|
ائمہ ، خدا کی مخلوق پر اس کے گواہ ہیں
بصائر میں بطور مسند محمد ابن مسلم اور زرارہ سے روایت نقل ہوئی ہے کہ ان کا بیان ہے: ہم لوگوں نے امام جعفر صادق - سے سوال کیا کہ کیا لوگوں کے اعمال رسول خدا (ص) کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں؟ فرمایا: اس کام میں کوئی شک و شبہ نہیں پایا جاتا پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی: (اے محمد (ص)! کہہ دیجیے تمام کام انجام دو عنقریب خداوند متعال اور اس کا رسول تمہارے اعمال کو دیکھے گا اسی طرح مومنین بھی دیکھیں گے) پھر فرمایا: یقینا اللہ تعالیٰ کے لیے روئے زمین پر گواہ افراد موجود ہیں
ائمہ ، خدا کی مخلوق پر اس کے گواہ ہیں
۵۳۰۔ ” وفی البصائر : بِاسنادِہِ عَنْ محمّد بنِ مسلمٍ وَزُرارَةَ قالَ سَاٴلنا اٴبا عَبدِ اللّٰہِ علیہ السلام عَنِ الاٴَعمال تُعْرَضُ عَلی رَسُولِ اللّٰہ (ص) قالَ مافیہِ شَکٌ ثُمَّ تَلاھذِہِ الآیةَ <قُل اعمَلُوا فَسَیَرَی اللّٰہُ عَمَلَکُم وَرَسُولُہ وَالموٴمِنونَ > قالَ اِنَّ اللّٰہَ شُھدآء فی ارضِہِ “ (۱)
بصائر میں بطور مسند محمد ابن مسلم اور زرارہ سے روایت نقل ہوئی ہے کہ ان کا بیان ہے: ہم لوگوں نے امام جعفر صادق - سے سوال کیا کہ کیا لوگوں کے اعمال رسول خدا (ص) کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں؟ فرمایا: اس کام میں کوئی شک و شبہ نہیں پایا جاتا پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی: (اے محمد (ص)! کہہ دیجیے تمام کام انجام دو عنقریب خداوند متعال اور اس کا رسول تمہارے اعمال کو دیکھے گا اسی طرح مومنین بھی دیکھیں گے) پھر فرمایا: یقینا اللہ تعالیٰ کے لیے روئے زمین پر گواہ افراد موجود ہیں۔
۵۳۱۔ ” وفی الکافی : باِسنادِہِ عَن سَماعَة قالَ قالَ ابُو عَبدِ اللّٰہ علیہ السلام فی قَولِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ <فَکَیْفَ اِذا جِئْنَا مِنْ کُلَّ اُمَّةٍ بِشَھیدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلیٰ ھوُلآءِ شَہیداً > قالَ نَزَلَتَ فی امّةِ محمَّدٍ خاصَةً فی کُلِ قَرن مِنھُم اِمامٌ مِنّا شاھِدٌ عَلَیھِم وَمُحَمَّدٌ (ص) شاھِدٌ عَلَینا “ (۲)
کافی میں کلینی علیہ الرحمہ نے اپنے اسناد کے ساتھ سماعہ سے نقل کیا ہے کہ ان کا بیان ہے کہ : امام جعفر صادق - نے آیہٴ کریمہ (اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب ہر امت سے ایک گواہ کے ساتھ بلائیں گے اور اے رسول! تم کو ان سب پر گواہ بنائیں گے) کے متعلق فرمایا: یہ آیت صرف امت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ گزشتہ حوالہ، ص ۴۳۰، حدیث ۶۔
(۲)۔ کافی، ج۱، ص ۱۹۰، حدیث ۱۔
محمدیہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے ان میں سے ہر فرقہ اپنے امام کے ساتھ ہوگا جو ان کے اعمال کے لیے حاضر و ناظر ہو گا ہم ان پر گواہ ہوں گے اور محمد (ص) ہمارے اعمال پر گواہ اور حاضر و ناظر ہوں گے۔ (یعنی ان کی گفتار و کردار پر ناظر ہیں اورقیامت کے دن خدا کے حضور گواہی دیں گے لہٰذا اس بات کا خیال رہے اور تقویٰ اختیار کرو کہ تمہارے گواہوں کی گواہی مقبول اور وہ سب عادل ہیں)۔
۵۳۲۔ ”وفیہ : بِاِسنادِہِ عَن بُریدِ العِجلی قالَ: قُلْتُ لاٴبی جَعفَرٍ علیہ السلام قَولِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ <وَکَذلِکَ جَعَلْناکةم امّةً وَسَطاً لِتَکُونُوا شُھَداء عَلَیٰ النّاسِ وَیکُونَ الرّسُولُ عَلَیکُم شَہیداً> قالَ نَحنُ الْاٴُمّةُ الوَسَطِ وَنَحنُ شُھداءُ اللّٰہ تَبارکَ وَتَعالیٰ عَلیٰ خَلقِہِ وَحُجَةِ فی ارضِہِ قُلتُ: قولہُ تَعالیٰ <یا ایُھَا الَّذینَ امنُوا ارکعُوا و اسجُدُوا و اعبُدُوا رَبَّکُم وَ افعلُوا الخیر لَعَلَّکُم تفلِحُونَ> قالَ ایا نا عَنی وَنَحْنُ المجتَبُونَ وَلَمْ یَجْعَلُ اللّٰہُ تَبارَکَ وَتعالیٰ فی الدّینِ مِن ضیقٍ فالخَرَج اشَدّ مِنَ الضّیقِ < مِلَّةَ ابیکُم ابراہیمَ > اِیّا نا عَنی خاصَةً وَ ”سَمّاکُمُ المُسلِمینَ “اللّٰہ سَمَّانا المسلِمینَ مِن قَبلُ فی الکُتبِ الَّتی مَضَیت وَفی ھذا القُرآنِ <لِیکُونَ الرسوُلُ عَلَیکُم شَھیداً وَ تَکوُنوُا شَھداء عَلَی الناسِ> فرَسُولُ اللّٰہِ (ص) الشَّھیدُ عَلَینا بِما بَلَّغْنٰا عَنِ اللّٰہِ تَبارَکَ وَ تعالیٰ وَنَحْنُ الشّھداءُ عَلی الناسِ فَمَن صَدَّق یَومَ القیٰمةَ صَدَّقناہُ وَمَن کَذَّبَ کذَّبناہُ “ (۱)
اسی کتاب میں برید عجلی کا بیان ہے : میں نے امام محمد باقر - سے دریافت کیا کہ اس آیہٴ کریمہ (اور اسی طرح ہم نے تمہیں درمیانی امت قرار دیا تاکہ لوگوں پر گواہ رہو اور پیغمبر اکرم (ص) آپ پر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ گزشتہ حوالہ، ص ۱۹۱، حدیث ۴۔
گواہ ہیں) کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ فرمایا: امتِ وسط ہم ہیں اور ہم اللہ کے گواہ ہیں اس کی مخلوق پر اور ہم اللہ اس کی زمین میں حجّت ہیں، میں نے کہا: اس آیت سے کیا مراد ہے: (اے ایمان لانے والو! رکوع کرو سجدہ کرو اور اپنے رب کی عبادت کرو اور نیکی کرو تاکہ تم فلاح پاؤ، اور راہِ خدا میں ٹوٹ کر جہاد کرو اس نے تم کو چن لیا ہے“ فرمایا: اس سے مراد ہم ہیں کہ ہم کو اس نے چنا ہے اور اس خدا نے فرمایا: دین میں مسائل کے سمجھنے میں کوئی اشکال نہیں رکھتا پس مسائل میں حرج ہونا دل تنگی سے زیادہ برا ہے اور ”آپ کے باپ ابراہیم کی ملت سے“ صرف ہم مراد ہیں اور (تمہیں مسلمان نام رکھا) خدا نے ہمیں پہلے ہی سے مسلمان نام رکھا یعنی گزشتہ کتابوں میں بھی اس نام سے موسوم کیا اور اس قرآن میں بھی ہے ”تاکہ رسول (ص) ہم پر گواہ ہو اور ہم تم لوگوں پر“ لہٰذا جس نے دنیا میں ہماری تصدیق کی ہم روز قیامت اس کی تصدیق کریں گے اور جس نے ہمیں جھٹلایا ہم اسے جھٹلائیں گے۔
۵۳۳۔ ”وفیہ بِاِسنادِہِ عَن سُلَیمِ بن قَیسِ الھلالی عَن امیرِ الموٴمنینَ علیہ السلام قالَ اِنَّ اللّٰہَ تَبارَکَ وَتعالیٰ طھَّرنا وَعَصَمنا وَجَعَلَنا شُھدآء عَلیٰ خَلقِہِ وَحُجَّتَہَ فی ارضِہِ وَجَعَلَنا مَعَ القُرآنِ وَجَعَلَ القُرآنَ مَعَنا لا نُفارِقُہُ وَلا یُفارقُنا “ (۱)
اسی کتاب میں سلیم ابن قیس ہلالی نے حضرت امیر المومنین - سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں پاک و پاکیزہ بنایا اور ہمیں مقام عصمت عنایت فرمایا اور ہماری حفاظت کی ہمیں اپنی مخلوق پر گواہ بنایا ہے، اور اپنی زمین پر اپنی حجّت قرار دیا ہے اور قرآن کو ہمارے ساتھ کیا ہے اور ہم کو قرآن کے ساتھ ، نہ ہم اس سے جدا ہوں گے نہ وہ ہم سے۔
(ہماری گفتار ہمارا کردار قرآن کے حقیقی معانی و مضامین پرمنطبق ہوتا ہے اور جدائی ممکن ہی نہیںکیوں کہ ہم بھی قرآن سے تجاوز نہیں کرتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ گزشتہ حوالہ، ج۱، ص ۱۹۱، حدیث ۵۔
۵۳۴۔ ”وفی البصائر بِاِسنادِہِ عَنْ محمّد بن مُسلم و زُرارَةَ قالَ سَاٴلنا اَبا عَبدِ اللّٰہِ علیہ السلام عَن الاٴَعمالِ تُعرضُ عَلیٰ رَسُولِ اللّٰہِ (ص) قالَ مافیہِ شَکٌّ ثُمَّ تَلاھذہِ الآیةَ <قُل اعمَلُوا فَسَیَرَی اللّٰہُ عَمَلَکُم وَرَسُولُہ وَالموٴمِنونَ > قالَ اِنَّ للّٰہِ شُھدآء فی ارضِہِ “ (۱)
بصائر میں بطور مسند محمد ابن مسلم اور زرارہ سے روایت نقل ہوئی ہے کہ ان کا بیان ہے: ہم لوگوں نے امام جعفر صادق - سے سوال کیا کہ کیا لوگوں کے اعمال رسول خدا (ص) کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں؟ فرمایا: اس کام میں کوئی شک و شبہ نہیں پایا جاتا پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی: (اے محمد (ص)! کہہ دیجیے تمام کام انجام دو عنقریب خداوند متعال اور اس کا رسول تمہارے اعمال کو دیکھے گا اسی طرح مومنین بھی دیکھیں گے) پھر فرمایا: یقینا اللہ تعالیٰ کے لیے روئے زمین پر گواہ افراد موجود ہیں۔
چند دوسری روایت بھی اسی مضمون کی امام محمد باقر - سے نقل ہوچکی ہے۔
جس وقت حضرت قیام کریں گے لوگوں کو نئے سرے سے اسلام کی دعوت دیں گے۔
۵۳۵۔ کتاب وافی میں امام جعفر صادق - سے روایت کی گئی ہے کہ جب قائم آل محمد (ص) قیام کریں گے تو لوگوں کو نئے سرے سے اسلام کی دعوت دیں گے اور ان کے لیے جو چیزیں کہنہ ہوگئی ہوں گی ان کی طرف ہدایت و رہنمائی فرمائیں گے۔ (۲)
۵۳۶۔ اسی کتاب میں امام جعفر صادق - نے فرمایا: قائم کو قائم اس لیے کہتے ہیں چوں کہ وہ حق کے ساتھ قیام کریں گے۔
۵۳۷۔ نیز اسی کتاب میں منقول ہے کہ امام جعفر صادق - نے فرمایا: قائم - کو مہدی کہتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ بصائر ،جزء ۹، ص ۴۳۰، حدیث ۶۔
(۲)۔ وافی، ج۲، ص ۱۱۳۔
چوں کہ وہ لوگوں کو ان کی غفلت شدہ چیزوں کی طرف رہنمائی کریں گے۔ (۱)
۵۳۸۔ کافی میں امام حسن عسکری - سے مروی ہے کہ حضرت - نے راوی سے فرمایا: قائم کے متعلق سوال کیا ہے وہ جب قیام کرے گا تو لوگوں کے درمیان اپنے علم سے حکم کرے گا حضرت داؤد کے فیصلے کی طرح بینہ و گواہ نہیں طلب کرے گا۔ (۲)
حضرت - کے زمانہٴ غیبت کبریٰ میں اور اس کا عہد طولانی ہونے کی وجہ سے لوگوں نے علاماتِ ظہور کا مشاہدہ کرکے جو متعدد کتابوں میں مفصلاً ذکر ہوا ہے حضرت - کے ظہور موفور السرور کے انتظار میں سر راہ آنکھیں اس طرح بچھائی ہوئی ہیں جیسے وہ بغیر چرواہے اور بے سرپرست حیوانات کی طرح حیران و سرگردان ہیں۔ دوسری طرف سے مسلسل کئی صدیاں گزر چکیں کہ اس کے ہر دور میں ضروری طور پر دنیا کے عظیم افراد اور رہبر مختلف آراء و نظریات کی طرف اپنی ملتوں کو رہنمائی کرکے بہ مصداق آیہٴ کریمہ <کل حزب بما لدیھم فرحون> (ہر گروہ وہ جو کچھ بھی اس کے پاس ہے اس پر خوش و مگن ہے) اپنے وجود کا اظہار کیا اور لوگ بھی بہ اعتبار <الناس علی دین ملوکھم> (لوگ اپنے بادشاہوں کے دین پر ہوا کرتے ہیں) رشد و نمو پیدا کیے ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ ایسی صورت میں معاشرہ میں بآسانی ہرج و مرج پیدا ہوگا،لوگوں کے اموال و نوامیس یہاں تک ان کے نفوس بھی معرض خطر اور انحطاط کا شکار ہوں گے۔ احکام اور حدود الٰہی ماحول اور فضا کی آلودگی کے تاٴثر سے تبدیل ہوجائیں گے۔
جب مشیت الٰہی ہوگی اور اس کی لا متناہی دریائے رحمت میں جوش پیدا ہوا تو اپنے بندوں کو اپنی عنایت و رحمت سے سرفراز کرے گا اور حضرت مہدی آل محمد عجل اللہ فرجہ کے مقدس وجود ذی جود کے ظہور کی اجازت مرحمت فرمائے گا اور حضرت تشریف لا کر طبیعی طور پر <یملا الارض قسطا و
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ وافی ج، ج۲، ص ۱۱۳۔
(۲)۔ کافی، ج۱، ص ۵۴۔
عدلا> کی منطق کے مطابق معاشرے کی فضا اور ماحول کی اصلاح اور احکام و حدود الٰہی کا احیاء کریں گے انحرافی قوانین اور فاسد عقیدوں کو جو دنیا کے رہبروں کی زہر آلود پروپیگنڈوں سے پھیلے ہیں اور ان کی تربیت سے متاثر ہوئے ہیں اور لوگوں نے اس راہ کو اپنا کر اپنے اصلی اور فطری عقیدوں کو کھو دیا ہے ان کی بھی اصلاح فرما کر اصلی اسلام جو پیغمبر اکرم (ص) اللہ تعالیٰ کی جانب سے لائے ہیں آشنا کرائے گا۔
ایسے مقام پر بسا اوقات بعض نادانیاں اور غفلتیں یا ظاہری شرع پر اعتبارکرنے سے ایسے افعال انجام پاتے ہیں کہ عدم اطلاع کی بنا پر در واقع خلافِ شریعت ہوتے ہیں اور جہاں حضرت حجّت - کی سیرت و رفتار ان کے آبائے کرام کی سیرت طیبہ کے برخلاف ہوگی وہاں حضرت داؤد - کی طرح واقعیات کا حکم دیں گے تو بھی یقینی صورت میں حدود الٰہی میں بنیادی تبدیلی رونما ہوگی۔ اس وقت لوگ خیال کریں گے کہ یہ عظیم ہستی جدید اسلام لائی ہے۔
یہ بات واضح کرنے کے لیے دو مورد کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے۔ مثلاً فرض کریں کہ ایک شخص ان موازین اور رسومات کے مطابق جو شادی کے متعلق ہے ایک خاندان میں شادی کے لیے منگنی کرتا ہے بعد میں طرفین کے توافق او رمراسم کے ساتھ شرعاً اور قانوناً شادی بھی کر لیتا ہے اور صاحب اولاد بھی ہوجاتا ہے مگر اس بات سے وہ شخص جاہل اور غافل تھا کہ اس کی بیوی اس کی رضاعی بہن ہے۔
یا ایک شخص نے اپنی تمام رحمت کے ساتھ حلال طریقے سے ایک رقم جمع کی اور شرعی معاملات کے موازین و قوانین کے ساتھ ایک جائداد خریدی اور اسے ہڑپ کرلیا ہے جب کہ حقیقت میں وہ جائداد بچے کی تھی یا غصبی اور تجاوز کرکے حاصل کی تھی اسی طرح کی اور بھی دوسری مثالیں موجود ہیں۔
جس وقت حضرت حجّت - روحی لہ الفداء ایسے موارد میں فرمانِ الٰہی کے مطابق واقعی حکم دیں گے اور کہیں گے کہ: اپنے اہل و عیال سے دست بردار ہوجاؤ وہ تم پر حرام ہے کیوں کہ تمہاری رضاعی بہن ہے یا صاحبِ جائداد سے کہیں گے کہ یہ جائداد فلاں بچے کی ہے یا فلاں شخص کی تھی کہ جسے غصب کرلیا ہے اسے اس کے مالک کو واپس کرنا ضروری ہے۔ تو لوگ یقینا یہی کہیں گے: وہ جدید اسلام لے کر آئے ہیں البتہ میں نے ان دو مورد کو بطور نمونہ ذکر کیا ہے۔ ممکن ہے کہ ان دو مورد کے علاوہ عدم اعتقاد کی بنا پر یا آیات و روایات سے نا واقفیت کی وجہ سے جو آخری زمانے اور علاماتِ ظہور کی کیفیت و حالات کے متعلق بہت سی معتبر کتابوں میں مدوّن و مذکورہ ہے ، یا حضرت - کی کفار و مومنین کے ساتھ سیرت و رفتار سے دوسرے مصادیق بھی معلوم ہو جائیں۔
لیکن جو لوگ حضرت بقیة اللہ الاعظم کے اصل مقدس وجود کی بہ نسبت کامل ایمان اور صحیح اعتقاد، غیبت، طول عمر، حضرت کا ظہور، حکومت کی کیفیت اور اصل عدالت کا احیاء اور اسے نافذ کرنے کی کافی اطلاع رکھتے ہیں اور روزانہ یا کم از کم کبھی کبھی دعائے عہد کو پڑھا ہے وہ صمیم قلب اور تہ دل سے کہتے ہیں:
۵۳۹۔ ”اللَّھم اجعلنی من اعوانہ وانصارہ والراضین بفضلہ والممتثلین باوامرہ والمحامین عنہ والسابقین الی ارادتہ والمستشھدین بین یدیہ “ یعنی : خدایا! مجھے ان کے اعوان و انصار، جو ان کے تمام افعال سے راضی و خوشنود رہنے والے ان کے اوامر کی تعمیل کرنے والے، ان سے دفاع کرنے والوں، ان کی حاجتوں کو پورا کرنے میں تیزی سے کام کرنے والوں ، ان کے مقاصد کی طرف سبقت کرنے والوں اور ان کے سامنے شہید ہونے والوں میں قرار دے۔
جب کبھی دعائے عہد کے مضامین بالخصوص یہ فقرات انسان کے گوش گزار ہوتے ہیں تو یہ امید ہوتی ہے حضرت حجّت - روحی لہ الفداء کے الطاف و عنایات سے بہرہ مند ہیں اور ابدی سعادت نصیب ہو۔
اللھم وفّقنا وجمیع المشتاقین بمحمد وآلہ الطّاہرین ․خدایا! ہمیں اور تمام مشتاقین کو محمد اور ان کی طیب و طاہر آل کے واسطے سے اس بات کی توفیق کرامت فرما۔
۲۶۔ آسمانی پیشوا
۲۶۔ القُرآنُ مَن جَعَلَہ اماَمہ قادَہ اِلَی الجَنَّةِ وَمَن جَعَلَہُ خَلفَہُ ساقہُ اِلی النّار․
وکذلک الحجَّة القائم مَن جَعَلَہ اماَمہ قادةُ الَی الجَنَّةِ وَمَن جَعَلَہ خَلفَہُ ساَقہُ الیٰ النّارِ․
قرآن مجید کو جو شخص اپنا امام و پیشوا قرار دے گا وہ جنت کی طرف لے جائے گا اور جو شخص اسے پس پشت ڈال دے گا وہ اسے آتش جہنم کی طرف لے جائے گا بس اسی طرح حضرت حجّت قائم آل محمد (علیہم السلام اجمعین) ہیں اگر انہیں اپنا امام اور پیشوا قرار دیا ان کے حکم کی اطاعت کی تو وہ اسے جنت کی طرف لے جائیں گے ورنہ اس کو آتشِ جہنم کی طرف لے جائیں گے۔
۵۴۰۔ ”وفی تفسیر العیاشی : عن جعفر بن محمّد عن ابیہ عن آبائہ علیہم السلام قالَ رَسُولُ اللّٰہ (ص) اَیُّھَا النّاسُ انَّکُم فی زَمانِ ھُدنةٍ وانتُم عَلیٰ ظَھِر السَّفَرِ وَالسَّیرُ بکُم سَریعٌ فَقَد رایتُم اللَّیلَ وَالنَّھارَ وَالشَمسَ وَالقَمَرَ یُبلیانِ کُلّ جَدیدٍ وَیقربانِ کُلَّ بَعیدٍ وَیاٴتیانِ کُلَّ مَوعُودٍ فَاَعدّوُا الجھازَ لبُعدِ المفاز․ فَقام المِقدادُ فَقالَ یا رَسُولَ اللّٰہِ ما دارُ الھُدنةِ قالَ دارُ بَلیٍ وَانقِطاعٍ فَاِذا التَبَست عَلَیکُمُ الفِتن کَقِطَعِ اللَّیلِ المُظلِم فَعَلَیکُم بِالقُرآنِ فاَنَّھا شافعٌ مُشَفَّعٌ وَما حِلٌ مُصَدَّقٌ من جَعَلَہُ امامَہُ قادَہَ اِلَی الجَنَّةِ وَمَن جَعَلَہُ خَلفَہُ اِلَی النّارِ وَھُوَ الدلیلُ یَدُلَّ عَلیٰ خَیرِ سَبیلٍ وَھُوَ کِتابٌ فیہِ تَفصیلٌ وَبیانٌ وَ تَحصیلٌ وَھُوَ الفَصلُ لَیسَ بالھزل وَلَہُ ظَھر وبطَنٌ فَظاھِرُہ حِکمةٌ وَباطِنُہُ عِلمٌ ظاہِرُہُ انیقٌ وَباطِنُہُ عَمیقٌ لہ تخوّمٌ وَعَلَیٰ تخومةِ تخومٌ لا تحصی عَجائِبُہُ ولاتبلیٰ غَرائِبُہُ فیہ مَصابیحُ الھُدی وَمَنارُ الحِکمةَ وَدَلیلٌ عَلَی المعروفِ لَمن عَرَفَہ “ (۱)
عیاشی نے اپنی تفسیر میں امام جعفر صادق - سے انہوں نے اپنے آبائے طاہرین سے روایت کی ہے کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا: تم ہدنہ (صلح و مصالحت) کے گھر میں ہو تم سفر میں ہو (ایسی سواری جو بہت تیز رفتار ہے) اور نہایت تیزی سے سفر کر رہے ہو یقینا تم نے دیکھا کہ رات اور دن (طلوع و غروب) سورج اور چاند ہر نئی چیز کو کہن بنا رہے ہیں اور ہر بعید کو قریب کرتے جا رہے ہیں اور وعدہ کیے ہوئے کو لا رہے ہیں لہٰذا راستہ دور ہے اور اپنی کوششوں سے خود کو آمادہ رکھو تاکہ مفاز جو فلاح و نجات کی جگہ ہے پہنچ جاؤ۔ اس وقت مقداد نے کھڑے ہوکر عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کیا ہے؟ فرمایا: وہ امتحان (و آزمائش) کا گھر ہے اور اسی طرح کی لذتوں سے قطع کرنے کا مقام ہے لہٰذا جب بھی فتنے تمہارے اوپر مشتبہ ہوجائیں اور تاریک رات کی طرح چھا جائیں تو تم قرآن کی طرف رجوع کرو اس سے متمسک رہو کیونکہ وہ شفاعت کرنے والا بھی ہے اور شفاعت کو قبول کرنے والا بھی اور جو خدا کی طرف سے آیا ہے اس کی تصدیق کرنے والا جس نے اُسے آگے رکھا وہ جنت کی طرف لے گیا اور جس نے اسے پیچھے ڈالا اور اس کا احترام ملحوظ خاطر نہیں رکھا تووہ اسے دوزخ کی طرف کھینچ لے گیا (روایت مفصل ہے) یہاں تک کہ فرمایا: قرآن مجید کے عجائب و غرائب شمار میں نہیں آتے اس کی حد شمار سے باہر اور اس کے غرائب ہمیشہ جدید اور تازہ ہیں ، بوسیدہ و کہنہ نہیں ہوتے وہ ہدایت کے چراغ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ تفسیر عیاشی، ج۱، ص ۲۔ بحار الانوار، ج۸۹، ص ۱۷۔
ہیں اور حکمت کے منارے ہیں اور جس نے اس کی حقیقت اور با ارزش مطالب کو پہچان لیا وہ اس کے لیے تمام نیکیوں کے لیے دلیل و راہ گشا ہوگیا۔
حدیث کے چند نکات کی طرف کہ جن کی یاد آوری ضروری ہے اشارہ کیا جا رہا ہے۔
۱۔ زمانہٴ ھدنہ سے مراد ایسا زمانہ ہے کہ ایک انسان تمام جہات سے امتحان و آزمائش میں تھا اور اس کی دست رسی ائمہ تک نہ تھی۔
۲۔ ”ظہر سفر“ پروردگار کی طرف حرکت کرنے کی طرف اشارہ ہے اور خدا کی ملاقات کی طرف رغبت رکھنا ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ قول <یا ایھا الانسان انک کادح الیٰ ربک کدحاً فَمُلٰاقیہ> (اے انسان تو اپنے پروردگار کی طرف جانے کی کوشش کر رہا ہے تو ایک دن اس کا سامنا کرے گا)۔ انسان جس دن سے اس وسیع دنیا میں قدم رکھتا ہے ہر روز سو میں سے ایک حصہ دنیا سے دور اور آخرت سے نزدیک ہوتا ہے شب و روز کی گردش آفتاب و ماہتاب کا طلوع و غروب ہونا نئی چیزوں کو کہنہ اور دور کی چیزوں کو نزدیک کرتا ہے۔
۵۴۱۔ حدیث میں وارد ہوا ہے: ”ما اسرع الساعات فی الیوم واسرع الایام فی الشھر واسرع الشھور فی السنة السنین فی العمر “ (۱)
یعنی: دن کی ساعتیں، مہینہ کے دن، سال کے مہینے اور زندگی کے سال کس تیزی سے گزر جاتے ہیں۔
الٰہی وعدے مرور زمانہ کے ساتھ یکے بعد دیگرے محقق ہوتے جائیں گے۔ یہ مقدمہ اس بات کا موجب ہے کہ اس دور دراز کے سفر کے لیے آمادہ رہنا چاہیے جس کا بہترین زاد راہ قرآن کے صریحی قول کے مطابق تقویٰ ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوَی > (۲)(اپنے لیے زاد راہ فراہم کرو کہ بہترین زاد راہ تقویٰ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ نہج البلاغہ، خطبہ ۳۶۹۔
(۲)۔ سورئہ بقرہ، آیت ۱۹۷۔
پیغمبر (ص) اور ائمہٴ اطہار کے نزدیک مقداد کی شخصیت
۵۴۲۔ ” وفی الاختصاص للمفیدۺ : عَن صفوانِ بن مھرانِ الجمّال عَن ابی عَبدِ اللّٰہ علیہ السلام قالَ قالَ رَسُولُ اللّٰہ (ص) اِنَّ اللّٰہ امَرَنی بَحُبِّ اربَعةَ قالوا مَن ھُم یا رَسُولَ اللّٰہ (ص)؟ قال عَلیُ بن ابی طالِبٍ علیہ السلام ثُمَّ سَکَتَ ثُمَّ قالَ اِنَّ اللّٰہَ امَرَنی بحبِّ اربَعَةَ قالُوا مَن ھُم یا رَسُول اللّٰہِ ؟ قالَ عَلیُّ بن ابی طالِبٍ علیہ السلام ثُم سَکَتَ ثُمَّ قالَ اِنَّ اللّٰہ امَرَنی بحُبِّ اربعةَ قالُوا وَمَن ھُم یا رَسُولَ اللّٰہ (ص) قالَ عَلیُّ بن ابی طالِبٍ والمِقداد بن الاسودَ وَ ابوُذَر الغَفّاری وَسَلمانَ الفارسی “ (۱)
اختصاص میں شیخ مفید علیہ الرحمہ نے صفوان ابن مہران جمال سے انہوںنے امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ حضرت نے فرمایا کہ: رسول خدا (ص) نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے چار افراد سے دوستی کا حکم دیا ہے، دریافت کیا گیا: یا رسول اللہ (ص)! وہ کون افراد ہیں؟ فرمایا: علی ابن ابی طالب - پھر خاموش ہوگئے، پھر فرمایا: اللہ نے مجھے چار افراد سے دوستی کا حکم دیا ہے، عرض کیا: یا رسول اللہ (ص)! وہ کون افراد ہیں؟ فرمایا: علی ابن ابی طالب- پھر خاموش ہوگئے۔ پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے چار افراد سے دوستی کا حکم دیا ہے، عرض کیا: یا رسول اللہ (ص)! وہ کون افراد ہیں؟ فرمایا: علی ابن ابی طالب-، مقداد ابن اسود، ابوذر غفاری اور سلمان فارسی۔
۵۴۳۔ ”وفیہ عن النضر بن سوید عمن حدثہ من اصحابنا عَن ابی عَبد اللّٰہِ علیہ السلام قالَ مابَقَی احَدٌ بَعد ما قُبِضَ رَسُولَ اللّٰہِ (ص) اِلاَّ وَقَد جالَ جولَةً اِلاَّ المِقدادُ فاَنَّ قَلبُہُ کانَ مِثلُ زبر الحدَیدِ “ (۲)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ اختصاص، ص ۹۔
(۲)۔ اختصاص، ص ۱۱، ۱۲۔
اسی کتاب میں شیخ مفید علیہ الرحمہ نے نضر ابن سوید سے وہ اپنے اصحاب حدیث سے انہوں نے امام جعفر صادق - سے نقل کیا ہے کہ حضرت نے فرمایا: رحلتِ پیغمبر اکرم (ص) کے بعد کوئی شخص باقی نہیں رہا مگر یہ کہ ایک جولانیوں میں آیا سوائے مقداد ابن اسود کے چوں کہ ان کا قلب لوہے کے ٹکڑے کی طرح محکم اور ثابت تھا انہوں نے کسی طرح رغبت نہیں کی۔
۵۴۴۔ ” وفیہ عن ہاشم بن سالم : قالَ قالَ ابُو عَبدِ اللّٰہ علیہ السلام انَّما منزِلةُ المِقدادُ فی ھذِہِ الامَّةِ کَمَنِزلَةِ الف فی القْرآنِ لا یلزَق بِھا شَیءٌ “ (۱)
اسی کتاب میں ہشام ابن سالم کا بیان ہے کہ امام جعفر صادق - نے فرمایا: حقیقت میں اس امت میں مقداد ابن اسود کا مقام و مرتبہ ”الف“ کی منزلت میں ہے قرآن میں کوئی شے اس سے متصل نہیں ہوتی (یعنی الف تمام الف باء سے متصل ہوتا ہے لیکن الف سے ان الف باء میں سے کوئی متصل نہیں ہوتا)۔
۵۴۵۔ ” و فیہ عن عیسیٰ بن حمزة : قالَ قُلتُ لاَ بی عَبدِ اللّٰہ علیہ السلام الحَدیثُ الَّذی جاءَ فی الاَربَعَةِ قالَ وَما ھُوَ قُلتُ الاَربَعَةَ الَّتی اشتاقَت الیھِمُ الجَنَّة قالَ نعم منھمُ سَلمانُ و ابوذرَّ والمِقدادُ وعمّار قُلتُ فایُّھُم افضَل قالَ سَلمانُ ثُمَّ اطرَقَ ثُمَ قالَ عَلِم سَلمانُ علماً لو عَلمِہ ابوذَر کَفَر “ (۲)
اسی کتاب میں عیسیٰ ابن حمزہ ناقل ہیں کہ میں نے امام جعفر صادق - سے عرض کیا: وہ کون سی حدیث ہے جو چار افراد کے حق میں وارد ہوئی ہے؟
فرمایا: وہ کون لوگ ہیں؟ میں نے عرض کیا: وہ چار افراد ہیں کہ جن کی جنت مشتاق ہے؟
فرمایا: ہاں ان میں سے سلمان، ابوذر، مقداد اور عمار ہیں۔ میں نے عرض کیا: ان میں سے افضل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ اختصاص، ص ۱۱، ۱۲۔
(۲)۔ اختصاص، ص ۱۱، ۱۲۔
کون ہے؟ فرمایا: سلمان، پھر مختصر تامل کے بعد فرمایا: سلمان ایسے علم کے حامل ہیں کہ اگر ابوذر کو اس کا علم ہوجائے تو وہ یقینا ان کی تکفیر کرتے۔
۵۴۶۔ ” وفیہ عن ابی بصیر عن ابی عبد اللّٰہ علیہ السلام قالَ قالَ رَسُولُ اللّٰہ (ص) لِسَلمانَ یا سَلمانُ لَو عُرِضَ عِلمُکَ عَلَی المقدادِ لکَفَرَ یا مِقدادُ لَو عُرِضَ صَبرُ کَ عَلیٰ سَلمانَ لکَفَرَ “ (۱)
اسی کتاب میں ابو بصیر نے امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ حضرت - نے فرمایا: رسول اکرم (ص) نے سلمان سے فرمایا: اے سلمان! اگر تمہاری معلومات مقداد کے سامنے پیش کی جائیں تو یقینا وہ کافر و منکر ہوجائیں گے اور اے مقداد! اگر تمہارا صبر سلمان کے سامنے پیش کیا جائے تو یقینا وہ کافر و منکر ہو جائیں گے۔
یہ حضرت مقداد کی شخصیت کا ایک شمہ تھا کہ جنہوں نے اپنی جگہ بلند ہوکر عرض کیا تھا: یا رسول اللہ ! دار ھدنہ کیا ہے؟
آنحضرت (ص) نے جواب میں فرمایا: بلا و آزمائش اور انقطاع کا گھر ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <یوم تبلی السرائر> (۲) جس دن اندرونی تمام راز فاش ہوں گے۔
یہ آیہٴ کریمہ اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ انسان اپنی دو خلقت کی طرف توجہ کرے کہ کیاتھا اور کہاں سے آیا ہے اور کون لایا ہے اور کہاں جائے گا کیا خدائے علیم و قدیر کے علاوہ کوئی اور ہے جو مرنے کے بعد بھی اس کے واپس لانے پر قادر ہے۔
جس دن انسانوں کے مخفی اعمال آشکار ہوں گے تو وہ مشاہدہ کرے گا کہ پروردگار متعال کے علاوہ انسان کے لیے کوئی طاقت اور ناصر و یاور نہیں ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ گزشتہ حوالہ۔
(۲)۔ سورئہ طارق، آیت ۹۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <ہُنَالِکَ تَبْلُو کُلُّ نَفْسٍ مَا اٴَسْلَفَتْ وَرُدُّوا إِلَی اللهِ مَوْلَاہُمْ الْحَقِّ وَضَلَّ عَنْہُمْ مَا کَانُوا یَفْتَرُونَ > (۱)
اس وقت ہر شخص اپنے گزشتہ اعمال کا امتحان کرے گا اور سب مولائے برحق خداوند متعال کی بارگاہ میں پلٹا دیے جائیں گے اور جو کچھ افترا کر رہے تھے وہ سب بھٹک کر گم ہو جائے گا۔
<تبلوا>: بلا سے اختیار و امتحان کے معنی میں ہے، ایک شے کا دوسری شے سے مخلوط ہونا ہے۔
وہاں اختیار و امتحان کا موقف ہے۔ ہر وہ شخص جس نے جو کچھ پہلے سے ارسال کیا ہے آزمائش کرے اور خدا کی طرف پلٹائے جائیں جو ان لوگوں کا حقیقی مولا و سرپرست ہے اور ان مشرکین کی دائمی کذب پردازیوں سے دور ہو جائیں۔
امتحان کے موقع پر حقائقِ اعمال منکشف ہوجاتے ہیں اور ہر شخص واضح طور پر مشاہدہ کرتا ہے نہ بیان و ذکر کے ذریعہ، اور جب ہر شے کی حقیقت و واقعیت عینی طور پر مشاہدہ کرلیتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی مولا اور سرپرست وہی خدائے سبحان ہے، اور تمام اوہام باطل منہدم ہو جاتے ہیں اور کاذب و باطل دعائیں بھی ضائع ہو جاتی ہیں۔
(ھنا لک) اس موقف کی طرف اشارہ ہے جو اسی سورہ کی آیت نمبر ۲۸ میں ہم پرھتے ہیں: <وَیَوْمَ نَحْشُرُہُمْ جَمِیعًا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِینَ اٴَشْرَکُوا مَکَانَکُمْ اٴَنْتُمْ وَشُرَکَاؤُکُمْ فَزَیَّلْنَا بَیْنَہُمْ وَقَالَ شُرَکَاؤُہُمْ مَا کُنْتُمْ إِیَّانَا تَعْبُدُونَ > (۲)
جس دن ہم سب کو اکٹھا جمع کریں گے اور اس کے بعد شرک کرنے والوں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے شرکاء سب اپنی اپنی جگہ ٹہرو اور پھر ہم ان کے درمیان جدائی ڈال دیں گے اور ان کے شرکاء کہیں گے کہ تم ہماری عبادت تو نہیں کرتے تھے۔ اور کافروں سے دریافت کریں کہ کیوں بتوں کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ یونس، آیت ۳۰۔
(۲)۔ سورئہ یونس، آیت ۲۸۔
پرستش کرتے تھے؟ کہیں گے کہ وہ لوگ مجھے اپنی عبادت کا حکم دیتے تھے اللہ تعالیٰ نے بتوں کو قوت گویائی عطا کی اور ان کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <ہَذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّی لِیَبْلُوَنِی اٴَاٴَشْکُرُ اٴَمْ اٴَکْفُرُ وَمَنْ شَکَرَ فَإِنَّمَا یَشْکُرُ لِنَفْسِہِ وَمَنْ کَفَرَ فَإِنَّ رَبِّی غَنِیٌّ کَرِیمٌ > (۱) شریکوں (یعنی بتوں) نے کہا: تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے بلکہ اپنی خواہشات کی عبادت کرتے تھے، (ھنالک)
اور ایک شخص نے جس کے پاس کتاب کا ایک حصہ علم تھا اس نے کہا کہ میں اتنی جلدی لے آؤں گا کہ آپ کی پلک بھی نہ جھپکنے پائے اس کے بعد سلیمان نے تخت کو اپنے سامنے حاضر دیکھا تو کہنے لگے: یہ میرے پروردگار کا فضل و کرم ہے وہ میرا امتحان لینا چاہتا ہے کہ میں شکریہ ادا کرتا ہوں یا کفرانِ نعمت کرتا ہوں۔ اور جو شکریہ ادا کرے گا وہ اپنے فائدہ کے لیے کرے گا اورجو کفرانِ نعمت کرے گا اس کی طرف سے میرا پروردگار بے نیاز اور کریم ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <وَقَطَّعْنَاہُمْ فِی الْاٴَرْضِ اٴُمَمًا مِنْہُمْ الصَّالِحُونَ وَمِنْہُمْ دُونَ ذَلِکَ وَبَلَوْنَاہُمْ بِالْحَسَنَاتِ وَالسَّیِّئَاتِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُونَ > (۲)
اور ہم نے بنی اسرائیل کو مختلف ٹکڑوں میں تقسیم کردیا بعض نیک کردار تھے اور بعض اس کے خلاف اور ہم نے انہیں آرام اور سختی کے ذریعہ آزمایا کہ شاید راستہ پر آجائیں۔
آیہٴ کریمہ یہودیوں کے متفرق اور پراکندہ ہونے کی طرف اشارہ کر رہی ہے اس لحاظ سے گزشتہ آیت سے یہ آیہٴ کریمہ ارتباط رکھتی ہے گزشتہ آیت میں ہم پڑھتے ہیں: <وَإِذْ تَاٴَذَّنَ رَبُّکَ لَیَبْعَثَنَّ عَلَیْہِمْ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَةِ مَنْ یَسُومُہُمْ سُوءَ الْعَذَابِ إِنَّ رَبَّکَ لَسَرِیعُ الْعِقَابِ وَإِنَّہُ لَغَفُورٌ رَحِیمٌ> (۳)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ نمل، آیت ۴۰۔
(۲)۔ سورئہ اعراف، آیت ۱۶۷، ۱۶۸۔
(۳)۔ سورئہ اعراف، آیت ۱۶۶۔
خداوند متعال فرماتا ہے: ”اور اس وقت کو یاد کرو جب تمہارے پروردگار نے علی الاعلان کہہ دیا کہ قیامت تک ان پر ایسے افراد مسلط کیے جائیں گے جو انہیں بد ترین سختیوں میں مبتلا کریں گے کہ تمہارا پروردگار جلدی عذاب کرنے والا بھی ہے اور بہت زیادہ بخشنے والا مہربان بھی ہے۔
اس آیت سے استفادہ ہوتا ہے کہ یہ باغی اور سرکش گروہ کبھی بھی مکمل سکون کا مشاہدہ نہیں کرسکتا اگرچہ وہ اپنے لیے حکومت کی بھی تاسیس کرے پھر بھی وہ ہمیشہ دباؤ میں رہے گا مگر یہ کہ سنجیدگی کے ساتھ اپنی روش کو بدل دے اور ظلم و فساد سے دست بردار ہوجائے۔ لہٰذا آیت کے ذیل میں فرماتا ہے: <إِنَّ رَبَّکَ لَسَرِیعُ الْعِقَابِ وَإِنَّہُ لَغَفُورٌ رَحِیمٌ> تمہارا پروردگار جلدی عذاب کرنے والا بھی ہے اور بہت زیادہ بخشنے والا مہربان بھی ہے۔
یہ جملہ بخوبی نشان دہی کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بازگشت کی راہ تمام لوگوں کے لیے وا کی ہے وہ خواہ تمام (برے افعال) انجام دے چکے ہوں۔
اور مورد بحث آیت <و قطعناھم في الارض> نے خصوصی طور پر کائنات میں یہودیوں کے متفرق اور پراکندہ ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے اللہ فرماتا ہے: ہم نے بنی اسرائیل کو مختلف ٹکڑوں میں تقسیم کردیا بعض نیک کردار تھے صرف فرمان حق اور پیغمبر اسلام (ص) کی دعوت سن کر ایمان لائے اور بعض دوسرے ایسے نہ تھے اور اپنی مادی زندگی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کسی کام کو فروگزار نہیں کیا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ حَتَّی نَعْلَمَ الْمُجَاہِدِینَ مِنْکُمْ وَالصَّابِرِینَ وَنَبْلُوَ اٴَخْبَارَکُمْ > (۱)
اور ہم یقینا تم سب کا امتحان لیں گے تاکہ یہ دیکھیں کہ تم میںجہاد کرنے والے اور صبر کرنے والے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ محمد، آیت ۳۱۔
کون لوگ ہیں اور اس طرح تمہارے حالات کو باقاعدہ جانچ لیں۔
”البلاء و الابتلاء“ بہ معنی ”الامتحان و الاختبار“ ہے آیہٴ کریمہ مومنین کے لیے قتال کی کتابت کی علت بیان کر رہی ہے اور وہ ایک امتحان الٰہی ہے تاکہ مجاہدین کا امتیاز راہِ خدا میں اور تکالیف الٰہیہ کے مشتاق صابرین کا بھی رتبہ دوسروں کی بہ نسبت واضح ہو جائے۔
اور جملہٴ <وَنَبْلُوَ اٴَخْبَارَکُمْ > سے مراد ان کے اعمال کی خبریں ہیں جو ان سے انجام پذیر ہوتا ہے اور امتحان و آزمائش سے انسان کے اعمال صالحہ اور اعمال سیئہ کے مشخص ہونے کے لیے بھی جس طرح صالح نفوس امتیاز حاصل کرتے ہیں اور یہ انہیں معلوم ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <وَلاَتَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَکْتُمُوا الْحَقَّ وَاٴَنْتُمْ تَعْلَمُونَ > (۱)
حق کو باطل کے ساتھ مخلوط نہ کرو اور جان بوجھ کر حق کی پردہ پوشی نہ کرو (کہ یہ محمد (ص) وہی پیغمبر ہے جس کا وعدہ کیا گیا تھا)۔
حق وہی ثابت حقیقت و واقعیت ہے اور خود بخود عقلوں سے پوشیدہ نہیں رہتا لیکن چوں کہ جب باطل کے ساتھ مخلوط ہوجاتا ہے تو اسے مخفی کیا جاسکتا ہے اور عام لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ اور ذہنوں کو اس سے منحرف کیا جا سکتا ہے۔
۵۴۷۔ ”وقولہ (ص) فاذا التبست علیکم الفتن ․․․فعلیکم بالقرآن “ (۲)
حضرت محمد مصطفی (ص) فرماتے ہیں: جب کبھی تم فتنوں میں گھر جاؤ تو قرآن کی طرف رجوع کرو۔ کلمہٴ: التبست، مادہٴ لبس سے ہے جس کا معنی مخلوط، اشتباط ، اختلاط، شبہ و اشکال اور غیر واضح ہونا ہے یقال ”لیس علیہ الامر ای خلطہ وعلہ مشتبھاً بغیرہ “․
والفتن : قال الراغب فی المفردات : ”اصل الفَتن ادخال الذھب النار لتظھر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ بقرہ، آیت ۴۲۔
(۲)۔ کافی، ج۱، ص ۵۹۸۔
جودتہ من ردائہ “(۱)
کلمہ فتن کے متعلق راغب اصفہانی نے مفردات میں کہا:
اصل فتن کا معنی یہ ہے کہ سونے کو آگ میں ڈالیں تاکہ ان میں سے خوب و بد جدا ہوجائے۔
فتنہ کے لیے اور بھی دوسرے مختلف معانی ذکر کیے ہیں جیسے: <ذوقوا فتنتکم> (۲) کہ اب اپنا عذاب چکھو۔
<الا فی الفتنة سقطوا> (۳) آگاہ ہوجاؤ کہ یہ واقعاً فتنہ میں گر چکے ہیں۔
کبھی اختبار و امتحان کے مواقع کے لیے ذکر ہوا ہے <وَاعْلَمُوا اٴَنَّمَا اٴَمْوَالُکُمْ وَاٴَوْلادُکُمْ فِتْنَةٌ > (۴) اور جان لو کہ یہ تمہاری اولاد اور تمہارے اموال ایک آزمائش ہیں <و فتنّاک فتونا> (۵) اور تمہارا باقاعدہ امتحان لے لیا اور کبھی امتحان اور بلا دونوں ایک جگہ استعمال ہوتا ہے جیسے <و نبلوکم > (۶) اور ہم تو اچھائی اور برائی کے ذریعہ تم سب کو آزمائیں گے۔
اور کبھی مکرو فریب کے معنی میں بھی، جیسے: <وَاحْذَرْہُمْ اٴَنْ یَفْتِنُوکَ عَنْ بَعْضِ مَا اٴَنزَلَ اللهُ إِلَیْکَ > (۷) اور اس بات سے بچتے رہیں کہ یہ بعض احکام الٰہی سے منحرف کردیں۔ اور کبھی ضلالت و گمراہی کے لیے بھی ذکر ہوا ہے جیسے: <انَّ الّذین فتنوا الموٴمنین مَا اٴَنْتُمْ عَلَیْہِ بِفَاتِنِینَ > (۸) اور سب مل کر بھی اس کے خلاف کسی کو بہکا نہیں سکتے ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ مفردات راغب، ص ۲۴۱۔
(۲)۔ سورئہ الذاریات، آیت ۱۴۔
(۳)۔ سورئہ توبہ، آیت ۴۹۔
(۴)۔ سورئہ انفال، آیت ۲۸۔
(۵)۔ سورئہ طہ، آیت ۴۰۔
(۶)۔ سورئہ انبیاء، آیت ۳۵۔
(۷)۔ سورئہ مائدہ، آیت ۴۹۔
(۸)۔ سورئہ صافات، آیت ۱۶۲۔
یعنی جب کبھی اس قسم کے مختلف امتحانات میں مبتلا ہو اور حیران و سرگردان ہوجاؤ تو ہلاکتوں سے گریز اور راہ نجات صرف وہی اللہ کی عظیم کتاب قرآن مجید ہے جو ہر درد کی دوا اور ہر مرض کے لیے شفا بخش ہے۔
۵۴۸۔ ”وفی نہج البلاغة قال امیر الموٴمنین علیہ السلام : اِنَّما بَدءُ وُقُوعِ الفِتَنِ اھواءٌ تُتَّبعُ وَاحکامٌ تُبتَدَعُ یخالِف فیھا کِتابُ اللّٰہِ وَیَتَوَلیٰ عَلَیھا رِجال رِجالاً عَلیٰ غَیْرِ دینِ اللّٰہ فَلَو اَنَّ الباطِلَ خَلصُ مِن خِراج الحقِّ لم یخفَ عَلَی المُرتادینَ وَلَو اَنَّ الْحَقَّ خَلَص مِن لُبسِ الباطِلِ انقَطَعت عَنہُ السنُ المعاندینَ وَلکِن یوٴخَذُ مِن ھذا ضِغثٌ وَمِن ھذا ضِغثُ فَیمزجَانِ فَھنُالِکَ یَستَولیِ الشیطانُ عَلیٰ اَولیائِہِ وَینحُو الَّذینَ سَبَقَت لَھُم مِنّا الحُسنیٰ “ (۱)
فتنوں کی ابتدا ان خواہشات سے ہوتی ہے جن کا اتباع کیا جاتا ہے اور ان جدید ترین احکام سے ہوتی ہے جو گڑھ لیے جاتے ہیں اور سراسر کتاب خدا کے خلاف ہوتے ہیں۔ اس میں کچھ لوگ دوسرے لوگوں کے ساتھ ہوجاتے ہیں اور دین خدا سے الگ ہوجاتے ہیں کہ اگر باطل حق کی آمیزش سے الگ رہتا تو حق کے طلبگاروں پر مخفی نہ ہو سکتا اور اگر حق اور باطل کی ملاوٹ سے الگ رہتا تو دشمنوں کی زبانیں نہ کھل سکتیں، لیکن ایک حصہ اس میں سے لے لیا جاتا ہے اور ایک اس میں سے ، اور پھر دونوں کو ملا دیا جاتا ہے پس ایسے ہی مواقع پر شیطان اپنے ساتھیوں پر مسلط ہوجاتا ہے اور صرف وہ لوگ نجات حاصل کر پاتے ہیں جن کے لیے پروردگار کی طرف سے نیکی پہلے ہی پہنچ جاتی ہے۔
حضرت امیر المومنین اپنے اس گُہر بار کلام میں فتنہ و فساد کے منشا کی نشان دہی کرتے ہوئے فرماتے ہیں: فتنے کا منشا چند چیز ہیں:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۸)۔ نہج البلاغہ، خطبہ نمبر ۵۰۔
۱۔ خواہشاتِ نفسانی کی پیروی کرنا ۲۔ وہ احکام جو خلافِ شرع ایجاد کیے جائیںاو ر کتاب خدا ان کے مخالف ہو ۳۔ ان احکام کی پیروی کرنا جو دین الٰہی کے برخلاف وضع کیے گئے ہوں۔ کیوں کہ احکام الٰہی مخترعین کی گمراہیوں سے مخلوط ہوگیا لہٰذا راہ حق اس کے اپنے متلاشیوں کے لیے مسدود ہوجاتی ہے۔ لہٰذا اگر باطل حق کی آمیختگی سے خالص ہو تو وہ اپنے متلاشیوں کے لیے پوشیدہ نہیں رہ سکتا اور اگر حق باطل کی آمیختگی سے خالص ہو تو دشمنوں کی زبان اس سے قاصر ہوجائے گی۔
لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ حق و باطل باہم ایک دوسرے سے مشتبہ ہوتے ہیں لوگ اس میں فتنے میں واقع ہوجاتے ہیں کہ اس کی علت یہ ہے کہ اکثر اوقات حق سے بعض حصہ اور باطل سے بعض حصہ آپس میں مخلوط کرلیتے ہیں لہٰذا ایسے مقام پر شیطان اپنے دوستوں پر غالب ہوتا ہے اور باطل کو ان کے لیے حق کی صورت میں نشان دہی کرکے انہیں گمراہ کرتا ہے۔ لیکن جن افراد کے لیے خداوند متعال کی خاص عنایت شامل حال ہوتی ہے وہ شیطان کے مکرو فریب میں نہیں آتے اگرچہ حق کو باطل کے ساتھ مخلوط بھی کیا ہو اس کو پہچان کر نجات یافتہ بن کر کامیاب ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <یَااٴَہْلَ الْکِتَابِ لِمَ تَلْبِسُونَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَکْتُمُونَ الْحَقَّ وَاٴَنْتُمْ تَعْلَمُونَ > (۱)
اے اہل کتاب ! کیوں حق کو باطل سے مشتبہ کرتے ہو اور جانتے ہوئے حق کی پردہ پوشی کرتے ہو۔
گزشتہ آیت میں <یَااٴَہْلَ الْکِتَابِ لِمَ تَکْفُرُونَ بِآیَاتِ اللهِ وَاٴَنْتُمْ تَشْہَدُونَ> ذکر ہوا تھا لہٰذا خداوند متعال نے اہل کتاب کو مورد خطاب قرار دیا اور فرماتا ہے: ”کیوں یہ لوگ اپنی لجاجت اور عناد سے دست بردار نہیں ہوتے جب کہ پیغمبر اسلام (ص) کی نشانیاں توریت و انجیل میں پڑھ چکے ہیں اور اس سے مکمل اطلاع و آگاہی رکھتے ہیں پھر بھی راہِ انکار اختیار کرتے ہیں“۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ آل عمران، آیت ۷۱۔
موجودہ بحث کی آیت میں بھی اہل کتاب کو اطلاع اور نوٹس دی گئی ہے کہ حق و باطل کو آپس میںملاتے ہیں اور علم و آگاہی کے باوجود حقیقت کو مخفی کرتے ہیں اور وہ آیات جو توریت و انجیل میںپیغمبر اسلام (ص) کے تعارف کے متعلق اور ان کی علامتوں سے مربوط ہے پوشیدہ کرتے ہیں۔
”لبس“ لام پر زبر کے ساتھ: شبہ میں ڈالنا ہے یعنی حق کو باطل کی صورت میں ظاہر کرنا ہے۔ اور حقیقت میں پہلی آیت میں ان لوگوں کا راہ حق سے علم و آگاہی کے باوجود منحرف ہونے کی صورت میں مواخذہ فرمائے گا۔ اور مذکورہ آیت میں دوسروں کو منحرف کرنے کے متعلق بیان کر رہا ہے کیوں کہ ان کا حق ، باطل کے ساتھ ملانے کا ہدف اس کے علاوہ کچھ اورنہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <وَقَالُوا لَوْلاَاٴُنزِلَ عَلَیْہِ مَلَکٌ وَلَوْ اٴَنزَلْنَا مَلَکًا لَقُضِیَ الْاٴَمْرُ ثُمَّ لاَیُنظَرُونَ # وَلَوْ جَعَلْنَاہُ مَلَکًا لَجَعَلْنَاہُ رَجُلًا وَلَلَبَسْنَا عَلَیْہِمْ مَا یَلْبِسُونَ > (۱)
اور یہ کہتے ہیں کہ ان پر ملک کیوں نہیں نازل ہوتا حالانکہ ہم ملک نازل کر دیتے تو کام کا فیصلہ ہوجاتا اور پھر انہیں اس طرح کی مہلت نہ دی جاتی۔ اگرہم پیغمبر کو فرشتہ بھی بناتے تو بھی مرد ہی بناتے اور وہی لباس پہناتے جو مرد پہنا کرتے ہیں۔
مشرکین پیغمبر اسلام (ص) کی دعوت قبول کرنے سے گریز کرنے کے لیے بہانے کی تلاش میں ہوا کرتے تھے۔ قرآن کی بعض آیات میں ان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے من جملہ مورد بحث آیتوں میں کہ وہ لوگ کہتے تھے: کیوں صرف پیغمبر (ص) اس عظیم کام کے لیے مامور ہوئے؟ کیوں اس کام کی انجام دہی کے لیے بشر کی جنس کے علاوہ فرشتوں کی جنس میں سے کوئی دوسرا ان کی ہمراہی نہیں کرتا؟ کیا ممکن ہے کہ ایک انسان جو ہماری ہی جنس سے ہے وہ تنہا بارِ رسالت کو اپنے دوش پر حمل کرے؟
یہ ایک قسم کا بہانہ تھا جسے وہ لوگ اپنی دستاویز اور مسند قرار دیے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ انعام، آیت ۸،۹۔
حالانکہ ان تمام آیات بینات اور آنحضرت (ص) کی رسالت و نبوت پر واضح دلائل کے ساتھ بہانہ تلاش کرنے کا کوئی مقام و محل ہی باقی نہیں رہتا اس کے علاوہ قرآن مجید نے بھی اپنے دو مختصر جملوں میں سے کہ ان میں سے ہر ایک استدلالی پہلو کا حامل ہے اور ان کے لیے جواب دہ بھی۔
اللہ تعالیٰ کے اس قول کے ذریعے <وَلَوْ اٴَنزَلْنَا مَلَکًا لَقُضِیَ الْاٴَمْرُ ثُمَّ لا یُنظَرُونَ >
اور جب ہم کبھی کوئی فرشتہ بھیجتے تو کام کا فیصلہ ہوجاتا ہے اور اگر پھر بھی مخالفت کریں تو بھی انہیں مہلت نہیں دی جاتی اور سب ہلاک ہوجاتے۔
ممکن ہے یہ کہا جائے: کیوں فرشتے کی آمد اور ان کا پیغمبر (ص) کی ہمراہی کرنا منکرین کی موت کا باعث ہوتا ہے؟ ہم کہیں گے: اس دلیل کی بنا پر کہ جس کی طرف چند آیت کے پہلے اشارہ کیا گیا ہے کہ اگر نبوت شہود و احساس کے پہلو کی حامل ہوجائے اور تمام چیز کو آنکھوں سے دیکھے تو نتیجہ میں ہر جہت سے ان لوگوں کے لیے حجّت تمام ہوجائے گی اور اس سے بالاتر کوئی دلیل بھی مقصود نہیں ہوگی لہٰذا اگر کوئی شخص اس حالت میں بھی مخالفت کرے تو طبیعی و فطری امر ہے کہ اس کی سزا یقینی ہوگی۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر الطاف و عنایات کی وجہ سے کہ ان کے لیے تجدید فکر کی ایک فرصت باقی رہے اور اس کام کو انجام نہیں دیتا۔
دوسرا جواب: پیغمبر اکرم (ص) ان تمام عظمت و منزلت کے باوجود تمام لوگوں کی تربیت کی ذمہ داری اور بار ِرسالت کو تحمل کیے ہوئے ہیں ضروری ہے کہ خود لوگوں کی جنس سے ہوں ان کے ہم رنگ اور ہم صفات ہوں بلکہ تمام انسانی صفات اور غریزے ان میں موجود ہوں۔ کیونکہ فرشتے بشر کے ساتھ سنخیت نہ رکھنے کے علاوہ قابلِ دید نہیں ہے وہ انسان کے لیے عملی سر مشق نہیں بن سکتا کیوں کہ نہ وہ ان کی ضرورتوں اور دردوں سے آگاہ ہے اور نہ ہی اس کی خواہشات اور غرائز کی کیفیت سے آشنا ہے۔ اسی دلیل کی وجہ سے اس کی رہبری ایسے موجود کی بہ نسبت جو تمام جہت سے اس سے فرق رکھتا ہے مکمل طور پر ناساز گار ہے لہٰذا قرآن مجید کا قول ہے: <وَ لَوْ جَعَلْنٰاہُ مَلکاً لَجَعَلْنٰاہُ رَجُلاً وَ لَلَبَسْنٰا عَلَیْھِم مٰا یَلْبِسُونَ>․
اگر ہم پیغمبر (ص) کو فرشتہ بھی بناتے اور ان کی پیش کش کو قبول کرتے پھر بھی ضروری تھا کہ انسانی صفات ان میں ایجاد کریں اور انہیں ایک مرد کی صورت و سیرت میں قرار دیں پھر بھی اس کے باوجود یہ کہتے کہ کیوں ایک انسان کو رہبری کے لیے مامور کیا اور حقیقی چہرہ کو ہم سے مخفی رکھا؟
۵۴۹۔ ”وفی الکافی باسنادہ عن ہاشم بن الحکم عن ابی عبد اللّٰہ علیہ السلام انَّہُ قالَ لِلزندیقِ الَّذی سَاَلہُ مِنَ اَین اثبتَّ الاَنبیآءَ وَالرّسُلَ ؟ قالَ اِنّا لَمّا اثبتنا اَنَّ لَنا خالِقاً صانِعاً متعالیاً عَنّا وَعَن جَمیعِ ماخَلَقَ وَکانَ ذَلِکَ الصّانعُ حَکیماً متعالِیاً لَم یجزان یُشاھِدُہ خَلقُہُ وَلا یُلامِسُوُہ فَیباشَرُھم وَیبابِشرُوہُ وَیحاجھم وَیحاجُوہُ ، ثَبَتَ انَّ لَہُ سُفَراءُ فی خَلقِہِ ، یُعترُونَ عَنہُ اِلیٰ خَلقِہِ وَعِبادِہِ وَیَدولُّونَھُم عَلٰی مَصالِحِھُمْ وَمَنٰافِعَھُم وَما بِہِ بَقائھُم وَفی ترکِہِ منافعھم ، فَثَبَتَ الآمِرُونَ وَالنّاھُونَ عَنِ الحکَیم العَلیمِ فی خَلقِہِ وَالمعبّرُونَ عَنہ جَلّ وعز ، ھُم الاَنْبیآءُ علیہم السلام ، وَصفوَتُہُ مِن خَلقِہِ ، حُکَماء مورَّبین بِالحِکمةِ ، مبعوثینَ بِھا غیرُ مشارِکینَ لِلنّاس عَلی مشارِکتِھِم لَھُم فی الخلقِ والترَکیب فی شَی ءٍ مِن احوالِھِم موٴیَّدینَ مِن عِندِ الحَکیمِ العَلیمِ بِالحِکمة ، ثُمَّ ثَبَتَ ذلِکَ فی کُلّ دَھرٍ وَزَمانٍ ممّا اتَت بِہِ الرُّسُل والاٴنْبیآءُ مِنَ الدَّلائِل وَالبَراھینِ لِکَیلا تخلُو ارضُ اللّٰہِ مِن حجةٍ یَکُونُ مَعہُ عَلَمٌ یدلٌّ عَلیٰ صِدقِ مقالتِہِ وَجَواز عَدالَة “ (۱)
کافی میں ابو جعفر محمد ابن یعقوب کلینی علیہ الرحمہ کہتے ہیں کہ ہشام ابن الحکم سے مروی ہے کہ : امام جعفر صادق - سے ایک زندیق (دہریہ) نے دریافت کیا کہ: انبیاء و مرسلین کے آنے کا راہِ ثبوتکیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ اصول کافی، ج۱، ص ۲۳۶، باب اضطرار الی الحجة ۔
فرمایا: جب ہمارے لیے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ ہمارا ایک خالق ہے جو صانعِ عالم ہے اور ہم سے اور تمام مخلوق سے بلند و برتر ہے اور یہ صانعِ حکیم سب پر غالب ہے اور یہ بھی جان لیا کہ مخلوق میں سے کوئی اس کو دیکھ نہیں سکتا اور نہ ہی اس کو چھو سکتا ہے اور نہ وہ مخلوق سے ملتا ہے اور نہ مخلوق اس سے ملتی جلتی ہے تو ثابت ہوگیا کہ اس کے کچھ پیغمبر اس کے بندوں کی طرف آئےں تاکہ وہ اس کی باتیں بتائیں اور ان کے منافع اور مصالح کو سمجھائیں اور ان چیزوں کو بتائیں جن کے بجالانے میں ان کی بقا اور ترک میں ان کی موت ہو پس وہ ثابت ہوگئے کہ وہی لوگ خدا کی مخلوق کو امر و نہی کرنے والے اور اس کے احکام کو بتانے والے انبیاء ہیں جو اس کے برگزیدہ بندے صاحب حکمت اور ادب آموز ہیں اور راست گفتار اور درست کردار والے ہیں ان کی خصوصیت میں کوئی بھی ان کا شریک نہیں باوجودیکہ خلقت کے لحاظ سے وہ لوگوں کے شریک ہیں اور وہ خدائے حکیم و علیم کی طرف سے مویّد بالحکمہ ہیں۔
پھر یہ بھی ثابت ہے کہ زمانے کے ہر حصے میں انبیاء و مرسلین دلائل و براہین کے ساتھ آتے رہے تاکہ زمین کسی وقت حجّت خدا سے خالی نہ رہے اور ہر حجّت کے ساتھ علم ہوتا ہے جو ان کے راست گفتار اور صاحب عدل و انصاف ہونے کی دلیل ہوتا ہے۔
۵۵۰۔ ”وفیہ باسنادہ عن منصور بن حازم قالَ: قُلتُ لا بی عَبدِ اللّٰہ علیہ السلام اِنَّ اللّٰہ اجَلُّ وَ اکرَمُ مِن ان یُعرَفَ بِخلقِہِ بَلِ الخَلقُ یعرَفُونَ بِاللّٰہِ ، قالَ صَدَقتَ ، قُلتُ اِنَّ مَنْ عَرَفَ انَّ لَہُ رَبّاً فَقد ییبَغنی لَہُ ان یَعرِفَ انَّ لِذلِکَ الرَّبَ رِضاً وسخطاً وَانَّہُ لایُعرَفُ رِضاہُ وسَخَطُہُ اِلاَّ بوَحُیٍ او رَسُول فَمَن لَم یاٴتِہِ الوَحیُ فَقَد ینبغی لَہُ ان یَطلِب الرُّسُلَ فِاِذا لَقِیَھُمْ عَرَفَ انَّھمُ الحجَّةُ وَاَن لَھُمُ الطاعة المُفْتَرَضَةَ وَقُلتُ لِلناسِ : تعلمُونَ انَّ رَسُولَ اللّٰہِ (ص) کانَ ہُوَ الحجَّةُ مِنَ اللّٰہِ عَلیٰ خَلقِہِ ؟ قالُوا بَلیٰ قُلتُ فحینَ مَضیٰ رَسُولُ اللّٰہِ (ص) مَن کانَ الحجةَ عَلیٰ خَلقِہِ ؟ فقالُوا: القُرآنُ فَنَظرتُ فی القُرآنِ فَاِذا ھُوَ یخاصِمُ بِہِ المُرجیءُ وَالقَدَریُّ والزِندیقُ الَّذی لایوٴمِنُ بِہِ حَتّیٰ یَغلبِ الرجال بِخصومتِہِ فَعَرَفتُ انَّ القُرآنَ لا یکُونُ حجَّةً اِلاَّبقیّمٍ ، فَما قالَ فیہ مِن شَیءٍ کانَ حَقّاً ، فَقُلت لَھُم مَن قیم القُرآنِ فَقالُوا ابنُ مَسعُودٍ قَد کانَ یُعلمُ وَعُمَر یعلَمُ وَحذَیفةَ یعلَمُ ، قُلتُ کُلّہ ؟ قالُوا لا فَلَم اجِدُ احَداً یُقالُ انَّہُ یَعرِفُ ذلِکَ کُلّہُ اِلاَّ عَلیّاً علیہ السلام ، وَاِذا کانَ الشیءَ بَینَ القومِ فَقالَ ھذا الادری وَقالَ ھذا لا اَدری وَقالَ ھذا اٴَنَا اَدری فَاَشھدُ اَنَّ عَلیّاً علیہ السلام کانَ قیمُ القُرآنِ وکانت طاعتُہُ مفتَرضَةً وکانَ الحُجَّة عَلَی النّاسِ بَعد رسُولِ اللّٰہِ (ص) وَانَّ مافی القُرآنِ فھو حَقٌ فَقالَ رَحمِک اللّٰہُ “ (۱)
منصور ابن حازم روایت کرتے ہیں کہ میں نے امام جعفر صادق - سے عرض کیا: یقینا اللہ تعالیٰ بزرگ و برتر اور جلیل القدر ہے اس بات سے کہ مخلوق کو اپنی معرفت کرائے (کیوں کہ مخلوق کے صفات اس کی ذات میں نہیں ہیں اور اس کی معرفت وہبی ہے وہ اپنی طرف سے صرف پیغمبروں کی رہنمائی کرتا ہے) بلکہ مخلوق کو چاہیے کہ خود اللہ کے ذریعے اللہ کی معرفت حاصل کرے یعنی ان صفات کے ذریعے جو خود اس نے اپنے لیے بیان کیے ہیں، فرمایا: صحیح ہے میں نے عرض کیا: جو شخص اتنی بات سمجھ لے کہ اس کا کوئی رب ہے تو اس کو چاہیے کہ یہ بھی جانے کہ اس کے لیے رضا اور غصہ بھی ہے لہٰذا اس کی رضامندی اور ناراضگی کونہیں جانا جاسکتا مگر وحی کے ذریعہ یا رسول کے وسیلے سے۔ لہٰذا جس کے پاس وحی نہیں آتی اسے چاہیے کہ رسولوں کو تلاش کرے اور جب مل جائے تو یہ جان لے کہ یہ لوگ حجّتِ خدا ہیں ان کی اطاعت فرض ہے، میں نے (اہل سنت کے) لوگوں سے دریافت کیا: کیا تمہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ کافی، ج۱، ص ۱۶۸، باب اضطرار الی الحجة، حدیث ۲۔
معلوم ہے کہ مخلوقِ الٰہی کے درمیان پیغمبر (ص) حجّت خدا تھے؟ کہا: ہاں، میں نے کہا: جب پیغمبر کا انتقال ہوگیا تو پھر مخلوقِ الٰہی کے درمیان حجّتِ خدا کون ہے؟ کہا: قرآن، میں نے کہا: قرآن سے تو مرجئہ، قدریہ، مفوضہ اور وہ زندیق جو قرآن پر ایمان نہیں رکھتے اپنے عقیدہ و مقصد کے مطابق دوسروں سے مباحثہ اور غلبہ پانے کے لیے دلیل لاتے ہیں (اور قرآنی آیات کو اپنی رائے اور سلیقے سے اپنے اعتقاد کے مطابق تطبیق کرتے ہیں لہٰذا میں نے جان لیا کہ قرآن بغیر وارث و سرپرست کے جو اس کی حقیقت و واقعیت کے مطابق تفسیر کرے) حجّت نہیں ہوگا اور وہ وارث و سرپرست قرآن کی بہ نسبت جو کہے گا وہ حق ہوگا،لہٰذا میں نے ان سے کہا: قرآن کا وارث اور سرپرست کون ہے؟ کہا: ابن مسعود وہ عالم قرآن ہیں، عمر بھی جانتے ہیں، حذیفہ کو بھی علم ہے میں نے کہا: کیا یہ تمام قرآن کے عالم ہیں؟ کہا: نہیں، میں نے کہا: پھر میں کسی کو یہ کہتے کیوں نہیں پاتا کہ پورے قرآن کا علم رکھنے والا اور کوئی نہیں، میں تو ان (علی ابن ابی طالب -) کے علاوہ کسی ایک کو بھی ایسا نہیں جانتا۔ لہٰذا میں گواہی دیتا ہوں کہ علی عالم ، وارث اور محافظ قرآن ہیں اور ان کی اطاعت لازم ہے نیزوہ رسول اکرم (ص) کے بعد لوگوں پر حجّت خدا ہیں اور وہ قرآن کی بہ نسبت جو کچھ کہیں حق ہے۔ یہ سن کر امام - نے فرمایا: اللہ تم پر رحم کرے۔
۲۷۔ خستگی ناپذیر
۲۷۔ القُرآنُ ناطِقٌ لا یَعی لِسانُہُ کذلک الحجة القائم علیہ السلام․
قرآن ایسا گفتگو کرنے والے ہے کہ اس کی زبان خستہ نہیں ہوتی۔ قائم آل محمد بھی اسی طرح ہیں۔ منجملہ آیات میں سے اس کی یہ آیت <الم # ذَلِکَ الْکِتَابُ لاَرَیْبَ فِیہِ ہُدًی لِلْمُتَّقِینَ> (۱)
الم، یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے متقین کے لیے ہدایت ہے۔
حروف مقطعات جو بعض قرآنی سوروں کی ابتدا میں ذکر ہوئے ہیں وہ قرآن کریم کی منجملہ خصوصیات میں سے ایک ہے جو اس آسمانی کتاب کے علاوہ نہیں مل سکتی۔ مفسرین نے اس کے معانی میں اختلاف کیا ہے، شیخ بزرگوار علامہ طبرسی علیہ الرحمہ نے مجمع البیان میں اسی آیہٴ کریمہ کے ذیل میں گیارہ اقوال ذکر کیے ہیں اس کی طرف اشارہ کرنا اگرچہ مختصر طور پر ہی کیوں نہ ہو فائدے سے خالی نہیں ہے۔
۱۔ یہ کہ وہ (حروف مقطعات) متشابھات قرآن ہیں، اس کے علم کو خداوند عالم نے اپنی ذات سے مخصوص کیا ہے اور اس خدائے سبحان کے علاوہ اس کی تاویل اور باطن کا علم کسی فرد بشر کو نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ بقرہ، آیت ۱، ۲۔
۲۔ وہ سب کا سب اسی سورہ کا نام ہے جو اس کی ابتدا میں واقع ہوا ہے۔
۳۔ وہ تمام قرآن کے اسمائے گرامی ہیں۔
۴۔ اسمائے الٰہی کے لیے دلیل و رہنما ہے جیسے (الم) اس کا معنی یہ ہے (ان اللہ اعلم ) یعنی میں خدا جاننے والا ہوں ”المر“ یعنی ”انا اعلم و اری“ میں خدا جاننے اور دیکھنے والا ہوں۔ ”المص“ یعنی ”انا اللہ اعلم و افضل“ میں خدا جاننے والا اور افضل ہوں۔ اسی طرح بقیہ تمام سوروں کے حروف مقطعات ہیں۔
۵۔ اسمائے الٰہی ہیں جب کبھی حروف مقطعات کی تالیف و جمع آوری کرنا ممکن ہو تو اسم اعظم الٰہی کی راہ تک رسائی بھی ممکن ہوتی ہے۔
۶۔ یہ وہ قسمیں ہیں کہ خداوند تبارک و تعالیٰ ان حروف کے ذریعہ قسم کھاتا ہے کہ قرآن کلام الٰہی ہے اور وہ شریعت ہیں کیوں کہ آسمانی نازل شدہ کتابوں کے تمام مبانی و اصول اور اسمائے حسنائے الٰہیہ اور صفات الٰہیہ او ر لغات کے اصول اپنے تمام اختلافات کے ساتھ اس میں موجود ہیں۔
۷۔ نعماتِ الٰہیہ کی طرف اشارہ ہے اور بلاؤں اقوام و ملل کی مدتوں بلاؤں ان کی عمروں نیز اموات کی طرف بھی ۔
۸۔ ان سے مراد اس امت کی بقا کی طرف اشارہ ہے حساب جمل (ابجد) کی دلالت کی بنا پر۔
۹۔ مراد حروف معجم ہیں۔
۱۰۔ کفار کو خاموش کرانے کے لیے ہےں کیوں کہ مشرکین اپنے درمیان یہ نصیحت کرتے تھے کہ قرآن سماعت نہ کریں اور بے ہودہ گفتگو میں مصروف رہیں، جیسا کہ قرآن مجید خود اپنے اس قول سے اس بات کی حکایت کرتا ہے:<لاتَسْمَعُوا لِہَذَا الْقُرْآنِ وَالْغَوْا فِیہِ لَعَلَّکُمْ تَغْلِبُونَ > (۱)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ فصلت، آیت ۲۶۔
”اس قرآن کو ہرگز مت سنو اور اس کی تلاوت کے وقت ہنگامہ کرو شاید اسی طرح ان پر غالب آجاؤ۔ کبھی سیٹی بجاتے تھے اور کبھی تالیاں اور کبھی مغالطہ دیتے تھے تاکہ شاید پیغمبر اسلام کو اس کی تلاوت میں مغالطہ میں ڈال دیں اللہ تعالیٰ نے ان حروف کو نازل فرمایا، جب کبھی (یہ حروف مقطعات) سنتے تھے تو ان کے لیے یہ عجیب و غریب معلوم ہوتا تھا اور اسے سنتے تھے اس میں غور وفکر کرتے تھے اور اپنے ذاتی معاملات اور حالات کو ترک کر دیتے تھے لہٰذا قرآن ان کی سماعتوں پر نفوذ کر جا تا تھا۔
۱۱۔ حروف تہجی کے تعداد کی طرح ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ یہ وہی قرآن ہے کہ تم اس کا جواب لانے سے قاصر ہو وہ انہیں حروف مقطعات کی جنس سے تشکیل پایا ہے کہ تم اپنے خطبوں اور اپنے کلام میں گفتگو کے وقت استعمال کرتے ہو، لہٰذا اگر ان پر قدرت نہیں رکھتے تو پھر یہ جان لو اور تسلیم کرلو کہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے۔
ان کے علاوہ اور بھی دوسرے معانی ذکر ہوئے ہیں قارئین کرام معتبر تفسیروں کی طرف رجوع کریں۔ ان مجموعی حروف سے استفادہ ہوتا ہے کہ یہ خدائے سبحان اور رسول اسلام (ص) کے درمیان مخفی اسرار و رموز ہیں کہ جہاں تک ہمارے عام افہام و ادراک کا طائرِ فکر پرواز نہیں کرسکتا مگر صرف اس حد تک واقف ہوسکتے ہیں کہ ان کے اور ان کے اندر موجودہ مضامین میں ایک خاص ارتباط پایا جاتا ہے۔ (۱)
۵۵۱۔ اہل سنت و الجماعت نے امیرالمومنین علی - سے روایت کی ہے کہ حضرت - نے فرمایا: ”لِکُلّ کِتابٍ صَفوةٌ وَصفوةُ ھذا الکِتابِ حُرُوفُ التَہجَّی․“
ہر کتاب کے لیے ایک منتخب موجود ہے اور اس کتاب (قرآن) کا منتخب، حروف تہجی ہیں۔ کہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ المیزان، ج۱۸، ص ۶۔
کتاب سے مراد قرآن کریم ہے۔
” قیلَ انَّ اللّٰہ وَعَدَ نَبَیّہ ان یُنْزِلَ عَلَیْہِ کِتاباً لا یمحُوہُ المآءِ ولا یخلَق عَلیک کَثَرة الردِّ فَلما انزَلَ القْرآن قالَ ھذا القْرآن ذلِکَ الکِتابُ الَّذی وَعَدنک (۱) قیل معناہ ھذَا القُرآنِ ذلِکَ الکِتابُ الذَّی وَعَدمکَ بِہِ فی الکتُبِ السّالِفَة (۲) و فی تفسیر الامام : یعنی القرآن الّذی افتح بالٓم “۔
کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے وعدہ کیا کہ ان پر ایک کتاب نازل کرے کہ جسے پانی نہ مٹا سکے اور کثرت تردید کی بنا پر وہ کہنہ نہ ہوسکے، لہٰذا جب قرآن نازل کیا تو کہا : یہ قرآن وہی کتاب ہے کہ جس کا تم سے وعدہ کیا تھا اور کہا گیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ یہ قرآن وہ کتاب ہے جس کا گزشتہ کتابوں میں تم سے وعدہ کیا تھا۔ اور اما م کی ایک تفسیر میں کہا گیا ہے: یعنی وہ قرآن جو الم کے ذریعہ شروع کیا گیا۔
(ھدی للمتقین) : اصل تقویٰ کیا ہے اور متقین کون افراد ہیں۔
۵۵۲۔ ”روی عن النبی (ص) انّہ قال معنی التّقویٰ فی قولہ تعالیٰ <اِنّ اللّٰہ یاٴمرکُم بِالعَدل والاِحسانِ> “
قیل : متقی الذی اتَّقی ماحَرمَ عَلَیہِ وَفَعَلَ ما اوجَبَ عَلیہِ ․ وقیل : ھُوَ الَّذی یتقَیِ صالحٍ اعمالِہِ عَذابَ اللّٰہِ․
حضرت رسول اکرم (ص) سے مروی ہے کہ آنحضرت (ص) نے فرمایا: معنی کے لحاظ سے تمام تقویٰ اس آیت میں جمع ہوگیا ہے یہ کہ اللہ تعالیٰ تمہیں عدل و احسان کا حکم دیتا ہے ” متقی وہ شخص ہے جو خود کو محرمات الٰہیہ سے محفوظ رکھے اور واجبات کو بجالائے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے: متقی وہ شخص ہے جو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ مجمع میں فراء اور ابو علی جبائی سے منقول ہے۔
(۲)۔ مجمع میں مبرد سے منقول ہے۔
اپنے اعمال صالحہ کے ذریعے عذاب الٰہی سے نجات بخشے۔
۵۵۳۔ ” روی عَنِ النَّبیِ (ص) اِنَّہ قالَ اِنَّما قال سُمِّیَ المتَقُونَ الترکِھِم مالا باسَ بِہِ حَذَراً للوقُوعِ فیما بِہِ بَاٴسٌ ، وَقالَ بعضَھم التقویٰ ان لا یراکَ اللّٰہ حَیث نَھاکَ وَلا یفقُدَکَ حیث امَرَکَ “ (۱)
پیغمبر اکرم (ص) سے مروی ہے کہ آنحضرت (ص) نے فرمایا: متقی کو متقی اس لیے کہتے ہیں کہ وہ ان چیزوں کو انجام دینا ترک کرتا ہے جواسلام کی نظر میں منع نہ کی گئی ہوں تاکہ کبھی ایسا نہ ہو کہ ان چیزوں میں گرفتار ہو کہ جس کا بجالانا اسلام کی نظر میں جائز نہیں ہے۔
اور بعض افراد نے تقویٰ کا معنی یوں کیا ہے: ”اللہ تمہیں اس مقام پر دیکھے جہاں تمہیں بر محل رہنے کا حکم دیا ہے اور تمہیں اس مقام پر نہ دیکھے جہاں اس نے منع فرمایا ہے۔
”ھُوَ ذلِکَ الکِتابِ الَّذی اخبَرَت بِہِ موسیٰ وَمن بعدہ مِنَ الاٴنبیاء وَھُم اخبَروا بنی اسرائیلَ انی ساٴنزلِہ عَلیک یا محمّد (ص) لاریب فیہ ھدی للمتقین․“
یہ وہی کتاب ہے کہ جس کی موسی کو خبر دی گئی اور ان کے بعد آنے والے انبیاء کو اور ان لوگوں نے بنی اسرائیل کو خبر دی کہ یقینا میں اسے آپ پر اے محمد نازل کروں گا اس میں کوئی شک نہیں ہے یہ صاحبان تقویٰ کے لیے ہدایت ہے۔
اور سوروں کے آغاز میں حوامیم اور طواسین وغیرہ سے کتاب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو قرآن کریم ہے۔
جیسے سورئہ مومن میں : <حٓم # تَنزیلُ الکِتاب مِنَ اللّٰہِ العزیزِ الحکیمِ> حم یہ خدائے عزیز و علیم کی طرف سے نازل کی ہوئی کتاب ہے۔ جیسے سورئہ فصلت میں : <حٓم # تَنزیلٌ مِنَ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ مجمع البیان، طبرسی، ج۱، ص ۳۷۔
الرحمٰنِ الرَّحیم# کِتابٌ فصّلت آیاتہ قرآناً عَرَبیاً یقومٍ یعلموُنَ> حم یہ خدائے رحمن و رحیم کی تنزیل ہے اس کتاب کی آیتیں تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ہے عربی زبان کا قرآن ہے اس قوم کے لیے جو سمجھنے والی ہو۔ سورئہ دخان میں: <حٓم # وَ الکِتابِ المبینِ اِنا انزَلناہُ في لَیلَةٍ مُبارَکَةٍ اِنا کُنّا مُنذِرینَ> حم روشن کتاب کی قسم ہم نے قرآن کو ایک مبارک رات میں نازل کیا ہے ہم بے شک عذاب سے ڈرانے والے تھے۔
اسی طرح طواسین کی مثالیں جیسے سورئہ نمل میں: <طٓس # تِلکَ آیاتُ القرآنِ وَ کِتابٍ مُبینٍ>
طس یہ قرآن اور روشن کتاب کی آیتیں ہیں۔ سورئہ قصص میں <طٓسمٓ # تِلک آیاتُ الکِتابِ المُبینِ>
طسم یہ کتاب ِ مبین کی آیتیں ہیں۔
قولہ تعالیٰ: <ذلِکَ الکِتابُ لا ریبَ فیہ ھُدیِ للمتقین>
یعنی یہ کتاب جو قرآن کریم ہے کبھی بھی اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے یہ صاحبان تقویٰ اور پرہیز گار لوگوں کے لیے مجسم ہدایت ہے۔ متقین سے ہدایت مخصوص ہونے کی علت یہ ہے کہ اگرچہ قرآن تمام لوگوں کی ہدایت کرنے والا ہے مگر چونکہ متقین ہی قرآن سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور اس کی ہدایت سے ہدایت یافتہ ہوتے ہیں۔
قابل ذکر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعد والی آیت میں متقین کے اوصاف کو تفصیل کے ساتھ بیان فرما دیا ہے <الَّذِینَ یُؤْمِنُونَ بِالْغَیْبِ وَیُقِیمُونَ الصَّلاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاہُمْ یُنفِقُونَ # وَالَّذِینَ یُؤْمِنُونَ بِمَا اٴُنْزِلَ إِلَیْکَ وَمَا اٴُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ وَبِالْآخِرَةِ ہُمْ یُوقِنُونَ > (۱)
اسی کے ذیل میں اللہ تعالیٰ کا یہ قول بھی ہے۔ <إِنَّ ہَذَا الْقُرْآنَ یَہْدِی لِلَّتِی ہِیَ اٴَقْوَمُ > (۲)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ بقرہ،آیت ۳، ۴۔
(۲)۔ سورئہ اسراء، آیت ۹۔
جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں پابندی سے پورے اہتمام کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے رزق دیا ہے اس میں سے ہماری راہ میں خرچ بھی کرتے ہیں ۔ وہ ان تمام باتوں پر بھی ایمان رکھتے ہیں جنہیں (اے رسول !) ہم نے آپ پر نازل کیا ہے اور جو آپ سے پہلے نازل کی گئی ہیں اور آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں۔
بے شک یہ قرآن اس راستہ کی ہدایت کرتا ہے جو تمام ملتوں کی بہ نسبت بالکل سیدھا ہے۔
۵۵۴۔ ” وفی الکافی عن الصادق علیہ السلام ای یدعو ․ وعنہ علیہ السلام یھدی الیٰ الامام “ (۱)
کافی میں امام جعفر صادق - فرماتے ہیں: ”یھدی“ بمعنی ”یدعوا“ ہے یعنی قرآن امام - کی طرف دعوتِ ہدایت دیتا ہے۔
” وعن الباقر علیہ السلام یھدی الیٰ الولایة “ (۲)
امام محمد باقر - فرماتے ہیں: (قرآن) ولایت کی طرف دعوت دیتا ہے۔
۵۵۵۔ ”وفی المعانی عن الصادق علیہ السلام وعن ابیہ عن جدّہ السّجاد علیہ السلام : الامِامُ مِنّا لا یکُونَ اِلَّا مَعصُوماً وَلَیْسَت العِصمَةُ فی ظاہِرِ الخِلقةَ فیُعرَفَ بِھا وَلذلک لا یکُون الاَّ منصُوصاً فَقیلَ ما مَعنی المعصُومِ قالَ ھُوَ المعتصِمُ بحبلِ اللّٰہ وَحَبلُ اللّٰہ ھَوَ القُرآن والقرآنُ یھدیّ الَی الامِامِ وَذلِکَ قولُ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ <اِنَّ ھذا القْرآن یَھدی للَّتی ھِیَ اَقومُ > “ (۳) امام صادق - نے معانی الاخبار میں اپنے پدر بزرگوار اور اپنے جدِّ امجد امام سجاد سے روایت کی ہے کہ حضرت نے فرمایا: لوگوں کا امام اور سرپرست
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ کافی، ج۱، ص ۲۱۶۔
(۲)۔ کافی، ج۱، ص ۲۱۶۔
(۳)۔ المیزان سے اقتباس، ج۱۳، ص ۴۸۔
ہم میں سے نہیں ہوگا مگر یہ کہ وہ معصوم ہوگا اور عصمت ایسی شے نہیں ہے کہ جس کا وجود خارجی پایا جاتا ہے اور خلقت انسانی کے ظاہر سے وہ نمایاں اور پہچانی جائے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کی طرف سے معین اور منصوص ہونا چاہیے“۔
کہا گیا: اے رسول خدا (ص)! معصوم کے کیا معنی ہیں؟ فرمایا: ”اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہو اور ریسمان الٰہی وہی قرآن ہے اور قرآن بھی امام کی طرف ہدایت کرتا ہے اور اس آیہٴ کریمہ کا معنی یہی ہے: ”یقینا یہ قرآن اس راستہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو بالکل سیدھا ہے“
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <فَاٴَقِمْ وَجْہَکَ لِلدِّینِ حَنِیفًا فِطْرَةَ اللهِ الَّتِی فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْہَا لاتَبْدِیلَ لِخَلْقِ اللهِ ذَلِکَ الدِّینُ الْقَیِّمُ > (۱)
آپ اپنے رخ کو دین کی طرف رکھیں اور باطل سے کنارہ کش رہیں کہ یہ دین وہ فطرت الٰہی ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے اور خلقت الٰہی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی ہے یقینا یہی سیدھا اور مستحکم دین ہے۔
یہ تمام دعوت دین حنیف و قیم کی طرف صرف اس لیے ہے کہ یہ دین ان چیزوں کا حافظ و نگہبان ہے جس میں لوگوں کے لیے دنیا و آخرت کی بھلائی پائی جاتی ہے۔ اور ان کے حالات معاش و معاد کی اصلاح کا سرپرست ہے۔ (۲)
اسی کے ذیل میں اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: <وَعِنْدَہُ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لاَیَعْلَمُہَا إِلاَّ ہُوَ (الیٰ قولہ) وَلارَطْبٍ وَلاَیَابِسٍ إِلاَّ فِی کِتَابٍ مُبِینٍ > (۳)
اور اس خدائے تبارک و تعالیٰ کے پاس غیب کے خزانے ہیں جنہیں اس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ روم، آیت ۳۰۔
(۲)۔ المیزان سے اقتباس، ج۱۳، ص ۴۸۔
(۳)۔ سورئہ انعام، آیت ۵۹۔
ہے اور وہ خشک و تر سب کا جاننے والا ہے کوئی پتہ بھی گرتا ہے تو اسے اس کا علم ہے۔ زمین کی تاریکیوں میں کوئی دانہ یا کوئی خشک و تر ایسا نہیں ہے جو کتاب مبین کے اندر محفوظ نہ ہو۔
قرآن مجید یا امام مبین کی جو تفسیر کی گئی ہے وہ حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب - کا مقدس وجود ہے۔
گفتگو غیب کی ہے۔غیب کیا ہے؟ کیا علم غیب مطلقاً ذات اقدس الٰہی میں منحصر ہے؟
” قال الراغب فی المفردات : ” الغیب مصدر غابت الشمس وغیرھا اذ استرت عن العین یقال غاب عنی کذا “ (۱) الغیبت ، غابت الشمس کا مصدر ہے جس کے معنی کسی چیز کے نگاہوں سے اوجھل ہوجانے کے ہیں۔ چنانچہ محاورہ ہے۔ غاب عنی کذا فلاں شے میری نگاہ سے اوجھل ہوگئی۔ یعنی جب آفتاب کا ہالہ ہماری ظاہری اور مادی آنکھوں سے پوشیدہ ہوگیا تو غیبت ہوجاتی ہے یعنی آفتاب یا دوسری چیزیں ہم سے غائب ہوجاتی ہیں بعد میں یہ لفظ ہر اس شے کے لیے استعمال ہونے لگا جو حواس ظاہری سے غائب ہے اور جو کچھ انسانی علم و دانش سے مخفی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <وَمَا مِنْ غَائِبَةٍ فِی السَّمَاءِ وَالْاٴَرْضِ إِلاَّ فِی کِتَابٍ مُبِینٍ > (۲)
اور آسمان و زمین میں کوئی پوشیدہ چیز ایسی نہیں ہے جس کا ذکر کتاب مبین میں نہ ہو۔ (وہ لوح محفوظ میں تحریر ہے)۔
کبھی غیب اور غائب شے پر اطلاق ہوتا ہے البتہ لوگوں کی بہ نسبت نہ خدا کے لیے۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے کوئی شے مخفی و پوشیدہ نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاٴَرْضِ وَمَا یَخْرُجُ مِنْہَا وَمَا یَنزِلُ مِنْ السَّمَاءِ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ مفردات راغب، ص ۳۶۶۔
(۲)۔ سورئہ نمل،آیت ۷۵۔
وَمَا یَعْرُجُ فِیہَا وَہُوَ الرَّحِیمُ الْغَفُورُ # وَقَالَ الَّذِینَ کَفَرُوا لا تَاٴْتِینَا السَّاعَةُ قُلْ بَلَی وَرَبِّی لَتَاٴْتِیَنَّکُمْ عَالِمِ الْغَیْبِ لا یَعْزُبُ عَنْہُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِی السَّمَاوَاتِ وَلا فِی الْاٴَرْضِ وَلاَاٴَصْغَرُ مِنْ ذَلِکَ وَلاَاٴَکْبَرُ إِلاَّ فِی کِتَابٍ مُبِینٍ > (۱)
خداوند متعال جانتا ہے کہ زمین میں کیا چیز داخل ہوتی ہے اور کیا چیز اس سے نکلتی ہے اور کیا چیز آسمان سے نازل ہوتی ہے اور کیا اس میں بلند ہوتی ہے اور وہ مہربان اور بخشنے والا ہے۔ اور کفار کہتے ہیں کہ قیامت آنے والی نہیں ہے تو آپ کہہ دیجیے کہ میرے پروردگار کی قسم! وہ ضرور آئے گی وہ عالم الغیب ہے اس کے علم سے آسمان و زمین کا کوئی ذرہ دور نہیں ہے اور نہ اس سے چھوٹااور نہ بڑا بلکہ سب کچھ اس کی روشن کتاب میں محفوظ ہے (وہ لوح محفوظ میں تحریر ہے)۔
اللہ تعالیٰ کا یہ قول: <عالِمُ الغَیب وَ الشّھادةِ العَزیز الحَکیمُ> وہ عالم الغیب و الشہادت ہے غالب اور حکیم ہے۔
اللہ تعالیٰ کا یہ قول: <وَلِلَّہِ غَیْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَإِلَیْہِ یُرْجَعُ الْاٴَمْرُ کُلُّہُ فَاعْبُدْہُ وَتَوَکَّلْ عَلَیْہِ وَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ > (۲)
اور صرف اللہ ہی کے لیے آسمان اور زمین کا کل غیب ہے اور اسی کی طرف تمام امور کی بازگشت ہے لہٰذا آپ اس کی عبادت کریں اور اسی پر اعتماد کریں کہ آپ کا رب لوگوں کے اعمال سے غافل نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ کا یہ قول: <وَلِلَّہِ غَیْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَمَا اٴَمْرُ السَّاعَةِ إِلاَّ کَلَمْحِ الْبَصَرِ اٴَوْ ہُوَ اٴَقْرَبُ إِنَّ اللهَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ > (۳)
آسمان و زمین کا سارا غیب صرف اللہ ہی کے لیے ہے اور قیامت کا حکم تو صرف ایک پلک جھپکنے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ سبا، آیت ۲،۳۔
(۲)۔ سورئہ ہود، آیت ۱۲۳۔
(۳)۔ سورئہ نحل، آیت ۷۷۔
کے برابریا اس سے بھی قریب تر ہے اور یقینا اللہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا یہ قول : < قُلْ اللهُ اٴَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوا لَہُ غَیْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ اٴَبْصِرْ بِہِ وَاٴَسْمِعْ مَا لَہُمْ مِنْ دُونِہِ مِنْ وَلِیٍّ وَلاَیُشْرِکُ فِی حُکْمِہِ اٴَحَدًا > (۱)
آپ کہہ دیجیے کہ اللہ ان کی مدت قیام سے زیادہ باخبر ہے اسی کے لیے آسمان و زمین کا سارا غیب ہے اور اس کی سماعت و بصارت کا کیا کہنا ان لوگوں کے لیے اس کے علاوہ کوئی سرپرست نہیں ہے اور نہ وہ کسی کو اپنے حکم میں شریک کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا یہ قول: <فَقُلْ إِنَّمَا الْغَیْبُ لِلَّہِ فَانْتَظِرُوا إِنِّی مَعَکُمْ مِنْ الْمُنْتَظِرِینَ > (۲)
آپ کہہ دیجیے کہ تمام غیب کا اختیار پروردگار کو ہے اور تم انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں۔
مذکورہ آیات وغیرہ سے استفادہ ہوتا ہے کہ علم غیب ذاتِ اقدس الٰہی سے مخصوص ہے۔
لیکن سورئہ جن کی آیت نمبر ۲۷ سے یوں استفادہ ہوتا ہے۔
<وَمَا کَانَ اللهُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَیْبِ وَلَکِنَّ اللهَ یَجْتَبِی مِنْ رُسُلِہِ مَنْ یَشَاءُ > (۳)
اور وہ تم کو غیب پر مطلع نہیں کرنا چاہتا ہاں اپنے نمائندوں میں سے کچھ لوگوں کو اس کام کے لیے منتخب کر لیتا ہے۔
چنانچہ باب ”بدا“ میں کہا گیا ہے ، وہ علم جس میں بدا حاصل ہوجاتا ہے وہ ذاتِ پروردگار متعال سے مخصوص ہے اور کوئی بھی شخص اس سے واقف نہیں ہے۔ جو کچھ ہماری فکر قاصر میں خطور کیا ایک مثال کے ضمن میں آپ کے لیے بیان کر رہے ہیں:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ کہف، آیت ۲۶۔
(۲)۔ سورئہ یونس، آیت ۲۰۔
(۳)۔ سورئہ آل عمران، آیت ۱۷۹۔
مثلاً: خداوند متعال ایک بندے کی عمر پچاس سال معین و مقدر فرماتا ہے اور انبیاء و ائمہ کے ذریعے بیان فرماتا ہے کہ جب کبھی کوئی شخص صلہ رحم انجام دے تو اس کی عمر میں اضافہ ہوتا ہے۔
اور وہ شخص صلہٴ رحم انجام دیتا ہے اور اس کی عمر ساٹھ سال تک مزید بڑھ جاتی ہے۔ لہٰذا ہم یہاں کہیں گے کہ: خداوند متعال پیغمبر یا امام کو اطلاع دیتا ہے کہ اس شخص کی عمر پچاس سال ہے، لیکن چوں کہ وہ شخص صلہٴ رحم کرتا ہے اور اس کی عمر میں اضافہ ہوجاتا ہے، کوئی بھی شخص سوائے اس کی ذات کے اس کا علم نہیں رکھتا۔ اس بنا پر وہ مسائل جن میں ”بدا“ واقع نہیں ہوتا اور کوئی تغیر نہیں پیدا ہوتا اس کا علم معصومین کے اختیار میں قرار دیتا ہے۔
علامہ مجلسی علیہ الرحمہ بھی علم ائمہ کے متعلق قائل ہیں: ”وہ علم جو ائمہ کے لیے وسیع یا کم ہوتا ہے وہ ان مسائل اور ان امور کے علاوہ ہیں کہ جس کے متعلق لوگ امام سے دریافت کرتے ہیں۔ کیوں کہ امام - دینی احکام اور لوگوں کی ضروریات زندگی سے مربوط سوالات کو ہمیشہ جانتے ہیں۔ چنانچہ اس سلسلے میں مخصوص روایت بھی موجود ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ امام - سے ایک مسئلہ دریافت کریں اور وہ کہے کہ میں نہیں جانتا۔ اس بنا پر امام - کے علم سے مراد لوگوں کی ضروریات زندگی کے علاوہ ہے۔ اور وہ علوم اسرار و رموز میں سے ہیں ہم اس سے واقفیت نہیں رکھتے۔ اور یہی علوم (اسرار) ہیں جو روزانہ شب و روز اور شبہائے قدر اور جمعہ میں امام کے لیے حاصل ہوتے ہیں۔
۵۵۶۔ ”وفی الکافی باسنادہ عن معمر بن خَلادٍ قالَ سَاٴلَ اَبا الحَسنَ علیہ السلام رَجُلٌ مِن اھل فارسٍ فقالَ لَہُ تعلمون الغیبَ ؟ فَقالَ قالَ اَبو جعفر علیہ السلام یُبسَطُ لَنا العِلمُ فَلا تعلَم ویقبض عَنا فَلا نَعْلَم وقالَ سِرّاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اسرَّہُ اِلیٰ جبرئیلَ علیہ السلام وَاَسرَّہُ جَبرئیلُ اِلیٰ محمَّدٍ (ص) وَاسَرَّہُ محمدٌ اِلیٰ مَن شاء اللّٰہَ “ (۱)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ کافی، ج۱، باب نادر فیہ ذکر الغیب ، ص ۲۵۶، حدیث۱۔
کافی میں کلینی علیہ الرحمہ نے اپنے اسناد کے ساتھ معمر ابن خلاد سے نقل کیا ہے کہ ان کا بیان ہے : امام علی رضا - سے ایک اہل فارس نے دریافت کیا کہ کیا آپ علم غیب جانتے ہیں؟ فرمایا کہ امام محمد باقر نے فرمایا ہے کہ : جب علم الٰہی ہمارے لیے کشادہ ہوتا ہے (الہام یا فرشتہ کی خبر وغیرہ سے) تو ہم جانتے ہیں اور جب ایسا نہیں ہوتا تو ہم نہیں جانتے یہ علم تو اللہ تعالیٰ نے ایک راز کے طور پر رکھا ہے جسے اس نے جبرئیل - کو سونپا اور جبرئیل - نے محمد (ص) کو بطور راز سپرد کیا اور انہوں نے جس کو چاہا سپرد کیا۔
چنانچہ باب بدا میں کہا گیا ہے کہ وہ علم جس میں بدا حاصل ہوتا ہے وہ ذات الٰہی سے مخصوص ہے کسی شخص کو بھی اس کا علم نہیں ہے۔ جو کچھ ہماری فکر قاصر میں خطور کیا ایک مثال کے ضمن میں بیان کر رہے ہیں: صرف خدا اور اس کے تمام حجج عالم ہیں جو کچھ کہتے ہیں مثلاً اللہ تعالیٰ ایک بندے کی عمر پچاس سال معین و مقدر فرماتا ہے اور انبیاء و ائمہ کے ذریعے بیان فرماتا ہے کہ جب کبھی کوئی شخص صلہٴ رحم انجام دے تو اس کی عمر میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ بندہ صلہٴ رحم انجام دیتا ہے اور اس کی عمر ساٹھ سال تک مزید بڑھ جاتی ہے۔ ہم یہاں کہیں گے کہ: اگر خدا چاہے تو پیغمبر اور امام کو باخبر کرے کہ اس بندے کی عمر پچاس سال معین و مقدر تھی لیکن اس امر کی بہ نسبت یہ معلوم ہونا کہ بندہ صلہٴ رحم انجام دے گا اور اس کی عمر ساٹھ سال تک مزید بڑھ جائے گی صرف ذات احدیث سے مخصوص ہے اور دوسرا شخص اس سے آگاہ نہیں ہے۔
لیکن ان امور کی بہ نسبت کہ جسے مقدر و معین اور امضا کیا ہے اور اس میں بدا واقع نہ ہو تبدیلی نہ ہو ان کے متعلق پیغمبر اور ائمہ کو اطلاع دی جاتی ہے جیسے بندے کی عمر پچاس سال معین ہوئی اور اس نے صلہٴ رحم انجام نہیں دیا تو پچاس سال کی عمر میں انتقال کر جائے گا۔
۵۵۷۔ ”وَفیہ بِاسنٰادِہِ عَنْ سُدیٖرِ الصَیرَفیٖ قٰال سَمِعْتُ حُمرانِ بْنِ اَعْیُنْ سَاٴلُ اَبا جعفَر علیہ السلام عَنْ قولِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ بَدیعُ السَمٰوٰاتِ وَالاٴَرْضِ قٰال اَبو جَعْفَر علیہ السلام اِنَّ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اِبْتَدَعَ الاشیٰاء کلھا بعلمہ علی غیر مثالٍ کانَ قبلہ فابتدع السَّمٰواتِ وَالاٴَرضینَ وَلَم یَکن قبلھُنَّ سَماواتٍ وَلا ارَضُونَ اَما تَسمَعِ لِقولِہ تعالیٰ <وَکانَ عَرشُہُ عَلَی المآءِ > فَقال لَہُ حُمرانُ اٴَریتَ قوْلہ جَلَّ ذِکرُہ <عالِمُ الغیبِ فَلا یظھِرُ عَلیٰ غیبِہ اَحَداً > فَقالَ ابو جَعفرٍ علیہ السلام <الِاَّ مَن ارتضیٰ مِن رَسُولٍ > وَکانَ وَاللّٰہِ محمَّدٌ مِمَّن ارِتَضاہُ وَامّا قولہُ <عالِمُ الغَیبِ> فَانَّ اللّٰہ عَزوجلَّ عالِمٌ بِما غابَ عَن خَلقِہِ فیما یُقَدِّرُ مِن شیءٍ وَیقضیہِ فی عِلمِہِ قَبلَ اَن یخلقُہُ وَقَبلَ ان یخلقَہُ وَقَبلَ ان یفضِیَہُ اِلیٰ المَلائِکَةِ فَذالِکَ یا حُمران عِلمٌ موقوفٌ عِندہُ الیہِ فیہِ المشّئیة فَیَقضِیہ اِذا ارادَ وَیَبدولہ فیہِ فَلا یمضیِہ فَامَّا العِلمُ الَّذی یُقدرّہُ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ فیقضیہ ویمضیٖہ فَھُو العِلمُ الذی انْتَھی اِلیٰ رَسُولِ اللّٰہِ (ص) ثُمَّ الینٰا “ (۱)
اسی کتاب میں بطور مسند سدیر صیرفی سے منقول ہے کہ ان کا بیان ہے: میں نے حمران ابن اعین کو امام محمد باقر - سے آیہٴ کریمہ <بدیع السموات و الارض> کے متعلق دریافت کرتے ہوئے سنا تو حضرت نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہر شے کو اپنے علم سے ایجاد کیا ہے بغیر اس کے کہ کوئی مثال اس سے پہلے ہو اس نے تمام زمین و آسمان کو پیدا کیا جب کہ اس سے پہلے زمین و آسمان نہ تھے کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں سنا کہ فرمایا: ”اس کا عرش پانی پر تھا“ لہٰذا اگر آسمان و زمین تھے تو خدا کا عرش اس پر برقرار ہوتا حمران نے عرض کیا: مجھے اس آیت کے معنی بتائیے جو خدائے عزوجل کے قول کو نقل کر رہی ہے ”عالم الغیب خدا ہے اور کسی کو اپنے علم غیب سے آگاہ نہیں کرتا“۔
امام - نے فرمایا: آیت کے ذیل میں مزید یہ بھی تو بیان فرمایا ہے: ”مگر اپنے رسولوں میں سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ کافی، ج۱، ص نادر فیہ ذکر الغیب، ص ۲۵۶، حدیث۲۔
جس کو بھی چن لیا“۔ اور خدا کی قسم! محمد مصطفی (ص) ان لوگوں میں سے ہیں جن کو اللہ نے منتخب کیا ہے۔ لیکن یہ قول جو فرماتا ہے: ”خدا غیب کو جانتا ہے“ تو یقینا خدائے عزوجل ہر اس شے کا عالم ہے جو اس کی مخلوق سے غائب ہے اس چیز کی بہ نسبت جو وہ اپنے علم میں مقدر فرماتا ہے اور حکم دیتا ہے قبل اس کے کہ اس کو خلق کرے اور قبل اس کے کہ ملائکہ کو اس کا علم ہو۔ اے حمران! یہ علم اسی کے پاس محفوظ ہے جب اس کی مشیت ہوتی ہے تو اس کو جاری و نافذ کرتا ہے (یعنی ملائکہ کو بتاتا ہے) اور کبھی اس کی بہ نسبت بدا واقع ہوتا ہے اور اسے جاری و نافذ نہیں کرتا۔ لیکن وہ علم جسے خداوند متعال نے مقدر کیا حکم و امضاء فرمایا وہ ایسا علم ہے کہ جسے سب سے پہلے پیغمبر (ص) کو عطا کرتا ہے پھر ہم تک پہنچا دیتا ہے۔
۵۵۸۔ ”وَفی البصائر باسنادہ عَن عُمَر بنِ حنظَلَة قالَ قُلتُ لاَبی جعفرٍ علیہ السلام اِنِّی اظُنّ انَّی لی عِندکَ منَزلَةً قالَ اجَل قالَ قُلتُ فَانَّ لی الیکَ حاجَة قالَ وَماھَی قالَ قُلتُ تعلِّمنی الاسِمَ الاٴعظَمِ قالَ وتطیقُةُ قُلتُ نَعَم قالَ فادخُلِ البَیتَ قالَ فَدَخَلِ البَیتَ فَوَضَعَ ابُو جَعفرٍ علیہ السلام یَدَہُ عَلَی الاٴَرْضِ فاظلَم البَیتُ فَارعَدت فَرایصُ عُمَرٍ فَقالَ ما تقُولُ اُعَلِمَکَ فَقالَ لا قالَ فَرَفَعَ یَدَہُ فَرَجَعَ البَیتَ کَما کانَ “ (۱)
بصائر میں بطور مسند عمر ابن حنظلہ سے منقول ہے کہ ان کا بیان ہے کہ: میں نے حضرت ابو جعفر امام محمد باقر - سے عرض کیا: میں ایسا خیال کرتا ہوں کہ میری آپ کے نزدیک کوئی قدر و منزلت ہے۔ فرمایا: ہاں میں نے عرض کیا: تو پھر میری آپ سے ایک ضرورت درپیش ہے۔ فرمایا: کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے اسم اعظم کی تعلیم دیں۔ فرمایا: اس کی طاقت کے حامل ہو؟ میں نے عرض کیا: ہاں ، فرمایا: تو پھر گھر میں داخل ہوجاؤ راوی کا بیان ہے: حضرت بھی داخل ہوئے پھر اپنا دستِ مبارک زمین کے اوپر رکھا گھر بالکل تاریک ہوگیا، (عمر ابن حنظلہ اس حالت کا مشاہدہ کرتے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ بصائر الدرجات، نادر من الباب، ص ۲۱۰، حدیث ۱۔
ہی لرزہ بر اندام ہوگئے ان کی ہڈیاں اور اعضائے بدن لرزنے لگے پھر حضرت نے فرمایا: اب کیا خیال ہے (تاب تحمل ہے) تمہیں (اسم اعظم) تعلیم دوں؟ عرض کیا: نہیں، پھر حضرت - نے اپنا دستِ مبارک اٹھایا اور زمین گزشتہ حالت میں ہوگئی۔
۵۵۹۔ ”عن جابر عن ابی جعفر علیہ السلام قالَ انَّ اسمَ اللّٰہِ الاعظَمَ َعلیٰ ثَلاثَةٍ وَ سَبعینَ حَرفاً وَانَّما کانَ عِنْدَ آصفَ مِنھٰا حَرفٌ واحِدٌ فَتکلَّم بِہِ فَخَسفَتَ بِالاٴرضِ ما بَینہُ وَبَینَ سَریرِ بلقیسَ حَتّی تناوَلَ السریر بیدہِ ثُمَ عادتِ الاٴرضُ کَماکانَت اسرَع مِن طرفہِ العینِ ونحنُ عِندنا مِن الاسمِ الاعظم اثنانِ وَسبعونَ حَرفا وَحَرفٌ واحِدٌ عِند اللّٰہِ تعالیٰ اِستاٴثر بِہِ فی علمِ الغَیبِ عِنَدہُ ولا حولَ وَلاَ قُوةَ اِلاَّ بِاللّٰہِ العَلیِ العَظیم “ (۱)
جابر سے منقول ہے کہ امام محمد باقر - نے فرمایا: اسم اعظم الٰہی کے ۷۳ حروف ہیں آصف برخیا کے پاس صرف ایک حرف تھا اسی سے انہوں نے کلام کیا پس ان کے اور تخت بلقیس کے درمیان سمٹ گئی یہاں تک کہ انہوں نے تخت کو اپنے ہاتھ سے اٹھا لیا اور زمین چشم زدن میں جیسی تھی ویسی ہی ہوگئی اور ہمارے پاس اسم اعظم کے ۷۲ حروف ہیں اور ایک حرف اللہ کے پاس ہے اسی سے وہ علم غیب میں ممتاز ہوا اور کوئی قوت و طاقت نہیں ہے سوائے عظیم المرتبت خدا کے۔․
۵۶۰۔ ”وفیہ باسنادہ عن ہارُونَ بن الجھمِ عَن رَجُلٍ مِن اصحابِ ابی عَبدِ اللّٰہ علیہ السلام لَم احفظِ اسمُہ قالَ سمعت اَبا عبد اللّٰہِ علیہ السلام یقُولُ اِنَّ عیسیٰ بنَ مَریمُ علیہ السلام اُعْطِیَ حرفَینِ کانَ یعمل بِھما وَ اُعْطِیَ مُوسیٰ اربَعَةَ حرفٍ اُعْطِیَ ابراہیم ثمانیةَ احرفٍ وَاُعْطِیَ نوحٌ خمسَة عَشَرَ حرفاً وَاُعْطِیَ آدَمَ خمسَةَ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ کافی، ج۱، باب اسم اللہ الاعظم، ص ۲۳۰، حدیث ۱۔
وَعشِرینَ حرفاًوانَّ اللّٰہ تعالیٰ جَمَعَ ذلِکَ کُلّہُ لمحمّد (ص) وَانَّ اسمَ اللّٰہِ الاعْظَم ثلاثةََ وَسَبعُونَ حرفاً اعطی محمّداً (ص) اثنی و سبعینَ حرفاً وحجبَ عنہ حرف واحدةٌ “ (۱)
اسی کتاب کافی میں بطور مسند ہارون ابن جہم سے منقول ہے وہ ایک ایسے شخص سے جو امام جعفر صادق کے اصحاب میں سے تھے نقل کرتے ہیں کہ ان کا نام یاد نہیں ہے وہ کہتے ہیں کہ: میں نے امام جعفر صادق - کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ: عیسیٰ ابن مریم - کے پاس دو حرف تھے انہی دو حرف سے وہ اعجاز دکھاتے تھے اور موسی کو صرف ۴ حرف دیے گئے تھے اور ابراہیم - کو آٹھ حرف اور نوح - کو پندرہ اور آدم - کو پچیس حرف دیا گیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان تمام حروف کو حضرت محمد مصطفی (ص) کے لیے جمع کر دیا کہ اسم اعظم الٰہی ۷۳ حرف ہیں ان میں سے حضرت محمد (ص) کو ۷۲ حرف دیے گئے اور ایک حرف ان سے پوشیدہ رکھا گیا۔
۵۶۱۔ ”علی بن ممّد النوفلی عن ابی الحسن صاحب العسکری علیہ السلام قال سَمعتہُ یَقُولَ اِسمَ اللّٰہِ الاعظَمِ ثلاثةَ وسبعُونَ حرفاً کانَ عَندَ آصفٍ حَرفٌ واحدٌ فَتَکَلَّمَ بِہِ فانخرقَت لَہُ الاٴرضُ فیما بینہُ وَبینَ سَبا فتناولَ عَرشَ بلقیسٍ حتّیٰ صیَّرَةُ اِلٰی سُلیمانَ ثُمَّ انبَسَطَتِ الاٴرضُ فی اقلَ مِن طَرفةِ عَین وَعِندَ ثامنہُ اثنانِ وَسبعُونَ حرفاً وَحَرفٌ عِند اللّٰہ مُستَاٴثِر بِہِ فی عِلمِ الغیبِ “ (۲)
علی ابن نوفلی سے منقول ہے ان کا بیان ہے: امام حسن عسکری کے پدر بزگوار ابو الحسن امام علی نقی کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اسم اعظم الٰہی ۷۳ حروف ہیں ان میں سے آصف کے پاس صرف ایک حرف تھا جس سے انہوں نے کلام کیا زمین ان کے اور شہر صبا کے درمیان سمٹی اور انہوں نے تخت بلقیس کو اٹھالیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ کافی، ج۱، حدیث ۲۔
(۲)۔ بصائر الدرجات، ج۱، ص ۲۱۱، حدیث ۳۔
اور حضرت سلیمان - تک پہنچایا پھر زمین طرفةا لعین میں سمٹ گئی اور ہمارے پاس اسم اعظم کے ۷۲ حروف ہیں اور اللہ کے پاس ایک حرف ہے جس سے وہ عالم غیب ہے۔
۵۶۲۔ ”فی بصائر الدرجات باسنادہ عن ابی عبد اللّٰہ البرقی یَرفعُہُ اِلیک ابی عَبدِ اللّٰہ علیہ السلام قال اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ جَعَلَ اِسمَہُ الاٴعظَم عَلیٰ ثَلاثَةِ وسبعینَ حرفاً فَاعطی آدَمَ مِنھا خَمسةَ وَ عِشرینَ حرفاً وَاعَطی نوحاً مِنھا خَمسَةَ عَشَرَحرفاً واعطی مِنھا ابراہیمَ ثَمانیَةَ اٴحرُفٍ وَاَعطی مُوسیٰ مِنھا اربَعَةَ اٴحرُفٍ وَاعطی عیسیٰ مِنھا حرفَینَ وَکانَ یحیی بِھِما الموتیٰ وَیبریءِ بِھِما الاکمَہ والابرصَ واعطیٰ محمّداً (ص) اثنینِ وسَبعینَ حَرفاً واحتجَبَ حَرفاً لئلا یَعلَمَ ما فی نفسِہِ وَیَعلمَ ما فی نَفسِہِ وَیَعلَم ما ( فی) نَفسِ العِبادِ “ (۱)
بصائر الدرجات میں بطور مرفوع ابو عبد اللہ برقی سے روایت کی گئی ہے کہ وہ امام جعفر صادق - سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنے اسم اعظم کے ۷۳ حروف قرار دیے حضرت آدم - کو پچیس حرف عطا فرمایا حضرت نوح - کو پندرہ حرف عنایت کیا اور حضرت ابراہیم - کو آٹھ حرف دیا گیا اور حضرت موسیٰ کو چار حرف عطا فرمایا اور حضرت عیسیٰ - کو دو حرف اور حضرت عیسیٰ - انہی دو حرف سے مردوں کو زندہ کرتے تھے اور اسی کے زریعے مبروص افراد کا علاج فرماتے تھے اور حضرت محمد مصطفی (ص) کو ۷۲ حرف عطا فرمایا اور ایک حرف ان میں سے ان سے مخفی رکھا اور اپنی ذات سے مخصوص قرار دیا۔
لیکن امام - کا یہ قول جو فرمایا: قرآن ایک ایسا ناطق ہے کہ اس کی زبان خستگی ناپذیر ہے کیوں کہ قرآن مجید ایسی کتاب ہے جو آسمانی ہے اور عالمی کتاب ہے کسی ایک مخصوص زمانے کے لیے نہیں ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ بصائر الدرجات، ج۱، ص ۲۰۸، حدیث ۳۔
یا کسی ایک ہی گروہ سے مخصوص نہیں ہے لہٰذا اس کا اعجاز یہ ہے کہ وہ نہ کہنہ ہوتی ہے اور نہ ہی تمام ہوتی ہے اور جس قدر زیادہ پڑھی جائے یا دقّتِ نظر سے کام لیا جائے اس کے فائدے زیادہ سے زیادہ اور اس کے آثار و نتائج مزید ظاہر ہوں گے۔
۵۶۳۔ ”عَنِ الرِّضا عَن اَبیہِ علیہما السلام انَّہُ سئل ابو عبدِ اللّٰہ علیہ السلام ما بالُ القُرآنُ لا یزاد عَلی النشرِ والدَّرسِ الاغضَاضة ؟ فَقال انَّ اللّٰہ تَبارَکَ وَ تعالیٰ لَم یجعلَہُ لِزمانٍ دُونَ زمانٍ وَلا لِناسٍ دُونَ ناسِ فَھو فی کلُ زَمانٍ جَدیدٍ وَعِند کُلِ قومٍ غَضٌ الیٰ یَوْمِ القیٰمةٍ “ (۱)
حضرت امام رضا - نے اپنے بزرگوار (علیہما السلام) سے روایت کی ہے کہ حضرت امام جعفر صادق - سے سوال کیا کہ کیوں قرآن کی جتنا زیادہ نشرو اشاعت کرتے ہیں اور اس کی تدریس کرتے ہیں اس کی شادابی اور تازگی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے (اس سے احساس خستگی نفرت اور دوری نہیں پیدا ہوتی) تو امام - نے فرمایا: چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید کو کسی ایک ہی زمانہ سے مخصوص نہیں کیا ہے اور اسی طرح صرف خاص لوگوں کے لیے نہیں نازل فرمایا بلکہ ہر زمانے میں اور ہر قوم کے نزدیک صبح قیامت تک ہر دل عزیز اور شادابی و تازگی کے ساتھ ہے۔
۵۶۴۔ ” وفیہ باسنادہ عَن محمَّد بن مُوسیٰ الرازی عن اَبیہِ قالَ ذَکَرَ الرِّضا علیہ السلام یوماً القُرآنَ فعظَّم الحجَّة فیہ وَلایةَ العجزةَ فی نظمِہِ فَقالَ ھُوَ حَبلُ اللّٰہِ المتینُ عروة الوُثقیٰ وَطَریقتہُ المثلیٰ الموُدی اِلیَ الجنَّة وَالمنجی مِنَ النّار لا یخلقُ مِنَ الازمِنَة وَلایُغثُ عَلَی الاٴَلسِنَة لانَّہُ لَم یعجل لِزمانٍ دُونَ زَمانٍ بَل جِعَلَ البْرھانِ وحجَّةً عَلیٰ کُل انسانٍ لا یاتیہِ الباطِلُ مِن بینِ یَدَیہِ ولاٰمِن خلفِہِ تنزیلٌ مِن حکیم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ عیون اخبار الرضا، ج۱، ص ۹۳۔ امالی طوسی، ص ۵۸۰۔ بحار الانوار، ج۱۷، ص ۲۱۳۔
حَمیدٍ “ (۱)
کتاب عیون الاخبار الرضا میں محمد ابن موسی رازی نے اپنے پدر بزرگوار سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: حضرت امام رضا - نے ایک دن قرآن مجید کے بارے میں گفتگو کی توفرمایا اس میں حجّت اور برہان بہت عظیم ہے ایک عاجز کردینے والی علامت اس کی نظم و ترتیب میں پائی جاتی ہے پھر فرمایا: قرآن اللہ تعالیٰ کی محکم رسی ہے اور اس خدا کا نہ ٹوٹنے والا دستہ ہے اور اس (خدائے سبحان) کا بغیر کجی کے سیدھا راستہ ہے جو بہشت کی طرف لے جاتا ہے اور آتش جہنم سے نجات عطا کرتا ہے، زمانے کی طولانی مدت اسے بوسیدہ نہیں کرسکتی اور زبانوں پر سنگینی کا احساس نہیں ہونے دیتیں اس لیے کہ اسے کسی مخصوص زمانے کے لیے نہیں قرار دیا گیا ہے بلکہ اسے تمام انسانوں کی ہدایت و رہنمائی اور رہ گشائی کے لیے دلیل و برہان قرار دیا گیا ہے۔ اس کے قریب سامنے یا پیچھے کسی طرف سے باطل آبھی نہیں سکتا ہے کیونکہ یہ خدائے حکیم و حمید کی نازل کی ہوئی کتاب ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ عیون اخبار الرضا، ج۱، ص ۱۳۷۔
۲۸۔ ہمہ گیر ضرورت
۲۸۔ القُرآنُ لَیْسَ لاحدٍ بَعدَہُ مِن فقرٍ وفاقَةٍ وَلا لاحد قَبلَ القُرآنِ مِن غنیٌ․
والحجَّةُ القائِم علیہ السلام کذلِکَ․
قرآن وہ گراں قدر سرمایہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اس کے بعد فقر و فاقہ کا گزر نہیں ہوسکتا اور کسی شخص کے لیے قرآن سے پہلے غنی کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔
اسی طرح حجّت قائم بھی ہیں۔
قرآن مجید ایسی کتاب ہے جو آسمان سے پیغمبر اکرم حضرت خاتم الانبیاء محمد ابن عبد اللہ (ص) پر ان کی رسالت و نبوت کی حقانیت کے لیے جاویدانی معجزہ اور زندہ سند کے طور پر نازل ہوئی ہے اور ایسا گراں قدر گوہر ہے کہ جس کے پاس وہ موجود ہو تو وہ کبھی بھی فقر و ہلاکت اور بے چارگی کا شکار نہ ہوگا۔ یعنی جو شخص قرآن کے عظیم القدر مطالب اور اس کے مختلف علوم سے مکمل باخبر ہوگا اور اس سے مکمل فائدہ اٹھاتا ہوگا وہ تمام معنی میں تمام چیزوں سے غنی اور بے نیاز ہے اور کسی بھی شخص کے لیے قرآن کے نازل ہونے سے پہلے کسی قسم کی دولت و ثروت اور بے نیازی مقصود نہیں تھی اور نہ ہے، امام زمانہ - کا مقدس وجود بھی اسی طرح ہے۔
۵۶۵۔ ” وفی ثواب الاعمال باسنادہ عن معاویة بن عمّار قالَ قالَ ابُو عبدِ اللّٰہِ علیہ السلام من قَراٴ القُرآن فَھُوَ غَنّیٌ فَلٰا فَقَر بَعدَہُ وَالا ما بِہِ غَنِی “ (۱)
کتاب ثواب الاعمال میں بطور مسند معاویہ ابن عمار سے منقول ہے کہ حضرت امام جعفر صادق - نے فرمایا: جو شخص قرآن پڑھنے کے علم و معرفت سے سرفراز ہوگا تو وہ غنی اور بے نیاز ہے اور اس کے بعد کوئی بھی فقر و فاقے کا وجود نہ ہوگا لہٰذا جو شخص قرآن پڑھے وہ اللہ کے علاوہ ان تمام چیزوں میں کہ جس کا وہ ضرورت مند ہے سب سے بے نیاز ہوجائے گا۔ اور اگر اپنی ضروریات قرآن سے برطرف نہ کرسکے تو اسے کوئی شے غنی اور بے نیاز نہیں کرسکتی۔
پیغمبر اکرم (ص) کے اس فرمان کے من جملہ معانی میں سے یہ ایک معنی ہے جو فرمایا ہے:
۵۶۶۔ ” مَن لَم یتَغَنَّ بالقُرآنِ فَلیس مِنّا “ (۱) جو شخص قرآن کے ذریعے خود کو غنی و بے نیاز نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
ممکن ہے کبھی اگر کوئی شخص لم یتغن کو غنا کے مادہ سے سمجھے اور یوں معنی کرے یعنی جو شخص قرائت قرآن میں غنا سے کام نہ لے وہ ہم میں سے نہیں ہے یہ اشتباہ ہے۔
۵۶۷۔ ”قالَ رسُولُ اللّٰہ (ص) مَن اعطاہُ اللّٰہ القُرآنَ فَراٴَی اَنَّ احَداً اعطَی شَیّئاً افضلِ ممّا اعطیٰ فَقَد صغَّر عظیماً وعظَّمَ صغیراً “ (۲)
حضرت رسول خدا (ص) نے فرمایا: جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کی قرائت اور علم و فہم عطا فرمایا اور وہ یہ خیال کرے کہ دوسرے شخص کو اس سے افضل شے عطا ہوئی ہے جو اسے عنایت کی گئی ہے تو یقینا اس نے عظیم شے کو حقیر اور حقیرشے کو عظیم شمار کیا ہے۔
۵۶۸۔ ” وفی نہج البلاغة: قال علیہ السلام وَاعَلمُوا انَّہُ لَیسَ مِن شَیءٍ الاَّ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ ثواب الاعمال، ص ۱۲۸۔ کافی، ج۲، ص ۶۰۵، حدیث ۸۔
(۲)۔ کافی، ج۲، ص ۶۰۵ ۔ معانی الاخبار، ص ۲۷۹۔ بحار الانوار، ج۷۳، ص ۳۴۲۔
(۳)۔ کافی، ج۲، ص ۶۰۵، حدیث ۷۔
وَیکَادُ صاحِبُہُ اَن یَشبَعَ مِنہُ وَیملَّہُ اِلاَّالحیاةَ فَانَّہُ لا یَجدُلَہُ فی الموتِ راحَةً وَانَّما ذلِکَ بِمَنزِلةِ الحِکمةِ التی ھِیَ حیاةٌ لِلقَلبِ المَیّتِ وَبَصَرٌلِلعَینِ العمیآء وَسَمعٌ لِلاذُنِ الصّمآء وَرِیٌّ لِلَّظمانِ وَفیھا الغنیٰ کُلُّہُ وَالسلامةُ کِتابُ اللّٰہِ تْبصرُونَ بِہِ وتُنطِقُونَ بِہِ وَتَسمَعُونَ بِہِ وَینطقُ بَعضُہُ بِبَعضٍ وَیَشھَدُ بَعضہُ عَلیٰ بَعضٍ وَلا یختلفِ فی اللّٰہِ وَلا یُخالِفُ بِصاحِبہِ عَنِ اللّٰہِ قَد اصطَلَحتُم عَلَی الغِلِ فیما بینکُم وَنَبَتَ المَرعیٰ عَلیٰ دِمَنِکُم وَتصافیتُم عَلیٰ حُبِّ الامالَ وَتَعادیتم فی کَسبِ الاَموالِ لَقَد اسِتھامَ بِکُمُ الخبیثُ وَتاہَ بکُمُ الغُرورُ وَاللّٰہ المُستَعانُ عَلٰی نَفسی وانفُسِکُم “ (۱)
(اس خطبہ کا بعض حصہ قرآن کی توصیف اور اس کے تمسک اختیار کرنے کے متعلق ہے)۔ حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب - فرماتے ہیں:یاد رکھو کہ دنیا میں جو شے بھی ہے اس کا مالک سیر ہوجاتا ہے اور وہ اکتا جاتا ہے علاوہ زندگی کے کہ کوئی شخص موت میں راحت نہیں محسوس کرتا اور یہ بات اس حکمت کی طرح ہے جس میں مردہ دلوں کی زندگی ، اندھی آنکھوں کی بصارت، بہرے کانوں کی سماعت اور پیاسے کی سیرابی کا سامان ہے۔ اور اسی میں ساری مال داری ہے اور مکمل سلامتی ہے مال دنیا سے بھی اور عذاب آخرت سے بھی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: <و من اوتی الحکمة فقد اٴوتی خیراً کثیراً> (جسے حکمت دی گئی تو یقینا اسے خیر کثیر عطا کیا گیا) اور اس کے ذریعے خداوند متعال تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے اور دریائے معرفتِ ذوالجلال میں غور کیا جاسکتا ہے۔ یہ کتاب خدا ہے جس میں تمہاری بصارت اور سماعت کا سارا سامان موجود ہے اس میں ایک حصہ دوسرے کی وضاحت کرتا ہے اور ایک دوسرے کی گواہی دیتا ہے یہ احکام خدا کے بارے میں اختلاف نہیں رکھتا ہے اور اپنے ساتھی کو خدا کی شاہراہ سعادت سے جدا نہیں کرتا ہے۔ مگر تم نے آپس میں کینہ و حسد پر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ نہج البلاغہ، خطبہ ۱۳۳۔
اتفاق کرلیا ہے اور اسی گھورے پر سبزہ اُگ آیا ہے۔ امیدوں کی محبت میں ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو اور مال جمع کرنے میں ایک دوسرے کے دشمن ہو۔ شیطان نے تمہیں حیران و سرگردان کردیا ہے اور فریب نے تم کو بہکا دیا ہے اب اللہ ہی میرے اور تمہارے نفسں کے مقابلہ میں فتنہ و فساد سے نجات پانے کا ایک سہارا ہے۔
۵۶۹۔ ” وفیہ مِن خطبةٍ لَہُ علیہ السلام یَعطِ النّاسَ بِمواعِظَ بَلیغَةً وَیُذکَر فضایِلَ قُرآنِ الکرِیمِ بِقَوْلِہِ انفِعُوا بِبَیانِ اللّٰہ واتعِظُوا بِمواعِظِ اللّٰہِ وَاقبَلُوا نَصیحَةَ اللّٰہِ ( الیٰ قولہ): واعلَمُوا انَّ ھذَا القُرآنَ ھُوَ الناصِحُ الَّذی لا یغُش وَالھادِی الَّذی لا یضِل والمَحدِّثُ الَّذی لایکذِبُ وَما جالِسَ ھذا القُرآنَ احدٌ اِلاَّ قامَ عَنہُ بِزِیادةٍ اَوْ نقصان زِیادَةً فی ھُدیً وَ نقصان مِن عمی ․ وَاعَلمُوا انَّہُ لَیسَ عَلیٰ احد بعد القُرآنِ احدٌ الاَّقامَ عَنہُ بِزِیادةٍ اَو نقصان زِیادَةً فی ھُدیً ونقصانِ مِن عَمی وَاعَلمُوا انَّہُ لَیسَ عَلیٰ احدٍ بعد القْرآنِ مِن فاقةٍ وَلا لاٴحَدٍ قَبلَ القُرآنِ مِن غنِیً فَاستشفُوہُ مِن ادوآئِکُم واستعینُوا بِہِ عَلیٰ الاٴوآئِکُم فَانَّ فیہِ شِفآءٌ مِن اکبرِ الدّاءِ وَھُوَ الکُفْرُ وَالنِّفاقُ والغَیُّ والضلالُ فَاسئلُوا اللّٰہَ بِہِ وَتوجَّھُوا اِلَیہِ یحبِّہِ وَلا تَساٴلُوا بِہِ خَلقَہُ اِنَّہُ ما تَوَجہَ العِبادُ اِلَی اللّٰہِ بِمِثْلِہِ وَاعْلَمُوا انَّہُ شافعٌ وَمُشْفِعٌ تاٴویلٌ وَمُصَدَّقٌ وَاَنہ من شَفَعَ لَہُ القُرآنُ یَوم القِیٰمَةِ شُفعَ فیہِ وَمَن مَحَلَ بِہِ القُرآنَ یَومَ القِیٰمَةِ صَدَّق علیہِ فَانَّہُ ینادی مُنادٍ یَومَ القیٰمَة : الا انَّ کُلَّ حارِثٍ مُبتَلیٍ فی حَرثہٍ وَاتباعِہِ وَاستَدلُوہُ عَلیٰ رَبّکُم وَاستَنصَحُوہُ عَلیٰ انفُسکُم واتھمُوا عَلَیہِ آرائکم واستغشُوا فیہِ اھوائکُم “ (۱)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ نہج البلاغہ، خطبہ ۱۷۶۔
نہج البلاغہ میں حضر ت امیر المومنین علی ابن ابی طالب - کے مبارک خطبہ کا ایک حصہ ہے کہ جس میں لوگوں کو مواعظ بلیغہ کے ساتھ قرآن کریم کے فضائل کا تذکرہ فرمایا ہے:
اے لوگو! پروردگار کے بیان سے فائدہ اٹھاؤ اور اس کے مواعظ سے نصیحت حاصل کرو۔ پھر فرماتے ہیں: قرآن وہ ناصح ہے جو دھوکہ نہیں دیتا ہے جیسا کہ ہر صحیح ناصح کی شان یہی ہوا کرتی ہے اور وہ ہادی ہے جو گمراہ نہیں کرتا ہے وہ بیان کرنے والا ہے جو غلط بیانی سے کام لینے والا نہیں ہے قصوں، حدیثوں اور اپنی خبروں میں کوئی شخص اس کے پاس نہیں بیٹھتا ہے مگر یہ کہ جب اٹھتا ہے تو ہدایت میں اضافہ کرلیتا ہے یا کم سے کم گمراہی میں کمی کرلیتا ہے کیوں کہ اس میں آیات بینات اور براہین و اضحات اس حد تک موجود ہیں کہ مستبصرین کی بصیرت میں اضافہ اور جاہلین کی جہالت ختم کردیتا ہے۔ یاد رکھو! قرآن کے بعد کوئی کسی کا محتاج نہیں ہوسکتا ہے اور قرآن سے پہلے کوئی بے نیاز نہیں ہوسکتا ہے۔
یعنی جو شخص قرآن کو پڑھے اور اس کے معانی و مطالب میں تدبر کرے اور اس کے احکام پر عمل کرے اس کی تمام تھیوری اور پریکٹیکل حکمت کو سمجھے تو دوسری چیز کا محتاج نہیں ہوگا اور اگر ایسا نہ ہو تو تمام شے کا محتاج ہوجائے گا بلکہ احوج المحتاجین اور محتاجوں میں سب سے زیادہ محتاج ہوگا۔
اپنی بیماریوں میں اس سے شفا حاصل کرو اور اپنی مصیبتوں میں اس سے مدد مانگو کہ اس میں بدترین بیماری کفر ونفاق اور گمراہی و بے راہ روی کا علاج بھی موجود ہے اس کے ذریعہ اللہ سے سوال کرو اور اس سے محبت کے وسیلہ سے اس کی طرف رخ کرو اور اس کے ذریعے مخلوقات سے سوال نہ کرو۔ اس لیے کہ مالک کی طرف متوجہ ہونے کا اس کے جیسا کوئی وسیلہ نہیں ہے اور یاد رکھو کہ وہ ایسا شفیع ہے جس کی شفاعت مقبول ہے اور ایسا بولنے والا ہے جس کی بات مصدقہ ہے۔ جس کے لیے قرآن روز قیامت سفارش کردے اس کے حق میں شفاعت قبول ہے اور جس کے عیب کو وہ بیان کردے اس کا عیب تصدیق شدہ ہے۔ روز قیامت ایک منادی آواز دے گا کہ ہر کھیتی کرنے والا اپنی کھیتی اور اپنے عمل کے انجام میں مبتلا ہے لیکن جو اپنے دل میں قرآن کا بیج بونے والے تھے وہ کامیاب ہیں لہٰذا تم لوگ انہیں لوگوں اور قرآن کی پیروی کرنے والوں میں شامل ہوجاؤ۔ اسے مالک کی بارگاہ میں رہنما بناؤ اور اس سے اپنے نفس کے بارے میں نصیحت حاصل کرو اور اپنے خیالات کو متہم قرار دو اور اپنی خواہشات کو فریب خوردہ تصور کرو۔
۵۷۰۔ ”وفی الکافی باسنادہ عن طلحة بن زید عن ابی عبدا للہ علیہ السلام قالَ انَّی ھذا القُرآن فیہِ مَنارُ الھُدیٰ ومَصابیحُ الدُّجیٰ فَیلجلُ جالٍ بَصَرَہُ ویفتَح لِلضِّیاءِ نَظَرَہُ فاَنَّ التَفَکَّرُ حَیاةُ قَلبِ البَصیرِ کَما یمشی المُستَنیرُ فی الظلْمات بالنّورِ “ (۱)
کافی میں بطور مسند طلحہ ابن زید سے منقول ہے کہ امام جعفر صادق - نے فرمایا: اس قرآن میں ہدایت کے منارے ہیں تاریکی کے لیے چراغ ہیں لہٰذا اس سے آنکھوں میں روشنی حاصل کرے اور اس کی ضیاء حاصل کرنے کے لیے اپنی نظر کو کھولے کیوں کہ تفکر قلب بصیر کے لیے مایہٴ زندگی ہے جس سے کوئی شخص ظلمتوں میں روشنی کے ذریعہ چلتا ہے۔
۵۷۱۔ ” وفیہ باسنادہ عن سماعة بن مھران عن الصادق علیہ السلام قالَ انَّ العَزیزُ الجبارُ انزَلَ علیکُم کِتابہُ وَھوَ الصّادِ قُ البارُّ فیہِ خَبَرکُم وَخَبَر مِن قَبْلُکُم وخَبرُ مَن بَعدکُم وَخَبَرَ السَّمآءِ وَالاَرضِ وَلَو اتاکُم مَن یخبُرکُم لِذٰلِکَ تَعجَبتُم “ (۲)
اسی کتاب میں بطور مسند سماعہ ابن مہران سے منقول ہے کہ امام جعفر صادق - نے فرمایا: خدائے عزیز وجبار نے تم پر اپنی کتاب نازل کی اور وہ سچا اور خیر پسند ہے اور اس میں تمہارے متعلق بھی خبر دی گئی ہے اور تم سے پہلے گزشتہ افراد کے متعلق بھی اور تم سے بعد والوں کے متعلق بھی اس آسمان و زمین کی بھی خبر موجود ہے۔ اگر کوئی شخص تمہارے پاس یہ خبریں بیان کرتا تو کیا تم تعجب نہ کرتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ کافی باب فضل القرآن، ج۲، ص ۶۰۰، حدیث ۵۔
(۲)۔ کافی باب فضل القرآن، ج۲، ص ۵۹۹، حدیث ۳۔
۵۷۲۔ ”وفی الکافی باسنادہ عن معاویة بن عمّار قالَ قالَ ابُو عَبدِ اللّٰہِ علیہ السلام مَن قَرَءَ القُرآنَ فَھُوَ غَنّیٌ وَلا فَقَر بَعدَہُ وَالاَّ ما بِہِ غَنِیٌّ “ (۱)
کافی میں بطور مسند معاویہ ابن عمار سے منقول ہے کہ حضرت امام جعفر صادق - نے فرمایا: جو شخص قرائتِ قرآن کے علم سے سرفراز ہوگا تو وہ غنی اور بے نیاز ہے اور س کے بعد کوئی بھی فقر و فاقے کا وجود نہ ہوگا اور اگر نہ پڑھ سکے یعنی قرائتِ قرآن کا علم نہ رکھتا ہو اگرچہ تمام مادیات اور اسبابِ زندگی فراہم ہوں تو بھی فقیر ہے۔
شارح بحرانی کہتے ہیں: یعنی قرآن کے نزول کے بعد لوگوں کے لیے اس کے واضح بیانات کی بنا پر کسی ایسے حکم کے بیان کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے جو ان کی اصلاح معاش و معاد کرے اور نہ ہی اس کے نازل ہونے سے پہلے اپنے جاہل نفوس پر غنی و بے نیاز تھا اور نہ ہے۔ لہٰذا تمام اپنی ظاہری، باطنی، روحانی اور جسمانی دردوں کا اس سے معالجہ کیا جائے کیوں کہ اس میں تمام دردوں کی شفا موجود ہے۔ خدائے تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: <وَنُنَزِّلُ مِنْ الْقُرْآنِ مَا ہُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِینَ > (۲) اور ہم قرآن میں وہ سب کچھ نازل کر رہے ہیں جو صاحبان ایمان کے لیے شفا اور رحمت ہے۔
۵۷۳۔ ”وفی الکافی باسنادہ عن السکونی عن ابی عبد اللّٰہ علیہ السلام عن آبائہ علیہم السلام قالَ شَکی رَجُلٌ الَی النَّبی (ص) وَجَعاً فی صدرِہِ فَقالَ (ص) اِستَشفِ بالقْرآنِ فَانَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُولُ وَشِفآءُ لِما فی الصّدُورِ “ (۳)
کافی میں بطور مسند سکونی سے منقول ہے کہ : حضرت امام جعفر صادق - نے اپنے آبائے کرام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ کافی باب فضل القرآن، ج۲، ص ۶۰۵، حدیث ۸۔
(۳)۔ سورئہ اسراء، آیت ۸۲۔
(۴)۔ کافی، ج۳، ص ۶۰۰، حدیث ۷۔
سے روایت کی ہے کہ: ایک شخص نے رسول خدا (ص) سے سینہ کے درد کی شکایت کی تو فرمایا: قرآن کے ذریعہ شفا حاصل کرو خدائے بزرگ و برتر فرماتا ہے: قرآن سینوں کے ہر قسم کے درد میں شفا ہے۔ زمانے کی گرفتاریوں اور بلاؤں اور شدید مصیبتوں میں اس سے مدد طلب کرو کیوں کہ بڑے دردوں یعنی کفر و نفاق اور تباہی و گمراہی کا علاج قرآن کریم میں موجود ہے۔
۵۷۴۔ ” وفی الکافی باسنادہ عن احمد المنقری قالَ سَمِعت اَبا اِبراہیم علیہ السلام یَقُولُ مَن استکفی بآیةٍ مِنَ القُرآنِ مِنَ المَشرِقِ اِلیٰ المَغرِبِ کَفیٰ اذا کانَ بیَقین “ (۱)
کافی میں بطور مسند احمد منقری سے منقول ہے ان کا بیان ہے کہ: میں نے حضرت موسیٰ ابن جعفر - کو کہتے ہوئے سنا: جو شخص قرآن کی ایک آیت کے ذریعے یقین اور صدق نیت کے ساتھ کفایت طلب کرے تو قرآن اس کے مشرق و مغرب تک تمام مہمات میں کفایت کرے گا۔
۵۷۵۔ ”وفیہ عن الاصبغ بن نباتہ عَن اَمیرِ المُوٴمنینَ علیہ السلام قالَ وَالَّذی بَعَثَ محمَّداً (ص) بِالحَقِّ وَاکرَمَ اھلَ بَیتِہ ما مِن شَیءٍ تَطلُبُونَہُ مِن حِرزٍ مِن عَرقٍ او غَرقٍ او سَرَقٍ او آفاتِ دابَةٍ مِنْ صاحِبھا اوضالَّةٍ او آبِقٍ الاَّ وَھُوَ فی القُرآنِ فَمَن ارادَ ذٰلِکَ فَلیَساٴ لنی عَنہُ “ (۲)
اسی کتاب میں اصبغ ابن نباتہ ناقل ہیں کہ حضرت امیر المومنین - نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی! جس نے محمد مصطفی (ص) کو حق کے ساتھ بھیجا اور ان کے اہل بیت کو صاحب عزت و اکرام بنایا، اگر کوئی شخص جلنے سے ڈوبنے سے چوری یا چوپایہ کا اپنے مالک کے یہاں سے بھاگ جانے سے یا انسان یا چوپایہ کے گم ہوجانے سے یا غلام کے فرار وغیرہ کرنے سے پناہ طلب کرے ان سب کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ کافی، ج۳، ص ۶۲۳، حدیث ۱۸۔
(۲)۔ کافی، ج۳، ص ۶۲۵، حدیث ۲۱۔
(علاج)ذکر قرآن میں موجود ہے ان امور میں سے جو معلوم کرنا چاہے مجھ سے معلوم کرلے۔ حدیث کے آخر تک۔
مولف کہتے ہیں: اگر انسان ان روایات میں غور و فکر کرے جو قرآنی آیات اور سوروں کے خواص کے متعلق معادن وحی و تنزیل سے صادر ہوئی ہیں تو یہ مشاہدہ کرے گا کہ وہ لافانی خزانے ہیں ایک فنا ناپذیر دریا ہے اس میں تمام ہمّ و غم سے نجات کے اسباب موجود ہیں اور ہر قسم کی ناراحتی سے پناہ اور جائے امن ہے ہر درد سے سلامتی ہے تمام شدائد سے خلاصی اور راہِ نجات ہے ہر عظیم مصیبت کا چارہٴ کار موجود ہے معیشت کی تنگی سے کشائش ہے اور زندگی میں وسعت پیدا کرنے کی راہیں ہیں اس کے علاوہ اور بھی لا تعداد و بے شمار مشکلات کا راہ حل موجود ہے۔
خلاصہٴ کلام یہ ہے کہ کوئی شے مختلف دردوں ، بلاؤں اور گرفتاریوں میں مدد اور حاصل کرنے کے لیے قرآن سے افضل نہیں ہے۔
کیوں کہ بڑے دردوں یعنی کفر و نفاق اور تباہی و گمراہی کا علاج قرآن میں موجود ہے۔
۵۷۶۔ ” وفی الکافی : ابو علی الاشعری عن بعض اصحابہ عن الخشاب رفعہ قالَ قالَ ابُو عَبدِ اللّٰہ علیہ السلام لا وَاللّٰہِ لا یرجِعُ الامرُ والخِلافَةُ الیٰ آل اَبی بَکرٍ وَعُمَرَ ابَداً وَلا اِلیٰ بَنی امَیَّةَ اَبداً وَلا فی وَلا طلحَة َوَالزُّبیرِ اَبداً وَذلِکَ انَّھُم نَبَذُوا القُرآن واطلبُوا السنَنَ وَعَطّلُوا الاحکامَ ، وَقالُ رَسُولُ اللّٰہِ (ص) القُرآنُ ھُدیً مِنَ الضَلالةِ وَتبیانٌ مِنَ العَمی واستِقالَةٌ مِنَ العَثرَة ونُورٌ مَن الظُلمةِ وَضیآءٌ مِنَ الاحداثِ وَعِصمةٌ مِن الھلکَةِ وَرُشدٌ مِنَ الغوایة وَبیانٌ مِن الفِتَنِ وَبلاغ مِنَ الدُّنیا اِلَی الآخِرَةِ وَفیہِ کَمالُ دینکُم وَما عَدَلَ اَحَدٌ عَنِ القُرآنِ الاَّ اِلَی النّارِ “ (۱)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ کافی، ج۲، ص ۶۰۰، حدیث ۸۔
کافی میں ابو علی اشعری سے انہوں نے اپنے بعض اصحاب سے انہوں نے خشاب سے مرفوعاً روایت نقل کی ہے کہ: حضرت امام جعفر صادق - نے فرمایا: خدا کی قسم! امر امامت و خلافت ہرگز اولاد ابوبکر و عمر کی طرف واپس نہیں ہوگا اور نہ یہ کبھی بنی امیہ کی طرف اور نہ ہی کبھی طلحہ و زبیر کی اولاد کی طرف جائے گا اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے کتاب خدا کو پس پشت ڈال دیا اور سنتوں کو باطل قرار دیا اور احکام کو معطل بنادیا۔
رسول خدا (ص) نے فرمایا ہے کہ: قرآن ضلالت سے بچانے والا ہے اندھے پن کو امور شرع میں بیان کرنے والا ہے غلط کاریوں سے نجات ہے ظلمت کفر میں نور ہے اور احداث و بدعت میں حق کی روشنی اور ہلاکت سے بچانے والا ہے گمراہی میں باعث ہدایت ہے فتنوں میں حق کا بیان ہے اور دنیا سے آخرت کی طرف پہنچانے والا ہے اس میں تمہارے دین کا کمال موجود ہے جس نے قرآنِ کریم سے روگردانی کی وہ جہنمی ہے۔
۵۷۷۔ ”وفیہ باسنادہ عن الزُہَری قالَ قُلتُ لِعَلِی بن الحُسَین علیہ السلام اَی الاَعمالِ افضَل قالَ ․ الحالُّ المُرتحِل قُلتُ وَمَا الحالُ المرتَحِلُ ؟ قالَ فَتَحَ القُرآنَ وَخَتَمہُ کُلما جاءَ باولِہِ ارتَحَلَ فی آخِرِہِ وَقالَ قالَ رَسُولُ اللّٰہ مَن اعطءُ اللّٰہ القرآنَ فَراٴَی انَّ رَجُلاً اعطیَ افضَلَ ممّا اُعطی فَقَد صَغَّرَ عَظیماً وَعَظَّم صَغیراً “ (۱)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ گزشتہ حوالہ، ص ۶۰۵، ” ای عَمَلُہُ فی النہایة فی اَنَّہ سئلَ ای الاعمالِ افضَل فَقالَ الحالُ المر تحِلَ قیل وَما ذلِکَ قالَ الخاتِمُ المُفتِحُ ھُو الَّذی یختِمُ القْرآنَ بِتِلاوتِہِ ثُمَّ یَفتَحُ التلاوَةَ مِن اوَّلِہِ شَبَّھَہُ بِالمُسافِرِ یَبلَغ المَنزِل فیحلُّ فیہِ ثُمَّ یَفْتَتِحُ السیر ای یبتدئہُ وَکذلِکَ قرائَةُ اَھلِ مَکَّة اِذا ختمُوا القُرآنَ بِالتِلاوةِ ابدوٴا وَقَراٴ وَالفاتِحَةَ وَخَمس آیاتٍ مِن اوَّل سُورَةِ البَقَرة الیٰ قولہ ھُمُ المُفْلِحُونَ ثُمَّ یقطعُونَ القرائَةَ وَیسمّونَ فاعِلُ ذلِکَ الحالُّ المُرتحِلُ ای انَّہُ خَتَمَ القُرآنَ وابتدئَہُ بِاوَلِہِ وَلَم یَفصِل بینھما بزمانٍ آت․“
یعنی اس کے عمل کو۔ اور النھایة میں مذکور ہے کہ زہری نے دریافت کیا کہ کون سا عمل افضل ہے فرمایا: حال و مرتحل دریافت کیا گیا: اس سے کیا مراد ہے، فرمایا: (قرآن) ختم کرنے والا وہی اسے کھولنے والا ہے جو قرآن کو اپنی تلاوت کے ذریعہ ختم کرتا ہے پھر<<<
اسی کتاب میں بطور مسند زہری سے منقول ہے کہ ان کا بیان ہے: میں نے حضرت علی ابن الحسین علیہما السلام سے عرض کیا: کون سا عمل افضل ہے؟ فرمایا: اس شخص کا عمل جو نازل ہو اور کوچ کرے، میں نے عرض کیا وہ کیا ہے اس سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: قرآن کو کھول کر اسے پڑھنا شروع کرے اور آخر تک پہنچائے اور جس زمانے میں اس کا اول آجائے تو اس کے آخر تک کوچ کرے اور فرمایا کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا: جس شخص کو اللہ نے قرآن عطا کیا ہو اور وہ یہ خیال کرے کہ دوسرے شخص کو اس سے افضل شے عطا ہوئی ہے جو اسے عنایت کی گئی ہے تو یقینا اس نے عظیم شے کو حقیر اور حقیر شے کو عظیم شمار کیا ہے۔
۵۷۸۔ ” وفیہ فی ذیل حدیث عمر وبن جمیع عن الصادق علیہ السلام وَمَن اٴوتیَ القُرآنُ فَظَنَّ اَنَّ اَحَداً مِنَ النّاسِ اُوتَی افضَلَ ممّا اُوتیِ فَقَد عَظَّمَ ما حَقَّر اللّٰہُ وَحَقَّرَما عَظَّمَ اللّٰہُ “ (۱)
اسی کتاب میں حدیث عمرو ابن جمیع کے ذیل میں منقول ہے کہ امام صادق - نے فرمایا: جس شخص کو قرآن عطا کیا گیا ہو اور یہ گمان کرے کہ دوسرے شخص کو اس سے افضل شے عطا ہوئی ہے جو اسے بخشی گئی ہے تو اس نے جس شے کو خدا نے حقیر جانا ہے اسے عظیم شمار کیا ہے اور جسے خدا نے عظیم جانا ہے اسے حقیر شمار کیا ہے۔
مذکورہ روایات سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کا علم اور اس کے مطالب کی شناخت خواہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
>>>تلاوت کو اس کے اول سے شروع کرتا ہے ایسے فرد کو مسافر سے شباہت دی گئی ہے جو ایک منزل پر پہنچتا ہے پھر اس جگہ سے کوچ کرتا ہے پھر اپنی سیر کا آغاز کرتا ہے اسی طرح اہل مکہ کی قرائت ہے جب قرآن اپنی تلاوت کے ساتھ ختم کردیتے تھے تو پھر سورئہ فاتحہ سے اپنی قرائت کا آغاز کرتے تھے اور حمد کے ساتھ سورئہ بقرہ کی ابتدائی پانچ آیات ”ھم المفلحون“ تک پڑھتے تھے پھر قرائت ختم کر دیتے تھے اسی عمل کو انجام دینے والے کو حال اور مرتحل کہتے ہیں یعنی جو قرآن ختم کرکے اس کی ابتدا سے آغاز کرے اور ان دونوں کے درمیان کوئی فاصلہٴ زمانی بھی نہ رکھے۔
(۲)۔ کافی، ج۲، ص ۶۰۵، حدیث ۷۔
احکام و قوانین ہو اور دنیا میں معاشرتی زندگی کے دستورات ہوں وہ کتنا با ارزش گوہر ہے کہ خدائے سبحان جس شخص کو عطا فرمائے وہ تمام جہات سے غنی و بے نیاز ہے دنیا و ما فیہا کے تمام خزانے اس کا مقابلہ اور برابری نہیں کر سکتے۔ عین اسی حالت میں اگر کوئی شخص قرآن مجید کے علم سے محروم اور اس کے معانی و مطالب سے بے بہرہ ہو لیکن اس کے اختیار میں تمام دنیا و مافیہا ہو تو وہ فقیر و بے چارہ اور مسکین ہے۔
مولف کہتے ہیں: قرآن کریم اپنی شناخت و معرفت کے علاوہ ہر جہت سے غنی اور بے نیاز ہے اس کے اور تمام دوسرے پہلو آثار و فوائد قابل تعریف و تحسین ہےں۔
فضیلت قرآن، حامل قرآن اس کی تعلیم و تعلم جو زحمت کے ساتھ ہو، اس کا حفظ کرنا، اس کا گھر میں محفوظ رکھنا اس کی قرائت کا ثواب بالخصوص ترتیل اور اچھی آواز کے ساتھ انجام دینا اس کی آیات سے شفا طلب کرنا، اس کی روز قیامت شفاعت وغیرہ بھی قابل ذکر ہیں۔
لہٰذا ہم بطور تبرک ان میں ہر ایک سے ایک روایت اس کتاب کو زینت بخشنے کے عنوان سے نقل کر رہے ہیں:
”فضل قرآن“:
۵۷۹۔ ” فی الکافی باسنادہ عَن اِسحاقِ بن غالِبٍ قالَ قالَ ابُو عَبدِ اللّٰہ علیہ السلام : اِذا جَمَعَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ الاوَّلَیَن وَالاٴخَرینَ اِذا ھم بِشخصٍ قَدْ قَبَلَ لَمْ یُرقَطَّ احسنَ صُورَةً مِنہُ فِاَذا نَظَرَ الیہِ المُوٴمنُونَ وَ ھُوَ القُرآن قالُوا ھذا مِنّا ھذا احسَنُ شَیءٍ راینا فَاذَا انتھی الیھِم جاز ھم ، ثُمَّ ینظُرُ اِلیہِ شھداءُ حَتّیٰ اِذا انَتھی الیٰ آخِرِھِم جازَھُم فَیقُولُونَ ھذا القُرآنُ فیجوزُھُم کُلَّھُم حَتیٰ اِذا انتَھی اِلیَ المُرسَلینَ فیقُولُونَ ھذا القُرآنُ فیجوزُھُم حَتیٰ ینتھَی الیٰ الملائکةِ فیَقُولُونَ ھذا القُرآنُ فیجوزُھُم ثُمَّ یَنتھی حَتّیٰ یَقفُ عَن یَمینِ العَرشِ فیقُولُ الجبّارُ وَعزَّتی وَجَلالی وارتفاعِ مَکانی : لا کرِمَنَّ الیومَ مَن اٴکرمَکَ وَلاُ ھِینّنَ مَن اھانَکَ “ (۱)
کافی میں بطور مسند اسحاق ابن غالب سے منقول ہے کہ حضرت امام جعفر صادق - نے فرمایا: روز قیامت جب اولین و آخرین جمع ہوں گے تو ناگہاں ایک نہایت خوبصورت شخص نظر آئے گا ایسا حسین کہ اس سے بہتر دیکھا ہی نہیں گیا جب مومن لوگ اس شخص کو جو درحقیقت قرآن ہوگا دیکھیں گے تو کہیں گے یہ ہم میں سے ہے جب ان سے آگے بڑھے گا تو شہداء اس کو دیکھیں گے جب وہ ان کے آخر میں پہنچے گا تو وہ کہیں گے: یہ قرآن ہے وہ ان سب سے گزرتا ہوا مرسلین تک پہنچے گا وہ کہیں گے یہ قرآن ہے پھر وہ ان سے گزرتا ہوا ملائکہ کی طرف آئے گا وہ کہیں گے: یہ قرآن ہے یہاں سے چل کر وہ عرش کے داہنی طرف کھڑا ہوگا تو خدا فرمائے گا: قسم ہے مجھے اپنے عزت و جلال کی اور ارتفاع مکان کی! میں آج اس کی عزت کروں گا جس نے تیری عزت کی اور اس کی توہین کروں گا جس نے تیری توہین کی ہے۔
”فضیلت حامل قرآن“ :
۵۸۰۔ ”وفیہ باسنادہ عن السّکونی عَن ابی عَبدِ اللّٰہ علیہ السلام قالَ قالَ رَسُولَ اللّٰہ (ص) اِنَّ اھلَ القُرآنِ فی علیٰ دَرَجَةٍ مِنَ الاٴدَمینَ ملا خلا النّبیینَ والمُرسَلینَ فَلا تستَضعِفُوا اھلَ القُرآنِ حُقوقَھُم فَانھم مِنَ اللّٰہِ العَزیز الجبّارُ لِمکاناً عَلیّاً “ (۲)
اسی کتاب میں بطور مسند سکونی سے منقول ہے کہ حضرت امام جعفر صادق - نے فرمایا: یقینا اہل قرآن، سوائے انبیاء و مرسلین کے انسانوں میں سے بلند ترین درجے پر فائز ہیں لہٰذا اہل قرآن کے حقوق کو کمزور مت شمار کرو کیوں کہ ان کے لیے خدائے عزیز وجبار کی طرف سے بلند مقام ہے۔
۵۸۱۔ ”وفیہ باسنادہ عن الفضیل بن یسار عَن ابی عَبدِ اللّٰہ علیہ السلام قالَ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ کافی، ج۲، ص ۶۰۳، حدیث ۱۴۔
(۲)۔ کافی، ج۲، ص ۶۰۳، حدیث ۱۔
الحافِظُ لِلقُرآنِ العامِل بِہِ مَعَ السَّفَرَةِ الکِرامِ البَرَرَةِ “ (۱)
اسی کتاب میں بطور مسند فضیل ابن یسار سے منقول ہے کہ حضرت امام جعفر صادق - نے فرمایا: وہ حافظ قرآن جو اس پر عمل کرنے والا بھی ہو خدا کے صاحب کرامت اور نیکو کار پیغمبروں کے ساتھ ہوگا۔
۵۸۲۔ ”وفیہ باسنادہ عن السَّکونی عَن ابی عَبد اللّٰہ علیہ السلام قالَ قالَ رَسُولُ للہ (ص) حَمَلَةُ القُرآنِ عَرفاء اہلِ الجَنَّةِ وَالمجتھدُونَ قوّادُ اھلِ الجَنَّةِ والرُّسُلُ سادَةُ اھل الجَنةِ “ (۲)
اسی کتاب میں بطور مسند سکونی سے منقول ہے کہ حضرت امام جعفر صادق - نے فرمایا کہ رسول خدا نے فرمایا: قرآن کے حاملین (پڑھنے والے) اہل جنت کے عارفین ہوں گے اور مجتہدین اہل جنت کے پیش رو اور مرسلین اہل جنت کے سید و سردار ہیں۔
قرآن کریم کی تعلیم و تعلّم
۵۸۳۔ ” فی الکافی باسنادہ عن سُلیمِ الفَراء عَن رَجُلٍ عَن ابی عَبدِ اللّٰہ علیہ السلام قالَ ینبغَی لِلموٴمِنِ ان لایَمُوتَ حَتّیٰ تَتَعَلَّم القُرآنَ او یَکُونَ فی تعلیمِہِ “ (۳)
کافی میں کلینی علیہ الرحمہ اپنی سند کے ساتھ سلیم الفراء سے وہ ایک شخص سے وہ امام جعفر صادق - سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت - نے فرمایا: مومن کے لیے سزا وار ہے کہ مرنے سے پہلے قرآن پڑھنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ کافی، ج۲، ص ۶۰۳، حدیث ۲۔
(۲)۔ کافی، ج۲، ص ۶۰۶، حدیث ۱۱۔
(۳)۔ کافی، ج۲، ص ۶۰۸، حدیث ۲۔
سیکھے یا سکھائے۔
۵۸۴۔ ” وفیہ باسنادہ عَنِ الفضیل بن یَسارٍ عَن ابی عَبدِ اللّٰہ علیہ السلام قالَ سَمِعتُہُ یَقُولُ اِنَّ الَّذی یُعالِجُ القرآن یحفَظُہُ بِمشَقَّةٍ مِنْہُ وَقِلَّةِ حِفظٍ لَہُ اٴجرانِ “ (۱)
اسی کتاب میں بطور مسند فضیل ابن یسار سے منقول ہے کہ ان کا بیان ہے کہ: میں نے امام جعفر صادق - کو یہ کہتے ہوئے سنا: جو شخص قرآن پڑھنے کی مشق جاری رکھتا ہے اور حفظ کرنے کی مشقت برداشت کرکے مختصر سا بھی حفظ کرلیتا ہے تو پیش خدا اس کے لیے دہرا اجر ہے۔ ایک حفظ کرنے کا اور دوسرا مشقت برداشت کرنے کا۔
فضیلت قرائت قرآن کریم
۵۸۵۔ ”وفیہ باسنادہ عَن حَریزٍ عَن ابی عَبدِاللّٰہ علیہ السلام قالَ القُرآنُ عَھد اللّٰہِ اِلیٰ خَلقِہِ فَقَد ینبغَی لِلمرء المُسلمِ ان یَنظُرَ فی عَھدِہ وَاَن یقَرءَ مِنہُ فی کُلّ یومٍ خَمسینَ آیةً “ (۲)
اسی کتاب میں بطور مسند حریز سے منقول ہے کہ امام جعفر صادق - نے فرمایا: قرآن خداوند تبارک و تعالیٰ کا ایک عہد ہے اس کی مخلوق کے لیے لہٰذا مسلمان شخص کو چاہیے کہ خدا کے معاہدے پر نظر رکھے اور روزانہ پچاس آیتیں پڑھے۔
۵۸۶۔ ” وفیہ باسنادہ عن الزہَری قالَ سَمِعتُ عَلی بنَ الحُسَینِ علیہ السلام یَقُولُ آیاتُ القُرآنِ خَزائِنُ فکُلَّما فُتِحت خَزانَةٌ یَنبَغی لَکَ اَن تَنظُرَ ما فیھا “ (۳)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ کافی، ج۲، ص ۶۰۶، حدیث ۱۔
(۲)۔ کافی، ج۲، ص ۶۰۹، حدیث ۱۔
(۳)۔ کافی، ج۲، ص ۶۰۸، حدیث ۲۔
اسی کتاب میں بطور مسند زہری سے منقول ہے کہ ان کا بیان ہے: میں نے حضرت علی ابن الحسین - کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قرآنی آیات خزانے ہیں لہٰذا جب ایک خزانہ کھولو تو یہ بھی تو دیکھو کہ اس میں کیا ہے۔
”وہ گھر جن میں قرآن پڑھا جاتا ہے“
۵۸۷۔ ”وفی الکافی باسنادہ عن ابی القداح عن ابی عبد اللّٰہ علیہ السلام قالَ قالَ امیرُ المُوٴمنینَ علیہ السلام البَیتُ الَّذی یُقرَاٴُء فیہِ القُرآنُ وَیُذکَرُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ فیہِ تکَثُّر بَرَکَتَہُ وَتحضَرَہُ الملائِکةُ وَتَھجُرہُ الشیَّاطینُ ویُضیء لاھَلِ السَّمآءِ کَما یُضِیءُ الکواکِبُ لاِھْل الاٴرضِ وَانَّ البیتَ الَّذی لا یُقراٴَ فیہِ القُرآنُ وَلا یُذکَر اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فیہِ یَقتلُ بَرکَتَہُ وَتَجھرُہُ الملائِکةُ وَتحضُرُہُ الشَّیاطینُ “ (۱)
کافی میں بطور مسند ابن قداح سے منقول ہے کہ امام جعفر صادق - نے فرمایا: حضرت امیر المومنین - نے فرمایا: جس گھر میں قرآن پڑھا جائے گا اور ذکر خدا کیا جائے گا تو اس میں برکت زندہ ہوگی اور ملائکہ موجود ہوں گے اور شیاطین دور ہوں گے اور وہ گھر اہل آسمان کے لیے اس طرح چمکے گا جیسے اہل زمین کے لیے ستارے چمکتے ہیں اور جس گھر میں قرآن نہ پڑھا جائے گا اس کی برکت کم ہوجائے گی ملائکہ اس گھر کو چھوڑ دیں گے اور شیاطین داخل ہوجائیں گے۔
۵۸۸۔ ”وفی ثواب الاعمال باسنادہ عَن حَمّادِ بن عیسیٰ عَن جَعفَرِ بن محمَّدٍ عَن اَبیہِ علیھم السلام قالَ انَّہُ لیعجبُنی ان یَکُونَ فی البَیتِ مَصحَفٌ یَطَّرِدُ اللّٰہُ بِہِ الشیطانَ “ (۲)
شیخ صدوق نے ثواب الاعمال میں بطور مسند حماد ابن عیسی سے انہوں نے امام جعفر صادق - سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ کافی، ج۲، ص ۶۱۰، حدیث ۳۔
(۲)۔ کافی، ج۱، ص ۶۱۳۔ ثواب الاعمال، ص ۱۰۳۔
نقل کیا ہے کہ حضرت - نے فرمایا: میں اس بات پر خوش ہوتا ہوں کہ گھر میں قرآن ہو اللہ اس کے ذریعے شیطان کو دور کرے۔
۵۸۹۔ ” وفی الکافی باسنادہ عن لَیثِ بن ابی سُلَیمٍ رَفَعَہُ قالَ قالَ النَّبی (ص) نَوِّروا بُیوتُکم بِتِلاوةِ القُرآنِ وَلا تتَّخِذُوھا قُبُوراً کَما فَعَلَتِ الیھُودُ وَالنَصاریٰ صَلَّوا فی الکَنائس وَالبیعِ وعَطلَوا بیُوتھُم فَانَّ البیت اِذا کَثُر فیہِ تِلاوَةُ القُرآنِ کَثَرَ خیرُہُ واتسَعَ اھلُہُ وضاءَ لاٴَھلِ السَّمآءِ کَما تُضیْ نُجُوم السَّمآءِ لاِھل الدّنیا“ (۱)
کافی میں لیث ابن سلیم سے مرفوعاً یہ روایت نقل ہوئی ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: اپنے گھروں کو تلاوت قرآن سے روشن و منور کرو اور یہود و نصاریٰ کی طرح ان کی قبریں نہ بناؤ کہ وہ کلیساؤں اور دیروں میں عبادت کرتے تھے اور اپنے گھروں کو خالی چھوڑ دیا تھا۔ وہ گھر جس میں زیادہ تلاوت ہو تو اس کی نیکی زیادہ ہوگی اور اہل و عیال میں وسعت رزق حاصل ہوگی اور وہ اہل آسمان کے لیے اسی طرح روشنی دے گا جیسے اہل دنیا کے لیے ستارے روشنی دیتے ہیں۔
”قرآن کو ترتیل اور خوش الحانی سے پڑھنا“
۵۹۰۔ ” وفی الکافی باسنادہ عن عبد اللّٰہ بن سلیمان قالَ ساٴَلتُ اَبا عَبدِ اللّٰہِ علیہ السلام عَن قول اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ<وَرتِّل القُرآنَ تَرتیلاً > قالَ قالَ امیرُ الموٴمنینَ علیہ السلام بَیتہُ تِبیاناً وَلا تَھذُّہُ ھَذَّا الشِّعرِ وَلا تنثرُہ نَثر الرَّمِل وَلکِن افْزَعُوا قُلُوبَکُمُ القاسِیَة وَلایَکُن ھَمٌ احَدُکُم آخِرَ السُّورَةِ ( فی روایة حِفظُ الوُقُوفِ وَاداءِ الحرُوف “ (۲)
کافی میں بطور مسند عبد اللہ ابن سلیمان سے منقول ہے کہ ان کا بیان ہے: میں نے اس آیت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ کافی، ج۲، ص ۶۱۰، حدیث ۱۔
(۲)۔ کافی، ج۲، ص ۶۱۴، حدیث ۱۔
<ورتل القرآن ترتیلا> (قرآن کو ترتیل سے پڑھو) کے متعلق دریافت کیا توفرمایا کہ امیر المومنین - نے فرمایا: الفاظ کو واضح طریقہ سے ادا کرو اور شاعروں کی طرح برعایت وزن او ر لفظی آرائش کے لیے جلدی نہ کرو۔ بلکہ اس طرح پڑھو کہ تمہارے سخت دل نرم ہوجائیں اور اس طرح نہ پڑھو کہ سننے والے یہ چاہنے لگیں کہ تمہارا پڑھنا کب ختم ہو۔ (بلکہ اپنی ہمت کو اس امر میں مصروف رکھو کہ اس کی آیات سمجھنے میں تدبر و تامل کرو اور اس پر عمل کرنے میں بھی نہ یہ کہ سورہ کو آخر تک پہنچاؤ)۔ دوسری روایت میں وارد ہوا ہے کہ ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا مقصد یہ ہے کہ وقف کی جگہوں کو محفوظ کرنا اور حروف کو بہتر ادا کرنا ہے۔
۵۹۱۔ امام جعفر صادق - نے فرمایا: قرآن لوگوں کے نفوس میں رنج و اندوہ اور تاٴثر کے لیے نازل ہوا ہے لہٰذا قرآن کو محزون اور دل گداز لہجے میں پڑھو۔
۵۹۲۔ ”وفی الکافی وجامع الاخبار بسندہ عن عَبدِ اللّٰہ بن سِنانٍ عَن ابی عَبدِ اللّٰہ علیہ السلام قالَ قالَ رَسُولَ اللّٰہَ (ص) اِقروُوٴا القْرآنَ بِالحانِ العَرَبِ واَصواتِھا وَایّاکُم وَلُحُونِ اَھْلِ الفِسقِ وَاَھْلِ الکَبائِرِ فَانَّہُ سیجی ء مِن بَعدی اقوامٌ یْرجِّعُونَ القُرآنَ تَرجیعَ الغِناءِ وَالنَّوحِ وَالرھّبانیَّةِ لا یجُوزُ تَراقیھُم قَلُوبُھُم مقلوبةٌ وقُلُوبَ مَن تعجبُہُ شَاٴنُھُم “ (۱)
کافی اور جامع الاخبار میں بطور مسند عبد اللہ ابن سنان سے منقول ہے کہ امام جعفر صادق - نے فرمایا کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا: قرآن کو عرب کے لہجہ اور ان کی آواز میں پڑھو اور اپنے کو بدکاروں اور گناہگاروں کے لہجے سے بچاؤ یعنی گویوں، غزل سراؤں وغیرہ کے لہجوں سے، میرے بعد کچھ لوگ ایسے آئیں گے کہ قرآن کو راگ کی طرح آواز کے الٹ پھیر کے ساتھ پڑھیں گے یا نوحہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ کافی، ج۲، ص ۶۱۴، حدیث ۳۔
خوانوں کی طرح یا ترک دنیا والوں کے غم گین لہجہ میں اور ان کا یہ پڑھنا بارگاہ الٰہی میں مقبول نہیں، ان کے دل الٹ چکے ہیں اور ان لوگوں کے دل بھی جن کو یہ ممنوع قراٴت پسند ہے۔
۵۹۳۔ ”وفیہ باسنادہ عن الحسن بن راشد عن جدہ عن ابی عبداللہ علیہ السلام قالَ قَرائَةُ القُرآن فی المُصحَفِ تخُفّفُ العَذابَ عَنِ الوالدَینِ وَلَو کانا کافِرَینِ “ (۱)
اسی کتاب میں بطور مسند حسن ابن راشد سے انہوں نے اپنے جد سے انہوں نے امام جعفر صادق سے روایت کی ہے کہ حضرت نے فرمایا: قرآن کو دیکھ کر اس کی تلاوت کرنا والدین سے عذاب کو سبک اور خفیف کرتا ہے اگرچہ دونوں کافر ہی کیوں نہ ہوں۔
”قرآن مجید روز قیامت شفیع ہے“
۵۹۴۔ ” وفی الکافی باسنادہ عَن سَعدِ الخَفَّاف عَن ابی جعفرٍ علیہ السلام قالَ یا سَعد تَعَلَّمُوا القُرآنَ فَانَّ القُرآنَ یاٴتی یَومَ القِیامَةِ فی الحسَنِ صُورةٍ نَظَر الیھا الخَلقُ وَالنّاسِ صُفوتٌ عِشرُونَ وَماٴة الفِ صَفٍ ثَمانُونَ الفِ صَفٍّ امّة محمَّدٍ (ص) وَاربَعُونَ الفَ صَفٍّ مِن سایرِ الاُممِ․
(الی قولہ) ثُمَّ یَجاوِزُ حَتّی یَنتَھی اِلیٰ رَبِّ العِزَّةِ تَبارکَ وَتعالیٰ فَیَخِّر تَحتَ العَرشِ فینادیہِ تَبارَکَ وَتَعالیٰ یا حُجتی فی الاَرضِ وَکَلامِیَ الصّادِقَ الناطِقَ ارفَع رَاٴسَکَ وَسَل تُعط واشَفع تُشَفَّع فیَرفَعُ راٴسَہُ فیقول اللّٰہ تَبارَکَ وَتَعالیٰ کیفَ رَاٴیتَ عِبادی ؟ فیقُولُ یا رَبِّ مِنھُم مَن صاننی وَحافَظَ عَلَیَّ وَلَم یُضَیعِ شَیئاً مِنھُم مِن ضَیعَنی واستخَفَّ بِحقّی وَکَذَّبَ بی وَاَنَا حُجَتکَ عَلیٰ جَمیع خلقکَ فَیقُولُ اللّٰہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ کافی، ج۲، ص ۶۱۳، حدیث ۴۔
تبارکَ وَتعالیٰ وَعزتی وَجَلالی وارتِفاعُ مکَانی لاثیبنّ عَلَیک الیومَ احسنَ الثوابِ وَلاُعاقِبَنَّ عَلَیک الیومَ الیمَ العِقابِ “ (۱)
کافی میں بطور مسند سعد خفاف سے منقول ہے کہ ان کا بیان ہے: حضرت امام محمد باقر - نے فرمایا: اے سعد! قرآن کے معانی و مطالب حاصل کرو کیوں کہ قیامت کے دن قرآن نہایت خوب صورت شکل میں آئے گا لوگ اسے دیکھیں گے لوگوں کی ایک لاکھ بیس ہزار صفیں ہوں گے جن میں اسّی ہزار صفیں تو امت محمد کی ہوں گی اور چالیس ہزار تمام امتوں کی۔ مسلمانوں ، شہدائے بر و بحر انبیاء و مرسلین اور ملائکہ کی صفوں سے گزرتا ہوا اللہ تبارک کی بارگاہ میں پہنچے گا۔ پھر عرش کے نیچے (یہاں تک کہ فرمایا) سجدہ میں جائے گا خدا فرمائے گا: اے روئے زمین پر میری حجّت! اے میرے کلام صادق و باطق اپنا سر اٹھاؤ اور سوال کرو تمہارا سوال پورا ہوگا سفارش کرو قبول ہوگی وہ اپنا سر اٹھائے گا خدا دریافت کرے گا: تو نے میرے بندوں کو کیسا پایا؟ وہ کہے گا: پروردگار کچھ تو ان میں ایسے تھے جنہوں نے میری حفاظت کی اور مجھے حفظ کیا اور کوئی شے ضائع نہیں ہونے دی اور کچھ ایسے ہیں جنہوں نے مجھے ضائع کیا اور میرے حق کو سبک سمجھا مجھے جھٹلایا حالانکہ میں تمام مخلوق پر تیری حجّت تھا تو خدائے تبارک و تعالیٰ فرمائے گا: میں اپنے عزت و جلال اور بلندی مکان کی قسم کھا کر کہتا ہوں: آج تیری حفاظت کرنے والوں کو بہت زیادہ دوں گا اور نہ ماننے والوں اور ناقدری کرنے والوں کو سخت سزا دوں گا۔
یہ چند حدیث نمونہ کے طورپر ذکر ہوئی ہیں ان کے علاوہ بہت سی آیات و روایات موجود ہیں جو تفاسیر وغیرہ میں ثبت و ضبط ہوئی ہیں قارئین محترم مربوطہ منابع کی طرف رجوع کریں۔
کہا گیا تھا کہ قرآن عظیم با ارزش گوہر ہے کہ اس کا رکھنے والا تمام چیزوں سے غنی اور بے نیاز ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ کافی، ج۲، ص ۵۹۶، بحار الانوار، ج۱۳۱۷۔
اس بنا پر جو قرآن کریم اور حجّت خدا حضرت امام زمانہ - کا موازنہ کیا گیا جو اس کتاب کا موضوع اور عنوانِ سخن ہے۔
حضرت بقیة اللہ الاعظم ولی امر صاحب العصر و الزمان - ارواحنا و ارواح المومنین لہ الفداء کا مقدس وجود بھی با ارزش اور گراں قدر گوہر ہے کہ دنیا و مافیہا اپنے تمام خصوصیات کے ساتھ سونا ہوجائے پھر بھی وہ ایک مٹھی خاک کی طرح بے ارزش ہے۔
لہٰذا جو شخص اس قسم کے گراں قیمت گوہر کا حامل ہوگا یعنی حضرت ولی عصر ناموس دہر امام منتظر المہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی امامت و خلافت اور وصایت و ولایت مطلقہ پر قلبی اعتقاد اور خالص ایمان رکھتا ہوگا۔ وہ غنی ترین افراد سے بھی زیادہ غنی ہے اور ہرگز فقر و فاقہ اور بے چارگی خواہ دنیوی ہو یا اخروی اس کے سراغ میں نہیں آئے گی۔
۵۹۵۔ ”وفی الکافی باسنادہ عَن زُرارَة قالَ قُلْتُ لاَبی جَعفَرٍ علیہ السلام اَخبِرنی عَن معرِفَةِ الاٴمامِ مِنکُم واجَبَةٌ عَلیٰ جَمیعِ الخَلقِ ؟ فَقالَ انَّ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ بَعَثَ محمَّداً (ص) وَاتبعَہ وصَدَّقہ فَانَّ مَعرِفَةَ الاٴمامِ مِنّا واجَبةٌ عَلَیہِ وَمَنْ لَمْ یومِن باللّٰہِ وَبرَسُولِہِ وَلَم یتبعہُ وَلَم یُصدَّقہُ وَیَعرِف حَقَّہُ فَکَیفَ یَجِبُ عَلَیہِ مَعرِفة الاِمامِ وَھُوَ لایوٴمِنُ باللّٰہِ وَرَسُولِہِ وَیَعرِفُ حقُھا ؟ قالَ قُلْتُ فَما تَقولُ فیمن یوٴمِنُ بِاللّٰہِ وَرَسُولِہِ وَیُصَدقُ رَسُولِہِ فی جَمیع ما انزَلَ اللّٰہُ یَجبُ عَلیٰ اولئکَ حقُ معرِفَتکُم ؟ قالَ نعم لیس ھولاءِ یَعرِفُونَ فُلاناً فُلاناً ؟ قُلتُ بَلیٰ قالَ اتریٰ ان اللّٰہ ھُوَ الَّذی وَقَعَ فی قلوبِھِم مَعرِفَة ھولاءِ ؟ وَاللّٰہ ما اوقعَ ذلِکَ فی قلوبِھِم اِلاَّ الشَیطانُ لا واللّٰہِ مالَھُمُ الموٴمِنینَ حَقَّنا اِلَّا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ “ (۱)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔کافی، ج۱، ص ۱۸۰، حدیث ۳۔
کافی میں زرارہ سے بطور مسند منقول ہے کہ ان کا بیان ہے: میں نے حضرت امام محمد باقر - سے عرض کیا: مجھے معرفت امام کے متعلق یہ بتائیے کہ کیا وہ تمام مخلوق پر واجب ہے؟ فرمایا: اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفی (ص) کو تمام مخلوق پر تمام لوگوں کی طرف رسول اور اپنی حجّت بناکر بھیجا۔ لہٰذا جو اللہ اور محمد رسول اللہ پر ایمان لایا اور اللہ کی پیروی کی ان کی تصدیق کی تو اس پر ہم میں سے ہر امام کی معرفت واجب ہے اور جو اللہ اور محمد رسول اللہ پر ایمان نہیں لایا اور نہ ہی ان کا اتباع کیا اور نہ ہی رسول (ص) کی اطاعت کی اور نہ ہی ان دونوں کے حق کو پہچانا تو معرفتِ امام ان پر کیسے واجب ہوگی؟ راوی کہتا ہے: میں نے دریافت کیا: آپ اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا اور جو کچھ رسول (ص) پر نازل ہوا ہے اس کی تصدیق کی ہو تو کیا آپ لوگوں کی کما حقہ معرفت ان پر واجب ہے؟ فرمایا: ہاں یہ (اہل سنت) لوگ فلاں فلاں (ابوبکر و عمر) کو پہچانتے ہیں ۔ میں نے کہا: ہاں، تو فرمایا: کیا للہ نے ان کے دلوں میں ان کی معرفت ڈالی ہے اللہ نے تو مومنین کے دلوں میں ہمارے حق کے متعلق الہام کیا ہے۔
مولف کہتے ہیں: (حضرت - کے قول سے استفادہ ہوتا ہے کہ جو شخص خدا اور اس کے رسول پر ایمان لاتا ہے تو اس کے لیے لازم ہے کہ وہ جانشین اور اس کے محافظ و مروّج شریعت اور اس کی امانت کا معتقد ہو۔ جیسا کہ اہل سنت بھی اس قاعدہ کو تسلیم کرتے ہیں۔
۵۹۶۔ ”وفیہ باسنادہ عَن مقَرّنٍ قالَ سَعمتُ اَبا عَبدِ اللّٰہِ علیہ السلام یقُولُ جآءَ ابنُ الکوّاء اِلیٰ امیرِ الموٴمِنینَ علیہ السلام فقالَ یا امیر الموٴمنین <وَعَلَی الاعرافِ رِجالٌ یَعرفُونَ کُلًّابِسیماھُم >؟ فَقالَ نَحْنُ عَلَی الاعرافِ نَعرِفُ انصارَنا بِسیماھُم وَنَحْنُ الاعرافِ الَّذی لا عرَّفُ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اِلاَّ بِسبیلِ مَعرفَتِنا وَنَحْنُ الاٴعرافُ یُعرفُنا اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ یَومُ القِیامَةِ عَلَی الصراط بلا یدخُلُ الجَنَّةَ اِلاَّمَن عَرَفَنا وَعرَفناہ وَلا یدخُلُ النّارَ اِلاَّ مَن اَنْکَرَنا وَانکَرناہُ اِنَّ اللّٰہ تَبارَکَ وَتعالیٰ وشآء لِیَعرِفَ العباد نَفْسَہُ وَلکِن جَعَلَنا ابوابہُ وَصِراطُہُ وَسَبیلہُ والوَجہ الَّذی نوتی مِنہُ فَمَن عَدَلَ عن وِلایتنا اوفَضَّلَ عَلَینا غیرَنا فَاِنھُم عَنِ الصِّراطِ لناکِبُونَ فَلا سَواءٌ مَن اعتَصَم الناسُ بِہ وَلا سوآء حَیثُ ذَھَبَ الناس اِلیٰ عیونٍ کدرةٍ یَفرغُ بعضُھا فی بَعضٍ وَذَھَبَ مَن ذَھَبَ الینا اِلیٰ عیُونٍ صافَیةٍ تجری بامر ربّھا لا نَفادَ لَھا وَلا انقطاعَ “ (۱)
اسی کتاب میں بطور مسند مقرن سے منقول ہے کہ ان کا بیان ہے: میں نے حضرت امام جعفرصادق کو فرماتے ہوئے سنا : ابن کوا حضرت امیر المومنین - کے پاس آیا اور کہنے لگا: یا امیر المومنین -! اس آیت کا کیا مطلب ہے؟ (اعراف پر کچھ لوگ ہوں گے جو سب کو چہرے دیکھ کر پہچانیں گے) فرمایا: اعراف ہم ہیں ہم اپنے انصار کو ان کے چہرے سے پہچانیں گے ہم ہی وہ اعراف ہیں کہ اللہ کی معرفت حاصل نہیں ہوتی مگر ہماری معرفت کی راہ سے اور ہم ہی وہ اعراف ہیں جن کی معرفت اللہ روزِ قیامت صراط پر کرائے گا۔ لہٰذا جنت میں داخل نہ ہوگا مگر وہ شخص جس نے ہمیں پہچانا ہوگا اور جس کو ہم نے پہچانا ہوگا اور جہنم میں داخل نہیں ہوگا مگر وہ شخص جس نے ہمارا اور ہم نے اس کا انکار کیا ہوگا۔ اگر خدائے تبارک و تعالیٰ چاہتا تو اپنے بندوں کی اپنی معرفت خود کرا دیتا لیکن (۲) اس نے ہم کو اپنے دروازے، اپنی صراط اور اپنا راستہ قرار دیا اور وجہ بنایا جس سے اس کی طرف توجہ کی ہے لہٰذا جس نے ہماری ولایت سے عدول کیا اور ہمارے غیر کو ہم پر فضیلت دی تو ایسے لوگ (قیامت میں) صراط سے ڈھکیل دیے جائیں گے اور جو غیروں سے تمسک کریں وہ مکدر (گندے) چشموں سے سیراب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ گزشتہ حوالہ، ص ۱۸۴۔
(۲)۔ لیکن وہ لوگ امام اور خلیفہ کے تعین میں اشتباہ میں پڑگئے۔ امام - نے فرمایا: مگر کیا تمہارا عقیدہ یہ ہے کہ خدا نے فلاں فلاں شخص کی معرفت ان کے دلوں میں ڈالی ہے؟ خدا کی قسم! ان کے دلوں میں سوائے شیطان کے کسی نے نہیں ڈالی ہے اور نہ ہی خدا کے علاوہ ہمارے حق کے متعلق مومنین کے دلوںمیں الہام کرتا ہے یعنی اے زرارہ! یہ بھی جان لو کہ معرفت ایک ربانی گوہر ہے اور ایک توفیق الٰہی ہے جو سوائے سلیم الطبع اور صحیح فطرت والوں کو نصیب ہوتی ہے چنانچہ ناحق ائمہ و خلفاء کی پیروی کرنا ایک ایسا عقیدہ ہے جو شیطانی ہے جو دوسرے افراد باطنی خیانت رکھتے ہیں انہیں اس کی وجہ سے ملتا ہے۔
ہوں گے وہ ان کے کیسے برابر ہوں گے جو ہماری طرف رجوع کریں اور ایسے چشموں سے سیراب ہوں جو امر رب سے جاری ہیں نہ ان کے لیے ختم ہونا ہے اور نہ ہی قطع ہونا۔
جو لوگ کامل اور صحیح اعتقاد کے ساتھ ہماری ولایت کے قائل ہیں اور انہوں نے ہمیں اپنا پیشوا قرار دیا ہے اور وہ ہمارے علوم سے فیض یاب ہوتے ہیں جو علم الٰہی کے نامحدود سمندر کے صاف و شفاف چشمے سے متصل ہے وہ عین واقعیت کا حامل ہے جو کبھی اختتام پذیر اور قطع ہونے والا نہیں ہے برخلاف ان افراد کے کہ جنہوں نے دوسرے ادیان کے ائمہ و خلفاء کے گرویدہ ہوئے ہیں جو کم اور مکدر چشمے کے پانی کی طرح ہیں ان کے علوم بے بنیاد خلاف واقع اور بے ثبات ہیں۔ (۱)
۵۹۷۔ ”وفیہ باسنادہ عن ابی بصیر عَن ابی عَبدِ اللّٰہ علیہ السلام فی قَولِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ <وَمَن یوٴتَ الحکمة فَقَد اوتَی خَیرًکثیراً >فَقالَ طاعَة اللّٰہِ وَمَعرِفَةُ الاِمامِ“ (۲)
اسی کتاب میں بطور مسند ابوبصیر سے منقول ہے کہ امام جعفر صادق - آیہٴ کریمہ <وَمَن یوٴتَ الحکمة فَقَد اوتَی خَیرًکثیراً > کے بارے میں فرماتے ہیں: جس کو حکمت دی گئی اسے یقینا خیر کثیر سے نوازا گیا۔ اس حکمت سے مراد اطاعتِ خدا اور معرفتِ امام - ہے۔
۵۹۸۔ ” وفیہ باسنادہ عَن الحُسینِ بن المختار عَن بعضِ اصحابِنا عَن ابی جعفَرعلیہ السلام فی قَولِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ <وَاتیناھُم مُلکاً عَظیماً > (۳) قالَ الطاعةُ المفروضُةُ “ (۴)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ الحاج سید جواد مصطفوی کی مترجم کافی سے اقتباس، ج۱، ص ۲۶۰۔
(۲)۔ کافی، ج۱، ص ۱۸۰، باب معرفت امام، حدیث ۱۱۔
(۳)۔ سورئہ نساء، آیت ۵۴۔
(۴)۔ کافی، ج۱، ص ۲۰۶۔
اسی کتاب میں بطور مسند حسین ابن مختار ہمارے بعض اصحاب سے نقل کرتے ہیں کہ امام محمد باقر - نے آیہٴ کریمہ <وَاتیناھُم مُلکاً عَظیماً > (ہم نے انہیں ملک عظیم عطا کیا) کے متعلق فرمایا: اس سے مراد ان کی اطاعت ہے جو لوگوں پر واجب ہے۔
۵۹۹۔ ” وفیہ عن برید العجلی عن ابی جعفر علیہ السلام فی قولِ اللّٰہ تَبارَک وتعالیٰ <فَقَد اتینا آلَ ابراہیم الکِتابَ والحِکمَة وآتیناھُم مُلکاً عَظیماً > (۱) قالَ جَعَلَ مِنھُمُ الرُّسُلَ وَالانبیآءَ والائمَة فَکیفَ یقرُّونَ فی آلِ ابراہیمَ علیہ السلام وینکرونَہُ فی آلِ محمَّدٍ (ص) ؟ قالَ قُلت وَاتیناھُم مُلکا عظیماً؟ قالَ المُلک العَظیمُ اَن جَعَلَ فیھم ائمّةً مَن اطاع اعطاعَھُم اللّٰہُ وَمَن عَصاھُم عَصَی اللّٰہَ فَھُو المُلک العَظیمُ “ (۲)
اسی کتاب میں برید عجلی سے منقول ہے کہ ان کابیان ہے کہ: امام محمد باقر - نے اللہ تعالیٰ کے اس قول ”ہم نے آل ابراہیم کو کتاب و حکمت اور ملک عظیم عطا کیا) کے متعلق فرمایا: خدا نے انبیاء ، رسل اور ائمہ کو آل ابراہیم میں سے قرار دیا لہٰذا کیسے یہ لوگ آل ابراہیم - کی بہ نسبت اس مقام و منزلت کو تسلیم اور اعتراف کرتے ہیں لیکن آل محمد کے بارے میں انکار کرتے ہیں۔ میں نے عرض کیا: اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس قول ”ہم نے انہیں ملک عظیم عطا کیا “ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: عظیم ملک یہ ہے کہ ائمہ کو ان کے خاندان میں قرار دیا اور جو شخص ان کی اطاعت کرے اس نے خدا کی اطاعت کی ہے اور جو شخص ان کی معصیت و نافرمانی کرے اس نے خدا کی معصیت و نافرمانی کی ہے یہی ملک عظیم ہے۔
یہ روایات جو بطور نمونہ ذکر ہوئی ہیں اور دوسری روایات سے بخوبی استفادہ ہوتا ہے کہ حقیقت میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ نساء، آیت ۵۴۔
(۲)۔ کافی، ج۱، ص ۲۰۶، حدیث ۵۔
جو شخص بھی حضرت بقیة اللہ الاعظم امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ اور ان کے اجدادِ طاہرین کا اعتقاد کامل اور یقین خاص رکھتا ہے کہ وہ تمام ہستیاں ولایتِ مطلقہ الٰہیہ کی من جانب اللہ بغیر کسی قید و شرط کے حامل ہیں اور وہ تمام مخلوقات کے ائمہ ہیں اور ان کی اطاعت تمام لوگوں پر واجب و لازم ہے۔ اور اس نعمت عظمیٰ کے حاملین ایسے غنی اور بے نیاز ہیں کہ جن کی کسی صورت میں توصیف نہیں کی جاسکتی۔ (اللہ تعالیٰ ہمیں اور تمام موالیان ائمہٴ اطہار کو ان کی ولایت کا رزق عطا فرمائے اور اللہ ہمیں ان کے ساتھ محشور فرمائے محمد و آل محمد کے ذریعہ)۔
۶۰۰۔ ” وفی روضة الکافی بِاسنادِہِ عَن ابانِ بن تغلِب وَعدّةٌ قالُوا کُنَّا عِندَ ابی عَبدِ اللّٰہِ علیہ السلام جُلوساً فَقالَ علیہ السلام لا یستحقُ عَبدٌ حقیقَة الاٴیمانَ حتیٰ یَکُونَ الموتُ احَبّ الَیہِ مِنَ الحیاةِ وَکونُ المرَضُ احَبُّ الیہِ مِنَ الصِّحَةِ وَیَکُونُ الفُقرا حَبُّ اِلیہِ مِنَ الغِنی فاٴنتُم کذا فَقالُوا لا وَاللّٰہِ جَعَلَنا اللّٰہُ فَداکَ وَسَقَطَ فی ایدیھِم (۱) وَوَقَعَ الیاٴسُ فی قلُوبِھِمْ فَلَمَّا راٴیٰ ما داخَلھُم مِن ذلِکَ قالَ : ایسرّ اَحَدَکُم انَّہُ عَمَّرَ ما عَمَّر ثُمَّ یَمُوت عَلیٰ غیرِ ھذا الاٴَمر او یَمُوتُ عَلیٰ ما ھُوَ علیہِ؟ قالُوا بَل یمُوت عَلیٰ ما ھُوَ عَلَیہِ السَّاعَةَ قالَ: فاٴَرَی الموتَ احَبَّ الیکُم مِن الحیاةِ․
ثُمَّ قالَ: اٴیسبرُ احَدکُم ان یبَقَی ما بَقَیِ لا یُصبہُ شَیءٌ مِن ھذِہِ الاٴمراض وَلا آتوجاع حَتیٰ یمُوتَ عَلیٰ غَیر ھذا الاَمرَ ؟ قالُوا لا باینَ رَسُولِ اللّٰہِ قالَ فاٴرَیَ المَرَضُ احَبُّ الیکُم مِنَ الصِحَّةِ․
ثُمَّ قالَ: ایسرُّ احَدکُم انَّ لَہُ ما طَلَعَت عَلَیہِ الشَّمسُ وَھُوَ عَلیٰ غَیرِ ھذا الاٴمرَ ؟ قالُوا لا یابن رَسْولِ اللّٰہِ قالَ فَاٴرَیَ الفقرُ اَحَبُ اِلیکُم مِنَ الغِنیٰ “ (۲)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ شدت ندامت و حسرت کی طرف اشارہ ہے کہ انسان ایسے موقع پر انگشت بدنداں رہتا ہے۔
(۲)۔ روضة الکافی، ص ۲۵۳، حدیث ۳۵۷۔
کلینی علیہ الرحمہ نے روضة الکافی میں ابان ابن تغلب اور بعض دوسرے لوگوں سے نقل کیا ہے ان لوگوں کا بیان ہے: ہم لوگ حضرت امام جعفر صادق - کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو فرمایا: کوئی بھی بندہ حقیقت ایمان کا مستحق نہیں ہے مگر یہ کہ موت اس کے نزدیک حیات سے زیادہ پسندیدہ ہو اور بیماری اس کے لیے تندرستی سے زیادہ محبوب ہو اور فقر و ناداری اسے تونگری اور دولت مندی سے زیادہ عزیز ہو۔ کیا آپ لوگ ایسے ہی ہیں؟ سب نے کہا: نہیں خدا کی قسم! خدا ہم سب کو آپ پر فدا کرے، اور سب بہت شرمسار ہوئے سر کو جھکایا اور ان کے قلوب نا امیدی سے بھر گئے۔ جب امام - نے مشاہدہ کیا کہ ان کے دل پر کیا گزر گئی تو فرمایا: کیا تم میں سے ہر ایک کو اس بات پر خوشی محسوس ہوگی کہ جتنا اس کا دل چاہے اس کائنات میں باقی رہے اور پھر غیر مذہب حق اور وہ عقیدہ جو امامت و ولایت کے متعلق رکھتا ہے مرجائے یا دوست رکھتا ہے کہ اپنے عقیدہ پر باقی رہتے ہوئے دنیا سے گزر جائے اگر اس کی عمر کم ہی کیوں نہ ہو؟ سب نے کہا: بلکہ ہر ایک ہم میں سے یہی چاہتا ہے کہ اپنے عقیدے پر باقی رہتے ہوئے ابھی انتقال کر جائیں۔ امام - نے فرمایا: اس بنا پر میں جانتا ہوں کہ تمہارے نزدیک مرجانا جینے سے بہتر ہے۔
پھر فرمایا: کیا تم میں سے ہر شخص خوش حال ہے اور یہ چاہتا ہے کہ ہمیشہ تندرست باقی رہے اور تمام بیماریوں اور دکھ درد سے کوئی شے اس تک نہ پہنچے تاکہ غیر مذہب حق پر اسے موت آجائے؟ سب نے کہا: نہیں ، فرزند رسول، تو فرمایا: لہٰذا میں جانتا ہوں کہ تمہارے نزدیک بیماری اور دکھ درد، تندرستی اور سلامتی سے بہتر اور زیادہ محبوب ہے۔
پھر فرمایا: کیا تم میں سے ہر ایک اس بات پر خوش حال ہوگا کہ جس پر آفتاب کی روشنی پڑتی ہے وہ اس سے متعلق ہوجائے لیکن مذہب حق پر نہ ہو، سب نے کہا: نہیں اے فرزند رسول خدا! فرمایا: لہٰذا میں جانتا ہوں کہ فقر و ناداری تمہارے نزدیک تونگری اور دولت مندی سے زیادہ محبوب ہے۔
مذہب حق سے مراد وہی امامت و خلافت اور ولایت مطلقہ الٰہیہ ہے اور وہی گوہر گراں بہا ہے کہ جو کچھ جہانِ ہستی میں آفتاب عالم تاب کے نور سے منور ہوتی ہے ایسے گوہر (ولایت کبریٰ) کے مقابل میں ناچیز ہے۔
[
دیدار کی تعداد : 417]
 |