|
روشنی کی علامت
عزیز تین آسمانی کتاب (قرآن مجید) ان لوگوں کے لیے دلیل و علامت اور ہدایات ہے جو اس کے عالی متون و مضمون اور بطون میں تدبر اور عمیق غور و فکر کرتے ہیں اور گزشتہ انبیاء اور امتوں کے واقعات نیز ظالمین و جابرین کی تاریخ سے عبرت و نصیحت حاصل کرتے ہیں مزید صاحبان عقل اور ذہین افراد کے لیے دقّت و تامّل کے ساتھ اپنے اہداف و مقاصد تک پہنچنے کے لیے علامت و نشانی پائی جاتی ہے۔
۳۸/ ۲۔ روشنی کی علامت
۳۸۔ و آیة لمن توسّم
عزیز تین آسمانی کتاب (قرآن مجید) ان لوگوں کے لیے دلیل و علامت اور ہدایات ہے جو اس کے عالی متون و مضمون اور بطون میں تدبر اور عمیق غور و فکر کرتے ہیں اور گزشتہ انبیاء اور امتوں کے واقعات نیز ظالمین و جابرین کی تاریخ سے عبرت و نصیحت حاصل کرتے ہیں مزید صاحبان عقل اور ذہین افراد کے لیے دقّت و تامّل کے ساتھ اپنے اہداف و مقاصد تک پہنچنے کے لیے علامت و نشانی پائی جاتی ہے۔
اصل ”توسم“ سے مراد دقّتِ نظر ہے، ”سمہ“ میں جس کے معنی علامت کے ہیں جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: <إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِلْمُتَوَسِّمِینَ> (۲)
۲۰۳۔ شیخ جلیل القدر علامہ طبرسی علیہ الرحمہ نے تفسیر مجمع البیان میں ذکر کیا ہے کہ یہ صحیح ہے کہ نبی اکرم (ص) نے فرمایا: ” اتّقوا من فراسة الموٴمن وانّہ ینظر بنور اللّٰہ“ ، مومن کی فراست و
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ الطرائف، سید ابن طاؤوس، ص ۱۳۲۔بحار الانوار ، ج۲۳، ص ۱۲۲۔ خلاصہ عبقات الانوار، ج۴، ص ۶۱۔
(۲)۔ سورئہ حجر، آیت ۷۵۔
ذہانت سے بچو کیوں کہ وہ نور الٰہی کے ذریعہ نظر کرتا ہے۔
نیز فرمایا: ” انّ للّٰ-ہ عباداً یعرفون الناس بالتوسّم ، ثم قرء ھٰذہ الآیة “ (۱)
یقینا اللہ تعالیٰ کے ایسے بندے ہیں جنہیں لوگ علامت کے ذریعہ پہچانتے ہیں پھر اس آیت کی تلاوت کی۔
نیز فرمایا: خدا کے بندوں میں سے بعض ایسے ہیں کہ جنہیں لوگ علامتوں اور نشانیوں سے پہچانتے ہیں کیوں کہ وہ لوگ تمام اندرونی واقعیت کو بیان کرتے ہیں پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی۔
مولف کہتے ہیں: متموسمین سے مراد-: پیغمبر اکرم (ص) ، امیر المومنین - اور ان کی قائم آل محمد تک ذریت طیبہ ہے جو اللہ کی زندہ حجّت صاحب العصر و الزمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ہیں۔
۲۰۷۔ ”وفی الکافی عن الباقر علیہ السلام قال: قال امیر الموٴمنین علیہ السلام فی قولہ تعالیٰ <اِنَّ فِی ذٰلِکَ لآیٰاتٍ لِلْمُتَوَسِّمِینَ >کان رسول اللّٰہ المتوسم وانا من بعدہ والائمّة من ذریّتی المتوسمّون “ (۲)
کافی میں امام محمد باقر - سے روایت نقل کی گئی ہے کہ حضرت نے فرمایا: حضرت امیر المومنین - نے <اِنَّ فِی ذٰلِکَ لآیٰاتٍ لِلْمُتَوَسِّمِینَ > کے بارے میں فرمایا: رسول خدا (ص) متوسم (صاحب فراست) تھے اور ان کے بعد میں ہوں اور میری ذریت میں سے ائمہ ہیں۔
۳۹۔ و جنّة لمن لستلا (اسلحہ سجنے والوں کے لیے بہترین سپر ہے)
”جنة“ سپر ڈھال اور کسی چیز کی حفاظت کرنے کے معنی میں سے، یعنی قرآن مجید ان لوگوں کے لیے ایک سپر اور بہت محکم و مستحکم اسلحہ ہے جو دین و قرآن اور یکتا پرستی کے مخالفین کے مدّ مقابل مسلح رہنا چاہتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ تفسیر مجمع البیان، ج۶، ص ۱۲۶۔
(۲)۔ اصول کافی، ج۱، ص ۲۱۹۔ اختصاص، ص ۳۰۳۔ الخرائج و الجرائح، ج۲، ص ۷۴۸۔ بحار الانوار، ج۲۴، ص ۱۲۷۔
ممکن ہے یہاں ان قاریوں اور حافظوں کے لیے دنیا و آخرت کی سختیوں کے مقابل میں روکنے والی شے مراد ہو۔
اس کا آخرت کی سختیوں اور دشواریوں سے سپر اور ڈھال ہونا بہت زیادہ واضح و روشن ہے کیوں کہ وہ آتش جہنم سے خلاصی کا باعث اور خدائے بزرگ و برتر کے غضب سے نجات کا سبب ہے۔
لیکن دنیا کی سختیوں سے حجاب اور سپر بننے کے متعلق آیہٴ کریمہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: <وَإِذَا قَرَاٴْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَیْنَکَ وَبَیْنَ الَّذِینَ لاَیُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ حِجَابًا مَسْتُورًا > (۱) اور جب تم قرآن پڑھتے ہو تو ہم تمہارے اور آخرت پر ایمان رکھنے والوں کے درمیان حجاب قائم کردیتے ہیں تاکہ تم اس سے مخفی اور پوشیدہ رہو۔
شیخ طبرسی رحمة اللہ علیہ رقم طراز ہیں: کلبی کا قول ہے اس سے ابو سفیان ، نضر ابن حارث، ابوجہل اور ام جمیل ابو لہب کی زوجہ مراد ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر اکرم (ص) کو ان کی آنکھوں سے مخفی اورپوشیدہ قرار دیا جو آنحضرت (ص) کی خدمت میں آئے مگر اس عظیم ہستی کو نہ دیکھ سکے۔
۲۰۸۔ ” فی الصافی من قرب الاٴسناد عن الکاظم علیہ السلام انّ ام جمیل امراٴة ابی لھب اٴتتہ (ص) حین نزلت سورة تبّت ومن النّبی (ص) ابو بکر بن ابی قحافة، فقال : یا رسول اللّٰہ ھذہ امّ جمیل محفظة او مغضبة تریدک ومعھا حجر ترید ان ترمیک بہ فقال (ص) : انّھا لاترانی ․فقالت لابی بکر: این صاحبک ؟ قال: حیث شآء اللّٰہ قالت : لقد جئتہ ولو اراہ لرمتیہ فانّہ ھجانی واللّات والعزّیٰ انّی لشاعرة․ فقال ابوبکر : یا رسول اللّٰہ لم ترک ؟ قال (ص) : لا ضرب اللّٰہ بینی وبینھا حجاباً مستوراً “ (۲)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ اسراء، آیت ۴۵۔
(۲)۔ قرب الاسناد، ص ۳۲۹۔ تفسیر صافی، ج۵، ص ۳۸۹۔ بحار الانوار، ج۱۷، ص ۲۳۵۔
۲۰۹۔ ”فی الکافی باسنادہ عن الاصبغ بن نباتة عن امیر الموٴمنین علیہ السلام انّہ قال : والّذی بعث محمداً بالحقّ واکرم اھل بیتہ ما من شیء تطلبونہ من حرز ممّن حرق او غرق او سرق او اتلاف دابّة من صاحبھا او آبق الاّ وھو فی القرآن ، فمن اراد ذٰلک فلیسالنی عنہ․
قال: فقام الیہ رجل فقال: یا امیر الموٴمنین اخبرنی عمّا یوٴمن من الحرق والغرق؟ فقال علیہ السلام اقرء ھذہ الآیات․
<اللهُ الَّذِی نَزَّلَ الْکِتَابَ وَہُوَ یَتَوَلَّی الصَّالِحِینَ>(۱)<وَمَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِہِ وَالْاٴَرْضُ جَمِیعًا قَبْضَتُہُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَالسَّماوَاتُ مَطْوِیَّاتٌ بِیَمِینِہِ سُبْحَانَہُ وَتَعَالَی عَمَّا یُشْرِکُون>(۲) فمن قراٴھا فقد امن من الحرق والغرق قال فقراٴھا رجل واضطر مت النّار فی بیوت جیرانہ وبیتہ وسطھا فلم یصبہ شیء․
ثم قام الیہ رجل آخر فقال : یا امیر الموٴمنین انّ دابّتی استصعبت علیّ وانا منھا علیٰ وجل فقال علیہ السلام : اقرء فی اذنھا الیمنیٰ < وَلَہُ اٴَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ طَوْعًا وَکَرْہًا وَإِلَیْہِ یُرْجَعُونَ>(۳) فقراٴھا فذلّت دابتہ․
وقام الیہ آخر فقال : یا امیر الموٴمنین ان ارضی ارض مسبعة انّ السباع تغشیٰ منزلی ولا تجوز حتی تاٴخذ فریستھا ․ فقال علیہ السلام : اقراء <لَقَدْ جَائَکُمْ رَسُولٌ مِنْ اٴَنفُسِکُمْ عَزِیزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِینَ رَئُوفٌ رَحِیمٌ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِی اللهُ لاَإِلَہَ إِلاَّ ہُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَہُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ> (۴)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ اعراف، آیت ۱۹۶۔
(۲)۔ سورئہ زمر، آیت ۶۷۔
(۳)۔ سورئہ آل عمران، آیت ۸۳۔
(۴)۔ سورئہ توبہ، آیت ۱۲۸ و ۱۲۹۔
فقراھما الرّجل فاجتنبتہ السّباع․
ثم قام الیہ آخر فقال : یا امیر الموٴمنین انّ فی بطنی مآء اصفر فھل من شفآء ؟
فقال نعم بلادرھم ولا دینار ولکن اکتب علی بطنک آیة الکرسی وتغسلھا و تشربھا و تجلعھا ذخیرة فی بطنک فتبرء باٴذن اللّٰہ عزّوجلّ ففعل الرجل فبرء باذن اللّٰہ․
ثم قام الیہ آخر فقال یا امیر الموٴمنین اٴخبرنی عن الضّالّة ؟ فقال علیہ السلام : اقرء یسٓ فی رکعتین و قل یا ھادی الضالّة رد علیّ ضالّتی ، ففعل فردّ اللّٰہ علیہ ضالّتہ․
ثم قام الیہ آخر فقال یا امیر الموٴمنین اٴخبرنی عن الاٴبق ؟ فقال علیہ السلام : اقرء <اٴَوْ کَظُلُمَاتٍ فِی بَحْرٍ لُجِّیٍّ یَغْشَاہُ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِہِ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِہِ سَحَابٌ ظُلُمَاتٌ بَعْضُہَا فَوْقَ بَعْضٍ إِذَا اٴَخْرَجَ یَدَہُ لَمْ یَکَدْ یَرَاہَا وَمَنْ لَمْ یَجْعَلِ اللهُ لَہُ نُورًا فَمَا لَہُ مِنْ نُور>(۱) فقالھا الرجل فرجع الیہ الآبق․
ثم قام الیہ آخر فقال : یا امیر الموٴمنین اٴخبرنی عن السّرق فانّ لایزال قد یسرق لی الشیء بعد الشیء لیلاً فقال لہ : اقرء اذا ٓویت الی فراشک <قُلْ ادْعُوا اللهَ اٴَوْ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ - الیٰ قولہ - کَبِّرْہُ تَکْبِیرًا >(۲)
ثم قال امیر الموٴمنین علیہ السلام : من بات بارض قفر فقراٴ ھذہ الآیة <إِنَّ رَبَّکُمْ اللهُ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ فِی سِتَّةِ اٴَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْشِ -الیٰ قولہ - تَبَارَکَ اللهُ رَبُّ الْعَالَمِینَ >(۳) حرستہ الملائکة وتباعدت عنہ الشیاطین․
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ نور، آیت ۴۰۔
(۲)۔ سورئہ بنی اسرائیل، آیت ۱۱۰، ۱۱۱۔
(۳)۔ سورئہ اعراف، آیت ۵۴۔
قال: فمضی الرجل فاذا ھو بقریة خراب فیھا لم یقرء ھٰذہ الآیة فغشاہ الشیاطین واذا ھو آخذ بخطمہ ، فقال لہ صاحبہ : انظرہ واستیقظ الرجل فقراء الآیة فقال الشیطان لصاحبہ ارغم اللّٰہ اٴنفک احرسہ الاٴن حتیٰ یصبح․
فلما اصبح رجع الیٰ امیر الموٴمنین علیہ السلام فاٴخبرہ فقال لہ راٴیت فی کلامک الشفاء والصّدق ومضی بعد طلوع الشمس فاذا ھو باثر شعر الشیاطین مجتمعاً فی الارض “ (۱)
علامہ کلینی رحمة اللہ علیہ کتاب کافی میں اپنی سند کے ساتھ اصبغ ابن نباتہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے مولا امیر المومنین - سے روایت کی ہے کہ حضرت نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی! جس نے محمد مصطفی (ص) کو حق کے ساتھ بھیجا اور ان کے اہل بیت کو صاحب عزت و کرامت قرار دیا کوئی چیز (تمہاری دنیا میں ایسی) نہیں ہے کہ جس سے تم پناہ حاصل کرنا چاہو جلنے سے ڈوبنے سے چوری سے یا چوپایہ کا اپنے مالک سے بھاگ جانے یا انسان یا چوپایہ کا گم ہوجانا یا آقا کے غلام کا بھاگ جانا تو ان سب کی حفاظت کے اسباب و وسائل قرآن مجید میں پائے جاتے ہیں جو شخص بھی ان امور میں سے یا ان جیسی چیزوں میں مبتلا ہے مجھ سے سوال کرے تاکہ اسے میں اس کی تدبیر بیان کروں۔
راوی کا بیان ہے: ایک شخص نے بلند ہو کر کہا: اے امیر المومنین! مجھے وہ چیز بتائیے جس سے جلنے اور ڈوبنے سے نجات ملے؟ تو امام - نے فرمایا: ان آیات کو پڑھو <اللّٰہ الذی ۔۔۔ عما یشرکون> لہٰذا جو شخص ان آیات کو پڑھے وہ جلنے اور غرق ہونے سے امن و امان میں ہوگا۔ راوی کا بیان ہے: اس شخص نے جب ان آیات کو اپنے ہمسائے کے گھروں میں آگ لگنے کے موقع پر پڑھا جب کہ اس شخص کا گھر ان کے درمیان تھا تو کسی بھی قسم کا کوئی ضرر اسے نہیں پہنچا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ اصول کافی، ج۲، ص ۶۲۴۔
پھر ایک دوسرا شخص اپنی جگہ سے بلند ہوا اور کہا: یا امیر المومنین! میرا دابہ (گھوڑا یا دوسری سواری کا حیوان) سرکش ہوگیا ہے رکاب پر نہیں بیٹھنے دیتا میں اس سے نزدیک ہونے سے ڈرتا ہوں تو حضرت- نے فرمایا: اس کے داہنے کان میں اس آیت <وَلَہُ اٴَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ طَوْعًا وَکَرْہًا وَإِلَیْہِ یُرْجَعُونَ > کو پڑھو جب اس نے پڑھا تو اس کا گھوڑا سرکشی سے باز آیا اور اس مرد کے لیے قابل استفادہ قرار پایا۔
تیسرا شخص بلند ہوا اور کہا: یا امیرا لمومنین -! میرے پاس ایک زمین ہے اس میں درندے حیوانات بہت زیادہ ہیں۔ ناگہاں میرے گھر آتے ہیں تو واپس نہیں جاتے مگر یہ کہ اپنے کھانے کا حصہ گوسفند وغیرہ اٹھا کر لے جاتے ہیں تو امام - نے فرمایا: اس آیہٴ کریمہ <لَقَدْ جَائَکُمْ رَسُولٌ مِنْ اٴَنفُسِکُمْ عَزِیزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِینَ رَوٴُفٌ رَحِیمٌ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِی اللهُ لاَإِلَہَ إِلاَّ ہُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَہُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ > کو پڑھو اس شخص نے ان دونوں آیتوں کو پڑھا تو پھر دوبارہ وحشی حیوانات اس کے گھر کے اطراف نہیں گئے۔
پھر ایک اور شخص اپنی جگہ بلند ہوا اور کہا : یا امیر المومنین -! میرے شکم میں زرد پانی ہوگیا ہے کیا اس درد اور مشکل سے شفا پانے کا میرے لیے کوئی امکان پایا جاتا ہے؟ تو امام - نے فرمایا: ہاں بغیر ایک درہم یا دینار خرچ کیے تم اپنے شکم پر آیت الکرسی لکھو اس کو پانی سے دھو کر پی لو تاکہ تمہارے شکم کے اندر ذخیرہ ہوجائے اذن خدا سے تم صحت یاب اور شفا پاجاؤ گے اس شخص نے حضرت - کے دستور کے مطابق عمل کیا اور اپنی صحت و سلامتی حاصل کرلی۔
ایک دوسرا شخص بلند ہوا اور کہا: یا امیر المومنین -! مجھے میرے گم شدہ کی تلاش کے لیے راہ تدبیر بتائیں؟ تو حضرت - نے فرمایا: دو رکعت نماز پڑھو اور دونوں رکعتوں میں سورئہ یٰسین پڑھو اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد کہو : یا ھادی الضالة ردّ علیّ ضالتی۔ اس شخص نے حضرت - کے قول پر عمل کیا نماز پڑھی اور اللہ تعالیٰ نے اس کے گم شدہ کو واپس کردیا۔
پھر کوئی دوسرا شخص بلند ہوا اور کہا: یا امیر المومنین -! مجھے اس غلام کے بارے میں خبر دیجیے جو اپنے مولا کے ہاتھ سے فرار کر جائے؟ تو امام نے فرمایا: مکمل آیہٴ کریمہ <> پڑھو ، اس شخص نے اس آیت کی تلاوت کی اس کا جو غلام فرار کر گیا تھا اپنے مولا کے پاس واپس آگیا۔
پھر ایک اور شخص بلند ہوا اور کہا: یا امیر المومنین! مجھے ان چیزوں کے بارے میں بتائیں جو چوروں نے چوری کی ہیں کیونکہ کوئی رات ایسی نہیں گزرتی جس میں میری کوئی چیز چوری نہ ہوتی ہو۔ تو اس عظیم ہستی نے فرمایا: تم اپنے بستر پر جاؤ تو اس آیہٴ کریمہ <قُلِ ادْعُوا اللّٰہَ - تا- وَ کَبِّرْہُ تَکْبِیراً> کو پڑھو۔
پھر حضرت امیر المومنین - نے فرمایا: جو شخص بے آب و گیاہ صحرا میں سوئے اور ان آیات <> کو پڑھے تو ملائکہ اس کی حفاظت کریں گے اور شیاطین اس سے دور رہیں گے۔
راوی کا بیان ہے: ایک شخص ایک خرابہ میں پہنچا رات وہاں بسر کی لیکن مذکورہ آیات کو نہیں پڑھا تو شیاطین آئے اور اس کا احاطہ کرلیا حالانکہ وہ اپنے دماغ کو پکڑے ہوئے تھا۔ ایک شیطان نے دوسرے سے کہا: اس کی طرف دیکھو اسی وقت وہ شخص بیدار ہوا اور آیت پڑھی تو شیطان نے اپنے ساتھی سے کہا: خدا نے تمہاری ناگ رگڑ دی اب اس کی طلوع فجر تک حفاظت کر جب صبح ہوئی تو وہ شخص حضرت امیر المومنین - کے پاس آیا اور تمام واقعہ کی انہیں اطلاع دی اور عرض کیا کہ آپ کے کلام میں شفا اور سچائی کا میں نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا جب سورج نکلا اور تمام سطح زمین کو روشن کر دیا تو وہ شخص پھر خرابہ میں گیا وہاں اس کو شیطان کے بال زمین پر کھڑے ہوئے ایک جگہ نظر آئے۔
مولف کہتے ہیں: ولایت عظمیٰ حجّت حق خاتم الاوصیاء امام عصر ناموس دھر مہدی آل محمد -اور ان کے اجداد کرام بھی مومنین اور خاندان عصمت و طہارت کے چاہنے والوں کے لیے عذاب الٰہی اور آتش جہنم سے بچانے کے لیے سپر اور مانع ہیں۔
۲۱۰۔ ” وفی البحار عن الصدوق رضوان اللّٰہ تعالیٰ فی جملة من کتبہ عن القطّان عن عبد الرّحمٰن بن محمّد الحسینی عن محمّد بن ابراہیم الفزاری عن عبد اللّٰہ بن بحر الاھوازی عن علیّ بن عمر وعَن الحَسَن بن محمّد بن جمھور عَن عَلیّ بن بلال عَن عَلی بن موسیٰ الرّضا عَن موسیٰ بن جعفر عن جعفر بن محمّد بن محمّد بن علی عن علیّ بن الحسین عن الحسین بن علی عن علی بن ابی طالب علیہم السلام عن النّبی (ص) عن جبرئیل عن میکائیل عن اسرافیل عن اللّوح عن القلم قال یقول اللّٰہ عزوجلّ ولایة علی بن ابی طالب حصنی فمن دخل حصنی امن من عذابی “ (۱)
ہمارے شیخ بزرگوار علامہ مجلسی رحمة اللہ علیہ نے شیخ جلیل القدر علامہ صدوق رحمة اللہ علیہ سے کہ جنہوں نے اپنی متعدد حدیث کی کتابوں میں نقل کیا ہے اس کی سند کو حضرت علی ابن موسی الرضا - سے انہوں نے اپنے آبائے کرام اور رسول خدا (ص) سے انہوں نے جبرئیل، میکائیل اور اسرافیل سے انہوں نے لوح و قلم سے نقل کیا ہے کہ خدائے بزرگ و برتر فرماتا ہے: علی ابن ابی طالب کی ولایت و محبت میرا محکم قلعہ اور حصار ہے،لہٰذا جو شخص بھی اس قلعہ اور حصار میں داخل ہوگیا وہ میرے عذاب سے امن و امان پا گیا ہے۔
۲۱۱۔ ”وفی امالیہ باسنادہ عن ابان بن تغلب عن عکرمة عن ابن عبّاس قال قال رسول اللّٰہ (ص) قال اللّٰہ جلّ جلالہ لو اجتمع النّاس کلّھم علیٰ ولایة علي علیہ السلام ما خلقت النار
۲۱۲۔ اسی جیسی روایت کو الفاظ کے مختصر معانی کے ساتھ خطیب خوارزمی نے اپنی کتاب مناقب میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ عیون اخبار الرضا، ج۱، ص ۱۴۶۔ امالی صدوق، ص ۳۰۶۔ معانی الاخبار، ص ۳۷۱۔ بحار الانوار، ج۳۹، ص ۲۴۶۔
حضرت رسول خدا (ص) سے نقل کیا ہے کہ آنحضرت (ص) نے فرمایا: ”قال : قال رسول اللّٰہ (ص) : لو اجتمع النّاس علیٰ حبّ علیّ بن ابی طالب علیہ السلام لما خلق اللّٰہ عزّوجلّ النّار “
اگر تمام لوگ علی ابن ابی طالب کی ولایت و محبت کو قبول کرتے اور ہر ایک کے اتفاق اور ہم آہنگی سے اس کو مرکزی نقطہ قرار دے کر اس کے اطراف میں جمع ہوتے تو اللہ تعالیٰ کبھی بھی آتش جہنم کو خلق نہ کرتا۔
ائمہٴ اطہار کی ولایت و محبت بہت ہی قوی اور مستحکم قلعہ نیز مومنین اور حضرات معصومین کے دوستوں کے لیے آتش جہنم سے محفوظ رہنے کے لیے مستحکم حجاب ہے اس کے علاوہ منجملہ اسلام اور ایمان کے ثابت اور پا برجا ستونوں میں سے ایک ستون ہے۔
۲۱۳۔ ”فی الکافی عن زرارة عن ابی جعفر الباقر علیہ السلام قال بنی الاسلام علیٰ خمسة اٴشیآء علیٰ الصّلٰوة والزّکٰوة والصٴوم والحجٴ وَالولایَة قال زرارَة فقلت وَایّ شَیء من ذٰلِک افضل قال الولایة افضل لانھا مفتاحھنّ والوالی ھو الدّلیل علیھنّ قلت ثمّ الذی یلی ذٰلک فی الفضل فقال الصّلٰوة انّ رسول اللّٰہ (ص) قالَ الصّلٰوةَ عَمُودُ الدین دینکُم قالَ قُلتُ ثَمَّ الذی یَلیھا فی الفَضِل قالَ الزّکٰوةُ لاٴنّھا قَرَنَھا بِھا وَبَدَء بِالصَّلاة قَبلھَا وَ قالَ رَسولُ اللّٰہ (ص) الزّکوة تذھب الذّنوب قلت والذی یلیھا فی الفضل قال الحجّ قال اللّٰہ عزّوجلّ وللّٰہ علی الناس حجّ البیت لآیة الیٰ ان قال ثمّ قال علیہ السالم ذروة الاٴمر وسنامہ ومفتاحہ وباب الاٴشیآء ورضا الرّحمن الطّاعة للامام بعد معرفتہ انی اللّٰہ عزّوجلّ یقول من یطع الرّسول فقد اطاع اللّٰہ ومن تولّی فما ارسلناک علیھم حفیظاً ، امٰا لو انّ رجلاً قام لیلہ وصام نھار ہ وتصدّق بجمیع مالہ وحجّ جمیع دھرہ ولم یعرف ولایة ولیّ اللّٰہ فیوالیہ ویکون جمیع اعمالہ بدلالتہ الیہ ماکان لہ علی اللّٰہ حق فی ثوابہ ولا کان من اھل الایمان ثمّ قال اولئک المحسن منھم یدخلہ اللّٰہ الجنّة بفضل رحمة “ (۱)
شیخ جلیل القدر علامہ کلینی علیہ الرحمہ نے کتاب کافی میں زرارہ سے انہوں نے امام محمد باقر - سے روایت کی ہے کہ حضرت نے فرمایا: اسلام کی اساس و بنیاد پانچ چیزوں پر استوار ہے اور وہ پانچوں ستون سے مراد نماز، زکوٰة، روزہ، حج بیت اللہ اور ائمہٴ اطہار کی ولایت ہے۔
زرارہ نے عرض کیا: ان پانچ چیزوں میں سے کون سے چیز سب سے افضل ہے؟ فرمایا: ولایت افضل ہے، اس لیے کہ ولایت ان سب کی کنجی ہے اور ان سب چیزوں کا والی اور دلیل و رہنما ہے۔ میں نے عرض کیا: ولایت کے بعد کون سی شے افضل ہے؟ فرمایا: نماز ، یقینا رسول خدا (ص) نے فرمایا ہے کہ نماز تمہارے دین کا ستون ہے میں نے عرض کیا: نماز کے بعد کون سی شے افضل ہے؟ فرمایا: زکوٰة کیوں کہ اللہ نے نماز کے بعد اس کا ذکر فرمایا ہے، رسول خدا نے فرمایا: زکوٰة گناہوں کو دور کرتی ہے، میں نے عرض کیا: زکوٰة کے بعد کون سی شے افضل ہے؟ فرمایا: حج بیت اللہ کیوں کہ خدائے بزرگ و برتر نے فرمایا: خدا کے لیے ان لوگوں پر امکانی صورت میں خانہٴ کعبہ کی طرف حج کا سفر فرض قرار دیا گیا ہے جو وہاں پہنچنے اور مخصوص اعمال بجالانے کی قدرت رکھتے ہیں یہاں تک کہ فرمایا: عالی ترین اور با ارزش ترین امور اور ان کی کنجی تمام چیزوں میں خدائے غفور و رحیم کی رضایت اور خوشنودی ہے اور اس کی معرفت کے بعد امام معصوم کی اطاعت و فرماں برداری ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ آیہٴ کریمہ میں فرما رہا ہے: جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے یقینا اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جو شخص تجھ سے گریز کرے اور تیری اطاعت نہ کرے تو میں نے تم کو اس کا حفاظت کرنے والا نہیں بنا کر بھیجا ہے۔
پھر امام - نے ائمہٴ طاہرین کی عظیم ولایت کی عظمت ومنزلت کی اہمیت کو لوگوں سے تاکید اور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ اصول کافی، ج۲، ص ۱۹۔
وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: اور یہ کہ تمام مذکورہ اشیاء کی کنجی پروردگار متعال کی رضایت و خوشنودی کا حاصل کرنا وہی ولایت ہے اپنے تہدید آمیز اور بیدار کرنے والے جملوں میں فرمایا: یہ جان لو اور آگاہ ہوجاؤ کہ! اگر تم میں سے کوئی شخص تمام رات و دن کو نماز و روزہ میں بسر کرے اور اپنے تمام مال و دولت کو راہِ خدا میں صدقہ دے اور اپنی تمام عمر کو زیارت خانہ ٴخدا اور حج بیت اللہ میں صرف کرے لیکن ولی امر کی ولایت کی معرفت نہ رکھتا ہو تاکہ اس کا چاہنے والا اور فرماں بردار نیز اپنے تمام اعمال اس کی رہنمائیوں کے مطابق انجام دے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے لیے نہ اس کے اعمال کا کوئی ثواب ہوگا اور اس کا شمار اہل ایمان میں بھی نہیں ہوگا۔
اس کے بعد امام - نے فرمایا: جو لوگ ہماری ولایت کی شناخت و معرفت رکھتے ہیں اور خدا کے مطلوبہ نیک اعمال انجام دیتے ہیں تو خدائے غفور رحیم اپنے فضل و رحمت سے بہشت میں داخل کرے گا اور اس کی لامتناہی نعمتوں سے اسے نوازے گا۔
۴۰/ ۲۔ علم و دانش
۴۰۔ و علما لمن وعیٰ (اور فکر کرنے والوں کے لیے علم ہے)
قرآن مجید کو خدائے بزرگ و برتر نے مبداٴو معاد کا کامل علم قرار دیا ان لوگوں کے لیے جو اس کو محفوظ رکھنے اور غور وفکر کرنے کے لیے اپنے قلب کی طرح اسے اس ظرف کی طرح قرار دیتے ہیں جس میں گراں قدر گوہروں کی حفاظت کی جاتی ہے۔
۲۱۴۔ طریحی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا: (ائمہ کی ) حدیث میں ذکر ہوا ہے : ”لایعذّب اللّٰہ قلباً وعی القرآن ․“ (۱)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ وسائل الشیعہ، ج۶، ص ۱۶۷۔ امالی طوسی، ص ۷۔ مجمع البحرین، ج۴، ص ۵۲۴۔
خداوند متعال اس قلب پر عذاب نہیں کرے گا جو قرآن کا حافظ اور محافظت کرنے والا ہے یعنی اگر قرآن کو ایمان و اعتقاد اور غور وفکر کرنے کے بعد درک کیا اور اس پر عمل کیا تو اللہ تعالیٰ اس کو عذاب نہیں کرے گا لیکن اگر کسی نے صرف ظاہری الفاظ کو حفظ کیا اور اس کے حدود و احکام کو ضائع کیا تو اس شخص پر حافظ اور اس کی محافظت کرنے والے کا اطلاق نہیں ہوگا۔
۲۱۵۔ ”وفی ثواب الاعمال عن الصادق علیہ السلام الحافظ للقرآن العامل بہ مع السّفرة الکرام البررة “ (۱)
ثواب الاعمال میں امام جعفر صادق - سے منقول ہے کہ حضرت - نے فرمایا: حافظ قرآن جو اس پر عمل کرنے والا بھی ہو خدا کے صاحب کرامت اور نیکو کار پیغمبروں کے ساتھ ہوگا۔
۲۱۶۔ دوسری حدیث کے الفاظ یہ ہیں: خیر القلوب او عاھا (۲) بہترین قلوب سے مراد وہ قلب ہے کہ جس کی قرآن حفظ کرنے کی ظرفیت و صلاحیت زیادہ ہو۔ جو یقینا زیادہ علم قرآن جمع اور حفظ کرے اتنی ہی اس قلب کی ارزش ہوگی اور معیار بلند ہوگا۔
خدائے بزرگ و برتر نے مومنین کو ظرف اور قائم آل محمد امام زمانہ - اور تمام ائمہٴ اطہار کی ولایت و محبت کے استقرار کی جگہ قرار دی ہے وہ قلب و جگر جو اِن عظیم ہستیوں کی ولاء و محبت کا حامل ہو تو اس میزان کے پلہ کا معیار اس کے دوسرے پلہ کے مقابل میں یہاں تک کہ اگر تمام وہ چیزیں جن پر آفتاب کی روشنی پڑتی ہے رکھ دیں تو وہی پہلا پلہ سنگین ہوگا ۔
۲۱۷۔ ” فی الاختصاص باسنادہ عن محمّد بن اسماعیل بن عبد الرّحمٰن الجعفی قال دخلت انا وعمّی الحصین بن عبد الرّحمٰن علی ابی عبد اللّٰہ علیہ السلام فاٴدناہ وقال ابن من ھذا معک ․؟ قال ابن اخی اسماعیل فقال رحم اللّٰہ اسماعیل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ ثواب الاعمال، ص ۱۰۱۔
(۲)۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج۲۰، ص ۲۷۱۔
وتجاوز عنہ صیّ عملہ کیف خلّفتموة قال بخیر ما آتاہ اللّٰہ لنا من موّدتکم فقال یا حصین لا تستصغر وا مودّتنا فانّھا من الباقیات الصالحات قال یابن رسول اللّٰہ ما استصغرتھا ․ولٰکن احمد اللّٰہ علیھا “ (۱)
شیخ مفید نے کتاب اختصاص میں اپنی سند کے ساتھ محمد ابن اسماعیل ابن عبد الرحمن جعفی سے روایت کی ہے کہ ان کا بیان ہے:
میں اپنے چچا حصین ابن عبد الرحمن کے ہمراہ امام جعفر صادق - کی خدمت اقدس میں شرف یاب ہوا تو امام - نے میرے چچا کو اپنے پاس نہیں بٹھایا اور دریافت کیا: یہ جو تمہارے ساتھ ہے وہ کس کا فرزند ہے؟
میرے چچا نے جواب دیا: وہ میرے بھائی اسماعیل کا بیٹا ہے۔
تو امام - نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اسماعیل کی مغفرت اور اس کی کوتاہیوں سے درگزر فرمائے، ان سے کس حالت میں جدا ہوئے؟
میرے چچا نے جواب دیا: اس سے بہترین حالت میں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی ولایت اس کو عطا کی تھی ہم نے انہیں ترک کیا۔
فرمایا: اے حصین! ہماری مودت و محبت ناچیز اور معمولی نہ شمار کرو کیوں کہ وہ باقیات الصالحات میں سے ہے۔
میرے چچا نے کہا: اے فرزند رسول (ص)!میں نے اسے ناچیز اور معمولی نہیں شمار کیا ہے بلکہ میں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے زبان سے یہ جملہ کہا ہے۔
ائمہ - کی مودت و محبت بھی باقیات الصالحات اور آخرت کی ہلاکتوں سے نجات دلانے والی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ اختصاص، ص ۸۶۔مناقب ابن شہر آشوب، ج۳، ص ۳۴۳۔ بحار الانوار، ج۲۷، ص ۷۵۔
۴۱/۲۔ بہترین کلام
۴۱۔ و حدیثاً لمن رویٰ (اور روایت کرنے والوں کے لیے بہترین حدیث ہے)
خدائے بزرگ و برتر نے قرآن کریم کو جو اس کی روایت کرتے ہیں بہترین حدیث قرار دیا ہے۔
شیخ بزرگوار امین الاسلام علامہ طبرسیۺ نے اپنی تفسیر میں آیہٴ کریمہ <اللهُ نَزَّلَ اٴَحْسَنَ الْحَدِیثِ کِتَابًا مُتَشَابِہًا مَثَانِیَ تَقْشَعِرُّ مِنْہُ جُلُودُ الَّذِینَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ > (۱) اللہ نے بہترین کلام اس کتاب کی شکل میں نازل کیا ہے جس کی آیتیں آپس میں ملتی جلتی ہیں اور بار بار دہرائی گئی ہیں کہ ان سے خوف خدا رکھنے والوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ کے ذیل میں فرماتے ہیں: یعنی اللہ تعالیٰ نے قرآن کا حدیث نام رکھا وہ اس لیے ہے کہ کلام خدا ہے اور کلام کو حدیث کہا جاتا ہے جیسا کہ پیغمبر (ص) کا بھی حدیث نام رکھا گیا ہے۔
اور یہ کہ احسن حدیث کہا گیا ہے تو وہ اس لیے کہ اس میں بہت زیادہ اعجاز اور فصاحت پائی جاتی ہے نیز ان تمام چیزوں پر مشتمل ہے کہ جس کے تمام مکلفین محتاج ہیں جیسے توحید و عدل کی دلیلوں کی یاد دہانی، احکام شرائع کا بیان وغیرہ موعظے ، انبیاء کے قصے اور بشارت و نذارت۔
اور یہ کہ کتاب کو متشابہ کہا گیا تو وہ اس وجہ سے ہے کہ بعض آیات دوسری آیتوں سے مشابہت رکھتی ہیں اور ان میں سے بعض آیات ، بعض دوسری آیات کی تصدیق کرتی ہیں بغیر اس کے کہ اس میں کوئی اختلاف یا تضاد پایا جاتا ہو۔
معادن و حی و تنزیل اور آسمان ولایت و امامت کے درخشاں ستاروں سے وارد شدہ حدیثیں خواہ موعظے، خطبات ، کلمات قصار وغیرہ ہوں یا فصاحت و بلاغت اور اعجاز کی حیثیت سے ہوں یا بشار ت نذارت اور احکام شرائع کی تفسیر وضاحت کے نقطہٴ نظر سے یا فضائل و مناقب وغیرہ کے لحاظ سے ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ زمر، آیہ ۲۳۔
خوبصورت اور ایسی بہترین حدیث ہے کہ ہر بیان کرنے والے ،لکھنے اور سننے والے کے قلب کی پاکیزگی نیز ضمیر کو روشن کرنے اور تزکیہ نفس کے لیے آمادہ کرتی ہے۔
مزید یہ کہ انسان کے دل سے تمام قسم کی آلودگیوں کو ختم کرتی ہےں بالخصوص وہ احادیث جو حضرت خاتم الاوصیاء قائم آل محمد بقیة اللہ الاعظم امام عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی ولادت اور غیبت صغریٰ و کبریٰ کو بیان کرتی ہیں اسی طرح وہ روایات جو حضرت کے ظہور کی علامتوں پر مشتمل ہیں نیز امت کے نیک بخت بعض وہ افراد کہ جنہیں اس عزیز محمد اور یوسف فاطمی روحی و ارواح العالمین لہ الفداء سے شرفِ ملاقات حاصل ہوا خواہ ان کے پدر بزرگوار حضرت امام حسن عسکری - کی زندگی میں یا خواہ غیبت صغریٰ کے دوران یا خواہ غیبت کبریٰ کے زمانے میں جو تمام افسردہ دلوں اور پژمردہ روحوں کے مخفی تمام درد کا بہترین اور عالی ترین درمان و علاج ہے۔
ان افراد کے واقعات کو پڑھنا یا سننا جو اس عظیم فیض پر فائز اور حضرت کا شرف حضور حاصل کیا ہے ایسا ولولہ انگیز اور دل افزا ہے کہ فطری طور پر شرف یابی کا ہیجان اور شوق پیدا کرتا ہے اور نتیجہ میں نفس کی پاکیزگی اور تہذیب و اخلاق کا سبب ہوتا ہے۔ اب ہم تبرکاً ان میں سے چند مورد کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
۱۔ اس سلسلہ میں کہ ائمہٴ اطہار کی احادیث انسانی قلوب کو تمام پلیدگیوں اور آلودگیوں سے جو خطاؤں اور گناہوں سے نشاٴة پاتی ہیں صاف کرتی اور جلا بخشتی ہیں ہم ان میں سے دو روایت بیان کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔
۲۱۸۔ ”فی الکافی باسنادہ عن عبد اللّٰہ بن محمّد الحجّال عن بعض اصحابہ رفعہ قال قال رسول اللّٰہ (ص) تذاکروا وتلاقوا وتحدّثوا فانّ الحدیث جلآء للقلوب انّ القلوب لترین کما یرین السّیف جلآوٴھٰا “ (۱)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ اصول کافی، ج۱، ص، ۴۱۔ بحار الانوار، ج۱، ص ۲۰۲، ج۲ ، ص ۱۵۲۔
شیخ بزرگور علامہ کلینی رحمة اللہ علیہ نے کافی میں حضرت رسول خدا (ص) سے روایت نقل کی ہے کہ آنحضرت (ص) نے فرمایا: علم دین کا آپس میں ذکر کیا کرو اور ایک دوسرے سے ملاقات کرو اور آپس میں ہماری حدیثوں کے بارے میں گفتگو کیا کرو کیوں کہ ہماری حدیثوں کا ذکر کرنا اور سننا قلوب کو جلا بخشتا ہے، کیونکہ قلوب نافرمانی کی وجہ سے کثیف اور زنگ آلود ہوجاتے ہیں جس طرح تلوار، اگر اپنے مخصوص تیل سے روغن مالی نہ کی جائے تو زنگ آلود اور خراب ہوجاتی ہے اس بنا پر شمشیر کو اسلحہ کے تیل سے صیقل کرنے سے جلا ملتی ہے اسی طرح دلوں کو بھی ائمہٴ ہدی کی حدیثوں سے جلا ملتی ہے۔
۲۱۹۔ ” وفی نہج البلاغہ من کلام امیر الموٴمنین علیّ بن ابی طالب علیہ السلام قال علیہ السلام انّ ھذہ القلوب تملّ کما تملّ الاٴبدان فابتغوا لھا طرائف الحکم“ (۱)
مولی الموحدین حضرت امیر المومنین - کے من جملہ گُہر بار اقوال میں سے ہے کہ آپ نے نہج البلاغہ میں فرمایا: یہ دل اسی طرح ملول و خستہ اور اُکتا جاتے ہیں جس طرح بدن بہت سے کام زحمت سے ملول و خستہ اور اکتا جاتے ہیں جس طرح انسان کے بدن آرام اور شرعی رفع خستگی سے آرام و سکون حاصل کرتے ہیں اسی طرح دلوں کی ملالت و افسردگی دور کرنے کے لیے بھی بیش بہا حکمتیں تلاش کرو اور فطری بات ہے کہ کوئی بھی حکمت قرآنی آیات اور حضرات معصومین جو علم الٰہی کے خزانہ دار ہیں کی حدیثوں سے زیادہ ارزش مند اور پختہ مطالب پر مشتمل نہیں ہے۔
وہ افراد جو عالمی مصلح امام منتظر قائم آل محمد عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی ملاقات کا شرف حاصل کرچکے ہیں اور جو عالمی حکومت کے بھی حامل ہیں عالم طفلی اور غیبت صغریٰ کے زمانہ سے پہلے غیبت کبریٰ کے دوران تک نیز اپنے زمانہ کے چند واقعات کی طرف چاہنے والے منتظرین کے افسردہ و رنجیدہ دلوں کی روشنی کے لیے ہم اشارہ کر رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ نہج البلاغہ، حکمت ۹۱۔
۲۲۰۔ ”عن احمد بن اسحاق بن سعد الاشعری قال دخلت علیٰ ابی محمّد الحسن بن علی وانا ارید ان اساٴلہ عن الخلف من بعدہ فقال لی مبتدئاً یا احمد بن اسحاق انّ اللّٰہ تبارک و تعالیٰ لم یخل الاٴرض منذ خلق آدم ولا یخلیھا الیٰ ان تقوم السّاعة من حجة اللّٰہ علیٰ خلقہ بہ یدفع البلآء عن اھل الارض وبہ ینزّل الغیث وبہ یخرج برکات الارض قال فقلت لہ یابن رسول اللّٰہ فمن الاٴمام والخلیفة بعدک فنھض علیہ السلام مسرعاً فدخل البیت ثم خرج وعلیٰ عاتقة غلام کان وجھہ القمر لیلة البدر من ابناء ثلاث سنین فقال یا احمد بن اسحاق لو لا کرامتک علی اللّٰہ عزّوجلّ وعلیٰ حجہ ما عرضت علیک ابنی ھذا انّہ سمّی رَسول اللّٰہ (ص) وَکنیہ الّذی یملاء الارض قسطاً وَ عَدَلاً کَما ملئت جوراً وظلماً یا احمد بن اسحاق مثلہ فی ھٰذہ الامّة مثل الخضر ومثلہ مثل ذی القرنین واللہ لیغیبنّ غیبة لا ینجوا من الھلکة فیھا الّامن ثبّة اللّٰہ عزّوجلّ علی القول بامامة ووفّقہ فیھا الدّعآء بتعجیل فرجہ فقال احمد بن اسحاق فقلت یا مولای فھل من علامة یطمئنّ الیھا قلبی فنطق الغلام علیہ السلام بلسان عربیّ فصیح فقال انا بقیة اللّٰہ فی ارضہ والمنتقم من اعدائہ فلا تطلب اثراً بعد حین یا احمد بن اسحاق قال احمد بن اسحاق فخرجت مسروراً فرحاً فلما کان من الغد عدت الیہ فقلت یابن رسول اللّٰہ لقد عظم سروری بما مننت بہ علیّ فما السّنة الجاریة فیہ منالخضر وذی القرنین قال علیہ السلام طول الغیبة یا احمد قلت یابن رسول اللّٰہ وانّ غیبة لتطول قال ای وربّی حتّیٰ یرجع عن ھذ الامر اکثر القائلین بہ ولا یبقی الاّ من اخذ اللّٰہ عزّوجلّ عھدہ لولایتنا وکتب فی قلبہ الایمان وایّدہ بروح منہ یا احمد بن اسحاق ھذا امر من امر اللّٰہ وسر من سرّ اللّٰہ وغیب من غیب اللّٰہ فخذما آتیتک واکتمہ وکن من الشاکرین تکن معنا غداً فی علییّن“ (۱)
احمد ابن اسحاق اشعری کا بیان ہے: حضرت امام حسن عسکری - کی خدمت میں اس ارادہ سے حاضر ہوا کہ دریافت کروں کہ آپ نے اپنے بعد اپنا جانشین (حجّت خدا) کس کو مقرر فرمایا ہے تو حضرت نے ابتدا ہی میں (میرے سوال کرنے سے پہلے) فرمایا: اے احمد ابن اسحاق! خدائے بزرگ و برتر نے آدم (ابو البشر) کی خلقت سے روز قیات تک زمین کو اپنی حجّت سے کبھی خالی نہیں چھوڑا اور صبح قیامت تک خالی نہیں چھوڑے گا اس کی وجہ سے اہل زمین کی بلائیں دور کرتا ہے اس کی وجہ سے پانی برساتا ہے زمین کی برکتیں اس کے ذریعہ باہر نکالتا ہے۔
احمد ابن اسحا ق کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے فرزند رسول (ص) !آپ کے بعد امام اور خلیفہ کون ہوگا؟ تو حضرت تیزی سے اٹھے اور گھر میں داخل ہوئے اور (کچھ دیر نہیں گزری تھی کہ) جب واپس آئے تو آپ کے دوشِ مبارک پر تقریباً تین سال کا بچہ تھا جس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح چمک رہا تھا۔
آپ نے فرمایا: اے فرزند اسحاق! اگر اللہ اور اللہ کی حجّتوں کی نظر میں تمہاری کوئی وقعت نہ ہوتی تو میں اپنے اس بچے کو تمہارے سامنے نہ لاتا۔ جان لو کہ ! میرا یہ بچہ وہ ہے کہ جس کا نام اور کنیت خود رسول خدا (ص) کے ہم نام اور ہم کنیت ہے میرا یہی وہ بیٹا ہے جو زمین کو عدل و انصاف سے پُر کر دے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔ اے احمد ابن اسحاق! میری امت میں میرے اس بچے کی شان خضر اور ذو القرنین کی طرح ہے۔ خدا کی قسم! یقینا اس کی ایسی (بہت طولانی) غیبت ہوگی کہ اس زمانہ میں ہلاکت سے صرف وہی نجات پائے گا کہ جس کو اللہ تعالیٰ اس کی امامت کے اعتراف و اعتقاد پر ثابت قدم رکھے گا اور اس امر کی توفیق دے گا کہ وہ اس کی غیبت میں تعجیل ظہور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ ینابیع المعاجز، ص ۱۷۵۔ کشف الغمہ، ج۳، ص ۳۳۴۔
کے لیے دعا کرتا رہے گا۔
احمد ابن اسحاق کا بیان ہے: میں نے عرض کیا: اے میرے مولا! کیا کوئی ایسی علامت بھی ہے جس سے میرا قلب مطمئن ہوجائے؟ یہ سن کر اس بچے (بقیة اللہ الاعظم امام زمانہ -) نے فصیح عربی زبان میں فرمایا: سنو! میں اللہ کی زمین پر اللہ کی طرف سے باقی رہنے والا ہوں میں اللہ کے دشمنوں سے انتقام لینے والا ہوں اور اسے احمد ابن اسحاق ! اب اپنی آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد کوئی علامت تلاش نہ کرو ۔
احمد ابن اسحاق کا بیان ہے کہ: پھر میں وہاں سے خوش حال ہوکر نکلا اور دوسرے دن پھر حاضرِ خدمت ہوا اور عرض کیا: اے فرزند رسول! آپ نے (اپنے جانشین کی زیارت سے) مجھ پر احسان فرمایا ہے اس سے مجھے بے حد خوشی ہے مگر یہ تو فرمائیے کہ ان میں حضرت خضر - اور حضرت ذوالقرنین - کی کون سی صفات ہوں گی؟ تو آپ نے فرمایا: ان کی طویل غیبت ہے ، میں نے عرض کیا: کیا ان کی غیبت یقینا بہت طویل ہوگی؟ فرمایا: خدائے بزرگ و برتر کی قسم! اس قدر طویل ہوگی کہ اکثر لوگ جو ان کی امامت کے قائل ہوں گے وہ بھی اپنے قول سے (شک میں پڑنے کی وجہ سے) پھر جائیں گے اور صرف وہی لوگ رہ جائیں گے کہ جن سے اللہ تعالیٰ نے ہماری ولایت کا عہد و پیمان لے لیا ہوگا جن کے دلوں پر اللہ نے ایمان کو نقش کردیا ہوگا اور جن کی مدد روح القدس کے ذریعے فرمائی ہوگی۔ اے فرزند اسحاق! یہ قدرت کے کرشموں میں سے ایک کرشمہ، اللہ کے اسرار میں سے ایک راز اور خدا کے غیوب میں سے ایک غیبت ہے لہٰذا میں نے جو کچھ اس عظیم نعمت کے بارے میں تمہیں بتایا ہے اسے یاد رکھنا، دل میں پوشیدہ رکھنا اور خدا کا شکر ادا کرتے رہنا تاکہ تم جنت میں میرے ساتھ رہو۔
۲۲۱۔ ”وفی اکمال الدین للصّدوق علیہ الرحمة : باسنادہ عن طریف ابو نصر قال قال: دخلت علیٰ صاحب الزّمان علیہ السلام فقال علیّ بالصّندل الاٴحمر فاتیتہ بہ ، ثم قال: اتعرفنی ؟ قلت نعم فقال من انا؟ فقلت انت سیدی وابن سیّدی فقال: لیس ھذا سالتک قال طریف فقلت : جعلنی اللّٰہ فداک فبیّن لی قال انا خاتم الاوصیآء وبی یدفع اللّٰہ عزوجل البلآء عن اھلی وشیعتی “ (۱)
شیخ صدوق رحمة اللہ علیہ نے کمال الدین میں طریق ابو نصر سے نقل کیا ہے کہ اس کا بیان ہے : میں حضرت صاحب الزمان کی خدمت میں شرف یاب ہوا تو فرمایا: اس سرخ صندل کو لے آؤ تو میں اسے لے آیا، پھردریافت فرمایا: کیا مجھے پہچانتے ہو؟ میں نے عرض کیا: ہاں ، دریافت فرمایا: میں کون ہوں؟ میں نے عرض کی: آپ میرے مولا اور میرے مولا کے فرزند ہیں تو فرمایا: میں نے تم سے یہ نہیں دریافت کیا تھا، میں نے عرض کیا: میں آپ پر قربان جاؤں آپ اپنے منشا و ارادہ سے مجھے آگاہ فرمائیں؟ فرمایا: میں خاتم الاوصیاء ہوں، خدائے بزرگ و برتر میرے ہی ذریعے میرے خاندان اور شیعوں سے بلا کو دور کرے گا۔
۲۲۲۔ ”وفیہ باسنادہ عن عبد اللّٰہ بن جعفر الحمیری قال: ساٴلت محمّد بن عثمان العمروی رضی اللّٰہ عنہ فقلت لہ : اٴراٴیت صاحب ھذا الامر؟ فقال: نعم وآخر عہدی بہ عند بیت اللّٰہ الحرام وھو یقول : اللّھم انجزلی ما وعدتنی “ (۲)
نیز اسی کتاب میں اپنی سند کے ساتھ عبد اللہ ابن جعفر حمیری سے روایت نقل کی ہے کہ ان کا بیان ہے: میں نے محمد ابن عثمان عمری سے دریافت کیا: کیا اس امر کے صاحب (امام زمانہ -) کو آپ نے دیکھا ہے؟ جواب دیا: ہاں یہ آخری مرحلہ (غیبت کبریٰ کے بعد) میں اتفاق ہوا تھا بیت اللہ الحرام کے پاس تھا اور وہ خدا سے درخواست کر رہے تھے کہ ان کے آبائے کرام کے خون کا انتقام اور نصرت کا وعدہ عملی کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ کمال الدین، ج۲، ص ۴۴۱۔ تبصرة الولی، حدیث ۵۶۳۔
(۲)۔ کمال الدین، ج۲، ص ۴۲۸۔ وسائل الشیعہ، ج۹، ص ۳۶۰۔ احتجاج، ج۲، ص ۲۸۲۔
۲۲۳۔ ”وفیہ باسنادہ عن عبد اللّٰہ بن جعفر الحمیری قال سمعت محمّد بن عثمان العمری ( رضی اللّٰہ عنہ) یقول رایتہ - صلوات اللّٰہ علیہ - متعلقاً باستار الکبعة فی المستجار وھو یقول اللّھم انتقم لی من اعدائی “ (۱)
مزید اسی کتاب میں اپنی سند کے ساتھ عبد اللہ ابن جعفر حمیری سے روایت نقل کی ہے کہ ان کا بیان ہے: میں نے محمد ابن عثمان عمری حضرت کے پہلے نائب کو کہتے سنا ہے کہ میں نے حضرت (بقیة اللہ الاعظم) کو باب مستجار میں خانہٴ کعبہ کا پردہ پکڑے ہوئے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا و مناجات فرما رہے تھے: اے میرے پروردگار! میرے دشمنوں سے میرا انتقام لے۔
۲۲۴۔ شیخ بزرگوار علامہ صدوق رحمة اللہ علیہ نے کتاب کمال الدین میں اپنی سند کے ساتھ ابو محمد حسن ابن وجناء نصیبی سے روایت نقل کی ہے کہ ان کا بیان ہے : ”کنت ساجداً تحت المیزاب فی رابع اربع وخسمین حجة بعد العتمة ، وانا اتضرّع فی الدّعاء اذ حرّکنی محرّک فقال: قم یا حسن بن وجناء ، قال فقمت فاذاً جاریة صفرآء نحیفة البدن اقول: انّھا من ابناء اربعین فما فوقھا فمشت بین یدی وانا لا اسئلھا عن شیء حتّیٰ اتت بی الیٰ دار خدیجة سلام اللہ علیہا وفیھا بیت بابہ فی وسط الحایط ولہ درج ساج یرتقی فصعدت الجاریة وجآء نی النداء: اصعد یا حسن فصعدت فوقفت بالباب ، فقال لی صاحب الزّمان علیہ السلام یاحسن اٴتراک خفیت علیّ واللّٰہ ما من وقت فی حجّک الاّ وانا معک فیہ ثمّ جعل یعدّ علیّ اوثاتی فوقعت مغشیاً علیٰ وجھی فحسست بید قد وقعت علیّ فقمت ، فقال لی یا حسن الزم دار جعفر بن محمّد علیھما السلام ولا یھمنّک طعامک ولا شرابک ولا مایسر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ کمال الدین، ج۲، ص ۴۴۰۔ وسائل الشیعہ، ج۱۲، ص ۲۵۹۔ غیبت طوسی، ص ۳۲۵۱۔ معجم احادیث الامام المہدی -،ج۴، ص ۲۹۳۔
عورتک ، ثم دفع الی دفتراً فیہ دعآء الفرج وصلاة علیہ فقال بھذا فادع، وھکذا صلّ علیّ ، ولا تعطہ الا محقّی اولیائی فانّ اللّٰہ جلّ جلالہ موفّقک فقلت یا مولای لا اراک بعدھا ؟ فقال یا حسن اذا شآء اللّٰہ ، قال فانصرفت من حجّتی ولزمت دار جعفر بن محمّد ( علھیما السلام ) فانا اخرج منھا فلا ادعو الیھاالا لثلاث خصال : لتجدید وضوء او لنوم اولوقت الاٴفطار ، وادخل بیتی وقت الاٴفطار فاصیب رباعیاً مملوٴاً ماء ورغیفاً علیٰ راٴسہ وعلیہ ما تشتھی بالنّھار فاٴکل ذٰلک فھو کفایة لی ، وکسوة الشّتآء فی وقت الشتاء وکسوة الصّیف فی وقت الصّیف وانّی لاٴدخل المآء بالنّھار فاٴرشّ البیت وداع الکوز فارغاً فاٴوتی بالطعام ولا حاجة لی الیہ فاصاٴدق بہ لیلاً کیلا یعلم بی من معی “ (۱)
شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے ابو محمد حسن وجناء نصیبی سے روایت نقل کی ہے کہ ان کا بیان ہے: میرا چوّنواں سفر حج تھا، نماز عشاء کے بعد طواف کے چوتھے چکر میں تحتِ میزاب سجدے کے عالم میں گریہ و زاری کے ساتھ دعا میں مشغول تھا کہ ناگاہ کسی نے میرا شانہ ہلایا اور کہا: اے حسن ابن وجناء اٹھو! جب میں اٹھا تو دیکھا کہ ایک نحیف و لاغر گورے رنگ کی کنیز ہے جس کا سن چالیس سال یا کچھ زیادہ ہے وہ مجھے لے کر چلی اور میں بھی اسی کے پیچھے چلنے لگا میں نے اس سے کچھ نہ پوچھا کہ کہاں لے جارہی ہے یہاں تک کہ وہ مجھے حضرت خدیجہ - کے گھر پر لے آئی اس میں ایک کمرہ تھا جس کا دروازہ دیوار کے درمیان تھا، وہیں سے اوپر جانے کے لیے ایک لکڑی کا زینہ تھا وہ کنیز اوپر چلی گئی اور مجھ تک ایک آواز آئی: اے حسن! اوپر آجاؤ، لہٰذا میں اوپر گیا اور دروازہ کے پاس کھڑا ہوگیا (کہ ناگہاں) حضرت صاحب الزمان کو دیکھا انہوں نے مجھ سے فرمایا: اے حسن! کیا تمہارا خیال ہے کہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ کمال الدین، ج۲، ص ۴۴۴۔ بحار الانوار، ج۵۲، ص ۳۲۔ معجم الاحادیث الامام المہدی -، ج۴، ص ۴۳۔
(تمہارے اعمال) مجھ سے مخفی ہیں؟ خدا کی قسم! میں تمہارے تمام حج میں ہر وقت تمہارے ساتھ ساتھ تھا پھر آپ ہر یک موقعِ حج (اور میرے اعمال کی کیفیت) کی نشان دہی فرمانے لگے، یہ سن کر مجھ پر غش کی حالت طاری ہوگئی اور میں وہیں زمین پر گر پڑا، اور یہ بھی محسوس کرتا رہا کہ حضرت اپنے دست مبارک میرے جسم پر پھیر رہے ہیں پھر میں کھڑا ہوا تو حضرت نے مجھ سے فرمایا: اے حسن ! تم مدینہ میں حضرت جعفر ابن محمد کے مکان میں رہا کرو تمہیں کھانے پینے اور پہننے اوڑھنے کی فکر کی ضرورت نہیں ہے پھر آپ نے مجھے ایک کتابچہ عطا کیا جس میں دعائے فرج اور آپ پر صلوات کا طریقہ مرقوم تھا اور فرمایا: تم اس طرح دعا کیا کرو اور اسی طرح مجھ پر درود و صلوات بھیجا کرو یہ دعائے فرج اور طریقہٴ صلوات ہمارے حقیقی دوستوں کے علاوہ کسی اور کو نہ تعلیم دینا اللہ تعالیٰ تمہیں اس کی توفیق عطا کرنے والا ہے۔ میں نے عرض کیا: اے میرے مولا! کیا اس کے بعد مجھے آپ کی دوبارہ زیارت نصیب نہ ہوگی؟ تو فرمایا: اے حسن! جب خدا چاہے۔ راوی کا بیان ہے کہ پھر حج سے واپس ہوا اور مدینہ میں حضرت جعفر ابن محمد - کے مکان میں رہنے لگا میں وہاں سے باہر آتا تھا اور دوبارہ واپس نہیں جاتا تھا مگر صرف تین چیزوں کے لیے، دوبارہ وضو کرنے یا سونے اور آرام کرنے کے لیے یا جب افطار کا وقت ہوتا تھا تو اپنے کمرے میں داخل ہوتا تھا تو میں دیکھتا تھا کہ ایک ظرف پانی روٹی اور ہر وہ غذا جو میرا دل چاہتا تھا موجود رہتی تھی، ان کو میں کھاتا تھا اور سردی کا لباس سردی میں اور گرمی کا لباس گرمی میں فراہم رہتا تھا میں روزانہ پانی میں داخل ہوتا تھا اور کمرے میں پانی چھڑکتا تھا اور پانی کے کوزہ کو خالی رکھتا تھا لیکن رات میں سب کو کھانے سے بھرا ہوا پاتا تھا اور وہ غذائیں جو دوسرے افراد مجھے دیتے تھے اسے رات میں صدقہ دے دیتا تھا تاکہ دوسرے لوگ اس واقعہ کو نہ سمجھ سکیں۔
مولف کہتے ہیں: صاحبان نعمت کو وہ نعمتیں گوارا ہوں ہمیں اور ان کے شرف دیدار کے تمام مشتاق اور منتظر افراد کو زیارت کی توفیق عطا فرمائے اور دنیا میں صحت و عافیت عنایت کرے، ان کی اور ان کے اجداد طاہرین کی آخرت میں شفاعت نصیب فرمائے اور ان کے ظہور سے ہمارے لیے فرج و کشائش عطا کرے اور ان کی بہترین آرزؤوں کو ان تک پہنچا دے بحمد وآلہ الطاہرین۔
۴۲/ ۲۔ بہترین
۴۲۔ و حکماً لمن قضیٰ (اور قضاوت کرنے والوں کے لیے قطعی حکم اور فیصلہ ہے)
قرآن مجید ہر اس شخص کے لیے جو لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنا چاہتا ہے اس کے حکم کی سند اور مرجع ہے کیوں کہ اس کا حکم محکم اور حق ہے اور اس کے علاوہ باطل، خدائے بزرگ و برتر نے متعدد مقامات پر ان افراد کو جو قرآن کے علاوہ حکم اور قضاوت کرتے ہیں انہیں شدید الفاظ میں ظالم و فاسق اور کافر سے یاد کیا ہے: <وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا اٴَنزَلَ اللهُ فَاٴُوْلَئِکَ ہُمْ الظَّالِمُونَ > (۱)
اور جو بھی خدا کے نازل کردہ حکم کے خلاف فیصلہ کرے گا وہ ظالموں میں شمار ہوگا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <إِنَّا اٴَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِیہَا ہُدًی وَنُورٌ یَحْکُمُ بِہَا النَّبِیُّونَ الَّذِینَ اٴَسْلَمُوا لِلَّذِینَ ہَادُوا وَالرَّبَّانِیُّونَ وَالْاٴَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِنْ کِتَابِ اللهِ وَکَانُوا عَلَیْہِ شُہَدَاءَ فَلاَتَخْشَوْا النَّاسَ وَاخْشَوْنِی وَلاَتَشْتَرُوا بِآیَاتِی ثَمَنًا قَلِیلًا وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا اٴَنزَلَ اللهُ فَاٴُوْلَئِکَ ہُمْ الْکَافِرُونَ > (۲)
بے شک ہم نے توریت کو نازل کیا ہے جس میں ہدایت اور نور ہے اور اس کے ذریعہ اطاعت گزار انبیاء یہودیوں کے لیے فیصلہ کرتے ہیں اور اللہ والے اور علمائے یہود اس چیز سے فیصلہ کرتے ہیں جس کا کتاب خدا میں ان کو محافظ بنایا گیا ہے اور جس کے یہ گواہ بھی ہیں لہٰذا تم ان لوگوں سے نہ ڈرو صرف ہم سے ڈرو اور خبردار تھوڑی سی قیمت کے لیے ہماری آیات کا کاروبار نہ کرنا اور جو بھی ہمارے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ مائدہ، آیت ۴۵۔
(۲)۔ سورئہ مائدہ، آیت ۴۴۔
نازل کیے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ نہ کرے گا وہ سب کافر شمار ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <وَلْیَحْکُمْ اٴَہْلُ الْإِنجِیلِ بِمَا اٴَنزَلَ اللهُ فِیہِ وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا اٴَنزَلَ اللهُ فَاٴُوْلَئِکَ ہُمْ الْفَاسِقُونَ > (۱)
اہل انجیل کو چاہیے کہ خدا نے جو حکم نازل کیا ہے اس کے مطابق فیصلہ کریں کہ جو بھی تنزیل خدا کے مطابق فیصلہ نہ کرے گا وہ فاسقوں میں شمار ہوگا۔
قرآن مجید جو تمام قاضیوں کے لیے مرجع اور سند ہے اور حق کو باطل سے جدا اور بیان کرنے والی کتاب ہے، پیغمبر اکرم (ص) کی وصیت کے مطابق قاعدہٴ تلازم کے اعتبار سے قرآن اور اہل بیت عصمت و طہارت جب تک حوض کوثر پر وارد نہ ہوجائیں ایک دوسرے سے جدا ہونے والے نہیںہیں اس کے علاوہ قرآن اس عظیم ہستی پر نازل ہوا ہے ” و اھل البیت ادریٰ بما فی البیت“ یعنی گھر کی باتوں سے گھر والے زیادہ واقف ہوتے ہیں۔ اور تمام قرآنی علوم پیغمبر اکرم (ص) اور ان کے اوصیاء کے پاس موجود ہیں <وَکُلَّ شَیْءٍ اٴحْصَیْنَاہُ فِی إِمَامٍ مُبِینٍ > (۲) اور ہم نے ہر شے کو ایک روشن امام میں جمع کردیا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کا یہ قول: <وَلاَرَطْبٍ وَلاَیَابِسٍ إِلاَّ فِی کِتَابٍ مُبِینٍ > (۳) کوئی خشک و تر ایسا نہیں ہے جو کتاب مبین کے اندر محفوظ نہ ہو۔
تفسیر صافی میں امام مبین سے مراد ”اللوح المحفوظ“ (۴) لوح محفوظ ہے۔ تفسیر قمی میں ذکر ہوا ہے ”فی کتاب مبین و ھو محکم“ (۵) کتاب مبین سے مراد وہی محکم ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ مائدہ، آیت ۴۷۔
(۲)۔ سورئہ یسین، آیت ۱۲۔
(۳)۔ سورئہ انعام، آیت ۵۹۔
(۴)۔ تفسیر صافی، ج۴، ص ۲۴۷۔
(۵)۔ تفسیر قمی، ج۲، ص ۲۱۲۔
۲۲۵۔ تفسیر المیزان میں ابن عباس سے انہوں نے امیر المومنین سے نقل کیا ہے کہ حضرت - نے فرمایا: ” وانا واللّٰہ الامام المبین ابیّن الحق من الباطل ورثتہ من رسول اللّٰہ (ص) ․“ (۱)
امام علی - نے فرمایا: خدا کی قسم ! میں امام مبین ہوں حق کو باطل سے جدا اور بیان کرتا ہوں یہ علم میں نے پیغمبر سے ورثہ میں حاصل کیا ہے۔
۲۲۶۔ ”وفی تاویل الآیات لمولفہ الفقیہ المفسر السید الشرف الدین علی الحسنی الاٴ سترابادی النجفی باسنادہ عن صالح بن سھل قال سمعت ابا عبد اللّٰہ علیہ السلام یقرء <وکلّ شیء احصیناہ فی امام مبین > قال: فی امیر الموٴمنین علیہ السلام “ (۲)
تاویل الآیات جو مفسر فقیہ سید شرف الدین علی الحسینی استر آبادی نجفی کی تالیف ہے انہوں نے اپنی سند کے ساتھ صالح ابن سہل سے نقل کیا ہے کہ ان کا بیان ہے: میں نے امام جعفر صادق - کو یوں پڑھتے ہوئے سنا: ” “ امیر المومنین کی ذات میں ہم نے ہر شے کا احصاء کردیا ہے۔
۲۲۷۔ ” وفیہ باسنادہ الیٰ ابی الجارود عن محمّد بن علی الباقر ․ صلوات اللّٰہ علیھما - قال لمّا نزلت ھذہ الآیة علی رسول اللّٰہ (ص) <وکل شیء احصیناہ فی امام مبین > قال رجلان ( ابو بکر وعمر ) کما فی المعانی من مجلسھا فقالا یا رسول اللّٰہ ھو التوراة ؟ قال لا قالا ھو الانجیل ؟ قال لا قالا ھو القرآن؟ قال لا قال فاقبل امیر الموٴمنین علیہ السلام فقال رسول اللّٰہ (ص) ھو ھذا ، انّہ الامام الذی احصی اللّٰہ تبارک و تعالیٰ فیہ علم کلّشیء یعنی علم ماکان وما یکون الیٰ یوم القیٰمة“‘ (۳)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ تفسیر المیزان، ج۱۷، ص ۷۰۔
(۲)۔ تاویل الآیات، ج۲، ص ۴۸۷۔ (
۳)۔ گزشتہ حوالہ۔
صاحب کتاب تاویل الآیات نے اپنی سند کے ساتھ ابو الجارود سے نقل کیا ہے کہ امام محمد باقر - نے فرمایا: جب یہ آیت <وَکُلَّ شَیْءٍ اٴحْصَیْنَاہُ فِی إِمَامٍ مُبِینٍ > رسول خدا (ص) پر نازل ہوئی (یعنی ابوبکر اور عمر) اپنی جگہ کھڑے ہوئے اور کہا: یا رسول اللہ (ص)! کیا امام مبین سے مراد توریت ہے؟فرمایا: نہیں، عرض کیا: کیا انجیل مراد ہے؟ فرمایا: نہیں ، پھر دریافت کیا قرآن مراد ہے؟ فرمایا: نہیں، اسی اثنا میں امیر المومنین علی - تشریف لائے تو رسول اللہ نے فرمایا: وہ امام یہ ہیں۔
یہ وہ امام ہےں کہ خدائے بزرگ و برتر نے انہیں ہر شے کا علم عطا فرمایا ہے یعنی ماضی اور مستقبل کا روز قیامت تک کا علم ودیعت کیا ہے۔
۲۲۸۔ ” ویوید ھذ التاویل قول النبی (ص) فی خطبة یوم الغدیر : معاشر النّاس ما من علم الّا وقد احصٰاہ اللّٰہ فیّ وکلّ علم علّمت فقد احصیتہ فی امام المتقین وما من علم الّا وقد علّمتہ علیّاً وھو الامام المبین “ (۱)
نبی اکرم (ص) کے اس قول کی تائید میں وہ فقرہ ہے جو آپ نے غدیر کے دن ایک مفصل خطبہ میں حاجیوں کے کثیر مجمع میں کہ جن کی تعداد دو لاکھ تک بتائی گئی ہے فرمایا: اے لوگو! کوئی علم ایسا نہیں ہے مگر یہ کہ خدائے بزرگ و برتر نے اسے مجھے عطا کیا ہو اور ہر وہ علم جسے میں نے اللہ تعالیٰ سے اخذ کیا ہے ان سب کو امام المتقین کو عطا کیا اور کوئی علم ایسا نہیں ہے کہ جس کو میں نے علی - کو تعلیم نہ کیا ہو اور وہ وہی امام مبین ہے کہ جس کا آیت میں ذکر ہوا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ احتجاج ، ج۱، ص ۷۴۔
۳۔ نزول آسمانی
۳۔ ” القرآن منزّل من السّمآء : والحجّة منزّل نورہ قبل الخلق السّموات والارض․“
قرآن آسمان سے نازل ہوا ہے اور حجّت کا نور بھی تمام آسمان اور زمین کی خلقت سے پہلے نازل کیا گیا۔
وہ آیات جو قرآن کو آسمان سے نازل ہونے کو بیان کرتی ہیں بہت ہیں ہم ان میں سے چند آیات کے ذکر پر اکتفا کرتے ہیں:
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <الم ذَلِکَ الْکِتَابُ لاَرَیْبَ فِیہِ ہُدًی لِلْمُتَّقِینَ > یہاں تک کہ فرمایا: <وَإِنْ کُنتُمْ فِی رَیْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَی عَبْدِنَا فَاٴْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِہِ وَادْعُوا شُہَدَائَکُمْ مِنْ دُونِ اللهِ إِنْ کُنتُمْ صَادِقِینَ > (۱)
الم یہ وہ کتاب ہے جس میں کسی طرح کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے یہ صاحبان تقویٰ اور پرہیز گار لوگوں کے لیے مجسمہٴ ہدایت ہے۔ اگر تمہیں اس کلام کے بارے میں کوئی شک ہے جسے ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے تو اس کا جیسا ایک ہی سورہ لے آؤ اور اللہ کے علاوہ جتنے تمہارے مددگار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ بقرہ، آیت ۲۳۔
ہیں سب کو بلاؤ اگر تم اپنے دعوے اور خیال میں سچے ہو۔
اور فرمایا: <إِنَّا اٴَنزَلْنَاہُ فِی لَیْلَةٍ مُبَارَکَةٍ إِنَّا کُنَّا مُنذِرِینَ > (۱)
حم۔ ہم نے اس قرآن کو ایک مبارک رات میں نازل کیا ہے ہم بے شک عذاب سے ڈرانے والے تھے۔
مزید اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <إِنَّا اٴَنزَلْنَاہُ فِی لَیْلَةٍ الْقَدْرِ> (۲)
بے شک ہم نے اسے شب قدر میں نازل کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْقُرْآنَ تَنْزِیلًا > (۳)
حقیقت میں ہم نے آپ پر قرآن تدریجی طور پر نازل کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا یہ قول: <إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَہُ لَحَافِظُونَ > (۴)
ہم نے ہی اس قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
خدائے بزرگ و برتر نے فرمایا: <وَیَوْمَ نَبْعَثُ فِی کُلِّ اٴُمَّةٍ شَہِیدًا عَلَیْہِمْ مِنْ اٴَنفُسِہِمْ وَجِئْنَا بِکَ شَہِیدًا عَلَی ہَؤُلاَء وَنَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْکِتَابَ تِبْیَانًا لِکُلِّ شَیْءٍ > (۵)
اور قیامت کے دن ہم ہر گروہ کے خلاف انہیں میں کا ایک گواہ اٹھائیں گے اور پیغمبر آپ کو ان سب کا گواہ بناکر لے آئیں گے اور ہم نے آپ پرکتاب نازل کی ہے جس میں ہر شے کی وضاحت موجود ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ دخان، آیت ۳۔
(۲)۔ سورئہ طور، آیت ۱۔
(۳)۔ سورئہ ھل اتی، آیت ۲۳۔
(۴)۔ سورئہ حجر، آیت ۹۱۔
(۵)۔ سورئہ نحل، آیت ۸۹۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <تَبَارَکَ الَّذِی نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَی عَبْدِہِ لِیَکُونَ لِلْعَالَمِینَ نَذِیرًا>(۱)
بابرکت ہے وہ خدا جس نے اپنے بندے بر فرقان نازل کیا ہے تاکہ وہ سارے عالمین کے لیے عذاب الٰہی سے ڈرانے والا بن جائے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <طہ مَا اٴَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَی إِلاَّ تَذْکِرَةً لِمَنْ یَخْشَی تَنزِیلاً مِمَّنْ خَلَقَ الْاٴَرْضَ وَالسَّمَاوَاتِ الْعُلاَ> (۲)
طہ، ہم نے آپ پر قرآن اس لیے نہیں نازل کیا ہے کہ آپ اپنے کو زحمت میں ڈال دیں یہ تو ان لوگوں کی یاد دہانی کے لیے ہے کہ جن کے دلوں میں خوف خدا ہے۔ یہ اس خدا کی طرف سے نازل ہوا ہے جس نے زمین اور بلند ترین آسمانوں کو پیدا کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <إِنَّہُ لَقُرْآنٌ کَرِیمٌ فِی کِتَابٍ مَکْنُونٍ لایَمَسُّہُ إِلاَّ الْمُطَہَّرُونَ تَنزِیلٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِینَ > (۳)
یقینا یہ بڑا محترم قرآن ہے جسے ایک پوشیدہ کتاب میں رکھا گیا ہے اسے پاک و پاکیزہ افراد کے علاوہ کوئی چھو بھی نہیں سکتا ہے یہ رب العالمین کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔
خدائے بزرگ و برتر نے فرمایا: <حم تَنزِیلٌ مِنْ الرَّحْمَانِ الرَّحِیمِ کِتَابٌ فُصِّلَتْ آیَاتُہُ قُرْآنًا عَرَبِیًّا لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ > (۴)
حم، خدائے رحمان و رحیم کی تنزیل ہے اس کتاب کی آیتیں تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ہیں عربی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ فرقان، آیت ۱۔
(۲)۔ سورئہ طہ، آیت ۱۔۴۔
(۳)۔ سورئہ واقعہ، آیت ۴۰۔
(۴)۔ سورئہ فصلت، آیت ۳۔
زبان کا قرآن ہے اس قوم کے لیے جو سمجھنے والی ہو۔
نیز اللہ تعالیٰ کا قول ہے: <قُلْ نَزَّلَہُ رُوحُ الْقُدُسِ مِنْ رَبِّکَ بِالْحَقِّ لِیُثَبِّتَ الَّذِینَ آمَنُوا> (۱)
تو آپ کہہ دیجیے کہ اس قرآن کو روح القدس جبرئیل نے تمہارے پروردگار کی طرف حق کے ساتھ نازل کیا ہے تاکہ صاحبان ایمان کو ثبات و استقلال عطا کرے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <إِنَّا اٴَنزَلْنَا إِلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَا اٴَرَاکَ اللهُ > (۲)
ہم نے آپ کی طرف یہ برحق کتاب نازل کی ہے کہ لوگوں کے درمیان حکم خدا کے مطابق فیصلہ کریں۔ اس کے علاوہ اور وہ آیات جو کلی طور پر قرآن کے آسمان سے نازل ہونے پر دلالت کرتی ہیں، لیکن اس کے نزول کی تاریخ اور کیفیت ذکر ہوگی۔ قرآن کے نزول کے آغاز کے بارے میں محققین علماء اور مفسرین کے مختلف نظریات پائے جاتے ہیں، بعض مفسرین اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ نزول قرآن کا آغاز نیمہٴ شعبان (حضرت بقیة اللہ مہدی آل محمد - کی ولادت باسعادت کے موقع) پر ہوا اور سورئہ دخان کی آیات میں مبارک شب سے مراد <إِنَّا اٴَنزَلْنَاہُ فِی لَیْلَةٍ مُبَارَکَةٍ إِنَّا کُنَّا مُنذِرِینَ فِیہَا یُفْرَقُ کُلُّ اٴَمْرٍ حَکِیمٍ > وہی نیمہٴ شعبان کی رات ہے۔
لیکن اکثر مفسرین اور محدثین کا عقیدہ یہ ہے کہ نزول قرآن کا آغاز ماہ رمضان میں ہوا تھا، یہاں تک کہ بعض نے اس کی رات اور دن کو بھی مشخص کیا ہے اور بعض دوسروں نے وقت معین کیے بغیر ذکر کیا ہے۔
آیہٴ کریمہ <إِنَّا اٴَنزَلْنَاہُ فِی لَیْلَةِ الْقَدْرِ> کی صراحت کی طرف توجہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ نحل، آیت ۱۰۲۔
(۲)۔ سورئہ نساء، آیت ۱۰۵۔
بطور مسلم بغیر کسی شک وشبہ کے قرآن کے نزول کا آغازشب قدر میں ہوا ہے اگرچہ خود شب قدر کے تعین میں مختلف آراء و نظریات پائے جاتے ہیں۔ جیسا کہ ان میں سے ایک شب نیمہٴ شعبان، پہلی، سترہویں، انیسویں، اکیسویں، تیئیسویں، چوبیسویں، پچیسویں، ستائیسویں ماہ رمضان کی شب میں احتمال دیا ہے، لیکن سورہ قدر ، دخان اور بقرہ کی آیات کی جمع بندی کے ساتھ ظن قوی حاصل ہوتا ہے کہ شب قدر ماہ مبارک رمضان کی دس آخری راتوں میں سے ایک ہے۔
سورئہ مبارکہ قدر میں ہم پڑھتے ہیں <إِنَّا اٴَنزَلْنَاہُ فِی لَیْلَةِ الْقَدْرِ> بے شک ہم نے اسے شب قدر میں نازل کیا ہے اس آیہٴ کریمہ میں صرف علت ذکر نہ ہونے کی وجہ سے مرجع ضمیر سے یہ استفادہ نہیں ہوتا کہ جو کچھ شب قدر میں نازل ہوا وہ قرآن ہے اور ، سورئہ دخان میں ہم پڑھتے ہیں <إِنَّا اٴَنزَلْنَاہُ فِی لَیْلَةٍ مُبَارَکَةٍ إِنَّا کُنَّا مُنذِرِینَ فِیہَا یُفْرَقُ کُلُّ اٴَمْرٍ حَکِیمٍ > کتاب مبین کی قسم ! کہ ہم نے اس کو مبارک رات میں نازل کیا ہے ہم بے شک عذاب سے ڈرانے والے تھے اس رات میں تمام حکمت و مصلحت کے امور کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔
اس آیت میں ”انزلناہ“ کی ضمیر کتاب مبین جو قرآن ہے اس کی طرف پلٹتی ہے اور مبارک شب سے مراد وہی شب قدر ہے اس لیے کہ آیہٴ کریمہ فرماتی ہے: <شھر رمضان الّذی انزل فیہ القرآن ھدی للناس و بیّنات من الھدیٰ و الفرقان> ماہ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے او اس میں ہدایت اور حق و باطل کے امتیاز کی واضح نشانیاں موجود ہیں، روایات بھی اسی معنی کی تائید کرتی ہیں۔
۲۲۹۔ ” وفی الخصال باسنادہ عن حسّان بن مھران قال ساٴلت ابا عبد اللّٰہ علیہ السلام عن لیلة القدر فقال التمسھا لیلة احدی و عشرین ولیلة ثلث وعشرین“ (۱)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ الخصال، ص ۵۱۹۔
خصال میں صدوق علیہ الرحمہ نے اپنی سند کے ساتھ حسان مہران سے نقل کیا ہے کہ ان کا بیان ہے: میں نے امام جعفر صادق سے شب قدر کے بارے میں دریافت کیا: تو فرمایا: اسے اکیسویں اور تیئیسویں شب میں تلاش کرو۔
۲۳۰۔ بعض معصومین سے مروی روایات میں لوگوں نے سوال کیا کہ ان دونوں شب میں سے کوئی ایک شب قدر معین فرمائیں؟ تو حضرت - نے معین نہیں کیا بلکہ فرمایا: ” مٰا ایسر لیلتین فیما تطلب ․“ (۱) کتنا آسان ہے کہ اپنے مطلوب کو ان دو راتوں میں تلاش کرو۔
۲۳۱۔ یا یہ قول فرمایا: ”ما علیک ان تفعل خیراً فی لیلتین ․ “ (۲) تمہیں کیا ہوجائے گا کہ ان دو راتوں میں اعمال خیر انجام دو؟
بہت سی حدیثوں سے استفادہ ہوتا ہے کہ شب قدر تیئیسویں شب ہے اور خود حضرات معصومین کے اعمال بھی اسی معنی کی نشان دہی کرتے ہیں: دعائم الاسلام میں روایت نقل ہوئی ہے کہ حضرت رسول اکرم (ص) ماہ رمضان کی آخری دس راتوں میں اپنے بستر جمع کرلیتے اور عبادت کے لیے اپنی کمر ہمت کو محکم طور پر باندھ لیتے تھے اور تیئیسویں کی شب اپنے اہل خانہ کو بیدار رکھتے تھے اور جنہیں نیند آنے لگتی تھی تو ان کے چہروں پر آب پاشی کرتے تھے۔ اور حضرت فاطمہ زہرا # اس رات اپنے اہل خانہ میں سے کسی کو سونے نہیں دیتی تھیں ان کے نہ سونے کا علاج غذا کم کھلانے سے کیا کرتی تھیں اور انہیں تیئیسویں کی شب بیدار رہنے کے لیے آمادہ کرتی تھیں نیز فرماتی تھیں:محروم وہ شخص ہے جو آج کی رات کی خیر و خوبی سے محروم ہوجائے اور روایت میں وارد ہوا ہے کہ حضرت امام جعفر صادق سخت مریض ہوگئے تھے جب تیئیسویں کی شب آئی تو اپنے چاہنے والوں کو حکم دیا کہ انہیں اٹھا کر مسجد لے جائیں اور اس رات صبح تک مسجد میں تھے اور ملائکہ و روح جو اعظمِ ملائکہ کہلاتے ہیں اسی شب قدر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ فروع کافی، ج۱، ص ۲۰۶۔
(۲)۔ تہذیب الاحکام، ج۳، ص ۵۸۔
میں اذن پروردگار سے زمین پر نازل ہوتے ہیں اور امام زمانہ - کی خدمت بابرکت میں مشرف ہوتے ہیں اور تمام مخلوقات کی تقدیروں کو امام کے سامنے پیش کرتے ہیں نزول کی کیفیت کو ”فلجا لمن حاج بہ“ کے فقرہ میں ذکر کیا ہے وہاں رجوع کریں۔
مصلح جہانی امام زمانہ - کا یگانہ مقدس نو آور اور ان کے آباء و اجداد کرام کے انوار مقدسہ بھی قرآن کی طرح عالم بالا سے نازل ہوئے ہیں۔
۲۳۲۔ ”وفیہ باسنادہ عن محمّد بن الفضیل عن ابی الحسن علیہ السلام : قال ساٴلتہ عن قول اللّٰہ تبارک وتعالیٰ <یریدون لیطفوٴوا نور اللّٰہ باٴفواھھم > قال یریدون لیطفوٴوا ولایة امیرالموٴمنین علیہ السلام باٴفواھھم ، قلت قولہ <واللّٰہ متمّ نورہ > قال یقول : واللہ متمّ الامامة والامامة ھی النّور وذٰلک قولہ تعالیٰ عزوجلّ <آمنوا باللّٰہ ورسولہ والنّور الّذی انزلنا > قال : النّور ھو الامام ․“ (۱)
اسی کتاب میں اپنی سند کے ساتھ محمد ابن فضیل سے انہوں نے حضرت ابو الحسن - سے نقل کیا ہے کہ راوی کا بیان ہے: میں نے آیہٴ کریمہ <یُرِیدُونَ لِیُطْفِئُوا نُورَ اللهِ بِاٴَفْوَاہِہِمْ> (۲) یہ لوگ چاہتے ہیں کہ نور خدا کو اپنے منھ سے بجھا دیں۔ کا معنی دریافت کیا تو حضرت نے فرمایا: چاہتے ہیں کہ امیر المومنین - کی ولایت کو اپنی ناروا اور ننگین پروپیگنڈوں سے خاموش کردیں، میں نے عرض کیا: کلام الٰہی ”و اللّٰہ متم نورہ“ اور اللہ اپنے نور کو مکمل کرنے والا ہے، سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: خدائے بزرگ و برتر امامت کو پایہٴ تکمیل تک پہنچانے والا ہے اور امامت وہی نور ہے اور برہان و بیان ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے: <آمِنُوا بِاللهِ وَرَسُولِہِ وَالنُّورِ الَّذِی اٴَنزَلْنَا > (۳) لہٰذا خدا اور رسول
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ اصول کافی، ج۱، ص ۱۹۶۔
(۲)۔ سورئہ صف، آیت ۸۔
(۳)۔ سورئہ تغابن، آیت ۸۔
اور اس نور پر ایمان لے آؤ جسے ہم نے نازل کیا ہے،
فرمایا: نور سے مراد وہی امام ہے۔
۲۳۳۔ ” وفیہ : علیّ بن ابراہیم باسنادہ عن ابی عبد اللّٰہ علیہ السلام فی قول اللّٰہ تعالیٰ <الذین یتبعون الرسول الالنبی الامّی الذی یجدونہ مکتوباً عندھم فی التوراة والا نجیل یاٴمرھم بالمعروف وینھٰھم عن المنکر ویحلّ لھم الطییّبات ویحرم علیھم الخبائث>الی قولہ <واتبعوا النّور الذی انزل معہ اولئک ھم المفلحون>(۱) قال: النّور فی ھذا الموضع (علی ) امیر الموٴمنین والائمّة علیہم السلام (۲)“
نیز اسی کتاب میں علی ابن ابراہیم قمی نے اپنی سند کے ساتھ امام جعفر صادق - سے نقل کیا ہے کہ حضرت - نے فرمایا: آیہٴ کریمہ میں جو لوگ رسول امّی کا اتباع کرتے ہیں جس کا ذکر اپنے پاس توریت اور انجیل میں (جو آسمان سے نازل ہوئی ہے) لکھا ہوا پاتے ہیں کہ وہ نیکیوں کا حکم دیتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے اور پاکیزہ چیزوں کو حلال قرار دیتا ہے اور خبیث چیزوں کو حرام قرار دیتا ہے یہاں تک کہ فرمایا: اتباع کرو اس نور کا جو اس پیغمبر کے ہمراہ نازل کیا گیا ہے وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں، فرمایا: یہاں نور سے مراد امیر المومنین اور ائمہ کا نور ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ اعراف، آیت ۱۵۷۔
(۲)۔ اصول کافی، ج۱، ص ۱۹۴۔
۴۔ جاوداں
۴۔القرآن باقیة ما دامت السّموات والارض: والحجّة باقیة الیٰ ان یشآء اللّٰہ ان یبقیہ․
قرآن کریم جاودانی اور دائمی ہے جب تک کہ تمام آسمان اور زمین ثابت اور اپنی جگہ باقی ہیں اور کبھی بھی زوال پذیر نہیں ہوں گے اسی طرح حجّت خدا امام زمانہ - بھی ہمیشہ زندہ و پائندہ ہیں کہ جب تک خدا چاہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَہُ لَحَافِظُونَ > (۱)
ہم نے ہی اس قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <تَبَارَکَ الَّذِی نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَی عَبْدِہِ لِیَکُونَ لِلْعَالَمِینَ نَذِیرًا> (۲)
بابرکت ہے وہ خدا جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل کیا ہے تاکہ وہ سارے عالمین کے لیے عذاب الٰہی سے ڈرانے والا بن جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ حجر، آیت ۹۔
(۲)۔ سورئہ فرقان، آیت ۱۔
خدائے بزرگ و برتر نے فرمایا - <وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِیعًا وَلاَتَفَرَّقُوا وَاذْکُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَیْکُمْ إِذْ کُنْتُمْ اٴَعْدَاءً فَاٴَلَّفَ بَیْنَ قُلُوبِکُمْ فَاٴَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہِ إِخْوَانًا وَکُنْتُمْ عَلَی شَفَا حُفْرَةٍ مِنْ النَّارِ فَاٴَنْقَذَکُمْ مِنْہَا کَذَلِکَ یُبَیِّنُ اللهُ لَکُمْ آیَاتِہِ لَعَلَّکُمْ تَہْتَدُونَ > (۱)
اور تم سب اللہ کی رسی کو پکڑے رہو اور آپس میں تفرقہ نہ پیدا کرو اور اللہ کی نعمت کو یاد کرو کہ تم لوگ آپس میں دشمن تھے اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کردی تو تم اس کی نعمت سے بھائی بھائی بن گئے اور تم جہنم کے کنارے پر تھے تو اس نے تمہیں نکال لیا اور اللہ اسی طرح اپنی آیتیں بیان کرتا ہے کہ شاید تم ہدایت یافتہ بن جاؤ۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <حم وَالْکِتَابِ الْمُبِینِ إِنَّا جَعَلْنَاہُ قُرْآنًا عَرَبِیًّا لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُونَ وَإِنَّہُ فِی اٴُمِّ الْکِتَابِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَکِیمٌ > (۲)
حم، اس روشن کتاب کی قسم بے شک ہم نے اسے عربی قرآن قرار دیا ہے تاکہ سمجھ سکو اور یہ ہمارے پاس لوح محفوظ ہے نہایت درجہ بلند اور پُر از حکمت کتاب ہے۔
اس کے علاوہ دوسری آیات بھی ہیں جو تینوں منطقی دلالت (مطابقی، تضمنی اور التزامی) کے مطابق اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا اور اس کتاب کی حفاظت ذات اقدس الٰہی پر ہی منحصر ہے۔ لیکن احادیث بہت زیادہ ہیں من جملہ ان میں سے ایک حدیث ثقلین ہے۔
۲۳۵۔ ” وفی البصائر عن ابی جعفر علیہ السلام قال : قال رسول اللّٰہ (ص) : یا ایّھا النّاس انّی تارک فیکم الثّقلین الثّقل الاکبر والثّقل الاٴصغر ان تمسّکتم بھما لن تضلّوا ولا تتبدّلوا ، وانّی سئلت اللّطیف الخبیر ان لا یفترقا حتّیٰ یردا علیّ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ آل عمران، آیت، ۱۰۳۔
(۲)۔ سورئہ زخرف، آیت ۱۔ ۴۔
الحوض فاعطیت ذلک ، قالوا وما الثّقل الاکبر وما الثّقل الاصغر ؟ قال علیہ السلام : الثّقل الاکبر کتاب اللّٰہ سبب طرفہ بیداللّٰہ وسبب طرفہ بایدیکم والثّقل الاصغر عترتی واھل بیتی “ (۱)
بصائر الدرجات میں امام محمد باقر - سے منقول ہے کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا: اے لوگو! میں تمہارے درمیان دو عظیم (گراں قدر) چیزیں چھوڑ رہا ہوں ان میں سے ایک بڑی اور دوسری چھوٹی ہے اگر ان دونوں سے متمسک رہو گے تو ہرگز ہر گز گمراہ نہ ہو گے اور اسے کسی چیز میں تبدیل نہ کرنا میں نے خدائے لطیف و خبیر سے درخواست کی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں یہاں تک کہ حوض کوثر کے کنارے میرے پاس وارد ہوں اور اللہ تعالیٰ نے میری درخواست قبول کی اور مجھے عطا فرمایا ہے، لوگوں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! وہ بڑی گراں قدر چیز کیا ہے؟ اور ان میں چھوڑی کون سی شے ہے؟ فرمایا: بڑی گراں قدر شے وہی کتاب خدا ہے کہ جس کا ایک سرا خدا کے قبضہٴ قدرت میں ہے اور اس کا دوسرا سرا تمہارے ہاتھ میں ہے، اور چھوٹی گراں قدر شے میری عترت ہے جو میرے اہل بیت ہیں۔
۲۳۶۔ ”عن ابی ثابت مولی ابی ذرّ قال : سمعت ام سلمة تقول : سمعت رسول اللّٰہ (ص) فی مرضہ الّذی قبض فیہ یقول وقد امتلئت الحجرة من اصحابہ : ایّھا النّاس یوشک ان اقبض سریعاً فینطلق بی وقد قدمت الیکم الا انّی مخلّف فیکم کتاب اللّٰہ ربّی عزّوجلّ وعترتی اھل بیتی ، ثم اخذ بید علی علیہ السلام فرفعھا فقال: ھذا علی مع القرآن والقرآن مع علیٍّ خلیفتان نصیران لا یفترقان حتی یردا علیّ الحوض فاسئلھما ماذا خلّفت فیھما “ (۲)
ابو ثابت غلام ابوذر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت منقول ہے کہ ان کا بیان ہے: میں نے ام سلمہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ بصائر الدرجات، ص ۴۳۴۔ مختصر بصائر الدرجات، ص ۹۱۔
(۲)۔ بحار الانوار، ج۲۲، ص ۴۷۶۔
کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ: میں نے رسول خدا (ص) سے اس مرض الموت کی حالت میں جب انہوں نے دنیا سے رحلت فرمائی سنا کہ اس موقع پر آپ کا حجرئہ مبارک اصحاب سے بھرا ہوا تھا تو وہ فرما رہے تھے: اے لوگو! میرے دنیا سے جانے کا وقت نزدیک آچکا ہے میں تمہارے سامنے آیا ہوں جان لو ، آگاہ ہوجاؤ یقینا میں تمہارے درمیان (دو چیزیں بطور امانت چھوڑ رہا ہوں) اپنے پروردگار کی کتاب اور اپنی عترت جو میرے اہل بیت ہیں، پھر حضرت علی - کا دست مبارک پکڑا اور بلند کرکے فرمایا: یہ علی قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن علی کے ساتھ ہے۔ یہ دونوں میرے خلیفہ اور ایک دوسرے کے ناصر و مددگار ہیں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر کے کنارے میرے پاس وارد ہوں گے پھر میں ان دونوں سے سوال کروں گا کہ تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟
حدیث ثقلین ان روایات میں سے ہے جو رسول خدا (ص) سے شیعہ سنی طرق سے تواتر کے ساتھ نقل ہوئی ہے اور اس کے ذریعے استقلال اور اثبات کیا ہے کہ حضرت امیر المومنین - پیغمبر (ص) کے بعد ولایت و خلافت کے زیادہ حق دار تھے۔ یہ مبارک حدیث شیعہ طرق سے مشہور بلکہ اس کا متواتر ہونا غیر قابل انکار ہے، یہاں تک کہ طرق اہل سنت سے بھی کتب صحاح ستہ میں مع معتبر اسانید اور تواتر کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔
۲۳۷۔ ”ففی مسند احمد بن حنبل بالاٴسناد عن ابی سعید الخدری قال! قال رسول اللّٰہ (ص) انّی قد ترکت فیکم الثقلین ما ان تمسّکتم بھما لن تضلّوا بعدی واحدھما اکبر من الاٴخر کتاب اللّٰہ حبل ممدود من السّمآء الی الاٴرض وعترتی واھل بیتی الا وانّھما لن یفترقا حتیٰ یردا علی الحوض (۱) وقد روی عن ابی بکر انہ قال عترة النّبی (ص) علی علیہ السلام “ (۲)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ مسند احمد ابن حنبل، ج۳، ص ۲۷۔
(۲)۔ بحار الانوار، ج۲۳، ص ۱۰۶۔
احمد ابن حنبل نے اپنی کتاب مسند میں ابو سعید خدری سے روایت کی ہے کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا: یقینا میں تمہارے درمیان دوعمدہ گراں قدر چیزیں چھوڑنے والا ہوں میرے بعد جب تک ان دونوں سے متمسک رہو گے اور مضبوطی سے تھامے رہو گے ہر گز ہرگز گمراہ نہ ہوگے ان میں سے ایک دوسری سے زیادہ بڑی ہے ایک کتاب خدا ہے جو آسمان سے لے کر زمین تک کھنچی ہوئی ہے اور دوسری میری عترت جو میرے اہل بیت ہیں جان لو کہ وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس وارد ہوں۔ اور ابوبکر سے روایت ہوئی ہے کہ انہوں نے کہا: نبی اکرم (ص) کی عترت علی - ہیں۔
۲۳۸۔ ” وفی صحیح مسلم عنہ (ص) ، انّہ قام خطیباً فینا بمآء یدعیٰ خماً بین مکة والمدینة فحمد اللّٰہ واثنیٰ علیہ ووعظ وذکّر ثمّ قال (ص) ایّھا النّاس انّما انا بشر یوشک ان یاٴتینی رسول ربّی فاجیب ، وانّی تارک فیکم الثقلین احدھما کتاب اللّٰہ فیہ الھدیٰ والنّور فخذوا بکتاب اللّٰہ واستمسکوا بہ فحثّ علیٰ کتاب اللّٰہ تعالیٰ ورغّب فیہ ثمّ قال علیہ السلام واھل بیتی اذکّر کم اللّٰہ فی اھل بیتی اذکّرکم اللّٰہ فی اھل بیتی اذکّرکم اللّٰہ فی اھل بیتی“ (۱)
صحیح مسلم میں پیغمبر اکرم (ص) سے منقول ہے کہ : رسول خدا (ص) ہمارے درمیان ایک پانی کے جمع ہونے کی جگہ جسے ”خم“ کہتے ہیں جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے کھڑے ہوئے اور خطبہ پڑھا حمد وثنائے الٰہی کی موعظہ و نصیحت فرمائی پھر فرمایا: اے لوگو! میں بھی صرف تمہاری طرح ایک انسان ہوں قریب ہے خدا کا فرستادہ (عزرائیل) میرے پاس آئے اور میں لبیک کہوں اب میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ان میں سے ایک اللہ کی کتاب ہے کہ جس میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ صحیح مسلم، ج۷، ص ۱۲۲ ، ط محمد علی صبیح۔
ہدایت اور نور ہے لہٰذا کتاب خدا سے متمسک رہو اسے مضبوطی سے پکڑے رہو پھر کتاب خدا کی بہت زیادہ ترغیب و توصیف بیان کی پھر فرمایا: دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں میں خدا کے واسطے سے تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں یاد دہانی کراتا ہوں ، تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں یاد دہانی کراتا ہوں ، تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں یاد دہانی کراتا ہوں ، (خدا کے لیے میرے اہل بیت کو مدّنظر قرار دینا) اس کلام کی تین مرتبہ تاکید فرمائی۔
۲۳۹۔ ”وعن کتاب المجمع بین الصّحاح الستة عن سنن ابی داوٴد وعن صحیح الترمذی باسنادھما عن رسول اللّٰہ (ص) قال: انّی تارک فیکم الثقلین ما ان تمسّکتم بھما لن تضلّوا بعدی احدھما اعظم من الاٴخر وھو کتاب اللّٰہ الممدود من السّمآء الی الاٴرض وعترتی اھل بیتی لن یفترقا حتّیٰ یردا علیّ الحوض فانظروا کیف تخلفونی فی عترتی “ (۱)
کتاب مجمع اور سنن ابو داؤد میں صحیح ترمذی سے کہ ان دونوں نے اپنے اسناد کے ساتھ رسول خدا (ص) سے نقل کیا ہے کہ آنحضرت (ص) نے فرمایا: یقینا میں تمہارے درمیان عمدہ گراں قدر چیزیں چھوڑ رہا ہوں میرے بعد جب تک ان دونوں سے متمسک رہو گے اور مضبوطی سے تھامے رہو گے ہرگز ضلالت و گمراہی میں نہیں پڑو گے ان میں سے ایک دوسرے سے زیادہ بڑی ہے اور وہ کتاب خدا ہے جو آسمان سے لے کر زمین تک کھنچی ہوئی رسی ہے اور دوسرے میری عترت جو میرے اہل بیت ہیں اور یہ قرآن و اہل بیت ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ میرے پاس حوض کوثر پر وارد ہوں گے، دقت سے غور کرو کہ میری عترت کے ساتھ تم کیسا سلوک کرتے ہو۔
۲۴۰۔ ” < واعتصموا بحبل اللّٰہ جمیعاً > باسانید قال: قال رسول اللّٰہ (ص) :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ کنز العمال، ج۱، ص ۳۸۱۔
ایّھا النّاس انّی قد ترکت فیکم الثقلین ان اخذتم بھما لن تضلّوا بعدی احدھما اکبر من الآخر کتاب اللّٰہ حبل ممدود ما بین السماء والارض او قال الی الاٴرض وعترتی اھل بیتی الا وانھما لن یفترقا حتّی یردا علیّ الحوض “ (۱)
ثعلبی نے اپنی تفسیر میں آیہٴ کریمہ <واعتصموا بحبل اللّٰہ> کی تفسیر میں اپنے متعدد اسناد کے ساتھ ذکر کیا ہے کہ رسول خدا نے فرمایا: اے لوگو! یقینا میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں۔
دونوں میرے خلیفہ اور نمائندے ہیں جب تک ان دونوں کو باہم لیے رہو گے (اور عمل کرو گے) تو ہرگز ہرگز میرے بعد گمراہ نہ ہوگے ان میں سے ایک دوسرے سے بڑی ہے اور وہ کتاب اللہ ہے جو آسمان سے لے کر زمین تک کھنچی ہوئی رسی ہے اور دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں جان لو یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میر ے پاس وارد ہوں گے۔
۲۴۱۔ ” وعن ابی الحسن الفقیہ فی ماٴة منقبة عن زید بن ثابت قال : قال رسول اللّٰہ (ص) انی تارک فیکم الثقلین کتاب اللّٰہ وعلیّ بن ابی طالب افضل لکم من کتاب اللّٰہ لاٴنّہ مترجم لکم کتاب اللّٰہ“ (۲)
ابو الحسن فقیر سے ابن شاذان نے کتاب مائة منقبة میں زید ابن ثابت سے روایت نقل کی ہے کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا: میں تمہارے درمیان دو عمدہ گراں قدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک اللہ کی کتاب اور دوسرے علی بن ابی طالب - اور وہ تمہارے لیے کتاب سے افضل ہیں کیوں کہ وہ کتاب اللہ کی تمہارے لیے ترجمانی کرنے والے ہیں۔
۲۴۲۔ ” وعن موفّق بن احمد ابو الموٴیّد اخطب خوارزمی بالاٴسناد عن مجاھد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ بحار الانوار، ج۲۳، ص ۱۰۷۔
(۲)۔ مائة منقبة، ص ۱۴۷، بہ نقل مقتل الحسین خوارزمی، ص ۳۲۔ ارشاد القلوب، ص ۳۷۸۔
قال قیل لابن عبّاس ما تقول فی علیٍّ کرّم اللّٰہ وجھہ ؟ فقال: ذکرت واللہ احد الثقلین سبقنا بالشّھادتین وصلّی بالقبلتین وبایع البیعتین (۱) وھو ابو السّبطین الحسن والحسین وردّت علیہ الشمس مرّتین “․(۲) بعد ما غاب عن الثقلین وجرّد السّیف تارتین (۳) وھو صاحب الکونین فمثلہ فی الامة مثل ذی القرنین ، ذاک مولای علی بن ابی طالب علیہ السلام (۴) “
ابو الموٴید اخطب خوارزمی نے اپنی سند کے ساتھ مجاہد سے روایت کی ہے کہ ابن عباس سے روایت نقل کی گئی ہے کہ ان سے کہا گیا کہ آپ علی کرّم اللہ وجہ کی شان میں کیا کہتے ہیں؟ کہا: خدا کی قسم !اس شخص کی گفتگو ہمارے درمیان کی ہے جو ثقلین میں سے ایک ہے اور کلمہٴ شہادتین یعنی وحدانیت خدا اور رسول خدا (ص) کی رسالت کی گواہی میں سبقت کی ہے دو قبلوں (بیت المقدس اور بیت اللہ الحرام) کی طرف نماز پڑھی ہے دو دفعہ بیعت (بیعت رضوان اور بیعت ذو العشیرہ) کی ہے آپ دو فرزندوں حسن و حسین کے باپ ہیں، آپ کی خاطر دو مرتبہ سورج واپس لوٹا۔ جب وہ دونوں قبلہ سے غائب اور غروب ہوچکا تھا اور دو مرتبہ تلوار کھینچی اور وہی صاحب کونین (دنیا و آخرت ہیں آپ کی مثل ائمہ میں ذو القرنین کی مانند ہے اور وہ ہمارے آقا و مولا علی بن ابی طالب - ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ البیعتین:دو بیعت یعنی بیعت عشیرہ یہ وہی بیعت ہے جو حضرت امیر المومنین نے رسول خدا (ص) کے لیے کی تھی جب انہوں نے کہا: کون ہے جو میرے امر میں میرا شریک ہو اس وقت جب اللہ تعالیٰ نے آیت <و انذر عشیرتک الاقربین> اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ نازل ہوئی۔ اور بیعت غدیر (بیعت عشیرہ ابتدا میں اور بیعت غدیر انتہا میں) اور علی ان دونوں فضیلت میں فرد فرید کی حیثیت رکھتے ہیں اور دونوں طرف کی فضیلت آپ کے حصر میں آئی ہے۔
(۲)۔ ردّ الشمس۔ ایک مرتبہ سورج کا پیغمبر (ص) کی دعا سے مقام صھباء سے پلٹنا اور دوسری مرتبہ سرزمین بابل میں۔
(۳)۔ و جرّد السیف۔ ایک مرتبہ جنگ خیبر میں مرحب کے مقابل میں تلوار کھینچی اور دوسری مرتبہ جنگ خندق میں عمرو بن عبدود کے مقابل میں۔
(۴)۔ مناقب خوارزمی، ص ۳۳۔
۵۔ دائمی حیات
۵۔ ” القرآن حیٌّ لا یموت والحجّة حیٌّ لایموت الیٰ یوم القیٰمة “
قرآن مجید زندہ و پائندہ ہے اور کبھی بھی فنا پذیر نہیں ہوگا حجّت الٰہی امام زمانہ - بھی زندہ و پائندہ ہیں جب تک خدا چاہے۔
۲۴۳۔ ”روی العیّاشی باسنادہ عن ابی جعفر علیہ السلام فی قولہ تعالیٰ <لکلّ قوم ھاد>انّہ قال: (علی) الھادی ومنّا الھادی ، فقلت فانت جعلت فداک الھادی قال صدقت انّ القرآن حیٌّ لا یموت والآیة حیّة لا تموت فلو کانت الآیة اذا نزلت فی الاٴقوام وماتوا مات الآیة لمات القرآن ، ولکن ھی جاریة فی الباقین کما جرت فی الماضین “ (۱)
عیاشی نے اپنی تفسیر میں اپنی سند کے ساتھ امام محمد باقر - سے آیہٴ کریمہ <وَ لِکُلّ قومٍ ھادٍ> (اور ہر قوم کے لیے ایک ہادی ہوتا ہے) کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ حضرت نے فرمایا: علی - ہدایت کرنے والے ہیں اور وہ ہم میں سے ہادی ہیں۔ میں نے عرض کیا: میں آپ پر قربان! آپ بھی ہادی ہیں؟ فرمایا: تم نے سچ کہا یقینا قرآن زندہ ہے اور اسے موت نہیں آئے گی یہاں تک کہ اس کی آیت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ تفسیر عیاشی، ج۲، ص ۲۰۳۔
بھی زندہ ٴ جاوید ہے، اگر ایک آیت اقوام و ملل کے حق میں نازل ہوئی ہو اور ان کی وفات اور مرنے کے بعداگر آیت کو موت آجاتی تو یقینا قرآن بھی فنا ہوجاتا لیکن وہ آیت دوسروں کے حق میں جاری و ساری ہوتی ہے جس طرح دوسروں کے حق میں جاری و ساری تھی۔
۲۴۴۔ ”وعن ابی عبد اللّٰہ علیہ السلام : انّ القرآن حیٌّ لم یمت وانّہ یجری کما یجری اللیل والنھار ، وکما یجری الشّمس القمر ، ویجری علیٰ آخرنا کما یجری علیٰ اوّلنا“ (۱)
امام جعفر صادق - سے روایت کی گئی ہے کہ حضرت - نے فرمایا: قرآن زندہ ہے اور اسے موت نہیں آتی ہے اور وہ جاری و ساری ہے جس طرح کہ شب و روز جاری و ساری ہیں اور اسی طرح کہ جیسے آفتاب و ماہتاب سیر اور حرکت کرتے ہیں قرآن بھی اس طرح ہمارے آخر پر جاری ہے جس طرح ہمارے اول پر جاری ہے۔
۲۴۵۔ ” ولو انّ الآیة اذا نزلت فی قوم ثمّ مات اولئٓک مات الآیة لمابقی من القرآن شی ولٰکنّ القرآن یجری اوّلہ علیٰ آخرہ ما دامت السّموات والاٴرض ، ولکلّ قوم آیة یتلوھا ھم منھا من خیر و شرٍّ“ (۲)
تفسیر قمی میں ذکر ہوا ہے: اگر ایک آیت کسی قوم کے درمیان نازل ہوئی ہو اور ایک مدت کے بعد اس قوم کے افراد مرجائیں تو ان کے مرنے کے بعد آیت کو بھی موت آجائے اور وہ ختم ہوجائے تو پھر قرآن میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہے گی لیکن قرآن کی اول سے لے کر آخر تک سیر اور حرکت دائمی ہے جب تک تمام آسمان اور زمین جاری و ساری ہیں اور ہر ایک قوم و ملت کے لیے آیت ہے کہ جس کی وہ لوگ تلاوت کرتے ہیں وہ لوگ اسی آیت سے یا خیر میں سے یا شر میں ہیں۔ یعنی ہر بات اس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ بحار الانوار، ج۳۵، ص ۴۰۴۔
(۲)۔ تفسیر قمی، ج۱، ص ۲۱۔ تفسیر عیاشی، ج۱، ص ۱۰۔
قوم کا اس آیت سے استفادہ کرنے پر موقوف اور وابستہ ہے یہ اگر اس طریقہ سے ہو جس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے نازل کیا اور اس کے ارادہ کے مطابق عمل کیا تو وہ خیر میں ہیں اور اگر اپنی خواہشات نفسانی کے تحت تاویل و توجیہ کی اور اس پر عمل کیا تو وہ شر میں ہیں۔
جیسا کہ اشارہ کیا جاچکا ہے کہ حضرت بقیة اللہ الاعظم - صاحب العصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف بھی صبح قیامت تک زندہٴ جاوید ہیں جہاں تک اللہ تعالیٰ چاہے اپنی لازوال قدرت سے انہیں زندہ و باقی رکھے گا۔ آیات اور روایات اس معنی کی طرف صریحاً گویا ہیں اور ہم تیمناً و تبرکاً ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
۲۴۶۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی محکم کتاب میں فرمایا: <وَإِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلاَئِکَةِ إِنِّی جَاعِلٌ فِی الْاٴَرْضِ خَلِیفَةً > (۱)
خداوند سبحان مخلوقات کی خلقت شروع کرنے سے پہلے خلیفہ معین کر رہا ہے، یہ خود مخلوقات کے درمیان خلیفہ کی موقعیت و اہمیت کے لیے بہت ہی واضح و روشن دلیل ہے۔
۲۴۷۔ امام جعفر صادق - نے بھی فرمایا: الحجة قبل الخلق ومع الخلق وبعد الخلق (۲)، حجّت الٰہی کو (بدیہی طور پر چاہیے کہ) مخلوقات کی خلقت سے پہلے تخلیق کے وقت اور مخلوقات کی خلقت کے بعد موجود ہونا چاہیے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ حکیم ہے جب کبھی اپنی مخلوقات کو خلیفہ اور اپنی حجّت سے پہلے خلق کرتا تو اسے مورد تلف قرار دیتا کہ یہ حکمت پروردگار کے تقاضے کے برخلاف ہے۔
اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: <اٴَفَمَنْ کَانَ عَلَی بَیِّنَةٍ مِنْ رَبِّہِ وَیَتْلُوہُ شَاہِدٌ مِنْہُ > (۳)کیا جو شخص اپنے رب کی طرف سے کھلی دلیل رکھتا ہے اور اس کے پیچھے اس کا گواہ بھی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ بقرہ، آیت ۳۰۔
(۲)۔ بصائر الدرجات، ص ۵۰۷۔ کافی، ج۱، ص ۱۷۷۔ کمال الدین، ج۱، ص ۶، ص ۲۲۱۔
(۳)۔ سورئہ ہود، آیت ۱۷۔
۲۴۸۔ ” وفی کمال الدّین للصدوق علیہ الرحمة باسنادہ عن ابی بصیر ، عن ابی جعفر علیہ السلام فی قول اللّٰہ عزّوجل <یَااٴَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اٴَطِیعُوا اللهَ وَاٴَطِیعُوا الرَّسُولَ وَاٴُوْلِی الْاٴَمْرِ مِنْکُمْ> قال: الائمة من ولد علی وفاطمة علیہما السلام الیٰ ان تقوم السّاعة “ (۱)
شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے کمال الدین میں ابو بصیر سے انہوں نے امام محمد باقر - سے نقل کیا ہے کہ حضرت - نے آیہٴ کریمہ <اطیعوا اللّٰہ و اطیعوا الرّسول> کے معنی میں فرمایا: وہ ائمہٴ اطہار ہیں جو اولاد علی و فاطمہ سے (ابتدائے خلقت سے) قیام قیامت تک ہیں۔
۲۴۹۔ ” وفیہ باسنادہ عن عبد الرّحمن بن سلیمان عن ابیہ عن ابی جعفر علیہ السلام عن الحارث بن نوفل قال: قال علی علیہ السلام لرسول اللّٰہ (ص) یا رسول اللّٰہ اٴمنّا الھداة اٴم من غیرنا ؟ قال : بل منّا الھداة ( الی اللّٰہ ) الیٰ یوم القیٰمة ، بنا استنقذھم اللّٰہ عزّوجل من ضلالة الشّرک ، وبنا یستنقذھم من ضلالہ الفتنة ، وبنا یصبحون اخواناً بعد ضلالة الفتنة کما بنا اصبحوا اخواناً بعد ضلالة الشّرک وبنا یختم اللّٰہ کما بنا فتح اللّٰہ “ (۱)
اس کتاب میں عبد الرحمن ابن سلیمان سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے امام محمد باقر - سے انہوں نے حارث ابن نوفل سے روایت کی ہے کہ ان کا بیان ہے: حضرت علی - نے حضرت رسول خدا سے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہدایت کرنے والے ہم میں سے ہیں یا ہمارے علاوہ دوسرے افراد ہیں؟ فرمایا: ہدایت کرنے والے ہم میں سے ہیں ابتدائے خلقت سے لے کرروز قیامت تک ، ہمارے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ لوگوں کو گمراہی و شرک سے نجات دے گا اور ہمارے ہی ذریعہ آزمائشوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ کمال الدین، ج۲، ص ۲۸۸۔ بحار الانوار، ج۲۳، ص ۲۸۸۔
(۲)۔ کمال الدین، ج۱، ص ۲۳۰۔
میں ضلالت کے بعد بھی، ہمارے ہی ذریعہ شرک و ضلالت کے بعد ایک دوسرے کے بھائی ہوئے اور ہمارے ہی وسیلہ سے اللہ تعالیٰ ختم کرے گا جس طرح ہمارے ہی وسیلہ سے آغاز کیا تھا۔
۲۵۰۔ ”عن عبد اللّٰہ بن سلیمان العامری ، عن ابی عبد اللّٰہ علیہ السلام قال: ما زالت الارض الّا وللّٰہ تعالیٰ ذکرہ فیھا حجّة یعرف الحلال والحرام یدعوا الی سبیل اللّٰہ جلّ وعزّ ولا ینقطع الحجّة من الاٴرض الا اربعین یوماً قبل یوم القیٰمة ، فاذا رفعت الحجة اغلق باب التوبة ولن ینفع نفساً ایمانھا لم تکن آمنت من قبل ان ترفع الحجّة اولئک شرار من خلق اللّٰہ وھم الّذین تقوم علیہم القیامة “ (۱)
عبد اللہ ابن عامری نے امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ حضرت - نے فرمایا: جب تک زمین اپنی جگہ ثابت و برقرار رہے گی اس میں اللہ تعالیٰ کے لیے ایک حجّت ہے جو حلال و حرام کو پہچانتا ہے اور لوگوں کو اللہ کی طرف اور خدا کے راستے کی سمت دعوت دیتا ہے اور زمین پر حجّت کا سلسلہ ختم نہیں ہوگا مگر قیامت واقع ہونے سے چالیس دن پہلے، اور جب زمینِ خدا سے حجّت اٹھالی جائے گی تو توبہ کے دروازے بند ہوجائیں گ اور اس ایمان لانے والے کے ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا جو حجّت الٰہی کے دفع ہونے کے بعد ہو۔
وہ لوگ مخلوقات خدا کے اشرار افراد ہیں اور قیامت انہیں لوگوں کے ضرر میں قائم ہوگی۔
لیکن وہ روایات جو دلالت کرتی ہیں کہ زمین بغیر حجّت کے باقی نہیں رہے گی دلالتِ التزامی بلکہ تضمنی طورپر دلالت کرتی ہیں کہ وہ لوگ قیام قیامت تک باقی رہیں گے۔
۲۵۱۔ ”وفی کمال الدین : باسنادہ عن ابی حمزة الثمالی عن ابی عبد اللّٰہ علیہ السلام قال قلت لہ اتبقی الاٴرض بغیر امام ؟ قال: لو بقیت الاٴرض بغیر امام ساعة
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ بصائر الدرجات، ص ۵۰۴۔ دلائل الامامة، ص ۶۳۶۔
لساخت “ (۱)
شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب کمال الدین میں ابو حمزہ ثمالی سے انہوں نے امام جعفر صادق سے روایت کی ہے کہ میں نے حضرت سے عرض کیا: کیا زمین بغیر امام کے باقی رہے گی؟ فرمایا: اگر زمین ایک ساعت بھی بغیر امام کے ہو تو وہ اپنے اندر نگل لے گی۔
۲۵۲۔ ”وفیہ باسنادہ عن ابراہیم بن ابی محمود قال: قال الرّضا علیہ السلام : نحن حجج اللّٰہ فی خلقة وخلفائہ فی عبادہ ، وامنآوٴہ علیٰ سرّہ ، ونحن کلمة التقویٰ ، والعروة الوثقیٰ ، ونحن شھدآء اللّٰہ واعلامہ فی بریّتہ ، بنا یمسک اللّٰہ السّموات الاٴرض ان تزولا ، بنا ینزل الغیث وینشر الرّحمة ، ولا تخلو الاٴرض من قائم منّا ظاہر اوخاف ، لو خلت یوماً بغیر حجة لما جت باھلھا کما یموج البحر باٴھلہ “ (۲)
نیز اسی کتاب میں ابراہیم ابن ابو محمود سے منقول ہے کہ حضرت امام رضا - نے فرمایا: ہم خدا کی مخلوق کے درمیان حجج اور خلفاء ہیں اور اس کے بندوں کے درمیان نمائندے ہیں اور اس کے راز کے امانت دار ہیں، ہم کلمہٴ تقویٰ ہیں اور (ایمان کا) محکم دستہ ہیں ہم اللہ کے شہداء اور اس کی مخلوق میں نشانیاں ہیں، ہمارے وسیلے سے اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کو زوال اور فنا پذیر ہونے سے محفوظ رکھتا ہے اور ہماری وجہ سے رحمت کی بارش نازل ہوتی ہے اور وہ ہر جگہ پہنچتی ہے اور روئے زمین ہمارے قائم (آل محمد (ص)) سے خالی نہیں ہوگی خواہ وہ ظاہر ہو یا مخفی اور پس پردہ ہو اگر زمین ایک دن بھی بغیر حجّت کے باقی رہ جائے تو دریا کی موج کی طرح اپنے ساکنوں کو اپنی گرفت میں لے لے گی اور غرق کردے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ کمال الدین، ج۱، ص ۲۰۱۔ غیبت نعمانی، ص ۱۳۸۔ غیبت طوسی، ص ۲۲۰۔
(۲)۔ کافی، ج۱، ص ۱۷۹۔ کمال الدین، ج۱، ص ۲۰۲۔ معجم احادیث الامام المہدی -، ج۵، ص ۳۶۵۔
۲۵۳۔ بصائر الدرجات میں ابو حمزہ ثمالی سے منقول ہے کہ امام محمد باقر - نے فرمایا: خدا کی قسم ! جس وقت حضرت آدم - کی روح قبض ہوئی، زمین کبھی خالی نہیں رہی، مگر یہ کہ اس میں ایک امام موجود تھا کہ جس کے ذریعہ لوگ خدا کی طرف ہدایت پاتے ہیں اور وہ روئے زمین میں اپنی مخلوقات پر حجّت خدا ہے زمین کبھی بھی امام جو خدا کے بندوں پر حجّت الٰہی ہوتا ہے اس سے خالی نہیں رہتی۔
۲۵۴۔ ”وفیہ باسنادہ عن الحسین بن ابی العلا قال: قلت لابی عبد اللّٰہ علیہ السلام اتترک الاٴرض بغیر امام ؟ قال: لا فقلنالہ : تکون الارض وفیھا امامان قال لا الّا امام صامت لا یتکلم ویتکلم الذی قبلہ “ (۱)
مزید اسی کتاب میں حسین ابن ابو العلا سے منقول ہے ان کا بیان ہے کہ میں نے امام جعفر صادق سے عرض کیا: کیا زمین بغیر امام کے باقی رہ سکتی ہے؟ فرمایا: نہیں، میں نے عرض کیا: کیا روئے زمین پر دو امام رہ سکتے ہیں؟ فرمایا: نہیں مگر یہ کہ ایک صامت ہو او ر امام کے عنوان سے گفتگو نہ کرے اور دوسرے کا تابع ہو اور وہ امام جو اس سے پہلے ہے بہ عنوان امام گفتگو کرے گا۔
۲۵۵۔ ”وفیہ ایضاً باسنادہ عن یعقوب السراج قال قلت لابی عبد اللّٰہ علیہ السلام تخلو الارض من عالم منکم حیٌّ ظاہر تفرع الیہ النّاس فی حلالھم وحرامھم فقال: یا ابا یوسف لا انّ ذٰلک لبیّن فی کتاب اللّٰہ تعالیٰ فقال : <یا ایّھا الّذین آمنوا اصبروا وصابروا><عدوّکم ممّن یخالفکم > <ورابطوا> امامکم واتقوا اللّٰہ فیما یاٴمرکم وفرض علیکم “ (۲)
نیز اسی کتاب میں یعقوب ابن سراج سے منقول ہے کہ ان کا بیان ہے: میں نے امام جعفر صادق سے عرض کیا: کیا زمین قائم آل محمد سے خالی رہ سکتی ہے جو زندہ اور ظاہر ہو اور لوگ اپنے حلال و
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ بصائر الدرجات، ص ۵۰۶۔
(۲)۔ مختصر بصائر الدرجات، ص ۸۔ بحار الانوار، ج۲۳، ص ۵۱۔
حرام دریافت کرنے کے لیے اس کی طرف رجوع کریں؟ تو حضرت نے فرمایا: نہیں، اے ابو یوسف! کیوں کہ یہ معنی قرآن میں واضح طور پر بیان ہوا ہے کہ: اے ایمان والو! دشمنوں اور مخالفین سے جو کچھ تم تک پہنچے صبر کرو اور اپنے امام کے ساتھ رابطہ رکھے رہو اور جو کچھ تمہیں حکم دے اللہ سے ڈرواور فرماں برداری کرو۔
۲۵۶۔ ”فی الکافی باسنادہ عن حمزة بن الطّیّار عن ابی عبد اللّٰہ علیہ السلام قال لو بقی اثنان لکان احدھما الحجّة علی صاحبہ “ (۱)
کافی میں کلینی ۺ نے حمزہ ابن طیار سے انہوں نے امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ حضرت نے فرمایا: اگر روئے زمین پر مخلوقاتِ خدا میں سے جب کبھی صرف دو افراد باقی رہیں تو ان میں سے ایک دوسرے پر خدا کی حجّت ہوگا۔
۲۵۷۔ ”وفیہ باسنادہ عن الحسن بن موسیٰ الخشاب ، عن جعفر بن محمد عن کرام قال: قال ابو عبد اللّٰہ علیہ السلام :لو کان النّاس رجلین لکان احدھما الاٴمام وقال: آخر من یموت الامام لئّلا یحتج احد علی اللّٰہ عزّوجلّ انہ ترکہ بغیر حجّة اللّٰہ علیہ “ (۲)
نیز اسی کتاب میں حسن ابن موسی خشاب سے جعفر ابن محمد سے انہوں نے آبائے کرام سے نقل کیا ہے کہ امام جعفر صادق - نے فرمایا: اگر تمام لوگوں میں سے صرف دو افراد باقی ہوں تو ان میں سے ایک امام ہوگا اور فرمایا: آخر میں جس کا انتقال ہوگا وہ امام ہوگا تاکہ کسی بندہ کو خدائے بزرگ و برتر پر اعتراض اور احتجاج کی مجال باقی نہ رہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بغیر حجّت کے کیوں چھوڑ دیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ اصول کافی، ج۱، ص ۱۷۹۔
(۲)۔ اصول کافی، ج۱، ص ۱۸۰۔
۶۔ خاتم
۶۔ القرآن آخر کتب السّماویة : والحجّة خاتم الاوصیآء وآخر السّفرآء․
قرآن مجید آسمانی کتابوں میں سے آخری کتاب ہے اور حضرت حجّت - عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف خاتم الاوصیاء اور الٰہی پیغمبروں میں سے آخری سفیر ہیں۔
مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ آسمانی کتابیں جو اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے پیغمبروں پر نازل ہوئیں وہ ایک سو چودہ کتابیں ہیں۔
پچاس کتاب حضرت آدم اور شیث # پر، تیس کتاب حضرت نوح - پر، بیس کتاب حضرت ابراہیم خلیل اللہ - پر اور دس کتاب بقیہ تمام انبیاء پر۔
کتاب زبور حضرت داؤد - پر نازل ہوئی۔
کتاب توریت حضرت موسیٰ - پر نازل ہوئی۔
کتاب انجیل حضرت عیسیٰ ابن مریم - پر نازل ہوئی۔
اور کتاب قرآن حضرت خاتم الانبیاء حضرت محمد ابن عبد اللہ - پر نازل ہوئی۔ (۱)
لیکن نازل شدہ صحیفے مندرجہ ذیل ہیں: حضرت آدم - کے صحیفے میں اکیس صحیفے، حضرت ابراہیم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ لغت نامہ دھخدا، بہ نقل تاریخ بلعمی بہ نقل فرہنگ فارسی، ڈاکٹر محمد معین۔
کے صحیفے میں دس صحیفے، حضرت شیث - کے صحیفے میں انتیس صحیفے اور حضرت موسیٰ -کے صحیفے میں دس صحیفے نازل ہوئے تھے۔ (۱)
حضرت موسیٰ - کی ولادت اور نزولِ توریت
تین ہزار آٹھ سو بیس سال پہلے جو ایک ہزار آٹھ سو سینتیس سال حضرت عیسیٰ - کی ولادت سے پہلے اور دو ہزار چار سو پینسٹھ سال حضرت خاتم الانبیاء - کی ہجرت سے پہلے ولید ابن مصعب (وہی مشہور فرعون) کی سلطنت و حکومت بلکہ خدا کے زمانہ میں جو ایران کے قدرت مند بادشاہ ضحاک تازی کا ہم عصر تھا حضرت موسیٰ بن عمران - کی مصر میں ولادت ہوئی (۲)۔
حضرت کے ہاتھوں قبطی کے قتل ہونے کے بعد (جو ایک اسرائیلی مظلوم کو چاہتا تھا کہ بے گاری کے لیے جائے تو وہ حضرت موسیٰ - کے پاس پناہ گزیں ہوا) ناچار ہوکرفرار کرکے شہر مدین گئے اور دس سال حضرت شعیب - پیغمبر کی خدمت میں زندگی بسر کی اور جب آپ کی عمر مبارک کے تینتالیس سال اور سینتیس دن گزر گئے تو وادی ایمن میں نبوت کے بلند درجہ پر فائز ہوئے۔
اور ایک سو چھبیس سال عمر گزارنے کے بعد بھی حضرت یوشع ابن نون کو اپنا جانشین معین کرنے کے بعد کوہ تیہ میں رمضان المبارک کے مہینے میں رحمت الٰہی سے جاملے۔
تراسی سال کی مدت نبوت میں بنی اسرائیل کی بہت عظیم خدمات انجام دیں:
ظلم اور ظالمین (فرعون اور قبطیوں) کی بنیادوں کو اکھاڑ پھینکا، شرک و کفر کو برطرف کیا لوگوں کو شرک و کفر سے صراط مستقیم اور توحید کے راہ راست پر لے آئے اور اپنا عظیم ترین قیمتی گوہر بطور یادگار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ لغت نامہ دھخدا، بہ نقل الفہرست ابن ندیم۔
(۲)۔ علامہ سلطان الواعظین علیہ الرحمہ کی مکمل تحقیق کے مطابق، انہوں نے اپنی کتاب صد مقالہ کے مقالہ سوم ، ص ۴ میں تحریر کیا ہے۔
چھوڑا جو بنی اسرائیل کے لیے باعث سرفرازی اور اسباب سعادت قرار پایا اور وہ مقدس کتاب توریت اور عظیم الواح و صحیفے تھے جو طور سینا میں چالیس دن کی ریاضت کے بعد عالمِ غیبت سے ان پر نازل ہوئے اور اس کو ایک صندوق (عہد نامی صندوق) میں مخفی رکھنے کا حکم دیا اور یہ کہ ہر سات سال میں ایک مرتبہ مقدس عہد کے دن باہر لائیں اور بنی اسرائیل کے لیے قرائت کریں اور اس صندوق کو بیت المقدس میں قرار دیں تاکہ دشمنوں کی دست رس سے محفوظ رہے ، لیکن افسوس یہ ہے کہ حضرت موسیٰ -نے اس مقدس توریت کی حفاظت کے بارے میں اس قدر تاکید کی مگر آج اس کا کوئی نام و نشان باقی نہیں ہے۔ اور یہودیوں کے ہاتھوں میں یہ موجودہ توریت اس بنا پر جو کچھ خود وہ لوگ معتقد ہیں اور اپنی کتابوں میں تحریر کی ہیں وہ الواح و صحیفے اور توریت کے اسفار خمسہ جو حضرت موسیٰ - پر نازل ہوئے ہرگز موجود نہیں ہیں اور اس توریت کی حضرت موسیٰ - سے متصل سند کلی طور پر منقطع ہے یقینی طور پر نہیں سمجھا جاسکتا کہ کس زمانہ سے صندوق عہد میں موجودہ نسخہ غائب ہوا لیکن قدر مسلم یہ ہے کہ حضرت سلیمان سے پہلے اس توریت کا نسخہ غائب ہوا اس لیے کہ سفر ملوک کے آٹھویں باب کی نویں آیت میں درج ہے کہ جب حضرت سلیمان نے صندوق کو کھولا تو دو سنگی لوح کے علاوہ کہ جس پر احکام عشرہ درج تھے اس کے علاوہ کوئی دوسری چیز نہیں پائی۔ (۱)
حضرت عیسیٰ علی نبینا و آلہ و علیہ السلام کی ولادت اور صلیب
دو ہزار چھ سال پہلے حضرت عیسیٰ روح اللہ فلسطین (بیت المقدس) میں اپنی ماں مریم بنت عمران سے بطور اعجاز اور خارق العادت (۲) طریقے سے پیدا ہوئے اور تیس سال کے بعد مبعوث بہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ صد مقالہ سلطانی، ص ۱۶۔
(۲)۔ <إِنَّ مَثَلَ عِیسَی عِنْدَ اللهِ کَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَہُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَہُ کُنْ فَیَکُونُ> (آل عمران، ۵۹)۔ عیسی کی مثال اللہ کے نزدیک آدم جیسی ہے کہ انہیں مٹی سے پیدا کیا اور پھر کہا ہوجا اور وہ ہوگیا۔
رسالت ہوئے او لوالعزم کے درجہ پر فائز ہوئے اور ایک کتاب بہ نام انجیل حق تعالیٰ کی طرف سے بنی اسرائیل کے معاشرہ توریت کی تکمیل اور ان کی ہدات کے لیے لائے۔
آپ کے زمانہٴ رسالت کے تین سال گزرنے کے بعد گروہ یہود اپنی انتہائی شقاوت و عناد کے درجہ پر پہنچ کر حضرت کے قتل کے درپے ہوئے،لہٰذا حواریوں (یعنی وہ خاص اصحاب جو بارہ افراد تھے) ایک غار میں مخفی ہوئے لیکن تلاش و جستجو کرنے والے افراد مسلسل ان کے تعاقب میں تھے اور انجام کار میں حضرت کے شاگردوں اور حواریوں میں سے اسخر یوٴطی نامی یہودی شخص نے یہودیوں سے تیس درہم چاندی لیا اور حضرت کے مکان کی نشان دہی کی۔
عجیب و غریب اچانک حملہ کے ساتھ حضرت کو گرفتار کیا اور بہت زیادہ آزار اور اذیت پہنچائی اور ایک معین جگہ مقید کیا اور انہیں اپنے زیرِ نظر قرار دیا تاکہ کل عام لوگوں اور خود باشاہ کے سامنے انہیں قتل کردیں۔
حضرت عیسیٰ - کے مصلوب ہونے کے متعلق عیسائیوں کا عقیدہ
عیسائیوں کا عقیدہ اخبار اناجیل اور موجودہ رسائل کے مطابق یہ ہے کہ حضرت کو صلیب دی گئی اور شقاوت اور شدید سختی کے ساتھ دار پر لٹکایا اور مصلوب اور دفن ہونے کے بعد زندہ ہوئے اور آسمان پر پہنچ گئے۔
لیکن قرآن مجید کی آیات کی صراحت کے مطابق مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ - کو نہ قتل کیا گیا اور نہ سولی دی گئی ہے بلکہ دوسرے کو ان کی شبیہ بنا دیا گیا اس لیے کہ وہ شخص جو دقیق طور پر حضرت عیسیٰ - کی شبیہ تھا اسے دار پر لٹکایا جیسا کہ آیہٴ کریمہ بھی اس معنی کی صراحت کرتی ہے: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <وَمَا قَتَلُوہُ وَمَا صَلَبُوہُ وَلَکِنْ شُبِّہَ لَہُمْ وَإِنَّ الَّذِینَ اخْتَلَفُوا فِیہِ لَفِی شَکٍّ مِنْہُ مَا لَہُمْ بِہِ مِنْ عِلْمٍ إِلاَّ اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوہُ یَقِینًا بَلْ رَفَعَہُ اللهُ إِلَیْہِ> (۱)
نہ انہیں قتل کیا ہے اور نہ سولی دی ہے بلکہ دوسرے کو ان کی شبیہ بنا دیا گیا تھا اور جن لوگوں نے عیسیٰ کے بارے میں اختلاف کیا ہے وہ سب منزل شک میں ہیں اور کسی کو گمان کی پیروی کے علاوہ کوئی علم نہیں ہے اور انہوں نے یقینا انہیں قتل نہیں کیا ہے بلکہ خدا نے اپنی طرف اٹھالیا ہے۔
حضرت عیسیٰ - کا زندان سے آسمان پر جانے کے بعد گروہ یہود جو ان کا اتباع کرنے والے تھے حد سے زیادہ غالب ہوگئے اور ایسے سخت حملے اور شدید صدمے پہنچائے کہ تمام عیسائی فرار اور مخفی ہوئے صحراؤں اور پہاڑوں میں پوشیدہ ہوگئے اور یہودیوں نے اس مدّت میں جو کچھ انجیل کے نسخے حاصل کیے اسے نیست و نابود کردیا۔
خود عیسائیوں کے قول کے مطابق بغیر کتاب کے تھے، بغیر کتاب ہونے کی مدت اتنی طویل ہوئی کہ ان میں سے ایک گروہ کلی طور پر اصل انجیل کا انکار کر بیٹھا اور کہا کہ حضرت عیسیٰ - بالکل انجیل نامی کوئی کتاب نہیں لائے ہیں!
چنانچہ عیسائیوں کے اکابر علماء کا ایک گروہ جیسے جیروم وارجن مشہور عیسائی مفسرین نیز کنٹ ٹولسٹوی روسی نے اپنی کتاب کے مقدمہ میں جو انجیل ٹو لسٹوی کے نام سے مشہور ہے کہتا ہے-: انجیل حضرت عیسیٰ کے زمانہ میں نہیں تھی بلکہ زمانہٴ عیسیٰ کے برسوں بعدحواریوں پر الہام کی گئی اور ان کے ذریعے تصنیف کی گئی نیز اپنی کتاب کے مقدمہ میں کہتا ہے: ہمارے زمانہ کی موجودہ اناجیل کی حضرت عیسیٰ - سے متصل سند نہیں پائی جاتی بلکہ حضرت عیسیٰ کے چار سو سال بعد تحریر کی گئی ہے۔
ٹو لسٹوی مشہور روسی رائٹر اپنی تفسیر کی چودہویں جلد میں اناجیل اربعہ (متی، مرقس، لوقا اور یوحنا) کو ہر ایک کی تاریخ تالیف جو سب کی سب حضرت عیسیٰ - کے زمانہ کے مدتوں بعد تحریر کی گئی ہیں ذکر کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ نساء، آیت ۱۵۶۔
ہے قارئین کرام کتاب صد مقالہ سلطان الواعظین شیرازی رحمة اللہ علیہ میں ص ۴۶ کی طرف رجوع کریں۔
لیکن قرآن مجید کے نزول کی تاریخ کے بارے میں کہ وہ کس دن اور کس مہینہ میں منصہ شہود پر آیا اسلامی دانشوروں کے درمیان مختلف نظریات پائے جاتے ہیں جیسا کہ حضرت رسول اکرم (ص) کی مبعث کی تاریخ میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔
لیکن چونکہ مسلّم طور پر قرآن مجید آخری آسمانی کتاب ہے لہٰذا مختلف نظریات کی وضاحت سے ہم صرف نظر کرتے ہیں۔
۲۵۸۔ اکثر شیعہ روایات کے مطابق شب قدر ماہ رمضان کے آخری دس دنوں میں قرار پائی ہے کہ ظنِّ قوی اور روایات کی شہادت کے مطالب ماہ رمضان کی تیئیسویں شب کو شب قدر جاننا چاہیے اور قرآن مجید کے نزول کا آغاز بھی اسی دس رات میں ہے۔ سیوطی نے در منثور میں اس سلسلہ میں ایک قابل توجہ روایت نقل کی ہے وہ رقم طراز ہیں: واثلہ ابن اسقع سے روایت نقل ہوئی ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: توریت ماہ رمضان کے چھ دن بعد ، انجیل ماہ رمضان کی تیرہویں تاریخ سے پہلے، زبور اٹھارہویں ماہ رمضان سے پہلے اور قرآن جوبیسویں ماہ رمضان سے پہلے نازل ہوا ہے اور یہ احادیث آیات قرآنی <شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن> (۱) (ماہ رمضان یہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے) اور آیہٴ کریمہ <انا انزلناہ فی لیلة القدر> (بے شک ہم نے اسے شب قدر میں نازل کیا) سے تطبیق کرتی ہیں۔
اسی جیسی حدیث کو ہم عصر دوستوں میں سے ایک دوست نے کتاب جامع الاخبار و الآثار ج۱، ص۷، ص ۸، حدیث نمبر ۲ اپنی تالیفات میں حفص ابن غیاث سے اور انہوں نے امام جعفر صاد ق -
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ بقرہ، آیت ۱۸۵۔
سے نقل کیا ہے:
۲۵۹۔ ” قال: ساٴلتة عن قول اللّٰہ تعالیٰ <شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن>انَّما انزل فی عشرین سنة بین اولہ وآخرہ․
فقال ابو عبد اللّٰہ علیہ السلام نزل القرآن جملة واحدة فی شہر رمضان الٰی بیت المعمور ثمّ نزل فی طول عشرین سنة ثم قال: قال النّبی (ص) : نزلت صحف ابراہیم علیہ السلام فی اول لیلة من شھر رمضان وانزلت التّوراة لستٍّ مضمین من شھر رمضان وانزل الانجیل لثلاث عشر لیلة خلت من شھر رمضان وانزل الزّبور لثمان عشر خلون من شھر رمضان وانزل القرآن فی ثلاث و عشرین من شھر رمضان“ (۱)
حفص ابن غیاث نے امام جعفر صادق - سے ماہ رمضان میں نزول قرآن کے بارے میں دریافت کیا تو حضرت - نے فرمایا: قرآن صرف بیس برس کے عرصہ میں اول سے آخر تک نازل ہوا ہے پھر امام صادق - نے فرمایا: مکمل قرآن تو ماہ رمضان میں بیت المعمور میں نازل ہوا تھا پھر بیس سال کے عرصہ میں حضرت رسول خدا (ص) پر نازل ہوتا رہا۔ پھر فرمایا کہ حضرت رسول خدا (ص) نے فرمایا: حضرت ابراہیم - پر صحیفے ماہ رمضان کی پہلی رات میں نازل ہوئے اور توریت چھ رمضان کو نازل ہوئی اور انجیل شبِ تیرہ ماہ رمضان کو، زبور اٹھارہ ماہ رمضان کو اور قرآن تیئیس ماہ رمضان کو نازل ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ کافی، ج۱، ص ۶۲۸، حدیث ۶۔ بحار الانوار، ج۱۳، ص ۲۲۷، حدیث ۴۴۔ نور الثقلین ج۱، ص ۲۸۵، حدیث ۹، ص ۴۷۹، حدیث ۶۷۲۔ الجنة الواقیہ کفعمی ص ۵۱۳۔
قرآن مجید کے نزول کی کیفیت
قرآن ایک مرتبہ شب قدر میں مجموعی طور پر منظم شکل میں نازل ہوا اور دوسری مرتبہ تیئیس سال میں تدریجی طور پر لوگوں تک پہنچایا گیا۔
قرآن مجید کے تمام آسمانی کتابوں پر من جملہ نمایاں امتیازات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ صرف ایک مرتبہ مجموعی طور پر منظم شک میں گزشتہ انبیاء پر نازل ہوتی تھیں اور عام لوگوں کے اختیار میں قرار پاتی تھیں۔ لیکن قرآن مجید ایک مرتبہ مجموعی، مرتب اور کامل طور پر بین الدفتین شب قدر میں لوح محفوظ سے بیت المعمور کی طرف جو چوتھے آسمان میں ہے یا بیت العزت جو دنیا کے آسمان میں ہے نازل ہوا ہے جیسا کہ قرآن مجید فرماتا ہے: <انا انزلناہ فی لیلة القدر> (بے شک ہم نے اسے شب قدر میں نازل کیا ہے) ظاہرا ً بیت المعمور یا بیت العزت وغیرہ میں نازل ہوتا لیکن حقیقت میں رسول خدا (ص) کے ہر دل عزیز مبارک قلب پر نازل ہوا جیسا کہ سورئہ بقرہ سورئہ نمبر ۲ کی انیسویں آیت میں فرماتا ہے: <فانّہ نزّلہ علی قلبک باذن اللّٰہ> (یقینا اسے اللہ کی اجازت سے آپ کے قلب پر نازل کیا) سورہ شعراء، سورہ نمبر ۲۶ کی ایک سو چورانویں آیت میں فرماتا ہے: <نزل بہ الروح الامین علی قلبک> (اسے جبرئیل امین آپ کے قلب پر لے کر نازل ہوئے)۔
لہٰذا حضرت رسول خدا (ص) چالیس سال کی مدت میں قرآن مجید کے دستورات پر عمل کرتے رہے لیکن اسے ابلاغ کرنے پر مامور نہیں ہوئے تھے مگر جب مبعوث بہ رسالت اور اسے ابلاغ پر مامور ہوئے تو تیئیس سال کی مدت میں پارہ پارہ اور آیت آیت کی شکل میں حالات کے تقاضے کے مطابق پیغمبر خاتم (ص) کے قلب پر نازل اور آنحضرت (ص) کی زبان مبارک پر جاری ہوا۔
۲۶۰۔ جیسا کہ کتاب کافی اور عظیم تفسیروں نے مفضل ابن عمر کی حدیث کو نقل کیا ہے کہ جب برحق امام ناطق، اسرار حقائق کو کشف کرنے والے حضرت جعفر ابن محمد الصادق - نے قرآن مجید کی چند آیات کی تلاوت فرمائی جیسے آیہٴ کریمہ <شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِی اٴُنزِلَ فِیہِ الْقُرْآنُ > (۱) (وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے) <إِنَّا اٴَنزَلْنَاہُ فِی لَیْلَةٍ مُبَارَکَةٍ إِنَّا کُنَّا مُنذِرِینَ > (۲) ہم نے اس قرآن کو ایک مبارک رات میں نازل کیا ہے۔ <وَقَالَ الَّذِینَ کَفَرُوا لَوْلاَنُزِّلَ عَلَیْہِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً کَذَلِکَ لِنُثَبِّتَ بِہِ فُؤَادَکَ وَرَتَّلْنَاہُ تَرْتِیلًا > (۳)
اور یہ کافر بھی کہتے ہیں کہ آخر ان پر یہ قرآن ایک دفعہ کامل کیوں نازل ہوگیا۔ ہم اسی طرح تدریجاً نازل کرتے ہیں تاکہ تمہارے دل کو مطمئن کرسکیں اور ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر نازل کیا ہے۔
مفضل ابن عمر نے عرض کیا: یہ آیات تنزیل قرآن میں ہیں ”فکیف ظھر الوحی“ پس کیسے وحی بیس سال کی مدت میں ظاہر ہوئی؟ تو حضرت - نے فرمایا: ”یا مفضل اعطاہ اللّٰہ القرآن فی شھر رمضان وکان لا یبلغہ الا فی وقت استحقاق الخطاب ولا یوٴدّیہ الّا فی وقت امر ونھی فھبط جبرئیل بالوحی فتبلغ ما یوٴمر بہ قولہ تعالیٰ لا تحرّک بہ لسانک لتعجل بہ انتھی “
اے مفصل! اللہ تعالیٰ نے قرآن پیغمبر (ص) کو ماہ رمضان میں عطا فرمایا اور آنحضرت نے لوگوں کو وہ قرآن ابلاغ نہیں فرمایا مگر خطاب کے استحقاق کے موقع پر (یعنی جب مقتضی موجود تھا)اور اسے ادا نہیں کیا مگر اس وقت جب آنحضرت (ص) کو وحی ہوتی تھی تو اس وقت اس شے کو ابلاغ فرماتے تھے جس کے لیے انہیں مامور کیا گیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: آپ وحی کے تمام ہونے سے پہلے قرآن کے بارے میں عجلت سے کام نہ لیا کریں اس بات کی یہ آیہٴ کریمہ تائید کرتی ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : <وَلاَتَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ مِنْ قَبْلِ اٴَنْ یُقْضَی إِلَیْکَ وَحْیُہُ > (۴)
اور آپ وحی کے تمام ہونے سے پہلے قرآن کے بارے میں عجلت سے کام نہ لیا کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ بقرہ، آیت ۱۸۵۔ (۲)۔ سورئہ دخان، آیت ۲۔
(۳)۔ سورئہ فرقان، آیت ۳۴۔ (۴)۔ سورئہ طہ ، آیت ۱۱۳۔
۷۔ وسیع عبادت
۷۔ القرآن : النظر الیہ واستماعہ وکتابة وقرائة کلّھا مستحبّ وعبادة․
قرآن مجید کی طرف نگاہ کرنا، سننا ، لکھنا اور اس کا پڑھنا مستحب اور عبادت ہے۔ اسی طرح معصوم کے چہرے پر نظر کرنا، انتظار ، ان کا ذکر کرنا ان کے فضائل مناقب کا لکھنا اور سننا بھی مستحب اور عبادت ہے۔
”والحجّة - صلوات اللّٰہ علیہ - وعلیٰ آبائہ واجدادہ الطّیبین الطّاہرین - صلوات اللّٰہ علیہم اجمعین - النّظر والی وجوھھم وانتظار فرجھم وذکر منا قبھم وفضائلھم وکتابتھا واستماعھا کلّھا مستحب وعبادة “
حضرت حجّت - اور ان کے آباء واجداد طیبین و طاہرین علیہم الصلاة و السلام اجمعین کے چہرے پر نظر کرنا اور ان کے ظہور کا انتظار کرنا ان کے فضائل و مناقب کا ذکر کرنا اس کا لکھنا اور سننا سب کچھ مستحب اور عبادت ہے۔
۲۶۱۔ ” وفی الکافی باسنادہ عن بشربن غالب الاٴسدی عن الحسین بن علیّ علیہ السلام قال: من قراٴ آیة من کتاب اللّٰہ عزّوجلّ فی صلاتہ قائماً یکتب لہ بکلّ حرف ماٴة حسنة فاذا قراٴھا فی غیر صلاة کتب اللّٰہ لہ بکلّ حرف عشر حسنات ، وان استمع القرآن کتب اللّٰہ لہ بکلّ حرف حسنة ، ان ختم القرآن لیلاً صلّت علیہ الملائکة حتیٰ یصبح ، وان ختمہ نھاراً صلّت علیہ الحفظة حتیٰ یمسی وکانت لہ دعوة مجابة وکان خیراً لہ مما بین السّمآء الی الاٴرض قلت: ھذا لمن قراٴ القرآن فمن لم یقراٴ ؟ قال: یا اخا بنی اسد انّ اللّٰہ جواد ماجد کریم اذا قراٴ ما معہ اعطاہ اللّٰہ ذٰلِک “ (۱)
کتاب کافی میں کلینی ۺ نے بشیر ابن غالب اسدی سے انہوں نے سید الشہداء حسین ابن علی - سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت - نے فرمایا: جو شخص کتاب اللہ کی ایک آیت کھڑے ہوکر پڑھے اس کے لیے ہر حرف کے بدلے سو نیکیاں (اس کے نامہٴ اعمال میں) لکھی جائیں گی اور جب نماز کے علاوہ پڑھے تو اللہ اس کے لیے ہر حرف کے بدلے دس نیکیاں تحریر کرے گا اور جو قرآن کو سنے تو اللہ تعالیٰ ہرحرف کے بدلے دس نیکیاں لکھے گا اگر رات کو ختم قرآن کرے گا تو ملائکہ اس پر صبح تک درود بھیجیں گے اور اگر دن میں ختم کرے گا تو شام تک فرشتے اس کی حفاظت کریں گے اور اس کی دعا قبول ہوگی (یہی قرائت قرآن یا دعا مقبول ہوگی) وہی اس کے لیے زمین سے آسمان تک جو کچھ ہے بہتر ہے، میں نے عرض کیا: قرآن پڑھنے والے کے لیے اتنا ثواب ہے اور نہ پڑھنے والے کے لیے کیا ہے؟ (یعنی جسے معلوم نہ ہو اور صرف مختصر قرآن حفظ ہو) فرمایا: اے بھائی بنی اسد! اللہ تعالیٰ صاحب جود و کرم ہے اگر کوئی اتنا پڑھے جتنا اس کو یاد ہے اللہ اس کو بھی اپنے کرم سے اتنا ہی ثواب عطا فرمائے گا۔
۲۶۲۔ ” وفیہ بالاسناد عن محمّد بن بشیر عن علیّ بن الحسین علیہما السلام قال وقد روی ھذا الحدیث عن ابی عبد اللّٰہ علیہ السلام قال : من استمع حرفاً من کتاب اللّٰہ عزّوجلّ من غیر قرائة کتب اللّٰہ لہ حسنة ومحی عنہ سیّئة ورفع لہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ اصول کافی، ج۲، ص ۶۱۱۔ بحار الانوار، ج۸۹، ص ۲۰۱۔
درجة من قراٴ نظراً من غیر صوت کتب اللّٰہ لہ بکلّ حرف حسنة ومحا عنہ عشر سیّئة ورفع لہ عشر درجة ومن تعلّم منہ حرفاً ظاہراً کتب اللّٰہ لہ عشر حسنات ومحی عنہ عشر سیئات ورفع لہ عشر درجات قال: لا اقول بکل آیة ولکن بکلّ حرف: باء او تاء او شبھھما قال: ومن قراٴ حرفاً ظاہراً وھو جالس فی صلاتہ کتب اللّٰہ لہ بہ خمسین حسنة ومحا عنہ خمسین سیئة ورفع لہ خمسین درجة ومن قراٴ حرفاً وھو قائم فی صلاتہ کتب اللّٰہ لہ بکلّ حرف ماٴة حسنة ومحی عنہ ماٴة سیئة و رفع لہ ماٴة درجة ومن ختمہ کانت لہ دعوة مستجابة موٴخّرة او معجّلة قال: قلت : جعلت فداک ختمہ کلہ ؟ قال ختمہ کلّہ “ (۱)
نیز اس کتاب میں کلینیۺ نے محمد ابن بشیر سے اپنی سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ حضرت امام سجاد - نے امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ حضرت - نے فرمایا: جو کتاب کے ایک حرف کو بغیر قرائت کیے کان لگا کر سنے تو اللہ اس کے نام ایک نیکی تحریر کرتا ہے اور ایک گناہ محو کرتا ہے اور ایک درجہ بلند کرتا ہے اور جو بغیر آواز سے پڑھے صرف (قرآن کے نقوش پر) نگاہ کرے تو اللہ ہر حرف کے بدلے ایک نیکی لکھتا ہے اور ایک گناہ محو کرتا ہے اور ایک درجہ بلند کرتا ہے جو شخص کسی کو قرآن کا ایک حرف پڑھائے تو اللہ اس کے نام پر دس نیکیاں تحریر کرتا ہے اور دس درجہ بلند کرتا ہے پھر فرمایا: تمہیں یہ نہیں کہتا کہ ہر آیت کے بدلے میں (اس فضیلت کو اسے عطا کرے گا) بلکہ ہر حرف ب یا ت کے بدلے میں اور یہ بھی فرمایا: جو شخص ایک حرف کو بیٹھ کر نماز میں پرھے تو اللہ اس کے لیے پچاس حسنہ لکھتا ہے ، پچاس گناہ محو کرتا ہے اور سو درجہ بلند کرتا ہے اور جو ایک حرف کھڑے ہو کر نماز میں پڑھے تو اللہ تعالیٰ ہر حرف کے بدلے سو حسنہ تحریر کرتا ہے ، سو گناہ مٹا دیتا ہے اور سو درجہ بلند کرتا ہے اور جو قرآن ختم کرے تو اس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ اصول کافی، ج۲، ص ۶۱۳۔ تفسیر صافی، ج۱، ص ۶۹۔
کے لیے جلد یا تاخیر سے اس کی دعائیں (مصلحت کے باعث) مقبول ہوتی ہیں۔ راوی کا بیان ہے: میں نے عرض کیا: میں آپ پر فدا ہوں مکمل قرآن ختم کرے؟ فرمایا: ہاں مکمل قرآن ختم کرے۔
۲۶۳۔ ”وفیہ بالاٴسناد عن اسحاق بن عمّار عن ابی عبد اللّٰہ علیہ السلام قال: قلت لہ : جعلت فداک انّی احفظ القرآن علی ظھر قلبی فاقراہ علیٰ ظھر قلبی افضل اوانظر فی المصحف ؟ قال فقال لی بل اقراٴہ وانظر فی المصحف فھو افضل ، اما علمت انّ النظر فی المصحف عبادة “ (۱)
نیز اسی کتاب میں کلینی ۺ نے اپنی سند کے ساتھ اسحاق ابن عمار سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ میں نے حضرت - سے عرض کیا: میں آپ پر قربان جاؤں میں قرآن کا حافظ ہوں ( میں حفظ کے ساتھ قرآن پڑھ سکتا ہوں) کیا حفظ سے پڑھوں یہ بہتر ہے یا قرآن کو دیکھ کر؟ حضرت نے فرمایا: قرآن دیکھ کر پڑھنا افضل ہے کیا تمہیں نہیں معلوم کہ قرآن پر نظر کرنا عبادت ہے۔
۲۶۴۔ ”وفیہ عن الحسن بن راشد عن جدّہ عن ابی عبد اللّٰہ علیہ السلام قال قرائة القرآن فی المصحف تخفّف العذاب عن الوالدین ولو کانا کافرین “ (۲)
اسی کتاب میں حسن ابن راشد سے منقول ہے کہ انہوں نے اپنے جد سے انہوں نے امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ حضرت - نے فرمایا: قرآن کو دیکھ کر پڑھنا والدین کے عذاب میں تخفیف کا باعث ہے اگر وہ کافر ہی کیوں نہ ہوں۔
۲۶۵۔ ”وفی روایة عن یعقوب بن یزید رفعہ الی ابی عبد اللّٰہ علیہ السلام قال من قراٴ القرآن فی المصحف متّع ببصرہ وخفّف عن والدیہ وان کانا کافرین ․ وفی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ اصول کافی، ج۲، ص ۲۱۴۔
(۲)۔ اصول کافی، ج۲، ص ۶۱۳۔
روایة وان کانا مشرکین “ (۱)
یعقوب ابن یزید نے مرفوعاً امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ حضرت نے فرمایا: جو شخص قرآن کو دیکھ کر پڑھے اس کی آنکھوں کو فائدہ پہنچے گا اور اس کے والدین پر عذاب کی تخفیف ہوگی اگرچہ وہ کافر ہی ہوں۔
مولف کہتے ہیں: حضرت بقیة اللہ الاعظم عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف اور آپ کے آباء و اجداد طاہرین ائمہٴ اطہار کی طرف نگاہ کرنا ان کی قبروں کی زیارت کرنا ان کے فضائل و مناقب اور مصائب ذکر کرنا خواہ لکھنے سے یا سننے سے مربوط ہو نیز ان کے ظہور کا انتظار کرنا عبادت او مستحب ہے مزید ثواب اور حقائق وغیرہ کشف کرنے میں بہت سے آثار و برکات پائے جاتے ہیں۔
۲۶۶۔ ”وفی فرحة الغری : فی حدیث عن النّبی (ص) انّہ قال لعلی علیہ السلام ومن زار قبورکم عدل ثواب ذلک سبعین حجّة بعد حجة الاسلام وخرج من ذنوبہ حتّیٰ یرجع من زیارتکم کیوم ولدة امّہ فابشروبشّر اولیائک ومحبیّک من النّعیم قرة العین بما لا عین راٴت ولا اذن سمعت ولا خطر علیٰ قلب بشر ولٰکن حثالة من النّاس یعیّرون زوّار قبورکم کما تعیّر الزّانیة بزنائھا اولئک شرار امّتی لا امالھم اللّٰہ شفاعتی ولا یردون حوضی “ (۲)
کتاب فرحة الغری میں سید ابن طاؤوس رضوان اللہ علیہ نے پیغمبر اکرم (ص) کی ایک حدیث کے ضمن میں نقل کیا ہے کہ آنحضرت (ص) نے حضرت علی - سے فرمایا: جو شخص آپ کی قبروں کی زیارت کرے تو اس کا ثواب حجة الاسلام کے بعد ستّر حج کے ثواب کے برابر ہے اور وہ اپنے گناہوں سے بری ہوجاتا ہے یہاں تک کہ آپ کی زیارت سے واپس ہوتا ہے تو اس دن کی طرح ہوجاتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ گزشتہ حوالہ۔
(۲)۔ فرحة الغری، ص ۱۰۵۔ بحار الانوار، ج۹۷، ص ۱۲۱۔
کہ جس دن وہ شکم مادر سے پیدا ہوا ہو لہٰذا تمہیں بشارت ہو اور اپنے دوستوں اور چاہنے والوں کو نعمتوں (لامتناہی نعمتوں) کی بشارت دو اور ایسی آنکھوں کی روشنی کی کہ جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ ہی کسی کان نے سنا ، نہ ہی کسی قلب بشر میں خطور کیا ہو۔ لیکن بہت سے پست نظر افراد آپ کی قبروں کے زائرین کو یوں طعنہ دیتے ہیں جیسے بدکار عورت کو اسے اس کی بدکاری کی بنا پر طعنہ دیا جاتا ہے، وہ لوگ میری امت کے شریر ترین لوگ ہیں نہ انہیں میری شفاعت نصیب ہوگی اور نہ ہی میرے حوض کوثر پر وارد ہوں گے (یعنی اللہ تعالیٰ انہیں میری شفاعت سے محروم رکھے گا)
مولف کہتے ہیں: پیغمبر اکرم (ص) کی زیارت کے بارے میں ائمہٴ اطہار میں ہر ایک سے بہت فضیلت اور نامحدود ثواب معادن وحی و تنزیل سے نقل ہوا ہے کہ اختصار کے ساتھ ہم چند مقام کی طرف اشارہ کرتے ہیں قارئین کرام مفصل کتابوں جیسے بحار الانوار علامہ مجلسی ، کامل الزیارات علامہ ابن قولویہ اور وسائل الشیعہ شیخ حر عاملی کی طرف رجوع کریں۔
۲۶۷۔ ”وفی علل الشرایع للصدوق ۺ عن الصادق علیہ السلام اذا حجّ احدکم فلیختم حجہ بزیارتنا فانّ ذلک من تمام الحجّ “ (۱)
شیخ صدوق رحمة اللہ علیہ نے کتاب علل الشرائع میں امام جعفر صادق - سے روایت کی ہے کہ حضرت نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص حج پر جائے تو اسے چاہیے کہ اپنے حج کو ہماری زیارت پر ختم کرے کیوں کہ ہماری زیارت کے لیے آنا ہی حج کو حد کمال تک پہنچاتا ہے۔
۲۶۸۔ ”وفیہ عنہ علیہ السلام : قال قال الحسن بن علی علیہ السلام لرسول اللّٰہ یا ابتاہ ما جزآء من زارک فقال رسول اللّٰہ (ص) یا بنیّ من زارنی حیّاً اومیّتاً او زار اباک او اخاک او زارک کان حقّاً علیّ ان ازورہ یوم القیٰمة فاخلّصہ من ذنوبہ “ (۲)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ علل الشرایع، ج۲، ص ۴۵۹۔ عیون الاخبار الرضا - ، ج۱، ص ۲۹۳۔
(۲)۔ علل الشرایع، ج۲، ص ۴۶۰۔ کامل الزیارات، ص ۹۱۔ بحار الانوار، ج۹۶، ص ۳۷۳۔
شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب علل الشرائع میں امام جعفر صادق - سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت - نے فرمایا: امام حسن مجتبیٰ نے حضرت رسول خدا (ص) کی خدمت میں عرض کیا: اے میرے پدر گرامی! جو آپ کی زیارت کرے اس کا کیا اجر و ثواب ہے؟ فرمایا: اے بیٹے! جو میری زندگی میں یا مرنے کے بعد میری زیارت کرے یا تمہارے والد گرامی یا تمہارے عزیز بھائی یا خود تمہاری زیارت کرے تو یہ میرے لیے اس کے زائد حق میں واجب ہے کہ اس کی قیامت کے دن زیارت کروں اور اسے گناہوں کی قید سے نجات اور چھٹکارا دلاؤں۔
۲۶۹۔ ”وفی کامل الزیارة لابن قولویہ قدس سرہ: قال رسول اللّٰہ (ص) من زار قبری بعد موتی کان کمن ھاجر الیّ فی حیٰوتی فان لم تستطیعوا فابعثوا الیّ بالسلام فانّہ یبلغنی “ (۱)
کامل الزیارات میں ابن قولویہ رحمة اللہ علیہ نے رسول خدا (ص) سے نقل کیا ہے کہ آنحضرت نے فرمایا: جو شخص میرے بعد میری قبر کی زیارت کرے وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے تیری زندگی میں میری طرف ہجرت کی اگر تمہارے اس عمل کا امکان نہ پایا جاتا ہو تو جہاں کہیں رہو مجھے سلام بھیجو وہ مجھے پہنچ جائے گا۔
۲۷۰۔ ” وفی فرحة الغری عن ابی عبد اللّٰہ علیہ السلام قال من زار امیر الموٴمنین علیہ السلام ما شیاً کتب اللّٰہ لہ بکلّ خطوة حجة وعمرة فان رجع ماشیاً کتب اللّٰہ بکلّ خطوة حجة وعمرة فان رجع ماشیاً کتب اللّٰہ بکل خطوة حجتان وعمرتان“ (۲)
فرحة الغری میں امام جعفر صادق - سے منقول ہے کہ حضرت نے فرمایا: جو شخص حضرت امیر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ کامل الزیارات، ص ۴۷۔ تہذیب الاحکام ، ج۶، ص ۳۔ وسائل الشیعہ، ج۱۴، ص ۳۳۷۔
(۲)۔ فرحة الغری، ص ۱۰۳۔ مزار شیخ مفید، ص ۳۰۔ بحار الانوار، ج۹۷، ص ۲۶۰۔
المومنین علی - کی پا پیادہ زیارت کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے نامہٴ اعمال میں ہر قدم پر ایک حج اور ایک عمرہ کا ثواب لکھتا ہے اور اگر پا پیادہ واپس جائے تو ہر ایک قدم پر دو حج اور دو عمرہ کا ثواب تحریر کرتا ہے۔
۲۷۱۔ ” وعنہ علیہ السلام وقد ذکر امیر الموٴمنین علیہ السلام فقال یابن مارد من زار جدّی عارفاً بحقہ کتب اللّٰہ لہ بکلّ خطوة حجة مقبولة وعمرة مبرورة یابن مارد واللہ ما یطعم النار قدماً تغبرت فی زیارة امیر الموٴمنین علیہ السلام ماشیاً کان او راکباً، یابن مارد اکتب ھذا الحدیث بماء الذّھب “ (۱)
سید جلیل القدر جناب ابن طاووس رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی کتاب فرحة الغری میں امام جعفر صادق - سے روایت نقل کی ہے کہ گویا ان کے جدّ بزرگوار کے بارے میں گفتگو ہوئی (ابن مارد کے ذریعہ یا کسی دوسرے کے ذریعہ) تو حضرت نے ابن مارد کو خطاب کرکے فرمایا: اے فرزند مارد! جو شخص میرے جد بزرگوار کی حقیقی معرفت کے ساتھ زیارت کرے (ان کی ولایت و خلافت بلا فصل کا عقیدہ رکھتا ہو) تو خدائے عزوجل اس کے ہر ایک قدم پر قبول شدہ حج اور عمرہ اس کے نامہٴ اعمال میں تحریر کرتا ہے، اے فرزند مارد! خدا کی قسم ! آتش جہنم اس قدم کو اپنی غذا نہیں بناتی جو حضرت امیر المومنین - کی زیارت کی راہ میں اٹھایا جائے ، خواہ وہ پیادہ گیا ہو یا سواری کے ساتھ اے فرزند مارد! اس حدیث کو سونے کے پانی سے تحریر کرو۔
مولف کہتے ہیں: کتنی زیادہ روایات حضرت سید الشہداء حسین ابن علی علیہما السلام کی زیارت کی فضیلت اور ثواب کے بارے میں وارد ہوئی ہیں جو مستفیض بلکہ تواتر کی حد تک پہنچی ہوئی ہیں۔
۲۷۲۔ ” فی الامالی باسنادہ عن محمّد بن مسلم عن ابی جعفر علیہ السلام قال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ فرحة الغریٰ، ص ۱۰۳۔ بحار الانوار، ج۲، ص ۱۴۷، ج۹۷، ص ۲۶۰۔
مروا شیعتنا بزیارة الحسین بن علی علیہما السلام فانّ زیارتہ تدفع الھدم و الغرق والحرق واکل السّبع وزیارتہ مفترضة علی من اقرّ للحسین علیہما السلام بالامامة من اللّٰہ عزّوجلّ “ (۱)
امالی شیخ صدوق ۺ میں بطور مسند محمد ابن مسلم نے امام محمد باقر - سے روایت کی ہے کہ حضرت نے فرمایا: ہمارے شیعوں کو حسین ابن علی علیہما السلام کی زیارت کے لیے جانے کا حکم دو کیوں کہ ان کی زیارت (کی برکت) سے گھر ویران ہونے، غرق ہونے ، جلنے اور درندوں کے پھاڑ کھانے کے خطرات سے محفوظ رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر اس شخص پر حضرت - کی زیارت فرض ہے جو اِن کی امامت (و خلافت) کا اعتراف کرچکے ہیں۔
۲۷۳۔ ”وقال الصادق علیہ السلام لاٴبان بن تغلب متیٰ عھدک بقبر الحسین علیہ السلام قال مالی بہ عھد منذ حین قال سبحان ربیّ العظیم وبحمدہ وانت من روٴسائی الشیعة تترک الحسین لا تزورہ من زار الحسین علیہ السلام کتب اللّٰہ لہ بکلّ خطوة حسنة ومحی عنہ بکلّ خطوة سیّئة وغفرہ ما تقدّم من ذنبہ وما تاٴخّر الخ “ (۲)
حضرت امام صادق - آل محمد علیہم السلام نے ابان ابن تغلب سے فرمایا: تم کس وقت امام حسین - کی قبر کی زیارت کے لیے گئے تھے؟ عرض کیا: ایک مدت ہوگئی ہے کہ حضرت امام حسین - کی قبر کی زیارت کے لیے نہیں گیا ہوں (تو تعجب سے) فرمایا: ”سبحان ربی العظیم و بحمدہ“ پاک و پاکیزہ ہے میرا پروردگار اور اسی کی حمد وثناء ہے حالانکہ تم ہمارے شیعوں کے بزرگوں میں سے ہو اور امام حسین کی زیارت نہیں کرتے! (کیا تم نہیں جانتے یا اس بات سے غافل ہو کہ) جو شخص امام حسین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ امالی صدوق، ص ۲۰۶۔ من لا یحضرہ الفقیہ، ج۲، ص ۵۸۳۔
(۲)۔ کامل الزیارات ص، ۳۳۱۔ بحار الانوار، ج۹۸، ص ۷۔
کی زیارت کرے تو خداوند متعال اس کے نامہٴ اعمال میں ہر قدم پر ایک نیکی تحریر کرے گا اور ہر قدم پر ایک گناہ مٹا دے گا نیز اس کے گزشتہ اور آئندہ کے گناہ کو بخش دے گا۔ حدیث کے آخر تک۔
۲۷۴۔ ”وروی ابن قولویہ باسناد کثیرہ وغیرہ من المشایخ عن معاویة بن وھب
قال دخلت علیٰ ابی عبد اللّٰہ علیہ السلام وھو فی مصلاہ فجسلت وحتّیٰ قضیٰ صلاتہ فسمعتہ وھو یناجی ربّہ یقول یا من خصّنا بالکرامة ووعدنا الشّفاعة وحملنا الرّسالة وجعلنا ورثة الانبیآء وختم بنا الامم السّالفة وخصنا بالوصیّة واعطانا علم مامضی وعلم ما بقی وجعل افئدة من النّاس تھوی الینا اغفرلی ولاٴخوانی وزوّار قبر ابی الحسین بن علی علیہ السلام الذین انفقوا اموالھم واشخصوا ابدانھم رغبة فی برّنا ورجآء لما عندک فی صلتنا الیٰ ان قال علیہ السلام فارحم تلک الوجوہ التی غیرتھا الشمس وارحم تلک الخدود التی تقلبت علیٰ قبر ابی عبد اللہ علیہ السلام وارحم تلک الاعین التی جرت دموعھا رحمة لنا وارحم تلک القلوب التی جزعت واحترقت لنا وارحم تلک الصخة التی کانت لنا اللھم انّی استودعک تلک الاٴنفس وتلک الاٴبدان حتیٰ ترویھم من الحوض یوم العطش فما زال علیہ السلام یدعوا بھذا الدّعا وھو ساجد الخ“ (۱)
ابن قولویہ نے ابن کثیر سے اپنے اسنا دکے ساتھ اور ان کے علاوہ مشائخ (روایات) نے معاویہ ابن وہب سے نقل کیا ہے کہ ان کا بیان ہے: میں حضرت امام جعفر صادق - کی خدمت اقدس میں اس وقت حاضر ہوا جب آپ اپنے مصلی پر بیٹھے ہوئے نماز میں مشغول تھے تو میں بیٹھا تاکہ حضرت اپنی نماز تمام کریں اور میں نے اسی حالت میں سنا کہ اپنے پروردگار سے دعاء و مناجات کر رہے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ کامل الزیارات، ص ۲۲۹۔ کافی، ج۴، ص ۵۸۲۔ ثواب الاعمال، ص ۹۵۔ بحار الانوار، ج۹۸، ص ۸۔
اور فرماتے تھے: اے وہ (خدا) کہ جس نے ہم کو اپنی کرامت سے مخصوص کیا اور ہم سے شفاعت کا وعدہ کیا اور ہمیں رسالت انبیاء کا ورثہ دار قرار دیا اور گزشتہ امتوں کو ہمارے ذریعہ اختتام پذیر کیا اور وصایت (امامت و خلافت) کو ہم سے مخصوص کیا گزشتہ اور آئندہ کا ہمیں علم عطا فرمایا اور بعض لوگوں کے دلوں کو ہمارا عاشق و حامی قرا دیا اپنی بخشش و مغرفت کو میرے بھائیوں اور میرے جد بزرگوار حسین بن علی علیہما السلام کے زائرین کے شامل حال فرما۔
وہ لوگ جنہوں نے اپنے اموال کو خرچ کیا اپنی بدن کو غم و اندوہ اور خستگی میں ڈالا ہماری راہ میں جو تیرے پاس اجر و ثواب کی (ہم سے نزدیک ہونے کے لیے) امید پائی جاتی ہے نیکی انجام دی ۔ اے خدا! پنی رحمت ان چہروں پر نازل فرما جو تیری زیارت کے راستے میں آفتاب کی گرمی سے تبدیل ہوگئے اے خد! ان رخساروں پر اپنی رحمت نازل فرما جو حضرت ابا عبد اللہ الحسین - کی قبر پر رکھے گئے، اے خدا! ان آنکھوں پر اپنی رحمت نازل فرما کہ جن کے اشک ہماری عطوفت و محبت میں جاری ہوئے، اے خدا ! ان قلوب پر اپنی رحمت نازل فرما کہ جنہوں نے ہمارے مصائب کی وجہ سے (ہماری مظلومیت کی بنا پر نالہ و فریادیں بلند کیں۔ اے خدا! میں تیرے پاس ان نفوس او ر ابدان کو (کہ جنہوں نے ہماری زیارت کی بجا آوری کے لیے خود کو زحمت ومشقت میں ڈالا) بطورامانت چھوڑ رہا ہوں تاکہ تو پیاس کے دن (قیامت) انہیں حوض کوثر سے سیراب فرما۔ راوی کا بیان ہے: حضرت امام جعفر صادق - مسلسل حضرت سید الشہداء کے زائروں اور عاشقوں کے لیے سجدہ کی حالت میں اس دعا کی تکرار کر رہے تھے۔
”النظر الی وجہ علی عبادة “ چہرہٴ علی پر نظر کرناعبادت ہے
۲۷۵۔ ” وفی مستدرک الصحیحین روی بسندہ عن ابی سعید الخدری عن عمران بن حصین قال: قال رسول اللّٰہ (ص) : النظر الیٰ علی عبادة “ (۱)
” قال الحاکم ھذا حدیث صحیح الاٴسناد ، ثم قال ؟ و شواھدہ عن عبد اللّٰہ بن مسعود صحیحة․“
حاکم نے مستدرک صحیحین میں اپنی سند کے ساتھ ابو سعید خدری سے انہوں نے عمران ابن حصین سے روایت کی ہے کہ حضرت رسول خدا (ص) نے فرمایا: حضرت علی - کے چہرہ پر نظر کرنا عبادت ہے۔ حاکم نے اس حدیث کے اسناد کے صحیح ہونے کی تائید کی ہے، پھر کہا: اس کے شواہد عبد اللہ ابن مسعود سے صحیح ہیں۔
مولف کہتے ہیں: اہل سنت کی معتبر کتابوں سے متعدد روایات میں ذکر ہوا ہے کہ حضرت علی - کے چہرہ پر نظر کرنا عبادت ہے اب مولف اختصار کے ساتھ سند کو حذف کرکے کتاب فضائل الخمسہ (۲) وغیرہ سے تبرکاً کتاب کے اس مختصر حصہ کو زینت بخش قرار دیتے ہیں قارئین کرام تفصیل کے لیے گزشتہ حوالہ کی طرف رجوع کریں۔
۲۷۶۔ ”وفی حلیة الاولیاء لابی نعیم : عن عایشہ قالت: قال رسول اللّٰہ (ص) النّظر الیٰ علی عبادة “ (۳)
حافظ ابو نعیم نے حلیة الاولیاء میں عائشہ سے نقل کیا ہے کہ ان کا بیان ہے کہ رسول خدا (ص) نے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ مستدرک الصحیحین ، ج۳، ص ۱۴۱۔
(۲)۔ آیت اللہ الحاج سید مرتضیٰ حسین فیروز آبادی رحمة اللہ علیہ۔
(۳)۔ اس سلسلہ میں رجوع کریں: الغدیر، ج۴، ص ۲۸۔
فرمایا: حضرت علی - کی طرف دیکھنا عبادت ہے۔
۲۷۷۔ ”تاریخ بغداد: عن ابی ہریرة قال: راٴیت معاذ بن جبل مدیم النّظر الیٰ علیّ بن ابی طالب علیہ السلام فقلت : مالک تدیم النّظر الیٰ علیٍّ کانک لم ترہ؟ فقال: سمعت رسول اللّٰہ (ص) یقول : النظر وجہ علی عبادة “ (۱)
تاریخ بغداد میں ابو ہریرہ سے منقول ہے کہ ان کا بیان ہے: میں نے معاذ ابن جبل کو دیکھا کہ مسلسل حضرت علی ابن ابی طالب - کی طرف نگاہ کر رہے ہیں تو میں نے عرض کیا کہ آپ کو کیا ہوگیا ہے کہ مسلسل حضرت علی - کی طرف دیکھ رہے ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہیں نہ دیکھا ہو؟ کہا: میں نے رسول خدا (ص) کو یہ کہتے سنا ہے: علی - کے چہرہ پر نظر کرنا عبادت ہے۔
۲۷۸۔ ”کنز العمال والمناوی فی فیض القدیر : قالا: النظر الیٰ وجہ علی عبادة قال المناوی فی الشّرح : قال الزّمخشری عن ابن الاعرابی اذا برز ( یعنی علیاً علیہ السلام ) قال النّاس: لا الہ الاّ اللّٰہ ما اشرق ھذا الفتی مااعلمہ ما اکرمہ ما احلمہ ما اشجعہ فکانت روٴیتہ تحمل علی النّطق بالعبادة فیالھا من سعادة “ (۲)
صاحب کنز العمال نے اپنی کتاب میں اور مناوی نے فیض القدیر میں دونوں نے کہا ہے کہ: علی - کے چہرہ پر نظر کرنا عبادت ہے۔ مناوی نے شرح میں نقل کیا ہے کہ:زمخشری نے ابن اعرابی سے کہا: جس وقت علی - (سماج میں ظاہر ہوں گے) تو لوگ تعجب سے کہیں گے لا الہ الا اللہ کیا نورانیت کے حامل ہیں اس جواں کا علم و کرامت اور شجاعت قابل توصیف نہیں لہٰذا ان کا دیدار لوگوں کو عبادت کے لیے برانگیختہ کرتا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ علی - کے چہرہٴ مبارک پر نظر کرنا عبادت ہے ان کی کیا خوش نصیبی ہے۔
۲۷۹۔ المحبّ الطبری فی الریاض النظرہ قال وعن معاذة الغفّاریّة قالت: کان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ تاریخ بغدادی، ج۲، ص ۴۹۔
(۲)۔ نہایہ ابن اثیر، ج۵، ص ۷۷۔اختیارلمعرفة الرجال، ج۲، ص ۶۱۲۔
لی اٴنس بالنبی (ص) اخرج معہ فی الاسفار ، واٴقوم علی المرضیٰ ومداوی لجرحیٰ ، فدخلت الیٰ رسول اللّٰہ (ص) فی بیت عایشة وعلی علیہ السلام خارج من عندہ فسمعتہ یقول : یا عایشة ان ھذا احب الرّجال الیّ واکرمھم علیّ فاعرفی لہ حقّہ ، واکرمی مثواہ، فلما ان جری بینھا وبین علی علیہ السلام بالبصرة ماجریٰ رجعت عایشة الیٰ المدینة فدخلت علیھا فقلت لھا: یا امّ الموٴمنین کیف قلبک الیوم بعد ما سمعت رسول اللّٰہ (ص) یقول لک فیہ ما قال؟ قالت : یا معاذة کیف یکون قلبی لرجل کان اذ دخل علیّ وابی عندنا لایملّ من النّظر الیہ ، فقلت لہ : یا ابة انّک لتدیمنّ النظر الیٰ علی ، فقال: یا بنیّة سمعت رسول اللّٰہ یقول : النظر الی وجہ علی عبادة۔
محب الدین طبری نے ریاض النضرہ میں نقل کیا ہے کہ معاذہٴ غفاریہ نے کہا: مجھے نبی اکرم (ص) سے انس و محبت تھی میں ان کے ہمراہ ان کے سفر میں جاتی تھی اور مریضوں اور مجروحین کا مداوا و علاج کرتی تھی (ایک دن) میں عائشہ کے گھر رسول خدا (ص) کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوئی جب حضرت علی - رسول خدا (ص) کے پاس باہر آرہے تھے پھر میں نے سنا کہ آنحضرت (ص) نے فرمایا: اے عائشہ! یہ علی - میرے نزدیک مردوں میں سب سے زیادہ محبوب ہیں اور وہ میرے نزدیک زیادہ عزیز اور محترم ہیں لہٰذا ان کی معرفت حاصل کرو اور ان کے حق کو پہچانو اور ان کی موقعیت و منصب کا اکرام و احترام کرو، جب عائشہ اور حضرت علی - کے درمیان بصرہ کا واقعہ رونما ہوا (۱) اور عائشہ مدینہ واپس آئی تو میں اس کے پاس گئی اور اس سے کہا: اے امّ المومنین! آج آپ کے دل کی کیا کیفیت ہے جب کہ آپ کے لیے رسول خدا (ص) کو حضرت علی - کے حق میں جو کچھ کہنا تھا کہہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ جنگ جمل کی طرف اشارہ ہے جو حضرت عائشہ (ام المومنین) کے منصوبہ کے تحت عثمان کی خوں خواہی اور ان سے دفاع کے بارے میں رونما ہوئی اور جو کچھ کرنا تھا کیا۔
چکے؟ جواب دیا: اے معاذہ! میرے دل کی کیفیت اس شخص کے بارے میں کیسی ہوگی کہ جب وہ میرے اور میرے پدر گرامی کے پاس آتا تھا تو ہم اس کو دیکھنے سے ملول اور رنجیدہ خاطر نہیں ہوتے تھے، پھر میں نے اپنے والد گرامی سے عرض کیا: اے بابا! آپ حضرت علی - کی طرف مسلسل دقّت سے دیکھ رہے ہیں اور نگاہ کرنے سے احساس خستگی نہیں کرتے؟ کہا: اے بیٹی! میں نے رسول اکرم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: علی کے (مبارک) چہرہ پر نگاہ کرنا عبادت ہے۔
۲۸۰۔ ”الریاض النضرة : عن عایشة قالت: راٴیت ابابکر یکثر النّظر الیٰ وجہ علیٍّ ، فقلت : یا اٴبة راٴیتک تکثر النظر الیٰ وجہ علیٍّ ، فقال : یا بنیّة سمعت رسول اللّٰہ (ص) یقول النّظر الیٰ وجہ علی عبادة “ (۱)
ریاض النضرة میں عائشہ سے منقول ہے کہ اس کا بیان ہے: میں نے ابوبکر کو حضرت علی - کے چہرہ پر کثرت سے نظر کرتے ہوئے دیکھا تو میں نے عرض کیا: اے بابا جان! میں نے آپ کو علی کے چہرہ کی طرف بہت زیادہ نگاہ کرتا ہوا پایا؟ تو کہا: اے میری بیٹی! میں نے رسول خدا (ص) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ علی کے چہرہ پر نظر کرنا عبادت ہے۔
۲۸۱۔ ” وفیہ ایضاً : عن جابر قال: قال رسول اللّٰہ (ص) لعلی علیہ السلام عد عمران بن الحصین فانّہ مریض ، فاتاہ وعندہ معاذ وابو ہریرة، فاقبل عمران یحدّ النظر الیٰ علیٍّ علیہ السلام ، فقال لہ معاذ : لم تحدّ النّظر الیہ ؟ فقال : سمعت رسول اللّٰہ (ص) یقول النظر الی علی عبادة ، قال معاذ : وانا سمعتہ من رسول اللّٰہ قال ابو ہریرة : اوانا سمعتہ من رسول اللّٰہ (ص) “ (۲)
نیز ریاض النضرة میں جابر (انصاری) سے منقول ہے کہ ان کا بیان ہے: رسول خدا (ص) نے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ مناقب ابن مغازلی، ص ۲۱۰۔ العمدہ، ص ۳۶۷۔ ذخائر العقبیٰ، ص ۹۵۔ بحار الانوار، ج۳۸، ص ۲۰۰۔
(۲)۔ ذخائر العقبیٰ، ص ۹۵۔ ینابیع المودة، ج۲، ص ۱۸۵۔
حضرت علی - سے فرمایا کہ: عمران ابن حصین مریض ہےں لہٰذا ان کی عیادت کرو تو حضرت علی - عیادت کے لیے اس وقت ان کے پاس گئے کہ جب معاذ اور ابوہریرہ بھی ان کے پاس موجود تھے عمران پوری دقّت کے ساتھ حضرت علی - کی طرف دیکھ رہے تھے تو معاذ بن عمران سے عرض کیا: کیوں علی - کی طرف اس شدّت و حدّت کے ساتھ دیکھ رہے ہیں؟ تو جواب دیا: میں نے رسول خدا کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ علی کی طرف دیکھنا عبادت ہے، معاذ نے کہا: میں نے رسول خدا (ص) سے یہ سنا ہے۔
اور ابو ہریرہ نے بھی کہا کہ: میں نے بھی رسول خدا (ص) سے یہی بات سنی ہے۔
۲۸۲۔ بحار الانوار میں : عمار، معاذ اور عائشہ کی روایت میں ذکر ہوا ہے کہ رسول خدا (ص) سے منقول ہے کہ حضرت علی ابن ابی طالب - کی طرف نظر کرنا عبادت ہے ان کا نام اور فضائل ذکر کرنا بھی عبادت ہے اور کسی بندہ کا ایمان قابل قبول نہیں ہوتا مگر ان کی ولایت و محبت کی وجہ سے اور ان کے دشمنوں سے برائت و بیزاری اختیار کرنے سے۔
۲۸۳۔ ”وفیہ نقلاً عن بشارة المصطفیٰ لشیعة المرتضیٰ باسنادہ عن جابر بن عبد اللّٰہ قال: قال رسول اللّٰہ (ص) زیّنوا مجالسکم بذکر علیّ بن ابی طالب علیہ السلام “ (۱)
علامہ مجلسی نے بحار میں بشارة المصطفیٰ سے اپنی سند کے ساتھ جابر ابن عبد اللہ انصاری سے نقل کیا ہے کہ ان کا بیان ہے کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا: اپنی مجلسوں کو علی ابن ابی طالب - کے ذکر سے زینت دو، یعنی حضرت علی - کے نام فضائل و مصائب اور ان کی مظلومیت کو ذکر کرنا ہر حالت میں مجالس کی زینت ہے۔
مولف کہتے ہیں: نہ صرف یہ کہ علی ابن ابی طالب - کا ذکر عبادت ہے بلکہ پیغمبر اکرم محمد و آل محمد بالخصوص حضرت بقیة اللہ الاعظم حضرت حجة ابن الحسن العسکری عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کا ذکر جو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ بحار الانوار، ج۳۸، ص ۷۸۔
اہل بیت عصمت و طہارت کے ہر دل عزیز پھول ہیں بالا ترین عبادت ہے۔
۲۸۴۔ ”وفی البحا ر نقلًا عن روضة والفضایل بالاسناد یرفعہ عن ام الموٴمنین امّ سلمة رضی اللّٰہ عنھا انّھا قالت سمعت رسول اللّٰہ (ص) یقول : ما قوم اجتمعوا یذکرون فضل علی بن ابی طالب علیہ السلام الا ھبطت علیھم ملائکة السماء حتیٰ تحفّ بھم فاذا تفرّقوا عرجت الملائکة الیٰ السّماء فیقول لھم الملائکة انّا نشمّ من رایحتکم مالا نشمّة من الملائکة فلم نرا رائحة اطیبت منھا فیقولون کنّا عند قوم یذکرون محمّداً واھل بیتہ فعلق فینا من ریحھم فتعطّرنٰا فیقولن اھبطوا بنا الیھم فیقولون تفرقوا ومضی کل واحد منھم الی منزلة فیقولون اھبطوا بنا حتیٰ نتعطر بذٰلک المکان “ (۱)
بحارمیں روضہ اور فضائل سے اپنے اسناد کے ساتھ مرفوعاً ام المومنین حضرت ام سلمہ سلام اللہ علیہا سے نقل کیا ہے کہ ان کا بیان ہے: میں نے رسول خدا (ص) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: کوئی بھی قوم آپس میں جمع ہو اور حضرت علی ابن ابی طالب - کی فضیلت و منقبت کا ذکر کرے تو ان کے پاس آسمان کے فرشتے نازل ہوتے ہیں یہاں تک کہ ان کے اطراف کو اپنے احاطہ میں لے لیتے ہیں اور جب وہ ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں تو فرشتے آسمان کی طرف جاتے ہیں اور وہاں کے موجودہ فرشتے ان سے عرض کرتے ہیں کہ :ہم آپ لوگوں سے ایسی خوشبو محسوس کر رہے ہیں جو دوسرے ملائکہ میں نہیں پائی جاتی اور ہم نے اتنی پاک و پاکیزہ خوشبو اب تک نہیں دیکھی تھی تو فرشتے جواب دیں گے: ہم ایک قوم کے پاس تھے جو محمد اور ان کے اہل بیت کے ذکر میں مشغول تھی ہم ان کی خوشبو اور عطر سے معطّر ہوئے ہیں تو وہ فرشتے کہیں گے: ہمارے ساتھ آؤ اور ان کے پاس چلیں ، تو وہ کہیں گے : ہر ایک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ بحار الانوار، ج۳۹، ص ۱۹۹۔
دوسرے سے جدا ہوجائے او ر ان میں سے ہر ایک جب اپنے گھر کی طرف واپس جائے گا تو اہل خانہ اس سے کہیں گے: میرے ساتھ چلو تاکہ ہم بھی اس جگہ کی خوشبو اور عطر سے معطّر ہوجائیں۔
۲۸۵۔ موٴلف کہتے ہیں: ہم زیارت جامعہٴ کبیرہ میں بھی پڑھتے ہیں ” باٴبی انتم وامّی ونفسی واھلی ذکرکم فی الذّاکرین واسمآئکم فی الاسمآء واجسادکم فی الاٴجساد وارواحکم فی الاٴرواح وانفسکم فی النّفوس وآثارکم فی الآثار وقبورکم فی القبور فما احلی اسمآئکم واکرم انفسکم واعظم شاٴنکم الخ“ (۱)
میرے ماں باپ ، میری جان و مال اور میرے اہل سب آپ پر قربان ۔ آپ کا ذکر ذاکرین میں ہے۔ آپ کا نام ناموس میں نمایاں ہے آپ کے اجساد، جسموں میں، آپ کی روحیں، ارواح میں، آپ کے نفس، نفوس میں۔ آپ کے آثار، آثار میں ۔ آپ کی قبریں، قبروں میں نمایاں ہیں کیا شیریں آپ کے نام ہیں کیا کریم آپ کا نفس ہے اور کیا عظیم آپ کی شان ہے۔
خلاصہٴ کلام یہ ہے کہ حضرت ائمہٴ اطہار کا مقدس وجود صفاتِ جمیلہ اور انسانی کمالات عالیہ اور خداوند سبحان کے منتخب افراد کے اوصاف کا حامل ہے اور ان کے فضائل و مناقب بے شمار ہیں کیوں کہ وہ عظیم ہستیاں خود جن کی تعبیر میں وہ کلمات الٰہی ہیں اور کلمات الٰہی بھی جیسا کہ ذکر ہوا کہ تمام دریا اور سمندر کے پانی روشنائی اور دنیا بھر کے درخت قلم بن جائیں اور تمام جس و انس لکھنے والے بن جائیں تو دریا اورسمندر خشک ہوجائیں گے لیکن ان کے فضائل و مناقب ختم نہیں ہوں گے۔
کتاب فضل ترا آب بحر کافی نیست کہ تر کنی سر انگشت و صفحہ بشماری
آپ کے فضائل و مناقب کی کتاب لکھنے کے لیے سمندر کا پانی بھی ناکافی ہے ، تاکہ تم سرِ انگشت کو تر کرو اور صفحات کو شمار کرو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ مزار ابن مشہدی، ص ۵۳۰۔
۸۔ درجات تک پرواز
۸۔ القرآن قرائة لکلّ حرف ماٴة درجة․
والاٴئمّة - صلوات اللّٰہ علیہم اجمعین - زیارتھم لکلّ خطوة حجة وعمرة بل حجتان وعمرتان․
جس طرح کہ خداوند متعال قرآن مجید کے ہر حرف کی قرائت کے لیے سو درجہ عطا فرماتا ہے ائمہٴ معصومین کی زیارت کی راہ میں جو قدم اٹھایا جاتا ہے ہر قدم پر ایک حج اور ایک عمرہ کا بلکہ دو حج اور دو عمرہ کا ثواب عنایت فرماتا ہے۔
۲۸۶۔ لیکن آیات: اللہ تعالیٰ کا قول ہے : <یَااٴَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ # قُمْ اللَّیْلَ إِلاَّ قَلِیلاً # نِصْفَہُ اٴَوْ انْقُصْ مِنْہُ قَلِیلاً # اٴَوْ زِدْ عَلَیْہِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیلاً > (۱)
اے میری چادر لپیٹنے والے، رات کو اٹھو مگر ذرا کم ، آدھی رات یا اس سے بھی کچھ کم کردو یا کچھ زیادہ کردو اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر باقاعدہ پڑھو۔
او ر اللہ تعالیٰ کا یہ قول: <فَاقْرَئُوا مَا تَیَسَّرَ مِن الْقُرْآنِ> (۲)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ مزمل، آیت ۱، ۴۔
(۲)۔ سورئہ مزمل، آیت ۲۰۔
اب جس قدر قرآن ممکن ہو اتنا پڑھو۔ اور اس کے علاوہ دوسری آیات بھی۔
۲۸۷۔ ” واماالاٴخبار ففی جامع الاخبار للصدوق علیہ الرحمة عن النّبی الاٴکرم (ص) قال (ص): القرآن ماٴدبة اللّٰہ فتعلموا ماٴدبة ما استطعتم انّ ھذا القرآن ھو حبل اللّٰہ وھو المنذر المبین والشفاء النّافع فاٴقرٴوہ فانّ اللّٰہ عزّوجلّ یاٴجرکم علیٰ تلاوتہ بکلّ حرف عشر حسنات امٰا انّی لا اقول <الٓم > حرف واحد ولٰکن الف ولام ومیم ثلثون حسنة “ (۱)
جامع الاخبار میں منقول ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: قرآن مجید مرکز اور تربیت و ادب الٰہی سکھانے کا وسیلہ ہے جتنا تعلیم حاصل کرنے کا امکان اور قدرت رکھتے ہو یاد کرو کیوں کہ یہ قرآن ریسمان الٰہی ہے اور وہی واضح و آشکار طور پر ڈرانے والا اور پُر منفعت (بغیر ضرر و نقصان کے) شفا ہے لہٰذا اسے پڑھو اس لیے کہ یقینا اللہ تعالیٰ اس کے ایک حرف کی تلاوت پر تمہیں دس نیکیوں کا اجر و ثواب عطا فرمائے گا۔ لیکن یہ بھی جان لو کہ یہ نہیں کہتا کہ (الم) ایک حرف ہے لیکن صرف الف دس نیکی، لام دس نیکی اور میم دس نیکی ہے کہ مجموعی طور پر (الم) کے ذریعہ تیس نیکی عطا فرمائے گا۔
۲۸۸۔ ”وفی المجمع عنہ (ص) : افضل العبادة قرائة القرآن “ (۲) آنحضرت سے مجمع البیان میں منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: بہترین عبادت قرائت قرآن ہے۔
۲۸۹۔ ”وفیہ عنہ (ص) قال انّ ھذا القرآن ماٴدبة اللّٰہ تعالیٰ فتعلّموا من ماٴدبتہ ما ستطعتم انّ ھذا القرآن حبل اللّٰہ ھو النّور المبین والشّفآء النّافع عصمة لمن تمسّک بہ ، و نجاة لمن تبعہ لا یعوّج فیقوّم ، ولا یزیغ فسیتعتب ، ولا تنقضی عجآئبہ ، ولا یخلق علیٰ کثرة الرّد ، فاتلوہ فان اللّٰہ یاٴجرکم علیٰ تلاوتہ بکلّ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ وسائل الشیعہ، ج۴، ص ۸۲۶۔ امالی سید مرتضیٰ، ج۲، ص ۲۷۔ بحار الانوار، ج۸۹، ص ۱۹۔
(۲)۔ مجمع البیان، ج۱، ص ۴۴۔
حرف عشر حسنات ، اما انّی لا اقول <الٓم > عشر ولکن اقول الف عشر ولام عشر ومیم عشر “ (۱)
اسی کتاب میں منقول ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: یقینا یہ قرآن، اللہ تعالیٰ کا ادب و تربیت کے لیے مصدر و منشا اور وسیلہ ہے لہٰذا جتنا آداب حاصل کرنا ممکن ہو اسے یاد کرو یہ قرآن رسی ہے واضح و روشن نور اور پُر منفعت شفا دینے والا ہے اور اپنے متمسکین کی حفاظت کرنے والا ہے نیز اس کی پیروی کرنے والوں کے لیے باعث نجات ہے، کبھی بھی اس میں کجی نہیں ہوگی کہ اسے سیدھا کیا جائے نہ ہی خود منحرف ہوگا نہ کسی دوسرے کو منحرف کرے گا تاکہ اس کے انحراف کی تلافی کی جائے اس کے عجائب وغرائب ختم ہونے والے نہیں ہیں اس کا زیادہ مرور اور مطالعہ اس کے کہنہ پن یا ختم ہونے کا سبب نہیں بنتا لہٰذا اسے بہت زیادہ پڑھو کیوں کہ اللہ تعالیٰ اس کے ایک حرف کی تلاوت پر تمہیں دس نیکیوں کا اجر و ثواب عطا فرمائے گا لیکن یہ بھی جان لو کہ میں یہ نہیں کہتا کہ (الم ) ایک حرف ہے لیکن صرف الف دس نیکی، لام دس نیکی اور میم دس نیکی ہے کہ مجموعی طور پر (الم) کے ذریعہ تیس نیکی عطا فرمائے گا۔
۲۹۰۔ ”وفی الکافی عن مولیٰنا الصادق علیہ السلام : ما من عبد من شیعتنا یتلوا القرآن فی صلوتہ قائماً الا ولہ بکلّ حرف ماٴة حسنة ، ولاقرء فی صلاتہ جالساً الاّ ولہ بکلّ حرف خمسون حسنة ولا فی غیر صلوٰاتہ الّا ولہ بکلّ حرف عشر حسنات “ (۲)
اصول کافی میں امام جعفر صادق - سے منقول ہے کہ حضرت نے فرمایا: جو ہمارے شیعوں میں سے کوئی ایک بندہ جو قرآن مجید کی ایک آیت کھڑے ہوکر نماز میں پڑھتا ہے تو اس کے لیے ہر حرف
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ مجمع البیان، ج۱، ص ۴۴۔
(۲)۔ کافی، ج۲، ص ۶۱۱۔
کے بدلے سو نیکیوں کا ثواب دیا جاتا ہے اور اگر بیٹھ کر اپنی نماز میں پڑھے تو ہر حرف کے عوض اسے پچاس نیکیوں کا ثواب دیا جاتا ہے اور اگر نماز کے علاوہ عادی طور پر اس کی تلاوت کرے تو ہر حرف کے بدلے اللہ تعالیٰ دس نیکیوں کا ثواب عطا فرماتا ہے۔
[
دیدار کی تعداد : 416]
 |