو بہت زیادہ گراں قیمت ہے کہ اگر تمام دنیا کے ماہرین جمع ہوجائیں تو اس کی قیمت اور معیار کا اندازہ نہیں لگا سکتے نہ ہی اسے معین کرسکتے ہیں۔
          اس عالی قدر گوہر کے حامل افراد نے خدانخواستہ اگر نا آگاہی یا بے اہمیتی کی وجہ سے یا مادّی اقدار
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ امالی شیخ طوسی، ص ۳۵۳۔
سے موازنہ کرنے کی بنا پر اپنے ہاتھوں سے اسے کھودیں یا سہل انگاری کریں تو بہت زیادہ اور ناقابل تلافی نقصان تحمل کرنا ہوگا۔
 
۲۹/ ۲۔ شرافت
          ۲۹۔ وَعِزّاً لِمَن تَوَلاّہُ (چاہنے والوں کے لیے عزت اور قیمتی ہے)
          قرآن اپنے چاہنے والوں کے لیے عزت و شرف ہے اور ان لوگوں کے لیے بھی جو اسے اپنا ولی و رہبر اور پیشوا قرار دیں نیز اپنے دنیوی اور اخروی زمام امور کو اس کے اختیار میں دے دیں اس کے اوامر و نواہی پر عمل کریں تمام اقدار اور معیاروں کو اسی پر تطبیق دیں تو ان کی دنیا و آخرت کی عزت و شرف کا حامل ہوگا۔
          مولف کہتے ہیں: حضرت ولی عصر - ناموس دہر امام زمانہ - اور ان کے آباء و اجداد طاہرین کی دوستی اور ولایت و محبت ایسا شرف اور عزت ہے جو تمام شرافتوں سے بالاتر اور دنیا وآخرت میں سربلندی کا باعث ہے نیز اس کے نطفہ کی قداست اور طاہر الولادت ہونے کی علامت ہے۔
          ۱۶۶۔ ” و فی بشارَةِ المُصطفیٰ لِشیعة المُرتضیٰ باِسنادِہِ عَن المفَضَّل بن عُمر قالَ قالَ اَبو عَبدِ اللّٰہ علیہ السلام : مَن وَجَدَ بَردَ حبّنا عَلی قلبِہِ فلیکثِر الدُعآء لاٴمِّہِ فَانّھا لَم تَخُنْ اَباہُ “ (۱)
          مولف بشارة المصطفیٰ لشیعة المرتضی نے اپنی سند کے ساتھ مفضل ابن عمر سے نقل کیا ہے کہ امام جعفر صادق   - نے فرمایا: جو شخص ہماری محبت کی لذت اور خنکی کا اپنے دل میں احساس کرے (ہماری دوستی و مودت اس کے دل میں جاگزیں ہوجائے) تو اسے اپنی مہربان ماں کو بہت دعائیں دینی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ بشارة المصطفیٰ، ص ۱۱۔
 چاہیے اس لیے کہ اس نے اس کے باپ کے ساتھ خیانت نہیں کی ۔ یعنی اس کا نطفہ قداست و پاکیزگی کے ساتھ رحم مادر میں مستقر ہوا اور اسی طرح اس نے دنیا میں آنکھیں کھولیں۔
          ۱۶۷۔ ”وَفیہ باِسنادِہِ عَن اَبی سَلمةَ عَن اَبی ہُریرةٍ قالَ اِنَّ رَسُول اللّٰہ (ص) جآء ہ رَجُلٌ فقالَ یا رَسولَ اللّٰہ (ص) اَما رَاٴَیتَ فلاناً رَکِبَ البَحر ببِضاعةٍ یَسیرةٍ الیَ الصین فَاَسرَعَ الکرَّةَ واعظمَ الغنیةَ حَتیٰ حَسَدَہ اھلُ وُدِّہِ وَاَوسَعُ قَراباتِہِ وَجیرانِہِ ، فَقالَ رَسُولُ اللّٰہ (ص) انَّ مالَ الدُّنیا کلّما ازدادَ کثرةً وَعظَمَةً اِزدادَ صاحَبہُ بَلاءً تَغبطوا اصحابَ الاموال الاَّ بِمن جآءَ بمالِہِ فی سَبیل اللّٰہ وَلٰکن الا اُخبِرکُم بِمَن ھُو اقلّ مِن صاحِبک بِضاعَةً واسرَعُ مِنہ کرَّةً ؟ قالوا بَلی یا رَسولَ اللّٰہ (ص) فَقالَ رَسُولُ اللّٰہ (ص) انظُروا اِلیٰ ھذَا المُقبِلِ فَنَظَرنا فَاذِاً رَجُلٌ مِن الاٴنصار رثّ الھیئةِ فَقال رَسُولُ اللّٰہ (ص) اِنَّ ھذا الرجلُ لَقَد صَعَدَ لَہ فی ھذاالیَوم اِلَی العُلُوّ مَن الخیراتِ وَالطّاعَةِ ما لو قُسمَ عَلی جَمیع اھل السَّمواتِ وَالارض لَکانَ نصیب اقلّھِم مِنہ غُفران ذُنُوبہِ وَوُجُوب الجنَةَ لَہُ ، قالوا: بِما ذایا رَسُولَ اللّٰہ (ص) فَقالَ سَلُوہُ یخبرکُم بِما صَنَعَ فی ھذا الیوم ، فاقْبَل الیہِ رَسُول اللّٰہ (ص) وَقالوا لَہُ ھنیئاً لَکَ ما بَشَّرَکَ بِہِ رَسُولُ اللّٰہ (ص) فماذا صنعتَ فی یَومِکَ ھذا حتّی کُتِبَ لَکَ ماکتِبَ ؟ فقالَ الرجُلُ ما اعْلَمُ انّی صَنَعت شَیئاً غَیر انّی خَرجتُ مِن بیتی وَاَردتُ حاجَة کُنتُ ابطاٴتُ عَنھا فَخَشیتُ اٴن یکونَ فاتتنی ، فقُلتُ فی نَفسی لاٴعتاض مِنھا بِالنظَرِ الیٰ وَجہ عَلیِّ بن ابی طالِبٍ علیہ السلام فَقَد سَمِعت رَسُول اللّٰہ (ص) یَقُولُ النظر اِلی وَجہِ عَلیِ بن ابی طالِبٍ عِبادَة، فقال رَسُول اللّٰہ   (ص) ای و اللّٰہ عِبادةٌ وَایُّ عِبادَةٍ، انَّکَ یا عبد اللّٰہِ ذَھَبتَ تبتَغی اٴن تکسِب دیناراً لِقوتِ عیالِکَ فقاتَکَ ذلِکَ فاعتَضْتَ مِنہُ بِالنَّظَر اِلیٰ وَجہ عَلیّ ابن ابی طالبٍ علیہ السلام وَانتَ محِبٌّ لَہ وَلِفضلِہِ معتَقِدٌ وَذٰلکَ خَیرٌ لَکَ مِن ان لو کانَتِ الدّنیا کلّھا ذَھَبَةً فَانفَقْتھا فی سَبیل اللّٰہِ وَلتشفعنَّ بَعِدَدِ کُلِّ نَفَسٍ تنفَّستہَ فی مَسیرِکَ الیہِ فی الف رَقَبةٍ یعتِقھُمُ اللّٰہ مِنَ النَّارِ بشفٰاعتِکَ“ (۱)
          نیز اسی کتاب میں رسول خدا (ص) سے روایت کی گئی ہے کہ ایک شخص رسول خدا (ص) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور کہا: اے رسول خدا (ص) ! کیا آپ نے فلاں شخص کو نہیں دیکھا کہ جس نے دریا کا سفر طے کیا اورمختصر سرمایہ کے ساتھ چین گیا اور بہت جلد بڑے کافی منافع کے ساتھ واپس آیا، اس طرح کہ اس کے دوستوں نے حسد کرنا شروع کیا یہاں تک کہ اس کے رشتے دار اور پڑوسی لوگوں میں بھی یہ حسد پھیل گیا، حضرت رسول اکرم (ص) نے فرمایا: مالِ دنیا جس قدر بھی زیادہ اور بہت عظیم المرتبت ہو اس کا مالک زیادہ آزمائشوں میں مبتلا ہوگا لہٰذا صاحبانِ اموال پر غبطہ نہیں کرنا چاہیے اور ان کی طرح اموال کی تمنا نہیں کرنی چاہیے ہاں ایسے شخص پر غبطہ کرنا چاہیے جو اپنے مال کو راہِ خدا میں خرچ کرے لیکن کیا تم یہ چاہتے ہو کہ تمہیں ایسے شخص کے بارے میں خبر دوں جو تمہارے دوستوں میں سے ہے اس نے کم سرمائے اور مختصر پونجی کے ساتھ اپنا سفر کیا اور بہت جلد واپس آگیا اور اس سے زیادہ منافع لے کر واپس ہوا ہے؟ کہا: ہاں یا رسول اللہ (ص)! تو رسول اکرم (ص) نے فرمایا: اس شخص کی طرف نظر کرو جو ہماری طرف آ رہا ہے لہٰذا ہم لوگوں نے اس کی طرف نظر کی تو وہ انصار میں سے ایک شخص کہنہ لباس اور اپنی معمولی ہیئت کے ساتھ ہے۔
          رسول خدا (ص) نے فرمایا: اس شخص نے اس دن خیرات اور اطاعت کی وجہ سے ایسا اعلیٰ مقام حاصل کیا ہے اور اس حد تک پہنچا ہوا ہے کہ اگر تمام اہل آسمان و زمین کے لےے تقسیم کر دیا جائے تو ان سب کا کم سے کم حصہ ان کے گناہوں کی بخشش اور ان کے لیے بہشت واجب ہونا ہے کہا: یا رسول اللہ
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ بشارة المصطفیٰ، ص ۶۸۔
کس عمل کے ذریعے؟ فرمایا: خود اسی سے دریافت کرو کہ اس نے آج کون سا عمل انجام دیا ہے؟ پس اصحاب رسول خدا (ص) اس کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا:تمہارے لیے وہ خوش خبری گوارا ہو جو تمہیں رسول خدا (ص) نے دی ہے تم نے آج کون سا عمل انجام دیا ہے کہ جو تمہارے اعمال میں لکھاجانا چاہیے تھا وہ تحریر کیا جا چکا ہے؟
          اس شخص نے کہا: مجھے اس عمل انجام دینے کے علاوہ کسی اور کام کرنے کی اطلاع نہیں ہے، آج گھر سے باہر آیا ایک حاجت اور ضرورت کے پوری کرنے میں تھوڑی تاخیر کردی، جب میں نے اس کے فوت ہونے کا خوف محسوس کیا تو اپنے دل میں کہا: (اگر وہ ضرورت پوری نہ ہوتی تو) اس کے عوض میں (مبارک) چہرہٴ علی ابن ابی طالب - کا نظارہ کروں گا، کیونکہ رسول خدا (ص) کو یہ فرماتے ہوئے میں نے سنا ہے: علی ابن ابی طالب - کے چہرے کی طرف نگاہ کرنا عبادت ہے، رسول خدا (ص) نے فرمایا:ہاں خدا کی قسم! عبادت ہے اور وہ بھی کیسی عبادت؟ یقینا اے بندہٴ خدا! تم دینار حاصل کرنے کے لیے گئے تاکہ اپنے اہل و عیال کا رزق فراہم کرو اور وہ فرصت تم سے فوت ہوگئی اسے نہ حاصل کرسکے، لیکن اس کے عوض میں تم نے علی ابن ابی طالب - کے چہرے کی طرف نظارہ کرنا اختیار کیا حالانکہ تم ان کے عاشق اور محب تھے، ان کے فضل و مقام کے معتقد تھے (یعنی ان سے محبت و دوستی رکھتے تھے اور ان کے فضل و مقام کے معتقد تھے) وہ تمہارے لیے اس چیز سے بہتر ہے کہ اگر تمام دنیا (وما فیھا) سرخ سونا ہو اور ان سب کو راہِ خدا میں خرچ کرو، اس کے علاوہ تم یقینا اپنی ان تمام سانسوں کے برابر جو اس راہ میں لی ہے اس کی تعداد کے برابر شفاعت کرو گے اللہ تمہاری شفاعت کے ذریعے ہزار غلام کو آتش جہنم سے آزاد کرے گا۔
 
 
۳۰/ ۲۔ سلامتی
          ۳۰۔ وَسِلماً لِمَنْ دَخَلَہُ․ (اس میں داخل ہونے والوں کے لیے سلامتی ہے)
          شارح بحرانی کہتے ہیں: سلم امن کے معنی میں ہے اور اس میں داخل ہونا یعنی اس کے مقاصد میں تدبر اور غور وفکر کرنا ہے اور اس کے اندر کی کرن سے اقتباس کرنا نیز اس کے انوار کا خاموش نہ ہونا اس اعتبار سے عذاب خدا اور ان شبہات میں پڑنے سے پناہ گاہ ہے جو ہلاکت کا زمینہ فراہم کرتے ہیں۔
          اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لفظ سلم استعارہ اور کنایہ ہے اس اعتبار سے کہ جو بھی اس میں داخل ہوجائے اسے کسی بھی صورت میں آزار و اذیت نہیں پہنچ سکتی۔
          جس طرح قرآن مجید اپنی پناہ حاصل کرنے والوں کے لیے ملجا و مآوی اور شبہات سے محفوظ رکھنے والا ہے اسی طرح ائمہٴ اطہار کی ولایت و محبت حضرت علی بن ابی طالب - اور ان کی اولاد طاہرین کہ جن کی آخری فرد حضرت بقیة اللہ (روحی لھم الفداء) ہیں جو اپنے پاس وارد ہونے والوں کے لیے بہت مضبوط و مستحکم اطمینان اور پناہ گاہ ہیں۔
          ۱۶۸۔ ”وفی فضائل الشیعة بِاِسنادِہِ عَن جابر عَن ابی جعفَرٍ محمَّد بنَ عَلیِّ بن الحُسین عَن عَلیّ بن الحسین عَن اَبیہ قالَ قالَ رَسُولُ اللّٰہ (ص) حُبّی وَحبُّ اَھل بَیتی نافعٌ فی سَبعِ مواضِعَ اٴھو الھنّ عَظمیةٌ: عِندَ الوفاةِ وَفی القبرِ وَ عِندَ النُّشُورِ وَعندَ الکِتابِ وَ عند الحِسابِ وَعند المیزانِ وعند الصِّراط “ (۱)
          کتاب فضائل الشیعہ میں شیخ صدوق ۺ نے اپنی سند کے ساتھ امام محمد باقر   - سے انہوں نے اپنے آباء و اجداد طاہرین   سے انہوں نے حضرت رسول خدا (ص) سے نقل کیا ہے کہ آنحضرت نے فرمایا: میری اور میرے اہل بیت کی دوستی و محبت سات مقامات میں کہ جہاں ان کی دہشت و حشت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ فضائل الشیعہ، ص ۵۔ روضة الواعظین، ص ۲۷۱۔
بہت زیادہ عظیم ہے فائدہ بخش ہے۔
          ۱۔ احتضار اور موت کی حالت میں، ۲۔ قبر میں، ۳۔ حشر و نشر کے وقت کہ جب قبروں سے محشر کی طرف آئیں گے، ۴،۵۔ حساب و کتاب کے وقت اور جب نامہٴ اعمال اڑ کر لوگوں تک پہنچیں گے، ۶۔ میزان اور اعمال کے وزن کے موقع پر، ۷۔ صراط سے عبور کرتے وقت۔
 
۳۱/ ۲۔ کامیابی
          ۳۱۔ وَ ھُدیً لِمَنِ ائتَمَّ بِہِ (اقتداء کرنے والوں کے لیے ہدایت ہے)
          قرآن کریم ان لوگوں کے لیے ہادی و رہنما ہے جو اس کی رہنمائی کی پیروی کرتے ہیں اس کے دستورات عالیہ کا اتباع اور ان پر عمل کرتے ہیںاور یہ بہت واضح سی بات ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <ذَلِکَ الْکِتَابُ لاَرَیْبَ فِیہِ ہُدًی لِلْمُتَّقِینَ > (۱)
          یہ صاحبان تقویٰ اور پرہیز گاروں کے لیے مجسم ہدایت ہے۔
           اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <یَااٴَہْلَ الْکِتَابِ قَدْ جَائَکُمْ رَسُولُنَا یُبَیِّنُ لَکُمْ کَثِیرًا مِمَّا کُنْتُمْ تُخْفُونَ مِنْ الْکِتَابِ وَیَعْفُو عَنْ کَثِیرٍ قَدْ جَائَکُمْ مِنْ اللهِ نُورٌ وَکِتَابٌ مُبِینٌ یَہْدِی بِہِ اللهُ مَنْ اتَّبَعَ رِضْوَانَہُ سُبُلَ السَّلاَمِ وَیُخْرِجُہُمْ مِنْ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّورِ بِإِذْنِہِ وَیَہْدِیہِمْ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ > (۲)
          اے اہل کتاب ! تمہارے پاس ہمارا رسول آچکا ہے جو اِن میں سے بہت سی باتوں کی وضاحت کر رہا ہے جن کو تم کتاب خدا میں چھپا رہے تھے اور بہت سی باتوں سے درگزر بھی کرتا ہے تمہارے پاس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورہ بقرہ، آیت ۲۔
(۲)۔ سورئہ مائدہ، آیت ۱۶۔
خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آچکی ہے جس کے ذریعہ خدا اپنی خوشنودی کا اتباع کرنے والوں کو سلامتی کے راستوں کی ہدایت کرتا ہے اور انہیں جہل و کفر و شرک کی تاریکیوں سے نکال کر اپنے حکم سے نور کی طرف لے آتا ہے اور انہیں صراط مستقیم کی طرف ہدایت کرتا ہے۔
          جس طرح کہ فرق بیان و ظہور کلام اور بیان کرنے والے پر قائم ہے۔ نور اور کتاب کا لانے والا ذات اقدس باری تعالیٰ کی ذات پر قائم ہے، اور یہی معنی تائید کرتا ہے کہ نور سے مراد قرآن کریم ہے کتاب اور مبین عطف تفسیر و توضیح ہے اس بنا پر نور اور کتاب مبین دونوں سے مراد قرآن مجید ہے، اللہ تعالیٰ نے بہت سے مقامات میں قرآن کو نور سے تعبیر فرمایا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے: <وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِی اٴُنزِلَ مَعَہُ > (۱) اور اس نور کا اتباع کیا جو اس کے ساتھ نازل ہوا ہے۔
           اللہ تعالیٰ کا یہ قول : <فَآمِنُوا بِاللهِ وَرَسُولِہِ وَالنُّورِ الَّذِی اٴَنزَلْنَا > (۲) لہٰذا خدا اور رسول اور اس نور پر ایمان لے آؤ جسے ہم نے نازل کیا ہے۔
          نیز اللہ تعالیٰ کا یہ قول: <وَ اٴَنْزَلْنٰا اِلَیْکُمْ نُوراً مُبِیناً> (۳) اور ہم نے تمہاری طرف روشن نور بھی نازل کردیا ہے۔
          مزید یہ بھی احتمال پایا جاتا ہے کہ نور سے مراد نبی اکرم (ص) کی ذات گرامی ہو جیسا کہ صدر آیت سے ممکن ہے یہ استفادہ کیا جائے <قد جاء کم من اللّٰہ نور و کتاب مبین> (یقینا تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور اور روشن کتاب آئی) اس بنا پر عطف تفسیر و توضیح ہوگا، بلکہ دونوں مستقل ہوگا، نور ؛ پیغمبر خدا اور کتاب مبین؛ اس بنا پر پھر عطف تفسیر نہیں ہوگا بلکہ دونوں مستقل طور پر پیغمبر خدا (ص) کا نور اور کتاب مبین قرآن مجید ہوگا۔ اور ”بہ“ کی ضمیر کتاب یا نور کی طرف پلٹتی ہے خواہ اس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ اعراف، آیت ۱۵۷۔
(۲)۔ سورئہ تغابن، آیت ۸۔
(۳)۔ سورئہ نساء، آیت ۱۷۴۔
سے نبی اکرم (ص) کا نور یا قرآن کا ارادہ کیا گیا ہو دونوں کا نتیجہ ایک ہی ہے، کیونکہ پیغمبر اکرم کی ذات ہدایت کے مرحلہ میں منجملہ اسباب ظاہریہ میں سے ایک ہے اور اسی طرح قرآن کریم اور حقیقت ہدایت حق تعالیٰ کی ذات پر قائم ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: < إِنَّکَ لاَتَہْدِی مَنْ اٴَحْبَبْتَ وَلَکِنَّ اللهَ یَہْدِی مَنْ یَشَاءُ > (۱)
          پیغمبر بے شک آپ جسے چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے ہیں بلکہ اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <وَکَذَلِکَ اٴَوْحَیْنَا إِلَیْکَ رُوحًا مِنْ اٴَمْرِنَا مَا کُنْتَ تَدْرِی مَا الْکِتَابُ وَلاَالْإِیمَانُ وَلَکِنْ جَعَلْنَاہُ نُورًا نَہْدِی بِہِ مَنْ نَشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا وَإِنَّکَ لَتَہْدِی إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ # صِرَاطِ اللهِ الَّذِی لَہُ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْاٴَرْضِ اٴَلاَإِلَی اللهِ تَصِیرُ الْاٴُمُورُ > (۲)
          اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنے حکم سے روح (قرآن) کی وحی کی ہے آپ کو نہیں معلوم تھا کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کن چیزوں کا نام ہے لیکن ہم نے اسے ایک نور قرار دیا ہے جس کے ذریعہ اپنے بندوں میں جسے چاہتے ہیں اسے ہدایت دے دیتے ہیں اور بے شک آپ لوگوں کو سیدھے راستہ کی ہدایت کر رہے ہیں اسی خدا کا راستہ جس کے اختیار میں زمین و آسمان کی تمام چیزیں ہیں اور یقینا اس کی طرف تمام امور کی بازگشت ہے۔
          آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) سے خطاب ہے کہ حقیقی ہدایت اور ایصال الی المطلوب یہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے آپ صرف ہدایت کی طرف رہنمائی کرنے والے ہیں (۳)
          ائمہٴ اطہار   جو انبیاء   کے وارث ہیں بالخصوص حضرت بقیة اللہ الاعظم - جو تمام انبیاء اور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ قصص، آیت ۵۶۔
(۲)۔ سورئہ شوریٰ، آیت ۵۳۔
(۳)۔ تفسیر المیزان سے اقتباس، علامہ طباطبائی علیہ الرحمہ، ص ۲۶۳۔
اوصیاء کے وارث ہیں وہ بھی ان کی تمام خصوصیات و امتیازات لوگوں کی ہدایت و رہنمائی ، تدبیر امور کے حامل اور تمام مخلوقات کے نظام کے محافظ ہیں نیز تمام جہان ہستی کے سارے موجودات اس عظیم ہستی کی ولایت عظمیٰ کے تحت چل رہے ہیں۔
          ۱۶۹۔ ” وفی الکافی : عَن ابی عَبد اللّٰہ علیہ السلام اِنَّ اللّٰہ خَلَقنا فاحْسَنَ خَلقَنا وَصَوَّرنَا فاحسَنَ صُوَرَنا وَجَعَلنا عَینہ فی عِبادِہِ ولسانہُ النّاطِق فی خَلقِہِ وَیَدَہُ المبسُوطَة علی عِبادِةِ بالراٴفةِ وَالرَّحمةِ وَوَجْھہ الذی یوٴتی مِنہ ، وَبابَہ الذی یدلّ علیہ وخُزّانَہُ فی سَمائِہِ وَارضِہِ، بنا اثمَرَتِ الاَشجار راینعت الثِمار وَجَرَتِ الاٴنھار وَبنا ینَزل ( الغیث ) غیثَ السمآء وینبتُ عشبَ الاٴرضِ وَبِعبادَتنا عُبد اللّٰہ وَلَو لا نحن ما عُبِدَ اللّٰہ “ (۱)
          حضرت امام جعفر صادق   - نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہم کو پیدا کیا اور بہترین صورت دی اور ہم کو اپنے بندوں میں اپنی آنکھ اور ناظر قرار دیا اور اپنی مخلوق پر لسان ناطق بنایا ، بندوں پر ہم کو دست کشادہ قرار دیا، مہربانی اور وقت کے لیے اپنا وجہ (چہرہ) بنایا جس سے اس کی طرف توجہ کی جاتی ہے اور ہمیں اپنا دروازہ قرار دیا جس سے اس کی طرف پہنچنا ہوتا ہے ہم زمین و آسمان میں اس کے خزانہ دار ہیں ہماری وجہ سے درخت پھل لاتے ہیں ہماری وجہ سے پھل پکتے ہیں اور نہریں جاری ہوتی ہیں ہماری وجہ سے بادل برستے ہیں اور زمین پر گھاس اُگتی ہے۔
          ہماری عبادت کی وجہ سے خدا کی عبادت ہوئی، اگر ہم نہ ہوتے تو اللہ کی عبادت نہ ہوتی۔
          ۱۷۰۔ ”وفی کمال الدین مسنَداً عَن عَلیِّ بن مُوسیٰ الرّضا علیہ السلام عَن اَبیہِ مُوسیٰ بن جَعفرٍ عَن ابِی جَعفَر بن محمّدٍ عَن اَبیہِ محمَّد بن عَلیٍّ عَن اَبیہِ عَلی بن
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ کافی، ج۱، ص ۱۹۳۔ التوحید، شیخ صدوق، ص ۱۵۲۔
الحسینِ عَن ابیہ الحُسینِ بن عَلیٍ عَن اَبیہِ عَلی بن ابی طالبٍ علیہم السلام قالَ قالَ رَسُولُ اللّٰہ (ص) ما خَلَقَ اللّٰہ خَلقاً افضَلَ منّی ولا اکرَمَ عَلیہِ مِنّی ، قالَ عَلی علیہ السلام فقلت : یا رَسول اللّٰہ فَاَنت افضَل اَم جَبرئیل ؟ فقالَ علیہ السلام : انَّ اللّٰہ تَبارک وتعالیٰ فَضَّلَ انبیائہ المُرسَلین عَلیٰ ملائِکتہ المُقربینَ وَفَضَّلَنی عَلی جَمیع النبیینَ والمرسَلینَ وَالفَضْلُ بَعدی لَکَ یا عَلی علیہ السلام وللائِمَّةَ مِن بعدی، فانَّ الملائِکة لَخُدّامنا وخدّامُ محبیّنا یا عَلیّ ؛ الذَّین یحملون العَرشَ وَمَن حولَہُ یسبّحونَ بِحمدِ رَبّھم ویستَغفِرونَ للَّذین آمَنوا بِولایتِنا یا عَلیّ ، لولانحن ما حَلق اللّٰہ آدَمَ وَلاحوّاء وَلاَ الجنَّةَ وَلا النَّار وَلا السَّمآء وَلاالاٴرضَ وَکَیفَ لانکونُ افَضل مِنَ الملائکة وَقَد سَبَقناھُم الَی التّوحیدِ وَمَعرِفَةِ رَبِّنا عَزَّوَجَلَّ و تَسبیحِہِ وَ تَقدیسِہِ وَتھلیلہ ، لاٴنَّ اوّلَ ما خَلَقَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارواحُنا فانطقنا بِتوحیدِہِ وَ تمجیدِہِ ثمَّ خَلَقَ الملائِکة فلمّا شاھَدُوا وارواحَنا نُوراًَ واحِداً استَعْظَمُوا اُمُورنا فَسَبّحنا لِتعلَمَ الملائِکة اٴنّا خَلْقٌ مَخلُوقُونَ وَاَنَّہُ منَزّہْ عَن صَفاتِنا فَسَبِّحتِ الملائکة لتسبیحنا وَنَزَّھَتْہُ عَن صِفاتِنا ، فَلَمّا شاھَدوا عِظَم شاٴننا ھَلَّلنا لتعلم الملائکةُ ان لا اِلہ الا اللّٰہ، فلمّا شاھَدُوا کِبَرَ مَحَلِّنا کبّرنا اللّٰہ لتعلَمَ الملائِکةُ اَنَّ اللّٰہ اکبرَ مِن ان ینال وَاَنہ عظیم المَحَلِّ ، فَلَمّا شاھَدُوا ما جَعَلَہُ اللّٰہ لنا مِنَ القدرَة والقوةِ قُلنا : لا حولَ ولا قُوةُ الاَّ بِاللّٰہ العَلِیِ العظیم ، لِتعلم الملائکة ان لا حَولَ وَلا قوَّةَ اِلاَّ بِاللّٰہِ ، فقالَتُ الملائِکة : لا حولَ وَلا قوَّةَ الاَّ بِاللّٰہِ ، فَلَمّا شاھَدُوا وما انعَمَ اللّٰہ بِہِ عَلَینا وَاَوجَبَہ ، مِن فَرضِ الطّاعہ فلقنا : الحمد للہِ لتعلم الملائِکة ما یحق اللّٰہ تعالیٰ ذِکرُہُ عَلَینا مِنَ الحَمدِ عَلیٰ نِعَم ، فقالَتِ الملائکة الحمد للّٰہِ ، فَبِنا اِھتَدَوا اِلیٰ مَعرِفَة اللّٰہ تعالیٰ وَ تَسبیحِہِ وَتَھلیلہ وَتحمیدہ ، ثمَّ اِنَّ اللّٰہ تعالیٰ خَلَقَ آدمَ علیہ السلام وَاَ ودَعنا صُلبہ وَاَمَرا الملائِکة بِالسُّجُودِ لہ تعظیماً لَنا وَاِکراماً وَکانَ سجودُھُم للّٰہ عَزوجَلَ عُبودیةً وَلآدَمَ اکراماً وَطاعَةً ، لِکوننا فی صُلبہِ ، فَکَیف لا نکُونُ افضَلَ مِنَ الملائِکة وَقَد سَجَدَ لآدمَ کلھُم اجمَعُونَ ،وَانّہ لمّا عَرَج بی الی السَّمآء اذَّنَ جبرئیل مَثنی مَثنی ثُمَّ قالَ : تَقَدَّم یا محمَّد ، فَقلت : یا جبرئیل اٴتقَدّمُ عَلَیک؟ فقالَ نَعَم ، لا نَّ اللّٰہ تبارک و تعالیٰ اسمُہُ ، فَضَّلَ اٴنبیآئہ عَلیٰ مَلائِکَتہ اجمعینَ ، وَفضَّلَک خاصّةً فتقدَّمتُ وَصَلَّیتُ بِھِم ولا فَخر ، فَلَّما انتھینا الیٰ حجب النُّورِ ، قالَ لی جبرئیل : تقدَّم یا محمَّد وتَخَلّفَ عَنّی ، فَقُلت: یا جَبرئیل فی مثلِ ھذا المَوضِع تُفارقُنی ؟ فقال یا محمدّ اِنَّ ھذا اِنِتھاء حَدّی الَّذی وَضَعَہ اللّٰہ لی فی ھذا المکانِ ، فانْ تجاوزْتُہُ احترقَتْ اجنحتی لِتعدَّی حُدُودَ رَبّی جَلَّ جَلالُہُ ، فَزَجَّ بی رَبّی زَجَّةً فی النّور حتّیٰ انتھیت لی حَیثُ ما شآء اللّٰہ عزَوَجَلَّ مِن مَلکوتِہِ ، فنودیت : یا محمَّد ، فقلت: لبیّکَ رَبی وَسَعَدَیکَ ، تبارکتَ وَتعالَیتَ ، فَنودیتُ: یا محمَّد اَنتَ عَبدی وَاَنَا رَبُّک ، فَایایَ فاعبُدْ، وَعَلَیَّ فتوکَّل فانَّکَ نُوری فی عِبادی وَرَسُولی الی خَلقی وَحجَّتی فی بَریَّتی ، لِمَن تبعَکَ خَلَقتُ جَنَّتِی ، ولِمَن عَصاکَ وَخالفَک خَلقتُ ناری ، وَلاٴ وصیآئِکَ اٴوجَبتُ کرامَتی وَلشِیعتِکَ اٴوجَبتُ ثوابی ، فَقُلْتُ : یا رَبِّ وَمَن اوصیائی ؟ فَنُودیتُ یا محمَّد اِنَّ اوْصِیآئَکَ المکتُوبُونَ عَلی ساقِ العَرشِ ، فنظرتُ وَاٴنَا بَینَ یَدَی رَبّی الی ساقِ العَرش ، فراٴیتُ اِثنی عَشَرَ نُوراً ، فی کُلِ نورٍ سَطراً اخضَر مَکتوبٌ عَلَیہ اسم کلّ وَصیٍ مِن اٴوصِیائی اوَّلُھُم عَلِیُّ بنُ ابی طالبٍ و آخِرُھُم مَھدیِ امَّتی ، فَقُلتُ یا رَبِّ ھٰوٴلاءِ اٴوْصِیائی مِن بعدی ؟ فَنودیتُ : یا محمَّدَ ھٰوٴلاءِ اولیآئی وَاَحِبّائی وَاَصفیآئی وَحُجَجیٖ بَعدَک عَلیٰ بَریَّتی وَھُم اَوصیآئُکَ وَخُلَفآئکَ وَخیرُ خَلقی بَعدَکَ وَعزَّتی وَجَلالی لاُطْھِرَنَّ بِھِم دینی ولاُعلینَّ لَھم کلِمَتی وَلاُطَھِّرَنَّ الارضَ بآخِرِھِمِ مِن اٴعدائی وَلاُمَلِّکنَّہ مَشارِق الارضِ وَمَغٰارِبَھٰا ولاَ سخِّرنّ لَہُ الرّیاحَ وَلاُ ذِلَّلَنَّ لَہُ الرِّقابَ الصِّعابَ وَلاُرقینَّہ فی الاَسبابِ وَلاُنْصُرَنَّہ بجندی وَلاُمِدَّنّہ بملائِکَتیٖ حَتیٰ یَعلُوَ دَعوَتی ، وَیَجمَعَ الخَلْقُ عَلیٰ توحیدی ، ثُمّ لاُدیَمَنَّ مُلکَہ وَلاُ دٰاوِلنَّ الامامَ بَینَ اَولیآئی اِلیٰ یَومِ القِیٰمةِ ، وَالحمد للّٰہ رَبِّ العالمینَ وَالصَّلاٰة عَلیٰ نَبیِّنا محمَّدٍ وَآلہ الطّیّبینَ الطاھِرینَ وَسَلَّمَ تَسلیماً“‘ (۱)
          ہماری بزرگوار ہستی شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے کمال الدین میں اپنی سند کے ساتھ حضرت امام علی رضا - سے انہوں نے اپنے آباء و اجداد کرام   سے انہوں نے رسول اکرم (ص) سے روایت کی ہے کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا: اللہ نے کوئی مخلوق مجھ سے افضل اور زیادہ مکرم اپنے نزدیک پیدا نہیں کی اور حضرت علی - کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ افضل ہیں یا جبرئیل؟ آنحضرت نے فرمایا: اے علی ! اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء و مرسلین کو اپنے ملائکہ مقربین پر فضیلت دی اور مجھے تمام انبیاء اور مرسلین پر فضیلت عطا فرمائی اور یہ فضیلت میرے بعد تم کو اور تمہارے بعد ائمہ کو عطا فرمائی کیوں کہ ملائکہ تو ہم لوگوں کے خادم ہیں بلکہ ہمارے دوستوں کے بھی خادم ہیں۔ اے علی ! وہ فرشتے جو کہ عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو عرش کے گرد و پیش ہیں وہ اللہ کے نام کی تسبیح پڑھتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کرتے ہیں اور ان لوگوں کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں جو ہم لوگوں کی ولایت و دوستی پر ایمان لاتے ہیں۔
          اے علی ! اگر ہم لوگ نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ نہ آدم کو پیدا کرتا نہ حوا کو نہ جنت کو نہ جہنم کو نہ آسمان کو نہ زمین کو پھر ہم لوگ ملائکہ سے کس طرح افضل نہیں ہوئے جب کہ ہم لوگ اپنے رب کی معرفت اور
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ کمال الدین، ج۱، ص ۲۵۴۔
 اس کی تسبیح و تہلیل و تقدیس میں ان ملائکہ سے سابق تھے۔ اس لیے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو پیدا کیا وہ ہماری روحیں تھیں اور ہم لوگوں کو اپنی توحید و تمجید کے ساتھ گویا کیا اس کے بعد ملائکہ کو پیدا کیا۔ جب ان ملائکہ نے ہماری ارواح کو نوری شکل میں دیکھا تو ہم لوگوں کو ہی سب سے عظیم تر سمجھنے لگے تو ہم لوگوں نے اللہ کی تسبیح شروع کردی تاکہ ملائکہ سمجھ لیں کہ ہم لوگ مخلوق ہیں اور اللہ ہم لوگوں کی صفات سے کہیں بالا تر ہے۔ پس ہم لوگوں کی تسبیح سن کر ملائکہ بھی تسبیح پڑھنے لگے اور اللہ کو ہم لوگوں کی صفات سے بالاتر سمجھنے لگے اور جب ان لوگوں نے مشاہدہ کیا اور ہم لوگوں کی شان ہی کو عظیم سمجھنے لگے پس ہم لوگوں نے لا الہ الا اللہ کہنا شروع کیا تاکہ ملائکہ یہ سمجھیں کہ یہ اللہ کے سوا کوئی دوسرا اللہ نہیں۔ ہم لوگ اس کے بندے ہیں۔ ہم لوگ اللہ نہیں ہیں ہم پر بھی واجب ہے کہ اس اللہ کی عبادت کریں یہ سن کر ملائکہ نے بھی لا الہ الا اللہ کہنا شروع کیا پھر مشاہدہ کیا تو ہم لوگوں کے محل و مقام کو بہت بڑا سمجھنے لگے ہم لوگوں نے فوراً کہا: اللہ اکبر تاکہ ملائکہ یہ سمجھیں کہ اللہ سب سے بڑا ہے اس کی بارگاہ سے بلند مقام عطا ہوتا ہے۔ پھر جب ملائکہ نے ہم لوگوں کی عزت و قوت دیکھی جو اللہ نے ہم لوگوں کو عطا فرمائی تو ہم لوگوں نے فوراً کہا: لا حول ولا قوة الّا باللہ العلی العظیم تاکہ ملائکہ سمجھ لیں کہ ہم لوگوں کے پاس نہیں ہے کوئی قوت اور طاقت مگر صرف اللہ کی دی ہوئی۔پھر جو نعمتیں اللہ نے ہم لوگوں کو دی ہیں اور جو فریضہ اطاعت ہم لوگوں پر واجب کیا ہے جب فرشتوں کی ان پر نظر پڑی تو ہم لوگوں نے فوراً کہا: الحمد للہ تاکہ فرشتے یہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں پر شکر ادا کرنے کا ہم لوگوں کے اوپر کس قدر حق ہے۔ یہ سن کر ملائکہ بھی کہنے لگے: الحمد للہ۔ پس اس طرح ہم لوگوں کے ذریعے ملائکہ نے اللہ کی توحید کی معرفت اس کی تسبیح اس کی تہلیل اور اس کی تمجید کی طرف ہدایت پائی۔
          پھر اللہ تعالیٰ نے آدم - کو خلق کیا اور ہم لوگوں کو ان کے صلب میں ودیعت کردیا اور صرف ہم لوگوں کی تعظیم و تکریم کے پیش نظر ملائکہ کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو اور ملائکہ کا یہ سجدہ اللہ کے لیے عبودیت کا تھا نیز حضرت آدم - کی تعظیم و تکریم کے لیے تھا۔ اس لیے کہ ہم لوگ ان کے صلب میں تھے پھر کیسے ہم لوگ ملائکہ سے افضل نہ ہوں گے جب کہ تمام ملائکہ نے حضرت آدم - کو سجدہ کیا۔
          اور جب مجھے آسمانوں کی طرف لے جایا گیا تو جبرئیل نے وہاں اذان کہی ہر فقرے کو دو دو مرتبہ کرکے اور اقامت کہی ہر فقرے کو دو دو مرتبہ کر کے مجھ سے کہا: اے محمد! آگے بڑھیے میں نے کہا: اے جبرئیل! میں تمہارے ہوتے ہوئے آگے بڑھوں؟ انہوں نے کہا: ہاں اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے انبیاء کو اپنے تمام ملائکہ پر فضیلت دی ہے اور آپ کا فضل و شرف تو خاص ہے۔ چنانچہ میں آگے بڑھا اور ان سب کو نماز پڑھائی مگر میں اس پر فخر نہیں کرتا پھر جب میں نور کے حجابوں تک پہنچا تو جبرئیل نے کہا: اے محمد (ص)! اب آپ آگے بڑھیں اور انہوں نے میرا ساتھ چھوڑا تو میں نے کہا: اے جبرئیل ! تم نے ایسے مقام پر میرا ساتھ چھوڑ دیا؟ تو انہوں نے کہا: اے محمد (ص)! اللہ تعالیٰ نے جو حد میرے لیے مقرر کی یہاں پر ختم ہوتی ہے اگر میں نے اس حد سے تجاوز کیا تو حدود الٰہی سے تجاوز کرنے پر میرے بال و پر جل جائیں گے۔ پھر انہوں نے مجھے اس نور میں غوطہ دے دیا اور اب میں وہاں پہنچ گیا جہاں اللہ اپنے ملک کی بلندی پرمجھے پہچانا چاہتا تھا۔ پھر مجھے ندا دی گئی تو میں نے عرض کیا: لبیک و سعدیک اے خدائے تبارک و تعالیٰ! پھر ندا آئی: اے محمد! تو میرا بندہ ہے میں تیرا رب ہوں لہٰذا تم میری ہی عبادت کرنا اور مجھ ہی پر توکل کرنا اور تم ہی تو میرے بندوں میں میرے نور اور میری مخلوقات کی طرف میرے رسول اور میری تمام مخلوق پر میری حجّت ہو۔ تمہارے لیے اور تمہاری پیروی کرنے والوں کے لیے میں نے جنت خلق کی ہے اور جو تمہاری مخالفت کرے گا اس کے لیے میں نے جہنم خلق کی ہے۔ تمہارے اوصیاء کے لیے میں نے اپنے کرم کو لازم کردیا ہے اور ان کے شیعوں کے لیے میں نے اپنی طرف سے ثواب دینا واجب کرلیا ہے۔
          میں نے عرض کیا : پروردگارا ! میرے اوصیا کون ہیں؟ تو آواز آئی: اے محمد ! تمہارے ا وصیا کے نام تو ستون پر لکھے ہوئے ہیں اور اگرچہ میں اپنے رب کے سامنے تھا مگر میں نے وہیں سے نظر کی تو ساق عرش پر بارہ نور ہیں اور ہر نور ایک سبز رنگ کی سطر میں ہے اور ہر سطر میں اوصیاء میں سے ہر وصی کا نام مرقوم ہے جن کے اندر پہلے علی ابن ابی طالب - تھے اور آخر میں میری امت کے مہدی - ہیں۔ میں نے عرض کیا: پروردگار! میرے بعد یہ سب اوصیاء ہوں گے؟ تو آواز آئی: اے محمد! ہاں اے محمد! تمہارے بعد یہی میرے اولیا میرے احبا میرے اصفیا اور میری حجّتیں ہیں میری مخلوق پر اور یہی تمہارے بعد تمہارے اوصیا اور تمہارے خلفا ہیں جو مخلوق میں تمہارے بعد سب سے بہتر ہیں۔ مجھے اپنے عزت و جلال کی قسم! میں ان ہی لوگوں کے ذریعے اپنے دین کو غالب کروں گا۔ ان ہی کے ذریعے اپنے کلمہٴ لا الہ الا اللہ کو بلند کروں گا ان کے آخری فرد کے ذریعے زمین کو اپنے دشمنوں سے پاک کروں گا اسے زمین کے تمام مشرق و مغرب پر تمکن اور قابو دوں گا۔ اس کے لیے ہوا کو مسخر کروں گا بڑے بڑے بادلوں کو اس کا مطیع بناؤں گا۔ اس کے اسباب میں اضافہ کروں گا، اپنی فوج سے اس کی مدد کروں گا۔ اپنے ملائکہ سے اس کی نصرت کروں گا یہاں تک ہماری دعوت بلند ہوجائے اور ساری مخلوقات ہماری توحید پر جمع ہوجائے پھر میں اس کے ملک و سلطنت کو دوام بخشوں گا اور روز قیامت تک اس سلطنت کو دوام بخشوں گا اور روز قیامت تک اس سلطنت کا سلسلہ اپنے اولیاء میں چلاؤں گا۔ اور تمام تعریفیں عالمین کے پروردگار کے لیے ہیں اور ہمارے نبی محمد (ص) اور ان کی پاک و پاکیزہ آل پر درود و سلام ہو۔ آمین۔
 
۳۲/ ۲۔ یاور
          ۳۲۔ وَ عُذْراً لِمَنَ انتَحَلہُ (نسبت حاصل کرنے والوں کے لیے حجّت ہے)
          شاید اس سے مراد یہ ہے کہ قرآن مجید ایسا عذر ہے جو روز قیامت کے عذاب سے ان لوگوں کو نجات دلانے والا ہے کہ جنہوں نے اسے اپنا پیشوا قرار دیا اور اس کے احکام و قوانین کا پابند ہوا نیز اپنے اقدار کا معیار بنایا۔
          یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے عذر ہونے سے مراد یہ ہو کہ جو شخص بھی خود کو اس سے منسوب کرے یعنی خود کو اہل قرآن جانے اور اس پر فخر کرے قرآن بھی خود کو اس کے لیے عذر قرار دیتا ہے اس لیے کہ قرآن کی خدائے بزرگ و برتر کے نزدیک عالی شان و شوکت ہے۔
          جس طرح قرآن مجید ان لوگوں کے لیے جو خود کو اس سے منسوب جانتے ہیں اور اس کے احکام و قوانین کو اپنا دستور العمل قرار دیتے ہیں نجات دینے والا اور عذر ہے، اسی طرح حضرات ائمہٴ اطہار اور خاندان عصمت و طہارت کا مقدس وجود بھی ہے۔
          ان لوگوں کے لیے خوش خبری ہے جنہوں نے اپنے صحیح اعتقاد اور کامل ایمان کو ان کی ولایت عظمیٰ کے ماتحت قرار دیا ہے ان عظیم ہستیوں سے منسوب شیعوں اور محبوں کے بارے میں اعتقاد رکھتے ہوں اور عملی طور پر اس پر ناز اور فخر محسوس کرتے ہوں، وہ لوگ جو ان سے توسل اختیار کرکے ان کی عنایتوں اور مہربانیوں سے اپنی تمام دنیا کی مادی و معنوی مشکلات سے نجات پاکر عزت و سربلندی تک پہنچے ہوں اور آخرت میں ان کی شفاعت سے سرفراز ہوکر رو سفید ہوں۔
          بہت سے انبیاء   وغیرہ نے مختلف امتحانات اور مشکلات کے پیش نظر جو محمد و آل محمد   سے متوسل ہوئے ہیں نجات حاصل کی ہے۔
          ان میں سے ہم چند مقامات کو بہ عنوان شاہد تبرک کے طور پر ذکر کر رہے ہیں جیسے حضرت آدم - کا کلمات کے ذریعہ امتحان لیا گیا حضرت ابراہیم - نمرودیوں کی آگ میں ڈالے گئے۔ اور اس سے نجات حاصل کی،حضرت یعقوب - اپنے فرزند ارجمند حضرت یوسف - کے فراق میں مبتلا ہوئے جب وہ متوسل ہوئے تو جبرئیل آئے اور عرض کیا: کیا میں آپ کو ایسی دعا نہ بتاؤں کہ اللہ تعالیٰ آپ کی آنکھوں کو شفا عنایت کرے اور یوسف و بنیامن کو آپ کی طرف واپس بھیج دے؟ فرمایا: ہاں، عرض کیا: وہ دعا پڑھیں جو آپ کے پدر بزرگوار حضرت آدم - نے پڑھی اور ان کی توبہ قبول ہوئی اور حضرت نوح - نے پڑھی تو غرق ہونے سے نجات پائی، ابراہیم - نے پڑھی تو آگ ان کے لیے سلامتی کے ساتھ سرد ہوئی حضرت نے دریافت فرمایا: وہ کون سی دعا ہے ؟ عرض کیا: یہ دعا پڑھو:
          ”اللّھُمَ اِنّی اسئَلُکَ بِحَقّ محمَّدٍ وَعَلیٍ وَفاطِمَةَ والحَسَنِ والحُسینِ علیہم السلام اَن ترُدَّ عَلیَّ ابنایَ ( یوسُف وابن یامین ) وَ تَشفِیَ عَیْنَیَّ
          اے خدا ! میں تجھ سے محمد، علی، فاطمہ، حسن، حسین   کے حق کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ مجھ تک میرے دونوں بیٹے (یوسف اور ابن یامین) کو واپس دے اور میری آنکھوں کو شفا عنایت فرما۔
          حضرت نے یہ دعا پڑھی اور ان اسماءِ مقدسہ کی برکت سے انہیں آسائش ملی نیز ان کی آنکھوں کو بھی شفا مل گئی حضرت یوسف - نے بھی خدا سے سوال کیا، محمد و آل محمد   کے حق کا واسطہ دے کر توسل اختیار کیا اور زندان سے آزاد ہوگئے۔
          حضرت موسیٰ   - نے جب عصا کو ڈالا اور امت کے لیے اشتباہ میں پڑنے سے خوف زدہ ہوئے تو کہا: اے خدا ! تجھ سے محمد و آل محمد کے حق کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے اپنے امن و امان میں رکھ تو خدائے بزرگ و برتر نے فرمایا:          <لاٰ تَخَفْ اِنَّکَ اٴَنْتَ الاٴَعْلیٰ> (۱)
          اور جب عصا کو دریا پر مارا تو اللہ تعالیٰ کو انہیں کے حق کا واسطہ دے کر پکارا، تو خدا نے دریا کو پھاڑا اور اسے بنی اسرائیل کو عبور کرنے کے لیے خشک کردیا (یہاں تک کہ فرماتا ہے:) جب موسیٰ بنی اسرائیل کے ساتھ دریاپر پہنچے اور فرعون اور اس کے تابعین کے غرق آب ہونے کا وقت ہوا تو خدائے عزوجل نے موسیٰ کو وحی کی کہ بنی اسرائیل سے کہو میری وحدانیت اور میرے رسول کی رسالت میرے آقا و مولا حضرت امیر المومنین - اور اولاد علی علیہ السلام کے اعتقاد کا دوبارہ اقرار کریں۔
          اور کہیں: اے خدا! ان کی عظمت و جلالت کا واسطہ ہمیں پانی پر سے گزار دے تاکہ دریا کا پانی زمین کی طرح ہوجائے پھر حضرت موسیٰ   - نے ان لوگوں سے فرمایا ان لوگوں نے قبول نہیں کیا۔ لیکن
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ طہ، آیت ۶۸۔
کالب ابن یوحنا نے قبول کرکے ان کے دستور کے مطابق عمل کیا اور اپنے گھوڑے کے ساتھ دریا کے اوپر گیا اور آبِ دریا زمین کی طرح ہوگیا، دریا کی دوسری جگہ جاکر واپس آکر کہا: اے قوم بنی اسرائیل! موسیٰ   - کی اطاعت کرو کہ یہ دعا جنت کے دروازوں کی کنجی اور جہنم کے دروازوں کے بند ہونے کے منجملہ اسباب میں سے ہے اور روزی نازل کرنے والی نیز اللہ تعالیٰ کے بندوں کے لیے حق تعالیٰ کی رضایت حاصل کرنے والی ہے، لیکن ان لوگوں نے قبول نہیں کیا اور کہا: ہم زمین کے علاوہ جاہی نہیں سکتے تو اللہ نے موسیٰ   - کے لیے وحی نازل کی کہ اپنے عصا کو دریا پر مارو اور کہو: اے خدا! محمد و آل محمد کی عظمت و جلالت کا واسطہ ہمارے لیے دریا کو پھاڑ دے تو انہوں نے وحی کے مطابق عمل کیا اور آب دریا پھٹ گیا۔
          حضرت موسیٰ   - نے فرمایا: اب چلو کہنے لگے: زمین نم ہے ہمیں اس میں اندر چلے جانے کا خوف ہے تو خدا نے فرمایا: کہو: اے موسیٰ! اے خدا! تجھے محمد و آل محمد کے جاہ و جلال کا واسطہ کہ زمین کو بھی خشک کردے، پھر یہ کہا! اور وہ خشک ہوگئی فرمایا: اب چلو عرض کیا: ہم بارہ قبیلے ہیں آگے پیچھے چلنے میں ہمیں فتنہ و فساد کا خطرہ ہے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو حکم دیا: اپنے عصا کو بارہ مرتبہ دریا کے بارہ مقامات پر ماریں اور کہیں: اے خدا! تجھے محمد و آل محمد کی عظمت و جلالت کا واسطہ بارہ جگہ بنادے، کہا اور ویسا ہوگیا۔ پھر کہا: راستہ ایسا ہو کہ عبور کے وقت ہم ایک دوسرے کو دیکھ سکیں اور ایک دوسرے کی حالت سے باخبر رہیں، تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ   - کو وحی بھیجی کہ عصا کو تمام پانی کے اطراف میں مارو اور کہو: اے خدا! محمد و آل محمد کے جاہ و جلال کا واسطہ کہ اس پانی کے درمیان طاق بنادے تاکہ ایک دوسرے کو دیکھ سکیں، چنانچہ موسیٰ   - نے کہا اور ہوگیا ۔ لوگوں نے عبور کیا، پھر فرعون والے افراد وارد ہوئے اور سب غرق ہوگئے۔
          اور جب صحرائے تیہ میں بنی اسرائیل پیاسے ہوئے گریہ و نالہ کیا تو حضرت موسیٰ نے عرض کیا: اے خدا! بحق محمد سید الانبیاء، بحق علی سید الاوصیاء، بحق فاطمہ سیدة النساء، بحق حسن سید الاولیاء، بحق حسین افضل الشہداء بحق عترت اور ان کے خلفاء کا واسطہ جو دنیا میں پاکیزہ اور نیک لوگوں کے آقا و مولا ہیں، اپنے بندوں کو سیراب کردیں تو اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی اے موسیٰ ! اپنے عصا کو پتھر پر مارو تو مارا اور بارہ چشمے جاری ہوئے لوگوں نے پانی پیا اور سیراب ہوئے۔
          مولف کہتے ہیں: بنی اسرائیل کے ساتھ حضرت موسیٰ   - کا واقعہ تفصیل کے ساتھ قرآن مجید کے سورئہ بقرہ یا اور بھی دوسرے دوسروں میں اسی طرح کتاب بحار الانوار ، وسائل الشیعہ اور مستدرک وسائل الشیعہ میں ذکر ہوا ہے، قارئین کرام مذکورہ مآخذکی طرف رجوع کریں۔
          ۱۷۱۔ ”وَفی الخصال وَالاٴمالی بِاسنادِھِما عَن جابِرٍ عَن اَبی جَعفَرٍ الباقِرِ علیہ السلام قالَ: انَّ عَبد اً مَکَثَ فی النَّارِ سبَعین خَریفاً وَالخریف سَبعُونَ سَنَةً ، قالَ ثُمَّ اِنَّہ سَاٴلَ اللّٰہ عزّوجلّ بحَقِّ محمَّد وَاَھل بَیتہ لمّا رحمتنی ، قالَ فَاٴَوحَی اللّٰہ جَلَّ جَلالُہُ الی جَبرَئیل علیہ السلام اَن اِھبط اِلیٰ عَبدی فاخرجہُ قال یا رَبِّ وَکیف لی بالھبوط فی النّارِ ، قالَ اِنّی قد اَمَرتُھا انْ تکونَ عَلَیکَ بَرداً وَسَلاماً ، قالَ یا رَبِّ فَما عِلمی بموضِعِہِ ؟ قالَ اِنَّہ فی جُبٍّ مِن سجّینَ قالَ فَھَبِطَ فی النّار فَوَجَدَہُ فھُو مَعقُولٌ عَلیٰ وَجھِہِ فَاَخرَجہ ، فقال عزّوجلّ : یا عَبدی کمْ لَبِثتَ تُناشِدُنی فی النّارِ ؟ قالَ ما اُحصی ( احصیتُہُ ) یا رَبِّ ، قالَ: اَما وَعِزَّتی لولا ما سَاٴلتنَی بِہِ اَطَلتُ ھُو انَکَ فی النّار وَلٰکنَّہ حتمٌ عَلی نَفسی اٴنْ لا یَساٴلَنی عَبدٌ بِحَقِّ محمَّدٍ وَاَھل بَیتہ ، صَلَوات اللّٰہ علیہم اجمعَینَ ، اِلاَّ غَفَرتُ لَہُ ما کانَ بَینی وَبَینَہ وَقَد غَفَرتُ لَکَ الیومَ “ (۱)
          محدث جلیل القدر غواص بحار اہل بیت عصمت و طہارت علامہ مجلسی رحمة اللہ علیہ نے ہمارے شیخ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ الخصال ، ص ۵۸۴، امالی صدوق، ص ۷۷۰۔ معانی الاخبار، ص ۲۷۷۔ روضة الواعظین، ص ۲۷۱۔ بحار الانوار، ج۹۱، ص ۱، ج۸، ص ۲۸۲۔
 بزرگوار علامہ صدوق علیہ الرحمہ کی کتاب خصال اور امالی سے اپنی سند کے ساتھ جابر سے انہوں نے امام محمد باقر   - سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت - نے فرمایا: بے شک (بندگان خدا میں سے) ایک بندہ ستر خریف جہنم میں رکھا جائے گا اور ایک خریف (کی مدت) ستّر سال کی ہے پھر وہ خداوند عالم سے محمد و آل محمد  کے واسطے سے سوال کرے گا کہ اپنی رحمت اس کے شامل حال کرے، تو خدائے بزرگ و برتر جبرئیل کو وحی فرمائے گا کہ میرے بندے کے پاس جاؤ اور اسے آگ سے باہر نکال دو تو جبرئیل کہیں گے کہ اے میرے پروردگار! میں کیسے آگ میں جاؤں، خطاب ہوگا اس نے آگ کو حکم دیا ہے کہ تمہارے لیے سرد اور سلامتی کا باعث بن جائے پھر جبرئیل عرض کریں گے: اے خدا! مجھے اس کی جگہ کا علم نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: وہ سجّین کے ایک کنویں میں ہے امام محمد باقر   - فرماتے ہیں: پھر جبرئیل امین اس حالت میں آئیں گے کہ اپنے دونوں پر سمیٹے ہوں گے اور اس بندہ کو اس سے باہر نکالیں گے ، پھر خدائے بزرگ و برتر فرمائے گا: میرا بندہ کتنے دن آتش دوزخ میں جلتا رہا ؟ میری پناہ حاصل کرنا چاہ رہا ہے اور مجھے قسم دے رہا ہے ؟ وہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار میں نے شمار نہیں کیا ہے تو اللہ فرمائے گا: میری عزت کی قسم! اگر تونے ان (ہستیوں کے ذریعہ سوال نہ کیا ہوتا تو میں آتش جہنم میں تیرے قیام کو اور طولانی کردیتا لیکن میں نے اپنے اوپر لازم قرار دیا ہے کہ کوئی بندہ محمد و اہل بیت محمد   کے واسطے سے سوال نہیں کرے گا مگر یہ کہ میں وہ تمام گناہ جو میرے اور اس کے درمیان حائل و مانع ہیں بخش دوں گا۔ اور یقینا (ان ہستیوں کی برکت سے) آج میں نے تجھے بخش دیا۔
          پیغمبر اکرم (ص) کے اجداد میں سے ایک عبد المطلب تھے کہ جن کا نام شبیة الحمد تھا ان کے چچا مطلب شیبہ کو مکہ معظمہ میں لے کر آئے اور یہ اظہار نہیں کیا کہ یہ شیبہ میرے بھائی کے لڑکے ہیں اور کہا: یہ میرا بندہ ہے لہٰذا عبد المطلب کے نام سے مشہور ہوئے، جب حرم میں داخل ہوئے تو شیبہ یا عبد المطلب کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک نور ظاہر تھا قریش اس سے متبرک ہوتے تھے جس زمانہ میں بھی ان پر مصیبت آتی تھی یا کوئی بلا نازل ہوتی تھی یا کوئی قحط ان پر آ پڑتا تھا تو پیغمبر اکرم (ص) کے مقدس نور سے توسل اختیار کرتے تھے اور خداوند متعال ان سے اس بلا و مصیبت کو برطرف کردیتا تھا۔
          ان کے لیے سب سے اہم واقعہ جو رونما ہوا وہ اصحاب فیل کا واقعہ تھا کہ عبد المطلب ایک جماعت کے ساتھ دعا کرتے تھے اور کہتے تھے: اے خدا! اس نور کی برکت سے ہمیں معاف کردے ہمیں اس ہمّ و غم سے نجات بخش دے اور ہمارے دشمن کو دور کردے، لہٰذا اس مقدس نور کی برکت سے تمام اصحاب فیل ہلاک ہوئے ابا بیلیں ان کے سروں پر کنکریاں مار رہی تھیں جو ان کے سر کے مغز سے داخل ہوتی تھیں اور ان کے نیچے سے نکل جاتی تھیں یہ واقعہ بحار میں مفصل طور پر بیان ہوا ہے قرآن مجید میں ایک خاص سورہ (فیل) اس موضوع کے بارے میں نازل ہوا ہے۔
          کفار مکہ نے پیغمبر اکرم (ص) سے عرض کیاکہ: ہبل نامی بت ہمیں شفا دیتا ہے اور ہمارے امراض، درد و آلام اور ہماری بدبختیاں ہم سے برطرف کرتا ہے، پیغمبر اسلام نے فرمایا: تم جھوٹ کہتے ہو خدا شفا دیتا ہے، عرض کیا: اگر اس پروردگار کے علاوہ کوئی دوسرا پروردگار تمہارے پاس موجود ہو تو اس سے سوال کرو کہ مجھے اس درد و آلام میں مبتلا کرے بعد میں ہم ہبل سے سوال کریں گے وہ ہمیں شفا دے۔
          لہٰذا جبرئیل نازل ہوئے،عرض کیا: تم میں سے کچھ لوگ ان پر لعنت وملامت کریں اور علی - دوسرے لوگوں پر، پھر خدا (ص) نے ان میں سے بیس افراد پر لعنت و ملامت کی اور حضرت امیر المومنین - نے ان کے دس لوگوں پر لعنت و ملامت کی اپنے مقام سے ابھی حرکت نہیں کی تھی یہاں تک کہ برص و فالج، جذام ، لقوہ اور نابینائی میں مبتلا ہوئے پھر ان لوگوں کوہبل کے پاس لائے اور دعا کی کہ ہبل ان لوگوں کو شفا دے، نا گہاں ہبل نے انہیں بلند آواز سے ندا دی اے دشمنان خدا! میرے لیے کون سی طاقت ہوسکتی ہے، اس خدا کی قسم! کہ جس نے محمد کو حق کے ساتھ بھیجا اور انہیں افضل الانبیاء و المرسلین قرار دیا، اگر پیغمبر اکرم (ص) مجھ پر نفرین و ملامت کریں تو یقینی طور پر میرے اجزائے بدن پراکندہ اور جدا ہوجائیں گے اور میرے وجود کا کوئی اثر باقی نہیں رہے گا، جب یہ سنا تو پیغمبر (ص) کی طرف رخ کرکے نالہ و فریاد بلند کی تو پیغمبر رحمت (ص) نے فرمایا: ان میں سے بیس افراد میرے پاس آئیں اور ان میں سے دس لوگوں کو حضرت علی - کے پاس لے جاؤ، ان لوگوں کو رسول خدا (ص) کے پاس لے کر آئے تو آنحضرت نے ان بیس افراد سے فرمایا کہ: اپنی آنکھوں کو ایک دوسرے پر رکھ کر کہو: اے خدا ! اس کی عظمت و جلالت کا واسطہ کہ جس کی وجہ سے ہمیں اس میں مبتلا کیا ہمیں صحت و عافیت عطا فرما؛ بحق محمد و علی و آل علی ، اس طرح حضرت امیر المومنین - نے ان دس لوگوں سے فرمایا تو (سب نے کہا) اور فوراً شفا یاب ہوئے اور وہ تیس لوگ اپنے اہل خانہ کے ساتھ ایمان لائے۔ بحار الانوار میں عمار ابن یاسر کا یہود کے ساتھ مکالمے اور ان کے احتجاج کو آیہٴ کریمہ <وَدَّ کَثِیرٌ مِنْ اٴَہْلِ الْکِتَابِ لَوْ یَرُدُّونَکُمْ مِنْ بَعْدِ إِیمَانِکُمْ کُفَّارًا حَسَدًا مِنْ عِنْدِ اٴَنفُسِہِمْ> (۱) (بہت سے اہل کتاب یہ چاہتے ہیں کہ تمہیں بھی ایمان کے بعد کافر بنادیں وہ تم سے حسد رکھتے ہیں)۔
          کے ذیل میں مفصل طور پر نقل کیا گیا ہے اس میں سے بعض ہم خلاصةً نقل کر رہے ہیں:
          جب مسلمان لوگ جنگ احد میں بہت زیادہ مصیبتوں میں مبتلا ہوئے تو چند دن بعد قوم یہود کے کچھ لوگ عمار ابن یاسر اور حذیفہ ابن یمان کے پاس آئے اور کہا: کیا تم لوگوں نے نہیں دیکھا کہ احد کے دن کیسی مصیبت تم پر آئی ان کے دین سے پلٹ جاؤ، حذیفہ نے یہ سنتے ہی ان پر لعنت کی اور کہا: اب نہ ہم تمہارے ساتھ بیٹھیں گے اور نہ ہی تمہاری باتیں سنیں گے،ہم اپنے دین اور جان کی حفاظت کے لیے تم سے فرار کریں گے۔ لیکن عمار ابن یاسر نے تمام استقامت کے ساتھ ان کے ساتھ مکالمہ کیا
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ بحار الانوار، ج۹۱، ص ۱۶۔
اور کہا: ”یا معَاشِر الیَھُودِ اِنَّ محمّداً (ص) وَعَدَ اصحابَہُ الظَّفر یَومَ بَدرٍ انْ یَصبِرُوا فَصَبَرُوا وَظَفَروا وَوَعَدَھُم الظَفَرَ یَومَ احدٍ ایضاً اِنْ صَبَروا فَفَشَلُوا وَخالفَوا فِلذٰلِکَ اصابَھُم ما اَصابَھُم وَلَو اَنَّھُم اطاعُوا فَصَبَرُوا وَلَم یخالِفو غلبوا
           اے گروہ یہود! یقینا محمد نے اپنے اصحاب کو بدر کے دن فتح و ظفر کا وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ صبر کریں گے تو کامیاب ہوں گے چنانچہ انہوں نے صبر کیا تو فلاح و نجات پاگئے اور انہیں احد کے دن بھی فتح و ظفر کا وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ صبر کریں گے تو کامیاب ہوں گے مگر انہوں نے صبر نہیں کیا تو شکست کھا گئے اور ان کی بات تسلیم نہیں کی لہٰذا ان پر وہ مصیبتیں آئیں جو آچکی ہیں اگر وہ ان کی اطاعت کرتے اور صبر کرتے اور مخالفت نہ کرتے تو غالب اور کامیاب ہوتے، یہاں تک نقل کرتے ہیں کہ یہود رسول خدا کے پاس آئے اور عرض کیا: اے محمد! عمار کا دعویٰ ہے کہ اگر انہیں حکم دیں کہ وہ آسمان کو زمین پر لے آئیں اور زمین کو آسمان پر لے جائیں تو وہ ایسا کر دکھائیں گے سچ ہے تو ان سے کہیں کہ اس پتھر کو جو یہاں پڑا ہوا ہے جسے دو سو افراد بھی حرکت نہیں دے سکتے عمار اسے ہلا دیں۔
          حضرت رسول خدا (ص) نے فرمایا: اے عمار! میری اطاعت کا اعتقاد رکھو اور کہو: ”اللّٰھُمَّ بِجاہِ محمَّدٍ وَآلہِ الطَّیبینَ قوّنی لیُسھِّلَ اللّٰہ عَلَیکَ ما اَمَرَکَ بہ کَما سَھّلَ عَلی کالِبِ بن یُوحَنّا عُبُورَ البَحر عَلیٰ متنِ المآء“ یعنی اے خدا! محمد و آل محمد (ص) کی عظمت و جلالت کا واسطہ مجھے طاقت عطا کر کہ اس پتھر کا اٹھانا اللہ میرے لیے آسان کردے جس طرح کالب بن یوحنا کے لیے دریا کے پانی سے عبور کرنا آسان کیا تھا ہمارے اس توسل کے ذریعہ اس نے پتھر کو اپنے سر پر بلند کرکے عرض کیا: اے رسول خدا (ص)! میرے ماں باپ آپ پر قربان! یہ میرے لیے اس خلال سے زیادہ ہلکا ہے جو میں اپنے ہاتھ میں اٹھائے رہوں۔ الخ
          بہت سے مقامات پر خود حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے مقدس نفس سے توسل اختیار کیا ان کو بارگاہ خداوندی میں شفیع قرار دیا اور اپنی تمام حاجتوں کو حضرت کے ذریعہ حاصل کیا، انشاء اللہ مناسب موقع پر اس کے متعلق چند مقام کی طرف ہم اشارہ کریں گے۔

[ دیدار کی تعداد : 423]

صارفین کے نظریات

نام
ایمیل ایڈرس
تحریر
حفاظتی کوڈ