|
نور درخشاں
خداوند متعال نے قرآن کو نور ہدایت کے ساتھ نازل فرمایا اسے حافظ و رقیب اور اپنی تمام نازل کی ہوئی کتابوں پر برتری پر فائز کیا ہے۔ ” و کذلک الحجة بن الحسن العسکری“ حضرت اور ان کے آباء و اجداد طاہرین کا مقدس وجود نور ہدایت اور مستقیم شاہراہ ولایت کبری اور اسلام کو روشنی بخشنے والا ہے
۱۷۔ نور درخشاں
۱۷۔ الْقُرآنُ اَنْزَلَ اللّٰہ نُوراً وَجَعَلَہُ مُھَیمِناً عَلی کلِ کِتابٍ اَنْزَلَہُ ، کَما فی الْصَحیفةِ السَجْادِیَةِ ”اَلَّذی اَنْزَلْتَہُ نوراً وَجَعَلْتَہُ مُھیمِناً عَلی کُلُ کِتابٍ اَنْزَلْتَہُ ․(۱)
خداوند متعال نے قرآن کو نور ہدایت کے ساتھ نازل فرمایا اسے حافظ و رقیب اور اپنی تمام نازل کی ہوئی کتابوں پر برتری پر فائز کیا ہے۔” و کذلک الحجة بن الحسن العسکری“ حضرت اور ان کے آباء و اجداد طاہرین کا مقدس وجود نور ہدایت اور مستقیم شاہراہ ولایت کبری اور اسلام کو روشنی بخشنے والا ہے۔
بہت سی آیات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ قرآن مجید نور ہے جو پیغمبر اکرم (ص) پر نازل ہوا کہ اس کے ذریعہ لوگ شاہراہ مستقیم کی طرف ہدایت پاتے ہیں ان میں سے بعض آیات کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے۔
قال اللّٰہ تعالیٰ: <یَااٴَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَائَکُمْ بُرْہَانٌ مِنْ رَبِّکُمْ وَاٴَنزَلْنَا إِلَیْکُمْ نُورًا مُبِینًا> (۲)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ صحیفہٴ سجادیہ، ص ۲۹۸، دعا نمبر ۴۲، ”ختم قرآن“۔
(۲)۔ سورئہ نساء، آیت ۱۷۴۔
اے انسانوں! تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے برہان آ چکا ہے اور ہم نے تمہاری طرف روشن نور بھی نازل کردیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <کِتَابٌ اٴَنزَلْنَاہُ إِلَیْکَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنْ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّہِمْ إِلَی صِرَاطِ الْعَزِیزِ الْحَمِیدِ > (۱)
یہ قرآن ایسی کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کو حکم خدا سے تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لے آئیں اور خدائے عزیز و حمید کے راستے پر لگا دیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <قَدْ جَائَکُمْ مِنْ اللهِ نُورٌ وَکِتَابٌ مُبِینٌ # یَہْدِی بِہِ اللهُ مَنْ اتَّبَعَ رِضْوَانَہُ سُبُلَ السَّلاَمِ وَیُخْرِجُہُمْ مِنْ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّورِ بِإِذْنِہِ وَیَہْدِیہِمْ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ > (۲)
یقینا تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور (پیغمبر (ص)) اور روشن کتاب آچکی ہے جس کے ذریعہ خدا اپنی خوشنودی کا اتباع کرنے والوں کو سلامتی کے راستوں کی ہدایت کرتا ہے اور انہیں تاریکیوں سے نکال کر اپنے حکم سے نور کی طرف لے آتا ہے اور انہیں صراط مستقیم کی ہدایت کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <فَآمِنُوا بِاللهِ وَرَسُولِہِ وَالنُّورِ الَّذِی اٴَنزَلْنَا وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیرٌ> (۳)
لہٰذا خدا اور رسول اور اس نور پر ایمان لے آؤ جسے ہم نے نازل کیا ہے کہ اللہ تمہارے اعمال (اقرار و انکار) سے خوب باخبر ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <وَاٴَنزَلْنَا إِلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنْ الْکِتَابِ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ ابراہیم ، آیت ۱۔
(۲)۔ سورئہ مائدہ، آیت ۱۵، ۱۶۔
(۳)۔ سورئہ تغابن، آیت ۸۔
وَمُہَیْمِنًا عَلَیْہِ فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ بِمَا اٴَنزَلَ اللهُ وَلاَتَتَّبِعْ اٴَہْوَائَہُمْ عَمَّا جَائَکَ مِنْ الْحَقِّ> (۱)
اور اے پیغمبر! ہم نے آپ کی طرف کتاب (قرآن) نازل کی ہے جو اپنے پہلے کی توریت اور انجیل کی تصدیق کرنے والی اور حفاظت کرنے والی ہے لہٰذا آپ ان (بنی اسرائیل) کے درمیان تنزیل خدا کے مطابق فیصلہ کریں اور خدا کی طرف سے آئے ہوئے حق سے جداہوکر ان کی خواہشات (انحراف و تجاوز) کا اتباع نہ کریں۔
مذکورہ آیات وغیرہ سے منطوق اور تصریح سے یہ استفادہ ہوتا ہے جو قرآن مجید میں موجود ہے وہ یہ ہے کہ آسمانی الٰہی کتاب (قرآن کریم) بذات خود نور ہے اور روشنی دینے والی ہے، خود روشنی ہے اور روشنی بخشنے والی جو مسلسل اور غیر قابل زوال ہے۔
نور اور روشنی پیدا کرنے والے تمام اسباب و ذرائع محدود ہیں جن میں دوام نہیں پایا جاتا خواہ وہ میکینک مشینریاں ہوں یا برقی آلات وغیرہ کہ ان کا فائدہ پہنچانا خاص مقامات اور مخصوص زمانوں میں محدود طور پر زوال پذیر ہونے کے ساتھ ممکن ہے لیکن قرآن مجید کا نور اور ضیا دائمی اور مسلسل ہے۔ جو اپنی اس راہ کی قیامت تک اپنی ضوء اور پرتو میں سیر کرے گی نہ صرف دنیا میں بلکہ آخرت میں بھی اپنے فرماں برداروں اور احکام پر عمل کرنے والوں کو عظیم لامتناہی الٰہی نعمتوں سے جو بہشت بریں اور رحمت خداوندی کا قرب و جوار ہے وہاں تک پہنچائے گی۔ جس طرح قرآن مجید نور اور ان تمام آسمانی کتابوں کا رقیب اور حافظ و نگہبان ہے جو خدا نے نازل فرمایا ہے اسی طرح حضرت بقیة اللہ الاعظم صاحب الزمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف اور ان کے آباء و اجداد کرام ائمہٴ طاہرین انوار الٰہی ہیں اور اپنے تمام شیعوں اور مومنین کے حالات کے محافظ اور پاسبان ہیں۔
مولف کہتے ہیں:علامہ مجلسی رحمة اللہ علیہ نے اپنی کتاب بحار الانوار میں ایک باب مخصوص کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ مائدہ، آیت ۴۸۔
کہ ائمہٴ اطہار انوار الٰہی ہیں اور آیہٴ نور کی تاویل ان کے حق میں ہے۔
اللہ تعالیٰ کا قول ہے: <اللهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ مَثَلُ نُورِہِ کَمِشْکَاةٍ فِیہَا مِصْبَاحٌ الْمِصْبَاحُ فِی زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ کَاٴَنَّہَا کَوْکَبٌ دُرِّیٌّ یُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَکَةٍ زَیْتُونِةٍ لاَشَرْقِیَّةٍ وَلاَغَرْبِیَّةٍ یَکَادُ زَیْتُہَا یُضِیءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْہُ نَارٌ نُورٌ عَلَی نُورٍ یَہْدِی اللهُ لِنُورِہِ مَنْ یَشَاءُ وَیَضْرِبُ اللهُ الْاٴَمْثَالَ لِلنَّاسِ وَاللهُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمٌ > (۱)
اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا نور ہے اس کے نور کی مثال اس طاق کی ہے جس میں چراغ اور چراغ شیشہ کی قندیل میں ہو اور قندیل ایک جگمگاتے ستارے کے مانند ہو جو زیتون کے بابرکت درخت سے روشن کیا جائے جو نہ مشرق والا ہو نہ مغرب والا اور قریب ہے کہ اس کا روغن بھڑک اٹھے چاہے اسے آگ مس بھی نہ کرے۔
یہ نور بالائے نور سے اور اللہ اپنے نور کے لیے جسے چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے اور اسی طرح مثالیں بیان کرتا ہے اور وہ ہر شے کا جاننے والا ہے۔
۳۵۵۔ ”وفی المحکم والمتشابہ : باسنادہ عن اسماعیل بن جابر قال سمعت ابا عبد اللّٰہ جعفر بن محمد الصادق علیہ السلام یقول فی حدیثٍ طویلٍ عن انواع آیات القرآن یبلغ نحو ۱۲۸ صفحة، روی فیہ الامام الصادق علیہ السلام مجموعةَ اسئلة لاٴمیر الموٴمنین علیہ السلام عن آیات القرآن واحکامہ ، جاءَ فیھا وساٴلوہ - صلوات اللّٰہ علیہ - عنْ اقسام النّور فی القرآن․
فقال امیر الموٴمنین علیہ السلام ” النّور القرآن ، والنور اسم من اسماء اللّٰہ تعالیٰ ، النّور النوریة والنور ضوء القمر ، والنور ضوء لمومن وھو الموالاة التی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ نور، آیت ۳۵۔
یَلْبَسُ لَھٰا نوراً یوْمَ القیٰمة ، وَالنُورَ فیٖ مَواضع مِنْ الَتّورٰاة وَالقُرآنِ حُجَّةُ اللّٰہِ عَلیٰ عِبٰادِہِ وَھُوَ المَعْصُومُ : <فَقٰالَ ثُمَ وَاتَّبَعُوا النّورَ الذی اَنْزَلَ مَعَہُ اولئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحوُنَ> فَالْنُورُ فی ھذا الْمَوضِع ھُوَ القُرآنُ وَمِثْلُہُ فی سُورَة التَّغٰابُنِ قَوْلہ تعالیٰ <فَآمِنُوا بِاللّٰہِ وَرَسُولِہِ وَالنُورِ الَّذی اَنْزَلْنٰا > یَعْنی سُبْحٰانَہُ الْقُرآنَ وَجَمیعَ الاوصیٰاء المَعْصومینَ مِنْ حَمَلَةِ کِتٰابِ اللّٰہ تَعالیٰ ، وَخزانِہِ ، تراجمتہ ، الذین نَعَتَھُمُ اللّٰہ فی کتابہ فقال <وما یعلم تاٴویلہ الا اللّٰہ والراسخون فی العلم یقولون آمنا بہ کل من عند ربنا > فھم المنعوتون الذین انا واللّٰہ بھم البلاء وھدی بھم العباد ، قال اللّٰہ تعالیٰ فی سورة النور < اللّٰہ نور السمواتِ والارض مثل کمشکوة فیھا مصباح المصباح فی زجاجة الزجاجة کاٴنھا کوکب دری>الی آخر الآیہ، فالمشکاة رسول اللّٰہ (ص) و المصباح الوصی والاوصیآء علیہم السلام والزجاجة فاطمة سلام اللّٰہ علیہا : والشجرة المبارکة رسول اللّٰہ (ص) والکوکب الدری القائم المنتظر علیہ السلام الذی یملاء الارض عدلاً “ (۱)
صاحب رسالہٴ محکم و متشابہ نے اپنی سند کے ساتھ اسماعیل ابن جابر سے نقل کیا ہے کہ ان کا بیان ہے: میں نے حضرت امام جعفر صادق - سے ایک طولانی حدیث کے ضمن میں کہ جس میں قرآنی آیات تقریباً ۱۲۸ صفحات پر مشتمل ہیں سنا ہے کہ اس میں امام جعفر صادق - نے اس روایت کو نقل کیا ہے جس میں حضرت علی - سے کچھ سوالات آیات اور احکام قرآن کے بارے میں دریافت کےے گئے تھے من جملہ اس مجموعہ میں یہ ذکر ہوا ہے کہ جس میں حضرت علی - سے قرآن میں نور کی شمعوں کے بارے میں دریافت کیا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ اس حدیث کے مکمل مصادر معجم احادیث امام مہدی -، ج۵ میں ذکر ہوئے ہیں۔
تو حضرت امیر المومنین - نے جواب میں فرمایا:
نور قرآن ہے ۔ نور اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے، نور روشنائی ہے، نور چاند کی روشنی ہے ، نور مومن کی روشنی ہے جس سے مراد وہ موالات اور اس کی روشنی ہے کہ جس کے ذریعہ وہ اس روشنی سے ملبوس ہوگا۔ اور نور توریت اور انجیل کے مقامات میں سے ہے اور قرآن جو اس کے بندوں پر حجّت خدا ہے اور وہ وہی معصوم ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور پیروی کی اس نور کی جو اس (پیغمبر) کے ساتھ نازل کیا گیا تھا حقیقت میں وہی لوگ فلاح و بہبود پانے والے ہیں۔
لہٰذا نور اس مقام میں وہی قرآن ہے اور اسی طرح سورئہ تغابن میں ذکر ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (لہٰذا خدا اور رسول اور اس نور پر ایمان لے آؤ جسے ہم نے نازل کیا ہے) خدائے سبحان نے اس آیت میں قرآن اور ان تمام اوصیائے معصومین کا جو کتاب الٰہی کے حاملین اور خزانہ دار اور وحی الٰہی کی ترجمانی کرنے والے ہیں کا ارادہ کیا ہے وہ افراد کہ جن کی اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں تعریف و توصیف بیان فرمائی ہے اور فرمایا: حالانکہ اس کی تاویل کا حکم صرف خدا کو ہے اور انہیں جو علم میں رسوخ رکھنے والے ہیں جن کا کہنا یہ ہے کہ ہم اس کتاب پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ سب کی سب محکم و متشابہ ہمارے پروردگار ہی کی طرف سے ہے، پس وہ وہی لوگ ہیں جن کی تعریف و توصیف بیان کی گئی ہے اور انہیں کی ذوات مقدسہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ تمام شہروں کو روشن و منور کرے گا اور انہیں کے وسیلہ سے اپنے بندوں کی ہدایت کرے گا۔
اللہ تعالیٰ نے سورئہ نور میں ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا نور ہے اس کے نور کی مثال اس طاق کی ہے جس میں چراغ ہو اور چراغ شیشہ کی قندیل میں ہو اور قندیل ایک جگمگاتے ستارے کے مانند ہو۔ آیت کے آخر تک۔
پس مشکات (چراغ دان) رسول خدا (ص) ہیں اور مصباح (چراغ) خود وصی اور حضرت - کے تمام اوصیاء ہیں زجاجہ فاطمہ ٴ (اطہر) ہیں شجرہٴ مبارکہ رسول خدا (ص) اور کوکب دری قائم المنتظر ہیں جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔
۳۵۶۔ ”عن البحار عَنِ النَبی (ص) قٰالَ: ”اِنَ اللّٰہ خَلَقَنی وَخَلَقَ عَلیاً وَفٰاطِمَةَ وَالحَسَنَ وَالحُسَیْنَ قَبْلَ اَنْ یَخْلُقَ آدَمَ علیہ السلام حینَ لاٰ سَمٰآء مَبْنیة وَلاٰ ارض مَدحیة وَلاٰ ظُلَمَة وَلاٰ نُورَ وَلاٰ شَمسٌ وَلاٰ قَمَرَ وَلاٰ جَنَةَ وَلاٰ نٰارَ․ فَقٰالَ العَباسُ : فکَیْفَ کٰانَ بَدء خَلَقکُمْ یٰا رَسُولَ اللّٰہِ (ص) فَقٰالَ : یٰا عمَ لَمّٰا اٴرادَ اللّٰہ اٴنْ یَخْلَقَنٰا تَکَلَمَ بِکَلَمة خَلَقَ مِنھٰا نوراً، ثُمَ تَکَلَّمْ بِکَلَمِة اُخْریٰ فَخَلَقَ مِنْھٰا روحاً ، ثُمَ مزَجَ النُورْ بِالروح فَخَلَقَنی وَخَلَقَ عَلیاً وَفٰاطَمة وَالحَسَنَ وَالحُسَیْنَ ، فَکُنّٰا نُسَبحُہُ حین لاٰ تَسْبیحُ وَنُقَدِسُہُ حینَ لاٰ تَقدیس ، فَلمّٰا اَرادَ اللّٰہ تَعالیٰ اٴن یُنْشیء خَلْقَہُ فَتَقَ نوری فَخَلَقَ مِنہُ العَرْشَ فَالعَرشُ مِنْ نُوری ، وَنوُری مِنْ نُورِ اللّٰہِ ، وَ نوری اَفْضَلُ مِنَ العَرش․
ثُمَ فَتَقَ نُور اٴخي علي فَخَلَقَ مِنْہُ المَلاٰئِکةُ والملائکةِ مِنْ نُور عَلِیٍ وَنُورُ عَلِیٍ مِن نُور اللّٰہ وَ عَلِیٌ اَفْضَلُ مِنَ المَلاٰئِکَة․
ثُمَ فَتَقَ نُوَر ابنتی ،فَخَلَقَ مِنہُ السَمواتِ وَالارضُ ، فالسموات والارض مِنْ نور اٴبْنَتی فٰاطِمَة وَنورُ ابنتی فٰاطمة مِنْ نورِ اللّٰہِ وَابنتی فٰاطِمَةُ افْضَلُ مِنَ السَمواٰت وَالارض․
ثُمَ فَتَقَ نُورَ وَلدی الحَسَنْ فَخَلَقَ مِنُہ الشَمْسَ وَالقَمَرَ، فَالشَمْسَ وَالقَمَرُ مِنْ نُورِ وَلَدی الحَسَنْ علیہ السلام وَ نُور الحَسَنُ مِنْ نورِ اللّٰہِ، وَالحَسَنُ اَفْضَلُ مِنْ الشَمْسِ وَالقَمَرِ․
ثُمَ فَتَقَ نُور وَلَدی الحُسَیْنُ صَلَوات اللّٰہ وسلامہ علیہ فَخَلَقَ مِنہ الجَنَةُ وَالحُورُ العینَ ، فَالجَنَة وَالحُور العین مِنْ نُور وَلَدی الحُسَیْن وَ نور ولدی الحُسَیْن مِنْ نورِ اللّٰہِ ، وَوَلَدی الحُسَیْن اَفْضَلَ مِنْ الجَنّةَ وَالحُورِ العینِ “(۱)
بحار الانوار میں رسول اکرم (ص) سے روایت کی گئی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا: یقینا اللہ تعالیٰ نے مجھے خلق فرمایا اور علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیہم السلام کو بھی خلق فرمایا قبل اس کے کہ آدم کو پیدا کرے، جس وقت نہ آسمان وجود میں آیا تھا اور نہ ہی زمین کا فرش بچھایا گیا تھا نہ ہی نور و ظلمت ، آفتاب و ماہتاب اور جنت و جہنم کا وجود تھا پھر عباس نے عرض کیا: اے رسول خدا (ص)! آپ کی خلقت کے آغاز کی کیفیت کیا تھی؟ فرمایا: اے چچا! جس زمانے میں خدائے بزرگ و برتر نے ہمیں خلق کرنے کا ارادہ کیا تو ایک کلمہ کہا اور اس کلمے سے ایک نور خلق فرمایا پھر دوسرا کلمہ کہا اور اس سے ایک روح خلق کیا پھر خود کو روح کے ساتھ مخلوط کیا پھر مجھے خلق کیا اور علی، فاطمہ اور حسن و حسین کو بھی خلق فرمایا۔
ہم وہ تھے کہ خدائے سبحان کی تسبیح و تقدیس کرتے تھے جب کوئی بھی تسبیح و تقدیس کرنے والا نہیں تھا، جب خدائے بزرگ و برتر نے اپنی مخلوقات کو ایجاد و تخلیق کا ارادہ کیا تو میرے نور کو شگافتہ کیا اور عرش کو میرے نور سے خلق فرمایا اور میرا نور خدا کا نور ہے اور میرا نور عرش سے افضل ہے، پھر میرے بھائی علی کے نور کو شگافتہ کیا اور ان کے نور سے ملائکہ کو خلق فرمایا پھر ملائکہ کو علی کے نور سے اور علی کے نور کو خدا کے نور سے خلق کیا اور علی ملائکہ سے افضل ہیں اس نور کے بعد میری بیٹی کے نور کو شگافتہ کیا اور اس سے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا پس تمام آسمان اور زمین میری بیٹی فاطمہ کے نور سے خلق ہوئے اور میری بیٹی فاطمہ کا نور خدا کا نور ہے اور میری بیٹی فاطمہ آسمانوں اور زمین سے افضل ہے، پھر میرے بیٹے حسن کے نور کو شگافتہ کیا اور اس سے آفتاب و ماہتاب کو خلق فرمایا اور سورج چاند کو میرے بیٹے حسن کے نور سے خلق کیا اور میرے بیٹے کا نور خدا کے نور سے ہے اور حسن آفتاب و ماہتاب سے افضل ہے، اس کے بعد میرے بیٹے حسین کے نور کو شگافتہ فرمایا اور اس سے بہشت اور حور العین کے نور کو خلق کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔بحار الانوار، ج۱۵، ص ۱۰۔
پھر بہشت اور حور العین کو میرے بیٹے حسین کے نور سے خلق کیا اور میرے بیٹے حسین کا نور خدائے سبحان کے نور سے ہے اور میرا بیٹا حسین (علیہ و علیہم صلوات اللہ و سلامہ) بہشت اور حور العین سے افضل ہے۔
۳۵۷۔ ”وَفی الغیبة النعمانی بِاِسنٰادِہِ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ (ص) قٰالَ انَ اللّٰہ اَوحی اِلَیْ لَیْلَة اُسْری بی یٰا مُحَمَدُ مَنْ خَلَقْتَ فی الاَرضِ عَلیٰ امَتِکَ ؟ وَھُوَ اَعْلَمُ بِذلک قُلْتُ یٰا رَبِ اٴَخی قٰالَ یٰا مُحَمَّدُ عَلی بن اَبی طٰالب ؟ قُلْتُ نَعَمْ یٰا رَبْ ، قال یٰا مُحَمَّدُ اِنّی اَطَلَعْتُ الی الارضِ اِطلاٰعة فَاَخْتَر تُکَ مِنھٰا فَلا اذکِرُ حَتٰی تُذْکَرُ مَعی انا المَحْمُود وَاَنْتَ مُحَمَّدُ ثُمَ انی اطَلَعْتُ الی الارضِ اِطِلاٰعة اُخریٰ فَاَخترتُ مِنْھٰا عَلی بن ابی طالب فَجَعَلْتُہُ وَصِیکَ فَاٴَنْتَ سَیْدُ الانبیاء وَعَلیٌ سَیّد الاوصیٰآء شَقَقتُ لَہُ اسْماً مِنْ اَسْمٰائی فَاَنا الاَعْلیٰ وَھُوَ علیٌ․
یٰا مُحَمَّدُ اِنّی خَلَقْتُ عَلیاً وَ فٰاطِمَةَ والحَسَنَ وَالحُسَیْنَ وَالاٴئِمَةَ مِنْ نُور واحدٍ ، ثُمَ عَرَضْتُ وَلاٰیَتَکُم عَلَی المَلائِکَةِ ، فَمَنْ قَبِلِھٰا کٰانَ مِنَ الموٴمنینَ ، وَمَنْ جَحَدھٰا کٰانَ مِنَ الکٰافرینَ․
یا مُحَمَّدُ لو اٴنَ عَبْداً مِنْ عِبٰادی عَبَدَنی حتٰی یَنْقطعَ ، ثُمَ یَلْقٰانی جٰاحِداً لو لاٰیَتُکُمْ اَدْخَلْتُہُ النارَ ، ثُمَ قالَ یٰا مُحَمَّدُ اٴَتُحِبُ اَنْ تَراٴھُمْ ، فَقٰالَ قُم اَمٰامَکَ ، فَتَقَدَمْتُ اَمٰامی، فَاِذاً علی بن ابی طالِبٍ وَالحَسَنَ بن عَلی ، والحُسَیْنَ بن علیٍ ، وَعَلی بن الحُسَیْن وَمُحَمَّدُ بن علی وَجَعْفَر بن مُحَمَّدُ وَموسیٰ بن جَعْفَرٍ وَعلی بن موسیٰ وَمُحَمَّدَ بن علیٍ وعلی بن مُحَمَّدٍ وَالحَسَنَ بن علیٍ وَالحُجة القائِمْ کاٴنہ الکَوْکَبُ الدّرّی فی وسطھم فقلت یا رب ومن ھولآء قال ھولاء الائمة وھذا القائم یُحلّ حلالی ویحرّم حرامی وینتقم من اعدائی یا محمّد احبّہ فانّی اُحبُّہُ واُحِبُّ من یُحبُّہُ “ (۱)
نعمانی نے اپنی کتاب غیبت میں اپنی سند کے ساتھ رسول خدا (ص) سے نقل کیا ہے کہ آنحضرت نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس رات مجھے (معرج کی سمت) لے گیا وحی نازل فرمائی: اے محمد! اپنی امت کے لیے کس شخص کو خلیفہ و جانشین قراردیا؟ حالانکہ خدائے سبحان کو اس کا بہتر علم تھا، میں نے عرض کیا: پروردگارا ! اپنے بھائی کو ، فرمایا: اے محمد! جو علی ابن ابی طالب ہے؟ میں نے جواب دیا:ہاں میرے پالنے والے، فرمایا: اے محمد! یقینا میں نے ایک زمین پر مکمل طور پر نگاہ کی پھر میں نے ان میں سے تمہیں منتخب کیالہٰذا میرا ذکر نہیں کیا جائے گا مگر یہ کہ تمہارا ذکر بھی میرے ہمراہ ہوگا میں محمود (پسندیدہ) ہوں اور تو محمد (تعریف کیا ہوا) ہے پھر میں نے دوبارہ زمین پر نگاہ کی پھر میں نے علی ابن ابی طالب کو اختیار کیا پھر اسے تمہارا وصی قرار دیا لہٰذا تم تمام انبیاء کے سید و سردار ہو اور علی تمام اوصیاء کے۔ پھر میں نے اس کے نام کو اپنے ناموں میں سے ایک نام سے مشتق قرار دیا لہٰذا میں اعلیٰ ہوں اور وہ علی ہے۔
اے محمد! یقینا میں نے علی ، فاطمہ، حسن ، حسین اور تمام ائمہ کو ایک ہی نور سے خلق کیا پھر میں نے تمہاری ولایت کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا لہٰذا جس شخص نے قبول کیا وہ مومنین میں سے ہوگیا اور جس شخص نے تمہاری ولایت کا انکار کیا کافرین میں سے ہوگیا۔
اے محمد! جب کبھی بندوں میںسے کوئی بندہ آخری عمر تک میری عبادت کرے پھر میری ملاقات کرے درحالیکہ تمہاری ولایت و محبت کا منکر ہو تو اسے آتش جہنم میں داخل کروں گا ۔ پھر فرمایا: اے محمد! کیا اسے دیکھنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں: فرمایا: آگے آؤ، میں آگے بڑھا ناگاہ میں نے علی ابن ابی طالب، حسن ابن علی ، حسین ابن علی، علی ابن الحسین، محمد ابن علی، جعفر ابن محمد، موسیٰ ابن جعفر، علی ابن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ غیبت نعمانی، ص ۹۳۔ بحار الانوار، ج۳۶، ص ۲۸۱۔
موسی، محمد ابن علی، علی ابن محمد، حسن ابن علی اور حجّت قائم کا مشاہدہ کیا گویا کوکب درّی (ستارہٴ درخشاں) ان کے درمیان ہے۔
پھر میں نے عرض کیا: پروردگارا! یہ کون لوگ ہیں؟ فرمایا: یہ ائمہ ہیں اور یہ قائم ہے جو میرے حلال کو حلال اور میرے حرام کو حرام کرے گا اور میرے دشمنوں سے انتقام لے گا اے محمد! اسے دوست رکھو یقینا میں اس کو دوست رکھتا ہوں اور ہر اس شخص کو بھی دوست رکھتا ہوں جو اس کو دوست رکھے۔
۳۵۸۔ طرق عامہ سے ایک مفصل حدیث میں رسول اکرم (ص) نے اپنی معراج کی توصیف اور اپنے اوصیاء کے متعلق مختصر بعض الفاظ کے تفاوت کے ساتھ بیان کیا کہ آپ تمام ائمہ کا مشاہدہ فرماتے ہیں اور اس کے آخر میں ذکر ہوا ہے ” والمھدی فی ضحضاح من نور قیام یصلّون وھو فی وسطھم یعنی المھدی کانہ کوکب درّی“ (۱) مہدی ان کے درمیان نور کا ایک ہالہ تھے جو حالت قیام اور نماز میں تھے۔ اور وہ ان کے درمیان درخشاں ستارے کی طرح ضوفگن تھے۔
مہدی فاطمہ - حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کا مقدس وجود بہ ذات خود نور ہے اور تمام مومنین کے دلوں کو روشن و منور کرنے والا نیز مومنین کے تمام حالات کا محافظ اور پاسبان ہے۔
۳۵۹۔ ”وَفی الکافی بِاسْنٰادِہِ عَنْ اَبی خالِد الکابلی عن ابی جعفر علیہ السلام قال:وَاللّٰہ یا اَبا خالدٍ لَنُور الامام فی قُلوب الموٴمنین اَنوَر مِن الشّمس المُضیة بالنھارِ وھم وَاللّٰہ یُنوّرونَ قُلوبَ الموٴمنین ، وَیَحجَب اللّٰہ عزّوجلّ نُورَھم عَمّن یَشآء فَتظلَم قُلوبَھم وَاللّٰہ یا ابَا خالد لا یُحبّنا عَبدٌ وَ یَتولانا حَتّی یُطھر اللّٰہ قَلبَہ وَلا یُطھر اللّٰہ قَلب عَبدٍ حَتّی یسلم لَنا وَ یَکون مسلِماً لَنا فَاذا کانَ سلماً لنا سلّمہ اللّٰہ مِن شدید الحِسابِ وَامَنَہ مِن فَز ع یَوم القیامَة الاکبر “ (۲)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ مدینة المعاجز، ج۳، ص ۳۱۱، ۳۱۲۔
(۲)۔ کافی، ج۱، ص ۱۹۴، صدر روایت: ” “ <<<
اصول کافی میں کلینی علیہ الرحمہ نے اپنی سند کے ساتھ ابو خالد کابلی سے انہوں نے امام محمد باقر - سے نقل کیا ہے کہ حضرت - نے فرمایا: اے ابو خالد! خدا کی قسم! نور امام قلوب مومنین میں ہے وہ نصف النہار کے سورج سے زیادہ روشن ہوتا ہے اور وہ (ائمہ) قلوب مومنین کو منور کرتے رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے نور کو جس سے چاہتا ہے چھپاتا ہے تو ان کے قلوب تاریک ہوجاتے ہیں خدا کی قسم! اے ابو خالد! ہم سے کوئی بندہ محبت نہیں کرتا اور نہ ہی ہم کو دوست رکھتا ہے مگر یہ کہ اللہ اس کے قلب کو پاک و پاکیزہ کرتا ہے اور کسی بندہ کا دل پاک نہیں کرتا جب تک وہ ہم کو تسلیم نہ کرے اور ہم سے صلح و مصالحت سے پیش نہ آئے لہٰذا جب وہ ہم سے صلح و مصالحت سے پیش آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن سخت حساب اور عظیم خوف سے محفوظ رکھتا ہے۔
مہدی آل محمد صاحب الزمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف شیعوں اورمومنین کے محافظ اور پاسبان ہیں۔
۳۶۰۔ ”وَفی کمال الدّین الصدوقۺ بِاسْنٰادِہِ عَنْ ابی مُحَمَّدٍ الحَسَنَ بن وَجَنٰاء النَّصیبی قٰالَ : کُنْتُ سَاجِداً تَحْتَ المیزاٴبِ فی رابعَ اَرْبَعَ وَخَمْسینَ حَجّةً بَعْدَ العتمةِ ، وَاٴَنَا اتَضرَّعُ فی الدعٰاء اذ حَرّکَنی مُحَرِکٌ فَقٰالَ: قُمْ یٰا حَسَنَ بنَ وجناء ، قٰال فَقُمتُ فَاِذاً جٰاریة صفٰراء نحیفةِ الْبَدَنَ اَقُول: اِنَّھٰا مِنْ اَبْنٰاء اَرْبَعینَ فَمٰا فَوْقَھٰا فَمَشَتْ بَیْنَ یَدَیَ وَاٴَنَا لاٰ اٴَسَاٴلُھٰا عَنْ شیءٍ حتی اَتَتْ بی الی دار خَدیجة سلام اللہ علیہا وَفیھٰا بَیْتٌ بَابُہُ فی وَسَطِ الحائِطِ وَلہ دَرَجُ سٰاجٍ یُرتقی فَصَعَدَتِ الجٰاریة وَجٰآءَ نی النداءِ : اصعد یٰا حَسَنُ اٴتَراٴکَ خَفِیت عَلَیَّ وَاللّٰہ مٰا مِنْ وَقْتٍ فی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
>>>ابو ایوب سے انہوں نے ابو خالد کابلی سے روایت کی ہے کہ میں نے امام محمد باقر - سے آیہٴ کریمہ <> کے متعلق دریافت کیا تو فرمایا: اے ابو خالد! نور سے مراد خدا کی قسم! آل محمد کا روز قیامت تک کا نور ہے اور وہ خدا کی قسم! آسمانوں میں نور الٰہی ہیں اور زمین کا بھی جو کچھ وہ مخفی رکھتے ہیں۔
حَجِّکَ الاٰ وَانٰا مَعَکَ فیہ ثُمَ جَعَلَ یَعدُّ عَلَیَّ اوقٰاتی فَوقَعَتُ مُغْشیاً عَلی وَجْھی فَحَسَستُ بِیَدٍ قَدْ وَقَعَتْ عَلَیَّ فَقمتُ ، فَقٰالَ لی: یٰا حَسَنُ الزم دار جَعْفَر بن مُحَمَّدٍ علیھما السلام وَلاٰ یَھُمَّکَ طَعٰامَکَ وَلاٰ شَراْبُکَ وَلاٰ مٰایَسْتُرُ عَوْرتَکَ ، ثُمَ دَفَعَ اِلَّی دَفَتراً فیہ دُعٰاءُ الفَرج وَصَلاٰةٌ عَلیہِ فَقٰالَ بھذا فَادْعُ، وَھکذا صلّ عَلَیَّ ، وَلاٰ تُعْطِہِ الاَّ مُحِقَّی اَولیٰائی فاِن اللّٰہ جَلَ جَلالُہُ مَوَفقُکَ فَقُلْتَ: یٰا مولاٰی لاٰ اَراکَ بَعدَھٰا ؟ فَقٰالَ یٰا حَسَنُ اِنشاء اللّٰہ ، قٰال فَاٴنْصَرفْتُ مِنْ حَجَّتی وَلَزِمْتُ دارَ جَعْفَر بن مُحَمَّد ( علھیما السلام ) فَاٴنَا اٴَخْرُجُ مِنْھٰا فَلا اَعُودُ الیھٰا الا لِثٰلاثِ خِصالٍ : لِتَجدید وَضوء اَوْلنوم اٴوْلوَقْتِ الاٴفطٰارِ ، وَاَدْخُلُ بَیْتی وَقْتَ الاِٴفطٰار فَاُصیبُ رُباعیاً مَمْلوٴاً مٰاءً وَرَغیفاً عَلی رَاٴسِہِ وَعَلَیْہِ مٰا تَشْتَھی نَفْسی بِالنّھارِ فَاٴَکِلُ ذلِکَ فَھُوَ کَفٰایَةٌ لی ، وَ کَسوةَ الشِتٰاءِ فی وَقْتِ الشِتٰاءِ وَ کِسوةُ الصَیْفِ فی وَقتَ الصَیْفِ وَانی لِاَدْخُلَ المٰاء بالنھار فاٴرش البَیت واَدعُ الکُوزَ فٰارِغاً فَاوتَی بالطعامِ وَلاٰحاجةً لی الیہِ فَاصدقُ بِہِ لَیلاً کیلا یَعْلَمَ بی مَنْ مَعی “ (۱)
کمال الدین میں شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے اپنے اسناد کے ساتھ ابو محمد حسن ابن و جناء نصیبی سے نقل کیا ہے کہ ان کا بیان ہے : ایک مرتبہ میں اپنے چوّنویں سفر حج بیت اللہ الحرام کے موقع پر چوتھے طواف اور نماز عشاء سے فارغ ہونے کے بعد تحت ِ میزاب سجدے کے عالم میں گریہ و زاری کے ساتھ دعا میں مشغول تھا کہ کسی نے مجھے حرکت دی اور کہا: اے حسن ابن وجناء اٹھو! جب میں اٹھا تو دیکھا کہ ایک نحیف و لاغر زرد چہرے کی کنیز ہے کہ جس کا سِن میرے گمان کے مطابق چالیس سال یا کچھ زیادہ تھا۔ پھر وہ میرے آگے چلی گئی (میں بھی اس کے ہمراہ چلا) میں نے اس سے کچھ دریافت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ کمال الدین، ج۲، ص ۴۴۳، حدیث ۱۷۔
نہیں کیا کہ کہاں لے جارہی ہے یہاں تک کہ وہ مجھے خانہٴ حضرت خدیجہ # کے دروازے پر لے آئی اس میں ایک کمرہ تھا جس کا دروازہ احاطے (یا باغ) کے درمیان تھا، وہیں سے اوپر جانے کے لیے ایک ساج نامی لکڑی سے بنا ہوا زینہ لگا ہوا تھا کہ جس سے اوپر جایا جاسکے، پھر وہ کنیز اوپر چلی گئی اور بعد میں مجھے آواز دی: اے حسن ! اوپر آجاؤ۔ میں اوپر گیا اور دروازے کے پاس کھڑا ہوگیا پھر حضرت صاحب الزمان - نے فرمایا: اے حسن! کیا تمہارا خیال یہ ہے کہ تم میری نگاہوں سے اوجھل تھے! خدا کی قسم! میں تمہارے اعمال حج کے تمام اوقات میں تمہارے ساتھ ساتھ تھا، پھر آپ میری ایک ایک حالت اور اوقات کے متعلق بیان کرنے لگے۔ ناگاہ مجھ پر غشی طاری ہوگئی اور میں وہیں زمین پر گر پڑا اور یہ بھی محسوس کرتا رہا کہ حضرت میرے جسم پر ہاتھ پھیر رہے ہیں پھر میں کھڑا ہوا اور انہوں نے فرمایا: اے حسن! تم مدینے میں حضرت جعفر ابن محمد - کے مکان میں سکونت اختیار کرو تمہیں کھانے پینے اور پہننے اوڑھنے کے فکر کی ضرورت نہیں۔
پھر (حضرت -) نے مجھے ایک کتابچہ عطا فرمایا جس میں دعائے فرج اور آپ کی نماز کا طریقہ مرقوم تھا اور فرمایا: تم اس طرح دعا کیا کرو اور اس طرح میرے لیے نماز پڑھو یہ دعائے فرج اور طریقہٴ نماز ہمارے حقیقی دوستوں کے علاوہ کسی اور کو تعلیم نہ دینا اللہ تعالیٰ تمہیں اس کی توفیق کرامت فرمائے۔
میں نے عرض کیا: اے میرے مولا! کیا اس کے بعد مجھے آپ کی زیارت نصیب نہ ہوگی؟ فرمایا: اے حسن! اگر خدا چاہے ۔ راوی کا بیان ہے کہ پھر میں حج سے واپس ہوا اور مدینے میں حضرت جعفر ابن محمد الصادق - کے مکان میں سکونت پذیر ہوا۔
پھر میں گھر سے باہر نہیں نکلتا تھا مگر تین کاموں کے لیے اور فوراً واپس آجاتا تھا ، دوبارہ وضو کرنے کے لیے یا سونے کے لیے یا افطار کے وقت، اور افطار کے وقت میں اپنے کمرے میں داخل ہوتا تھا تو دیکھتا کہ وہاں کا چاروں گوشہ پانی روٹی سے اوپر تک بھرا ہوا ہے جو کچھ دن میں کھانے کا میرا دل چاہتا تھا تو اسے میں تناول کرلیتا تھا جو ہر لحاظ سے میرے لیے کافی ہوا کرتا تھا۔
سردی میں سردی کا لباس اور گرمی میں گرمی کا لباس آمادہ رہتا تھا اور دن میںپانی میں جایا کرتا تھا اور مختصر سا گھر میں پانی کا چھڑکاؤ کرتا تھا اور کوزے کو خالی چھوڑتا تھا، میرے لیے کھانا لایا جاتا تھا حالانکہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہوتی تھی لہٰذا اسے رات میں صدقہ دے دیتا تھا تاکہ کسی کو معلوم نہ ہو کہ میرے ہمراہ کون ہے۔
عرض الاعمال علی النبی والاٴئمة : وانھم الشھداء علی الخلق․
نبی اور ائمہ کے سامنے اعمال پیش ہونا اور وہ لوگ مخلوق پر گواہ ہیں۔
۳۶۱۔ ” تُعْرضَ علی رَسُول اللّٰہِ (ص) اَعْمٰالُ العِبٰادِ کُلَ صَبٰاحٍ اَبْرٰارُھٰا وَفجٰارُھٰا وَکَذٰلِکَ تُعْرَضُ عَلَیھم فی کُلِ یَوم ولَیلةٍ وَفی کلِ اثنین وَخَمیس وَفی بَعْضِ الروایٰات عَشِیة الخَمیسِ فَلْیَسْتَحی اَحَدُکُمْ اَنْ یُعْرَضَ عَلیٰ بَنیہٍ العَمَلَ القَبیح“(۱)
بندگان الٰہی کے روزانہ صبح کے وقت حضرت رسول اکرم (ص) کے سامنے ان کے اچھے اور برے اعمال پیش کیے جاتے ہیں اور اسی طرح ان کے سامنے روزانہ شب و روز میں اور ہر دوشنہ اور جمعرات کے دن بھی پیش کیے جاتے ہیں۔ اور بعض روایات کے مطابق جمعرات کے غروب کے موقع پر ، لہٰذا تم میں سے ہر شخص کو پیغمبر اکرم (ص) کے سامنے برے اعمال پیش ہونے سے شرم و حیاء اختیار کرنی چاہیے۔
۳۶۲۔ ”قال الصادق علیہ السلام لداوٴد الرّقیٖ لقد عُرِضَتْ اَعْمٰالُکُمْ عَلَیَّ یَوْمُ الْخَمیس فراٴیت فیما عُرِضَ عَلَیّ مِنْ عَمَلِکَ صِلَتُکَ لاِبْنِ عَمِّکَ فلان فَسَّرَنیٖ ذٰلِکَ “ (۲)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ بصائر الدرجات، ص ۴۴۶۔ بحارالانوار، ج۲۳، ص ۳۴۴۔
(۲)۔ بصائر الدرجات، ص ۴۴۹۔ بحار الانوار، ج۴۷، ص ۹۸۔
امام صادق - نے داؤد رقّی سے فرمایا: تمہارے اعمال ہر جمعرات کے دن ہمارے پاس پیش کیے جاتے ہیں تمہارے اعمال کے درمیان تمہارے چچا کے فرزند کی مدد بھی تھی لہٰذا مجھے اس طرح خوش حال کیا۔
۳۶۳۔ ”وَفی کنز الکراجکی : عَنْ رَسُولِ اللّٰہ (ص) قٰالَ:تُعْرضَ اعْمٰالَ النّٰاسِ فی کُلِ جُمْعَةٍ مَرتینُ یَوْمَ الاثنین ویوم الخمیس فَیُغْفر لِکُلِ عَبْدٍ مُوٴمنِ اِلاَّ مَنْ کٰانَتْ بَیْنہُ وَبَیْنَ اَخیہِ شَحنٰا فَیُقٰالَ اْترکُوا ھذَیْن حتی یَصْطَلِحٰا “ (۱)
صاحب کنز الکراجکی نے رسول خدا (ص) سے نقل کیا ہے کہ آنحضرت (ص) نے فرمایا: ہر ہفتہ دو مرتبہ دو شنبہ اور جمعرات کے دن تمہارے اعمال پیش کےے جاتے ہیں تو ہر مومن کے لیے استغفار کیا جاتا ہے مگر یہ کہ اس کے اور اس کے بھائی کے درمیان عداوت و دشمنی ہو۔ پس کہا جاتا ہے کہ یہ دونوں کو چھوڑ دو یہاں تک کہ دونوں کے درمیان صلح و مصالحت ہوجائے۔
اعمال پیش ہونے کی روایات مختلف اوقات کے شب و روز میں، ہر ہفتہ مہینہ اور سال میں ائمہٴ اطہار کی خدمت اقدس میں پیش کیے جانے کے متعلق بہت زیادہ ہیں ہم نے تبرکاً چند روایت کی طرف اشارہ کیا اور ان سب کے مضمون و مطالب سے اس طرح استفادہ ہوتا ہے کہ وہ عظیم ہستیاں ہمارے نیک اعمال سے مسرور اور خوش حال ہوتی ہیں اور ہمارے ناشائستہ کردار سے ناراض اور غمگین ہوکر طلب مغفرت کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور تمام مومنین کو ہراس عمل کی توفیق کرامت فرمائے جو محمد و آل محمد کے لیے خوش حال ہونے کا باعث ہو۔ آمین
فریاد رسوں کی فریاد سننا
۳۶۴۔ ”ففی توقیعہ․ عجل اللّٰہ تعالیٰ فرجہ - الی الشیخ المفیدۺ : انٰا غیر مُھْمَلینَ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ کنز الفوائد، ص ۱۴۱۔
لِمراعاتِکُمْ وَلاٰ نٰاسینَ لِذِکْرِکُمْ وَلَوْلاٰ ذٰلِکَ لَنَزَلْ بِکُمْ اللاّواء وَاصَطَلَمَکُم الاٴعداءُ “ (۱)
حضرت بقیة اللہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کی ایک توقیع مبارک میں جو شیخ صدوق علیہ الرحمہ کے لیے مرقوم فرمائی ذکر ہوا ہے: ”ہم تمہاری سرپرستی اور دیکھ بھال میں کوتاہی نہیں کرتے اور نہ ہی تم لوگوں کو فراموش کرتے ہیں اور اگر ایسا نہ کرتے تو یقینا تم پر مصیبتیں نازل ہوجاتیں اور دشمن تمہیں جڑ سے ختم کردیتے“۔
مولف کہتے ہیں: ان بزرگوار کا دردمندوں اور فریاد کرنے والوں کی فریاد سننے کے بارے میں ذیل میں نقل ہونے والے واقعہ کو بہ عنوان (حسن ختام) قرار دیتے ہیں جسے شیخ المحدثین الحاج مرزا حسین نوری علیہ الرحمہ نے کتاب جنة الماوی میں ان افراد کے ما تحت نقل کیا ہے کہ جنہوں نے غیبت کبریٰ کے زمانہ میں امام زمانہ - سے ملاقات یا حضرت کے معجزات کا شرف حاصل کیا ہے انہوں نے اس واقعہ کو جناب مجمع الفضائل و الفواضل آخوند ملا علی رشتی طاب ثراہ سے نقل کیا ہے اسے ہم یہاں ذکر کر رہے ہیں:
” قٰال : رَجَعْتُ مَرَّةً مِنْ زِیٰارَةِ اَبی عَبدِ اللّٰہِ علیہ السلام عازِماً لِلنَّجفِ الاشرفِ مِنْ طَریقِ الفُرٰاتِ فَلَما رَکَبنٰا فی بعض البیضِ الصِغٰارِ التی کٰانَتْ بَیْنَ کَرْبَلاٰ وَطُوَیْرج رَاَیْتُ اَھْلَھٰا مِنْ اَھْلِ حِلَةٍ وَمِنْ طُویرج تَفْتَرِقُ طَریقُ الحِلةِ وَالنَجَفْ ، وَاشتَغَلَ الجَمٰاعَةُ بِاللھوِ وَاللَعْبِ وَالمَزاح ، رَاَیْتُ واحِداً مِنْھُمْ لاٰ یَدْخُلُ فی عَمَلِھِمْ ، عَلَیْہِ آثٰارِ السّکینَةِ وَالوَقٰارِ ، لاٰ یُمٰازِحُ وَلاٰ یُضٰاحِکُ وَکٰانْوا یَعیبونَ عَلٰی مَذْھبہ وَیَقْدَحُونَ فیہ ، وَمَع َ ذلکِ کاٴنَ شَریکاً فی اٴکْلِھِم وَشُربِھِم ، فَتعجبت مِنہ الی ان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ احتجاج، ج۲، ص ۳۲۳۔ بحارالانوار، ج۵۳، ص ۱۷۵۔
وَصَلنٰا الی مَحل کاٴنَ الماءُ قَلیلاً ، فَاَخْرَجَنٰا صٰاحِبَ السفینة فکُنّٰا نَمْشِی عَلیٰ شٰاطِی النَّھْرِ فَاتَّفَقَ اجْتماعی مَعَ ھذَا الرَجُل فی الطَریق فساٴلْتُہُ عَنْ سَبَبِ مُجٰانَبَةٍ عَنْ اَصَحٰابِہِ وَذَمِّھِمْ ایٰاہُ وَقَدْحِھِمْ فیہِ ، فَقٰال : ھوٴلاء مِنْ اقاربی مِنْ اَھْلِ السُّنة وَالی مِنْھُمْ وَاُمی مِنْ اَھْلِ الاٴیمانِ وَکُنْتُ ایضاً مِنْھُمْ وَلیکن اللّٰہَ مَنْ عَلَیَ بِالتَشَیَعُ بِبَرَکَہِ الحُجة صٰاحِبْ الزّمٰان علیہ السلام ، فَسَاٴلْتُ عَنْ کَیْفیةِ ایمانِہِ ۔
فَقٰالَ اسمی یٰاقُوتُ ، وَاٴنٰا اَبیعُ الدُھنَ عِنْدَ جِسِرْ الحِلةِ فَخَرَجْتُ فی بَعْضِ السنین جَلْبِ الدُھْنِ مِنْ اَھْلِ البَراری خٰارِجَ الحِلَةِ فبعدت عَنھا بِمراحل ، الی اٴنْ قَضْیَتُ وَطَری مِنْ شَراء ماکُنْتُ اُریدُہُ فمِنہُ وَحَمَلَة عَلی حمٰاری وَرَجَعْتُ مَعَ جَمٰاعة مِنْ اَھل الحِلّةِ وَنَزَلْنٰا فی بَعْضِ المَنٰازِلِ وَنَمْنٰا وَاْبَتَھْتُ ، فَماٴ رَاٴیْتُ اَحَداً مِنْھُمْ وَقَدْ ذَھَبُوا جَمیعاً ، وَکٰانَ طَریقُنا فی بَریة قَفْر ذاتِ سِبٰاع کَثیرةٍ ، لَیْسَ فی اَطْرٰافِھٰا مَعْمُورة الا بَعَد فَراٴسخ کبیرة ، فَقُمْتُ وَجَعَلْتُ الجبل عَلی الحِمٰارِ وَمَشَیْتُ خَلْفَھُمْ فضل عَنی الطَریقُ وَبَقیتُ مُتَحیراً خائِفاً مِنَ السِبٰاع وَالعَطَشِ فی یومةٍ ، فَاَخَذَتُ اٴستَغیث بالخُلَفٰاء وَالمَشٰائخ وَاَساٴلُھُمُ الاٴعانة ، وَجَعَلتَھُم شفَعٰآء عِنْدَ اللّٰہِ تَعالیٰ ، وَتَضرّعت کثیراً فَلَمْ یَظْھَرُ مِنْھُم شَیء فَقُلْتُ فی نَفسی : انی سمِعْتُ مِنْ اَمّی انَّھٰا کاٴنت تَقُول انَ لنٰا اماماً حیاً یُکّنی ابو صالح یرشد الضال ویغیث الملھوف ویعین الضعیف فعاھدت اللّٰہ تعالیٰ ان استغثت بہ فاغاثنی اَنْ اَدْخُلَ فی دینِ امی فَنٰادَیْتُہُ وَاسْتَغَثتُ بِہِ فَاذاً بِشَخْص فی جَنْبی وَھُوَ یَمشیء مَعی وعَلیہِ عَمٰامة خَضْراء ․ قٰالَ وَاَشٰارَ حینئذٍ الی نباتِ حٰافَةِ النھرِ وَقٰالَ: کٰانَتْ خُضْرتُھٰا مِثْلَ خُضْرَةِ ھذاَ النَبٰاتِ ثُمَ دَلْنَی عَلَی الطَریقِ وَاَمَرَنی الدخُولِ فی دینِ اُمی وَذکَرَ کَلَمٰاتٍ نَسیتھٰا․
وَقٰالَ بمَتَصِلَ عَنْ قَریب الی قَرْیَة اَھْلَھٰا جَمیعاً مِنْ الشیعة ، قٰالَ: فَقُلْتُ یٰا سَیدی اَنْتَ لا تَحبیءَ مَعی الی ھذِہِ القرْیة ؟ فَقٰال علیہ السلام مٰا مُعْنٰاہُ: لاٰ لاٴنْہ استَغٰاثَ الف نَفسٍ فی اَطْرافِ البلاد اُریدُ اَنْ اغیثھم ثُمَ غٰاب عنی فماٴ مَشیتُ الا قلیلاً حتیٰ وَصَلْتُ الی القَریة وَکاٴنَتْ فی مَسٰافَةٍ بَعیدةٍ وَوَصَلَ الجمٰاعَةُ الَیھٰا بَعدی بیَومْ․
فَلَمّٰا دَخَلتُ الحلة ذَھَبْتُ الی سید الفُقَہٰاء ، السَیّدِ مَھدی القَزْوینی طٰابَ ثَرٰاہُ وَذَکَرْتُ لَہُ القَصّة فَعَلَّمنی مَعٰالِمَ دٖینٖی ، فَسَاٴلْتُ عَنْہُ عَمَلاً اَتَوَصَّلُ بِہِ اِلیٰ لِقٰائِہِ علیہ السلام مَرّةَ اُخْریٰ ، فَقٰال لی زُرْاَبٰا عَبداللہِ علیہ السلام اِرْبَعینَ لَیْلَة جَمُعة “ (۱)
جایگاہ رضوان آخوند مولا علی رشتی طاب ثراہ کا بیان ہے: ایک مرتبہ میں زیارت حضرت ابا عبد اللہ الحسین - سے فارغ ہوکر فرات (۲) کے راستے سے نجف اشرف کی طرف واپس ہو رہا تھا (ان کی زیارت سے مشرف ہونے والوں پر ہزاروں درود و سلام ہو) اس وقت ایک چھوٹی سی کشتی میں سوار ہوگیا کہ جس میں سب لوگ حلّہ کے رہنے والے تھے اور طویرج (۳) سے نجف و حلّہ کا راستہ جدا ہوجاتا تھا، میں نے دیکھا کہ وہ ساری جماعت لہو و لعب میں مشغول ہے سوائے ایک شخص کے جو اس ہنسی مذاق سے بالکل علیحدہ اور پُرسکون ہے یہاں تک کہ میں نے مشاہدہ کیا کہ اس کے یہاں وقار و سکون کے آثار نمایاں ہیں وہ ان کے اعمال میں شریک نہیں ہوتا ہے اور ان کے ساتھ ہم آہنگ بھی نہیں ہوتا ہے نہ ہی وہ مذاق کرتا ہے نہ ہی ہنستا ہے اور وہ لوگ اس کے مذہب کی نسبت سے اس پر اعتراض اور تنقید کرتے ہیں ، اس کے باوجود اس کے ساتھ آپس میں کھانے پینے میں شریک ہیں، میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ بحار الانوار، ج۵۳، ص ۲۹۳۔
(۲)۔ کربلا اور نجف کے درمیان دو راستے پائے جاتے ہیں زمینی راستہ اور پانی کا راستہ کہ دریائے فرات کے کنارے کو کشتی وغیرہ سے طے کرتے ہیں۔
(۳)۔ کربلا سے تین فرسخ کے فاصلے سے ایک معمولی شہر ہے۔
بہت تعجب میں تھا، یہاں تک کہ ہم لوگ ایک ایسی جگہ پہنچے کہ وہاں نہر کا پانی کم تھا لہٰذا کشتی حرکت نہیں کر رہی تھی (ناچار) صاحب کشتی نے ہم سب کو کشتی سے اتار دیا اور ہم لوگ نہر کے کنارے پا پیادہ چلنے لگے۔
اتفاق سے میں اس شخص کے کنارے قرار پایا، ہم لوگ ہمراہ ہوئے اور میں نے اس سے اپنے دوستوں سے کنارہ گیری کی وجہ دریافت کی اور اس بات کا سبب بھی معلوم کیا کہ کیوں وہ لوگ اعتراض اور ملامت کر رہے تھے؟ جواب دیا: یہ لوگ میری قوم کے رشتہ داروں میں سے ہیں اور اہل سنت و الجماعت ہیں اور میرا باپ بھی انہی لوگوں میں سے ہے لیکن میری ماں اہل ایمان اور شیعہ ہے میں خود بھی سنی اور انہیں کے مذہب پر تھا مگر خدائے عزوجل نے میرے اوپر احسان فرمایا اور حضرت حجّت - (صلوات اللہ علیہ) کی برکت سے شیعہ ہوگیا (اس وجہ سے یہ لوگ مجھے طعنہ دیتے ہیں) یہ سن کر میں نے اس کے ایمان قبول کرنے کی کیفیت دریافت کی تو اس نے بیان کیا: میرا نام یاقوت ہے اور مشغلہ گھر کی تجارت ہے۔ ایک سال مال کی خریداری کے لیے میں حلّے سے باہر دیہات میں گیا ہوا تھا واپسی میں حلّے کے رہنے والوں کے ساتھ ایک جگہ آرام کرنے کے لیے ہم سب اترے اور سوگئے جب میں اٹھا تو دیکھا کہ سب چلے گئے ہیں کسی کا پتہ نہیں جلدی میں میں نے اپنا سامان اپنی سواری پر رکھا اور ساتھیوں کا پیچھا کیا مگر غلط راستہ پر پڑ گیا کہ کیا کروں پیاس کی شدت ، درندوں کا خوف اس حالت میں تضرع و زاری کے ساتھ میں نے خلفاء و مشائخ (اساتذہ) سے فریاد کرنا شروع کی مگر کچھ نہ ہوا اس وقت مجھے خیال آیا کہ میں نے اپنی والدہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ہمارے امام زندہ ہیں ان کی کنیت ”ابو صالح“ ہے وہ گم گشتہٴ راہ کو راستہ بتا دیتے ہیں ، بے کس و بے بس کی فریاد کو پہنچتے ہیں ضعیفوں کی مدد کرتے ہیں لہٰذا میں نے خدا سے یہ عہد کیا کہ ان سے استغاثہ کرتا ہوں اگر انہوں نے مجھ کو نجات دے دی تو اپنی ماں کے مذہب میں داخل ہوجاؤں گا اس کے بعد میں نے ان کو پکارا اور فریاد کی یکایک دیکھا کہ ایک صاحب میرے ہمراہ چل رہے ہیں جن کے سر پر سبز عمامہ ہے (راوی کا بیان ہے: وہ سبزہ زار جو نہر کے کنارے اُگے ہوئے تھے اشارہ کیا کہ ان کا عمامہ انہیں سبزہ زار کی طرح سبز تھا) انہوں نے مجھ کوراستہ بتایا اور ماں کا مذہب اختیار کرنے کا حکم دیا اور بعض کلمات بھی ارشاد فرمائے کہ جنہیں میں فراموش کرچکا ہوں۔
اور فرمایا: تم بہت جلد ایک ایسی بستی میں پہنچ جاؤ گے کہ جہاں کے رہنے والے سب شیعہ ہیں اس وقت میں نے عرض کیا: اے میرے آقا و مولا! کیا آپ میرے ہمراہ اس آبادی تک نہیں چلیں گے؟ ایک بات کہی جس کا مطلب یہ تھا، نہیں، کیوں کہ بہت سے شہروں کے اطراف میں ہزاروں انسان مجھ سے استغاثہ و فریاد کر رہے ہیں جن کی فریاد رسی کے لیے مجھ کو پہنچنا ضروری و لازمی ہے یہ فرما کر وہ میری نظر سے غائب ہوگئے۔
لیکن ابھی میں نے مختصر سا راستہ طے کیا تھا کہ آبادی میں پہنچ گیا حالانکہ مسافت بہت طولانی تھی اور میرے ساتھ والے افراد ایک دن بعد وہاں پہنچے۔ پس جب ہم حلّہ آگئے تو میں سید الفقہاء سید مہدی قزوینی طاب ثراہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور مکمل واقعہ بیان کیا انہوں نے مجھے معالم دین اور تمام احکام تعلیم فرمائے ، اس کے بعد میں نے ایسا عمل بھی ان سے دریافت کیا جو میرے لیے دوبارہ حضرت کی زیارت کی توفیق کا وسیلہ ہوجائے؟ جواب دیا: چالیس شب جمعہ امام حسین - کی زیارت کرو۔
یہ حضرت کی عنایات و الطاف اور حمایت کے بحر بیکران کے قطرہ کا ایک نمونہ تھا جو زمانہٴ غیبت میں رونما ہوا اور اسی طرح آپ کے آباء و اجداد کرام بھی ہیں اللہ تعالیٰ ان کے مبارک ظہور میں تعجیل فرمائے۔ ہمیں آپ کو اور تمام مومنین کو محمد و آل محمد کے واسطہ سے ان کے اعوان و انصار اور شیعوں میں قرار دے۔ آمین۔
[
دیدار کی تعداد : 381]
 |