|
عدالت کا گلستاں
قرآن مجید عدالت کا گلستان اور عدل و انصاف کا دریا ہے۔ اسی طرح حضرت حجّت قائم آل محمد علیہم السلام کی ذات با برکت ہے۔ ریاض ، روضة کی جمع ہے جس کا معنی سرسبز و شاداب زمین کے ہیں جو نباتات اور سبزوں سے پُر ہو (باغ اور گلستان) پانی کا ایک ایسی جگہ جمع ہونے کے معنی میں ہے جو تمام جگہوں کو اپنے حصار میں لے لے۔ غدرانہ ، غدیر کی جمع ہے: پانی کا وہ حوض کہ سیلاب کے جاری ہونے کی وجہ سے تہ نشین مقام پر آب
۱۳/ ۲۔ عدالت کا گلستاں
۱۱۳۔ وریاضُ العَدْلِ وَغُدرانُہُ․
قرآن مجید عدالت کا گلستان اور عدل و انصاف کا دریا ہے۔
اسی طرح حضرت حجّت قائم آل محمد علیہم السلام کی ذات با برکت ہے۔
ریاض ، روضة کی جمع ہے جس کا معنی سرسبز و شاداب زمین کے ہیں جو نباتات اور سبزوں سے پُر ہو (باغ اور گلستان) پانی کا ایک ایسی جگہ جمع ہونے کے معنی میں ہے جو تمام جگہوں کو اپنے حصار میں لے لے۔
غدرانہ ، غدیر کی جمع ہے: پانی کا وہ حوض کہ سیلاب کے جاری ہونے کی وجہ سے تہ نشین مقام پر آب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ آیت اللہ مرزا مہدی اصفہانی کے لیے امام زمانہ - کا پیغام بھی اہمیت کا حامل ہے اور وہ یہ ہے کہ: ”“ یعنی خاندان اہل بیت کی راہ سے جدا ہوکر علوم و معارف کی سعی اور تلاش ہمارے انکار کے مساوی ہے۔ مجالس حضرت مہدی، ص ۱۵۷۔
رواں جمع ہوگیا ہو۔
دونوں معنی سے مراد اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نباتات درختوں اور انسانوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ان کی آبیاری کا مرکز ہے جس سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ یعنی قرآن کریم کی آیات کے حقائق کو ادراک کرنے سے تمام مردہ دلوں کی چشم بصیرت اندھی ہوچکی ہے اس کا احیاء کیا اور وہ اس طرح صیقل اور جلا دیتی ہیں کہ جس کے نتیجے میں ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔
جب کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: <إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِینَ إِذَا ذُکِرَ اللهُ وَجِلَتْ قُلُوبُہُمْ وَإِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ آیاتُہُ زَادَتْہُمْ إِیمَانًَا وَعَلَی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُونَ > (۱)
صاحبان ایمان (حقیقت میں) وہ لوگ ہیں کہ جن کے سامنے ذکر خدا کیا جائے تو ان کے دلوں میں خوف خدا پیدا ہو اور اس کی آیتوں کی تلاوت کی جائے تو ان کے ایمان میں اضافہ ہو جائے اور وہ لوگ اللہ ہی پر توکل کرتے ہیں۔
مولف کہتے ہیں: حضرت حجّت مہدی قائم آل محمد (علیہم السلام) جس وقت تشریف لائیں گے تو دنیا پر عدل و انصاف چھا جائے گا کہ کوئی بھی زمین پر چلنے والا خواہ انسان ہو یا حیوان، چرند ہو یا پرند یا درند کبھی بھی ہو اپنی صنف والوں کو کسی قسم کی کوئی آزار و اذیت نہیں پہنچائے گا، اللہ چیزوں کو جمع کرے گا وہ ایسا امن و امان اور رفاہ و آسائش کا ماحول فراہم کریں گے کہ اگر ایک بیوہ عورت سونے کا ایک طشت مشرق سے مغرب میں لے جائے تو کوئی بھی شخص اس کی طرف متوجہ نہیں ہوگا۔
۱۱۰۔ ”وفی کمال الدّین باسنادہ عن ابی احمد محمّد بن زیاد الاٴزدی رضی اللّٰہ عنہ قالَ سَئَلتُ سَیدی مُوسیَ بن جَعفَر علیہما السلام عَن قَول اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ<وَاسبَغَ عَلیکَم نِعَمَةُ ظاہِرةً وَباطِنةً >(۲) فَقال علیہ السلام النّعمة
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ انفال، آیت ۲۔
(۲)۔ سورئہ بقرہ، آیت ۲۰۔
الظَّاہِرَةُ الاِمامُ الظّاہِر، وَالباطِنَة الاِمامُ الغائِب ، فَقلتُ لَہُ وَیَکون فی الائِمةِ من یغیب ؟ قالَ نعمَ یَغیب عَن ابصارِ النّاسِ شَخصُہُ وَلا یَغیب عَن قُلوبِ الموٴمنینَ ذِکرُہُ ، وھو الثانی عشر منّا یُسھَّل اللّٰہ لَہُ کلّ عسیر ویذلّل لَہُ کلّ صَعبٍ ویظھر لَہُ کنوز الارض وَیقرِّب لَہُ کُلَ بعیدٍ، یُبیرُ بہ کُلَ جَبّارٍ عنیدٍ وَیھلِک عَلیٰ یَدِہ کلَّ شیطانٍ مریدٍ ، ذٰلکَ ابن سَیِّدةِ الاِماء الَّذی تَخفی عَلَی النّاسِ وِلادَتُہُ وَلا یَحِلُّ لَھم تَسِمیتہُ حَتّیٰ یُظھِرَہُ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ فیملاٴ الْاَرضِ قسطاً وَ عَدلاً کَما مُلِئَت جَوراً وَظلماً “ (۱)
کمال الدین میں شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے اپنی سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ ابو احمد محمد ابن زیاد ازدی کا بیان ہے: میں نے اپنے آقا و مولا حضرت امام موسیٰ ابن جعفر - سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں دریافت کیا <و اسبغ علیھم> (اس نے تم پر اپنی ظاہری و باطنی نعمتیں فراوانی سے عطا کیں) تو امام نے فرمایا: ظاہری نعمت سے مراد امام ظاہر اور باطنی نعمت سے مراد امام غائب ہیں۔ میں نے عرض کیا: کیا ائمہ میں سے کوئی غائب بھی ہوگا؟ تو حضرت نے ارشاد فرمایا: ہاں وہ جسمانی طور پر لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ رہیں گے مگر مومنین کے دلوں سے ان کا ذکر محو نہیں ہوگا وہ ہم ائمہ میں سے بارہویں ہوں گے اللہ تعالیٰ ان کے لیے ہر مشکل کو آمادہ کردے گا، ہر سخت چیز کو نرم کردے گا، ان کے لیے زمین کے تمام خزانوں کو ظاہر کردے گا اس کے لیے ہر بعید کو قریب اور ان کے ذریعے تمام ظالم اور دشمن کا قلع قمع کرے گا، ہر شیطان مردود کو ہلاک کرے گا، وہ کنیزوں کی ایک سردار کے بطن سے پیدا ہوں گے اور ان کی ولادت کو لوگوں سے پوشیدہ رکھا جائے گا، ان کا نام اس وقت تک لینا جائز نہ ہوگا، جب تک کہ اللہ تعالیٰ انہیں ظاہر نہ فرما دے کہ جب وہ ظاہر ہوں گے تو وہ زمین کو عدل و
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ کمال الدین ، ج۲، ص ۳۶۸۔
انصاف سے اس طرح بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم و ستم سے پر ہوچکی ہوگی۔
۱۱۱۔ ” وفی غیبة النعمانی عن الصادق علیہ السلام قالَ اَما وَاللّٰہ لَیَدخُلُنَّ عَلَیھمْ عَدلُہُ جَوفَ بُیوتِھِم کَما یَدْخُلُ الحرّ والبر“ (۱)
غیبت نعما نی میں حضرت امام جعفر صادق - نے ارشاد فرمایا: خدا کی قسم! ضرور ضرور ان لوگوں کے اندر حضرت کا عدل و انصاف اس طرح داخل ہوجائے گا جس طرح سردی اور گرمی داخل ہوتی ہے۔
مولف کہتے ہیں: متعدد کتابوں میں جیسے کمال الدین، ینابیع المودة، ملاحم اور غیبت نعمانی و طوسی، مستدرک وغیرہ میں مختلف عبارتوں کے ساتھ اسی مضمون کی اٹھارہ روایتیں نقل ہوئی ہیں۔
۱۱۲۔ غیبت نعمانی میں نقل ہوا ہے ”یَملاءُ الاَرْضَ عَدلاً وَقسطاً وَ نُوراً کما مُلئت ظُلماً وَ جوراً وَ شَراً “․
غیبت نعمانی میں حضرت امام محمد باقر - نے فرمایا: وہ زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم و جور اور شر سے بھر چکی ہوگی۔
حضرت بقیة اللہ الاعظم عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کی سیرت طیّبہ کے بارے میں جو روایات معادن و حی و تنزیل سے وارد ہوئی ہیں اس میں یہ ہے کہ حضرت رسول خدا کی سیرت کے مطابق عمل کریں گے، یہ واضح سی بات ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) کا ان کی زندگی کے تمام پہلوؤں اور رسالت میں عدل و انصاف اظہر من الشمس ہے اور امام زمانہ - جو تمام انبیاء اور اوصیاء کے علوم کے وارث ہیں ان کا عدل و انصاف اپنے انتہائی کمال پر ہوگا۔
۱۱۳۔ نعمانی نے غیبت میں اپنی سند کے ساتھ عبد اللہ ابن عطاء مکی سے نقل کیا ہے کہ میں نے امام جعفر صادق - سے حضرت مہدی - کی رفتار و سیرت کے بارے میں دریافت کیا کہ وہ کس نوعیت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ غیبت نعمانی، ص ۲۹۷۔
کی ہوگی؟ تو امام جعفر صادق - نے فرمایا: رسول خدا (ص) کی سیرت کے مطابق عمل کریں گے اور اس کو نئے سرے سے بنائیں گے اور ہر اس چیز کو خراب کریں گے جو جاہلیت کے زمانہ میں تھی۔ (۱)
۱۱۴۔ تہذیب میں نقل ہوا ہے کہ حضرت امام محمد باقر - سے سوال کیا گیا کہ حضرت حجّت کی رفتار و سیرت لوگوں کے درمیان کس نوعیت کی ہوگی؟ تو حضرت نے فرمایا: جو کچھ رسول خدا (ص) کی سیرت تھی یہاں تک کہ اسلام ظاہر ہوا ۔ عرض کیا گیا: رسول خدا (ص) کی سیرت کیا تھی؟ فرمایا: جو چیزیں جاہلیت کے زمانہ میں تھیں اسے باطل کیا تھا اور لوگوں سے عدل و انصاف کے ساتھ پیش آئے اس طرح جب حضرت حجّت قیام فرمائیں گے تو جو چیزیں ان کے زمانہ میں تھیں انہیں باطل کریں گے اور لوگوں کے ساتھ عدل و انصاف سے پیش آئیں گے۔ (۲)
۱۱۵۔ ” وفی الارشاد للشیخ المفید وَلَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللّٰہ (ص) غَنایِم حُنَینِ اقْبَلَ رَجُلٌ طَویلٌ آدم اَحنیٰ بَینَ عَینَیہ اَثَر السُّجُودِ فَسَلَّمَ وَلَمْ یَخصَّ النَّبی (ص) ثُمَّ قالَ قَد رَاَیتکَ وَما صنعتَ فی ھٰذِہِ الغَنائم ، قالَ وَکَیْفَ رَاٴیتَ ؟ قالَ لَم اَرَکَ عَدَلْتَ ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللّٰہِ (ص) وَقالَ وَیلکَ اِذا لَمْ یَکُن العَدل عِندی فَعنْدَ مَنْ یَکُونُ ؟ فقَال المُسلِمُونُ اَلاَّ اقْتُلُہُ؟ قالَ دَعُوہ فَاِنَّہُ سَیَکُونُ لَہُ اتباعٌ یَمرُقُونَ مِنَ الدّینِ کَما یَمرقُ السَّھْمُ مِنْ الرَّمْیَةِ یَقتلُھُمُ اللّٰہ علی یَد اَحبّ الخَلق الیہ مِنْ بعدی ، فقتلَہُ اٴمیر المومنینَ علی بن ابی طالب علیہ السلام فیمن قَتَل یَومَ النَّھروانِ مِنَ الخوارجِ “ (۳)
ارشاد شیخ مفید رحمة اللہ علیہ میں نقل ہوا ہے کہ: جب رسول خدا (ص) جنگ حنین کا مال غنیمت تقسیم کر رہے تھے تو ایک طویل قد و قامت کا لحیم شحیم انسان آیا جس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سجدے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ غیبت نعمانی، ص ۱۲۳۔
(۲)۔ تہذیب، ج۶، ص ۱۵۵۔ ”“
(۳)۔ ارشاد شیخ مفید، ج۱، ص ۱۴۸۔
کے اثر سے جھکاؤ تھا اس نے سلام کیا اور نبی اکرم (ص) کو خصوصی طور پر سلام نہیں عرض کیا پھر وہ کہنے لگا کہ: میں نے تجھے دیکھا ہے کہ جو کچھ تم نے اس مال غنیمت میں انجام دیا ہے، تو آنحضرت نے دریافت فرمایا: تو نے کیا دیکھا ہے ؟ کہنے لگا:میں نہیں سمجھتا کہ تم نے عدل و انصاف سے کام لیا ہو، پس رسول خدا (ص) غضب ناک ہوئے اور فرمایا: تیرے لیے ہلاکت ہو اگر میرے ہی پاس عدل و انصاف نام کی کوئی چیز نہیں ہوگی تو پھر وہ کس کے پاس ہوگی! تو موجودہ مسلمان دریافت کرنے لگے کہ کیا ہم اسے قتل نہ کر دیں؟ تو رسول خدا (ص) نے فرمایا: اسے چھوڑ دو عنقریب اس کے کچھ پیروکار ہوں گے جو دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے خدا انہیں میرے بعد اس شخص کے ہاتھوں قتل کرے گا جو اسے تمام مخلوق سے زیادہ محبوب ہے پھر امیر المومنین علی ابن ابی طالب - نے خوارج کے ان لوگوں کے ساتھ جنہیں نہروان کی جنگ میں قتل کیا تھا اسے بھی قتل کیا۔
۱۱۶۔ ”وفی ینابیع المودة فی قولہ تعالیٰ< وَاعْلَمُوا اٴَنَّ اللهَ یُحْیِ الْاٴَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا> ․(۱)
عن سلام بن المستنیر عن الباقر علیہ السلام قالَ یُحیھا اللّٰہ بِالقَائِم علیہ السلام فَیعدِلُ فیھا فیُحیی الاَرْض بِالعَدْلِ بَعْدَ مَوتِھا بِالظلمِ “ (۲)
ینابیع المودة میں امام محمد باقر - سے روایت نقل ہوئی ہے کہ حضرت نے فرمایا: ”“ یعنی زمین کو حضرت قائم کے ذریعہ زندہ کرے گا پس زمین ظلم و ستم کی وجہ سے مرنے کے بعد ان کے عدل و انصاف کے ذریعہ دوبارہ زندہ ہوگی لہٰذا وہ عدل و انصاف سے کام لیں گے۔
پھر مشیت الٰہی کا تقاضا یہ ہوگا کہ حضرت قائم آل محمد قیام اور ظہور فرمائیں اس طرح ان کے دریائے عدل و انصاف کے فیض میں تلاطم پیدا ہوگا کہ ان کا کوہ گراں پیکر تمام دنیا کو گھیر لے گا اور ان کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ حدید، آیت ۱۷۔
(۲)۔ ینابیع المودة، ج۳، ص ۲۵۲۔
عدل و انصاف تمام انسانی جسم میں مجسم ہوجائے گا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں دنیا و ما فیھا اپنے وجود میں بہشتی تازہ روح کا احساس کرے گی اور تمام مخلوقات امن و امان، رفاہ و آسائش اور صلح و مصالحت کے ساتھ زندگی بسر کرے گی۔
۱۴/ ۲۔ اسلام کی بنیاد
۱۴۔ ”وَاَثافِیّ الاِسلامِ وَبُنیانُةُ“ (اسلام کی سنگ بنیاد اور اساس) اثافی اثفیہ کی جمع ہے اس سے مراد ایسا پتھر ہے کہ جس پر دیگ کو رکھا جاتا ہے اور اگر دو دوسرے پتھر مثلث کی شکل اختیار کریں تو اسے ”اثافی“ کہتے ہیں جب کبھی دیگ اس کے اوپر رکھا جائے تو بغیر حرکت کے اپنی جگہ مستحکم اور مستقر ہوجائے گا۔
اس اعتبار سے کہ اسلام قرآن مجید کی محکم و استوار بنیادوں پر مستقر ثابت اور پا برجا ہے اثافی سے شباہت دی ہے۔
۱۱۷۔ ”وَفی الکافی عَنِ الصّادقُ علیہ السلام قالَ اثا فِی الاِسلامُ ثَلاثَةٌ الصُّلوةُ وَالزَّکٰوة وَالوِلایَةُ لا تصِحُّ واحِدةٌ مِنھُنَّ اِلاَّ بِصاحبتیھا “ (۱)
کافی میں امام صادق - سے مروی ہے کہ اسلام کے بنیادی ارکان تین ہیں۔ نماز، زکوٰة اور ولایت ائمہٴ اطہار علیہم السلام ان میں سے کوئی بھی اپنے دو کے بغیر صحیح اور قابل قبول نہ ہوگی۔
اس جیسی حدیث روزہ اور حج کے اضافہ کے ساتھ حضرت امام محمد باقر - سے نقل ہوئی ہے۔
۱۱۸۔ ”وفیہ عن ابی جعفر علیہ السلام قالَ بُنِی الاِسلامُ عَلیٰ خَمسٍ الصَّلاةُ وَالزَّکاةُ والصّوم والحَجّ وَالوِلایةُ وَلَم ینادِ بِشَیءٍ کَما نُودِیَ بالولایةِ، وفی روایة
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ اصول کافی، ج۲، ص ۱۸۔
کما نودِیَ بالولایَةِ یومَ الغَدیر “ (۱)
اسی کتاب میں مذکور ہے کہ امام محمد باقر - نے فرمایا: اسلام کی اساس پانچ چیزوں پر استوار ہے، نماز، زکوٰة، روزہ، حج اور ولایت اور ان میں سے ولایت کی طرح کسی چیز کی تاکید نہیں کی گئی ہے۔ اور دوسری روایت میں ذکر ہوا کہ کسی چیز کی غدیرخم کے دن ولایت کی طرح سفارش نہیں کی گئی ہے۔
۱۱۹۔ ”وَفیہ ایضاً بِاِسنادِہِ عَن عَبدِ الحمید بن ابی العَلاء الاٴزدی قالَ سَمعت اَبا عبد اللّٰہِ علیہ السلام یَقُولُ اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ فَرَضَ عَلٰی خَلقہِ خَمساً فَرخَّصَ فی اَرْبَعٍ وَلَم یُرخّص فی واحِدة “ (۲)
اس کتاب میں کلینی اپنی سند کے ساتھ عبد الحمید ابن ابی العلا ازدی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نے ابو عبد اللہ امام جعفر صادق کو یہ فرماتے سنا: خدائے عزوجل نے اپنی مخلوق پر پانچ چیزیں واجب قرار دی ہیں ان میں سے چار میں ترک کرنے کی اجازت دی ہے لیکن ان میں سے ایک کے لیے کبھی بھی رخصت نہیں دی ہے۔
مولف کہتے ہیں: وہ چار واجب کہ جن میں رخصت ہے اس سے مراد نماز ہے جو بعض افراد سے ساقط ہے جیسے جس زمانہ میں عورتیں حیض و نفاس کی حالت میں ہوتی ہیں اور بعض حالات میں تو دونوں کی طہارت مفقود ہوتی ہے اور زکوٰة ان لوگوں سے متعلق نہیں ہوتی جن کے اموالِ زکوٰة اپنے نصاب کی حد تک نہ پہنچے ہوں، اور روزہ ان افراد سے کہ جو روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے جیسے ضعیف العمر انسان اور ضعیفہ عورت اور حج ان افراد سے کہ جنہیں مالی اور جانی استطاعت وغیرہ نصیب نہیں ہوئی ان سب سے ساقط ہے لیکن ولایت کبھی بھی کسی صورت میں قابل قبول عذر نہیں ہے اور نہ ہی کسی بھی فرد سے ساقط ہوتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ اصول کافی، ص ۱۸، ۲۱۔
(۲)۔ اصول کافی، ج۲، ص ۲۲۔
علامہ مجلسی کہتے ہیں: اس حدیث میں کہ جس میں تین رکن پر اکتفا کیا گیا ہے کیوں کہ اہم اجزاء یہی نماز، زکوٰة اور ولایت ہے اور بلاشک و شبہ ان میں سے ہر ایک کا قبول ہونا دوسرے کے قبول ہونے پر موقوف و مشروط ہے بالخصوص ولایت جو تمام اعمال کے قبول ہونے کی شرط ہے۔
۱۲۰۔ ”وَفی الکافی عَنْ ابی جَعفرٍ الثانی عَنْ اَبیہِ عَن جَدِّہِ علیہم السلام قال: قالَ اَمیر الموٴمنینَ علیہ السلام قالَ رَسُولُ اللّٰہ (ص) اِنَّ اللّٰہ خَلَقَ الاِسلامَ فَجَعَلَ لَہُ عَرْصَةً وَجَعَلَ لَہ نوراً وَجَعَلَ لَہُ حِصناً وَجَعَلَ لَہُ ناصِراً فامّا عَرْصَتُہُ فَالقُران ، وَامّا نُورُہُ فَالحِکْمة ، وَاَما حِصنہُ فالمعرُوفُ ، فامّا انصارُہُ فَانَا وَاَھلُ بَیتی وَشیعتُنا ، فَاَحِبّوا اَھْلَ بَیتی وَشیعَتھُمْ وانصارَھُم ، فَاِنَّہ لمّا اُسری بی اِلَی السّمآء الدنیا فَنَسبنی جَبْرَئیلُ علیہ السلام لِاَ ھْلِ السَّمآءِ اِستَودَعَ اللّٰہِ حُبّی وَحُبَّ اَھلِ بیتی وَ شیعَتھِم فی قُلُوبِ المَلائِکَةِ فَھو عِندَھُم ودیَعةٌ اِلیٰ یَومِ القیٰمةَ ثُمَّ ھَبَطَ بِی الیٰ اھْل الارض فَنَسَبنی لِاَھْل الاَرض فاَستودَعَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ حُبّی وَحُبَّ اھلِ بَیتی وَ شیعَتھم فی قلُوب موٴمنی امتی ، فموٴمِنوا اُمَّتی یَحفَظُونَ وَدیعَتی الیٰ یومِ القِیٰمةِ ، اَلا فَلَو انَّ الرَّجُلَ مِن اُمّتی عَبَدَ اللّٰہ عَزَوَجل عمرہ ایَّامَ الدُّنیا ثُمّ لَقِیَ اللّٰہ عَزَوَجَلّ مبغضاً لاَھلِ بیتی وَ شیعَتی ما فَرَّجَ اللّٰہ صَدرَہُ الا عَنْ نِفاقٍ “ (۱)
شیخ کلینی نے کتاب کافی میں حضرت امام جواد تقی - سے انہوں نے اپنے آباء و اجداد بزرگوار سے انہوں نے حضرت امیر المومنین سے انہوں نے حضرت رسول اکرم (ص) سے روایت کی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا: خدائے عزوجل نے اسلام کو خلق کیا اس کے لیے وسعت پیدا کی، اس کے لیے نور قرار دیا، اس کے ناصر بنائے، اس کا عرصہ (صحن خانہ) قرآن ہے اس کا نور،حکمت ہے اس کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ اصول کافی، ج۱، ص ۴۶۔
حصار و قلعہ نیکی ہے اور اس کے اعوان و انصار ، میرے اہل بیت ہیں لہٰذا میرے اہل بیت اور میرے شیعوں اور مدد کرنے والوں کو دوست رکھو کیونکہ جب مجھے جبرئیل دنیا کے آسمان (معراج) کی طرف لے گئے تو میرا تعارف اہل آسمان سے کرایا اللہ نے میری اور میرے اہل بیت کی اور ان کے شیعوں کی محبت ملائکہ کے دلوں میں پیدا کی جو قیامت تک ان کے دلوں میں رہے گی پھر جبرئیل نے زمین پر مجھے اتارا تو زمین والوں سے میرا تعارف کرایا اور میری اور میرے اہل بیت اور ان کے شیعوں کی محبت میری امت کے مومنین کے دلوں میں قرار دی پس میری امت ایمان لائی پس مومنین میری امانت (میرے اہل بیت اور ان کے شیعوں کی ولایت و محبت ہے) کی روز قیامت تک حفاظت کریں گے۔
آگاہ ہوجاؤ ! اور یہ جان لو کہ اگر میری امت کا کوئی شخص بقدر عمر دنیا رکھتا ہو اور اللہ تعالیٰ کی عبادت تمام دنیا کے دنوں (دنیا کے تمام عمر) میں انجام دیتا رہے پھر وہ ایسی صورت میں خدائے سبحان سے ملاقات کرے کہ اس کے دل میں میرے اہل بیت اور میرے شیعوں کی عداوت ہو تو اللہ اس کے سینہ کو کشادہ نہیں کرے گا مگر نفاق سے۔
بعض روایات میں نقل ہوا ہے کہ اگر ثقلین (انس و جن) کی عبادت بجالائے لیکن ہماری ولایت و محبت اس کے دل میں نہ پائی جاتی ہو تو اسے وہ تمام عبادت کوئی فائدہ نہ دے گی۔
مولف کہتے ہیں: جیسا کہ قرآن مجید دین اسلام کی اساس و بنیاد ہے اسی طرح حضرت بقیة اللہ الاعظم حجة ابن الحسن اور ان کے آباء و اجداد طاہرین کی معرفت و ولایت اسلام کی اساس اور سنگ بنیاد ہے کہ اس کے بغیر کوئی بھی عمل قابل قبول نہ ہوگا اور نہ ہی اس پر کوئی آثار و ثواب ہی مترتب ہوں گے۔
۱۲۱۔ ”وفی الکافی فی الصَّحیح عَنْ مُعاویةَ بن عَمَّارٍ عَن ابی عبدِ اللّٰہِ علیہ السلام فی قولِ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ <وَلِلَّہِ الْاٴَسْمَاءُ الْحُسْنَی فَادْعُوہُ بِہَا> (۱) قالَ نَحْنُ وَاللّٰہِ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ اعراف، آیت ۱۸۰۔
الاسمآءُ الحُسنیٰ الذی لایقبَلُ اللّٰہ مِنَ العِبادِ عَمَلاً اِلاَّ بِمعرفَتِنا “ (۱)
کافی میں صحیح روایت کے ساتھ کلینی علیہ الرحمہ نے معاویہ ابن عمار سے نقل کیا ہے کہ وہ امام جعفر صادق سے روایت کرتے ہیں کہ آیہٴ کریمہ ”کہ اللہ کے لیے بہترین نام ہیںلہٰذا اسے انہیں سے پکارو“ کی تفسیر کے بارے میں حضرت نے فرمایا: خدا کی قسم! ہم اللہ کے اسماء الحسنی ہیں بغیر ہماری معرفت کے اللہ تعالیٰ بندوں کا کوئی عمل قبول نہیں کرے گا۔
مولف کہتے ہیں: جو شخص بھی اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور پیغمبراکرم (ص) کی رسالت کا اعتراف کرے تو اس کے لیے لازم ہے کہ ان کی پیروی اور ان بزرگوار کی تصدیق کرے تاکہ اللہ اور رسول کی بہ نسبت جو حقوق ہیں ان کی معرفت پیدا کرے اور اس کو ادا کرے ظاہر ہے کہ سب سے بڑا حق جو تمام مخلوقات پر واجب ہے ائمہٴ ہدی کی ولایت کا تحفظ ہے اِس بنا پر ولایت کی رعایت اور حفاظت کیے بغیر کوئی بھی عمل بارگاہ الٰہی میں قابل قبول نہیں ہے۔
۱۵/ ۲۔ وادی حق
۱۵۔ ”وَ اٴَودِیَة الحَقّ وَ غیطانُہُ“ حق و حقیقت کی پیروی کی وادی اور اس کا ہموار میدان و بیابان ہے کہ جس میں دین و دانش کے گل و ریحان اُگتے ہیں تاکہ ان کے طالبوں کے دماغ کو اُن کی خوشبو سے معطر کرے، اودیہ، وادی کی جمع ہے جس کے معنی بیابان کے ہیں دو پہاڑ کے درمیان وسیع نہر اسلوب، راستہ اور مذہب کے معنی میں بھی استعارہ کے عنوان سے استعمال ہوا ہے۔
غیطان، غیط کی جمع ہے جس کا معنی باغ کے ہیں اور کسی چیز میں داخل ہونے کے ہیں اور نزاع نیز دوسرے مختلف کلام کے معنی میں بھی ذکر ہوا ہے، یعنی جو شخص حق و حقیقت کا طالب ہے وہ قرآن مجید
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ اصول کافی، ج۱، ص ۱۴۳۔
کے وسیع بیابانوں میں اور اس کی ہر قسم کی کجی و انحراف اور خطرناک حوادث سے محفوظ سرزمین سے حاصل کرسکتا ہے۔
شارح بحرانی بیان کرتے ہیں : دونوں ہی لفظ استعارہ کے طور پر آئے ہیں اس اعتبار سے کہ قرآن مجید حق کا معدن و مرکز اور اس کے پائے جانے کا جہاں قوی گمان پایا جاتا ہے جس طرح بیابانوں اور نشیبی مقامات میں گھاس اور پانی جمع ہونے کا قوی گمان و امکان پایا جاتا ہے۔
حضرت ولی عصر بقیة اللہ الاعظم امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف اور تمام ائمہ ٴہدیٰ علیہم السلام حق کے معدن و مرکز اور آب حیات کا سرچشمہ ہیں، حق کے طلب کرنے والے افراد کو چاہیے کہ خاندان عصمت اور معادن وحی تنزیل کے پاس اس کو تلاش کریں جیسا کہ ہم زیارت جامعہٴ کبیرہ میں پڑھتے ہیں۔
۱۲۲۔ ”وَالحقّ مَعَکمْ وَفیکُمْ وَاَنتمُ اَھْلُہُ وَمَعدِنُہُ․“ حق آپ کے ساتھ آپ میں آپ سے اور آپ کی طرف ہے آپ ہی اس کے اہل اور اس کے معدن و مرکز ہیں۔
۱۲۳۔ ”عَلِیٌّ مَعَ الحَقّ وَالحق مَعَ عَلی یَدُوُر حیث دارِ ․“ علی حق کے ساتھ ہیں اور حق علی کے ساتھ ہے حق کو اسی طرف پھیر دے جدہر علی جائیں۔
۱۶/ ۲۔ بے کراں سمندر
۱۶۔ وَبَحرٌ لا ینَزِفُہُ المُسْتَنزِفُونَ ․ (یہ وہ سمندر ہے جسے پانی نکالنے والے ختم نہیں کرسکتے): نزف، کنویں سے تمام پانی کو تدریجی طور پر نکالنے کو کہتے ہیں، یعنی قرآن کریم ایسا سمندر ہے کہ اس کے تمام پانی کو نہیں نکالا جاسکتا اگرچہ تدریجا ً اور وقفہ کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو، یہاں تک کہ اگر تمام لوگ اس سے استفادہ کریں پھر بھی اسے ختم نہیں کرسکتے۔
یعنی وہ علوم جن کا کتاب عزیز سے استفادہ کیا جاتا ہے اس کی حد نہیں ہے اس میں جو کچھ ہوچکا جو ہو رہا ہے یا قیامت کے دن تک ہونے والا ہے سب کا علم اس میں موجود ہے۔
قرآن مجید ہی وہ ہے جو حلال و حرام ، فرائض، فضائل، ناسخ و منسوخ، رخصت و عزیمت، خاص و عام، صبر و امثال، مرسل و محدود، محکم و متشابہ کو واضح طور پر بیان کرنے والا ہے جو علوم و احکام کی پیچیدگیوں مجملات اور مشکلات کی تفسیر کرنے والا ہے۔
قرآن مجید کے مطالب جو کلمات الٰہیہ پر مشتمل ہیں وہ بے نہایت عظیم ہیں کہ خود قرآن اس معنی کو بیان کر رہا ہے:
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <قُلْ لَوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِکَلِمَاتِ رَبِّی لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اٴَنْ تَنفَدَ کَلِمَاتُ رَبِّی وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِہِ مَدَدًا > (۱)
آپ کہہ دیجیے کہ اگر میرے پروردگار کے کلمات کے لیے سمندر بھی روشنائی بن جائیں تو کلمات رب کے ختم ہونے سے پہلے ہی سارے سمندر ہو جائیں گے چاہے ان کی مدد کے لیے ہم ویسے ہی سمندر اور بھی لے آئیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <وَلَوْ اٴَنَّمَا فِی الْاٴَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اٴَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ یَمُدُّہُ مِنْ بَعْدِہِ سَبْعَةُ اٴَبْحُرٍ مَا نَفِدَتْ کَلِمَاتُ اللهِ إِنَّ اللهَ عَزِیزٌ حَکِیمٌ > (۲)
اور اگر روئے زمین کے تمام درخت قلم بن جائیں اور سمندر کا سہارا دینے کے لیے سات سمندر اور آجائیں تو بھی کلمات الٰہی تمام ہونے والے نہیں ہیں بے شک اللہ صاحب عزت بھی اور صاحب حکمت بھی ہے۔
پہلی آیت میں فرماتا ہے:” اگر سمندر اپنے تمام حجم کے ساتھ عالمین کے پروردگار کے کلمات تحریر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ کہف، آیت ۱۰۹۔
(۲)۔ سورئہ لقمان، آیت ۲۷۔
کرنے کے لیے روشنائی بن جائے تو سمندر ختم ہوجائے گا قبل اس کے کہ کلمات الٰہیہ تمام ہوں اگرچہ اس میں دوسرے سمندر کا اضافہ بھی کیا جائے“ لیکن دوسری آیت میں ایک بہت دقیق مطلب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے فرماتا ہے: ”روئے زمین کے تمام درخت (خواہ باغات کے تمام درخت ہوں یا طبیعی جنگلوں کے کہ ان میں سے بہت سے کی لمبائی ایک میٹر یا دو میٹر کی حد تک ہو) ان سب کو قلم بنائیں اور سمندر کے پانی کو روشنائی پھر اس میں دوسرے سات سمندر کا اضافہ کریں پھر بھی خدا کے کلمات تمام ہونے والے نہیں ہیں“۔
روئے زمین کے تمام درخت اگر معمولی قلم کی شکل اختیار کرلیں تو اس کی حد معلوم کرنا اور اسے شمار کرنا ہمارے بس کی بات نہیں ہے اس کے علاوہ اگر تمام سمندر اور اقیانوس تمام تعاون اور مدد کرنے کے ساتھ روشنائی بن جائیں تو طبیعی طور پر اس کے لکھنے والے جن و انس کے تمام خلائق ہی ہونے چاہئیں، اس کے باوجود یہ سب کچھ ختم ہوجائے گا لیکن کلمات الٰہیہ اختتام پذیر نہ ہوں گے۔
حضرت حجّت، مہدی اہل بیت سالت عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف اسی طرح ان کے آباء و اجداد طاہرین کہ جن پر قرآن نازل ہوا اور اس کے تمام علوم کے حامل ہیں علوم الٰہی کے سمندر اور قرآن مجید ہیں کہ جتنا بھی ان سے فیض حاصل کیا جائے اور لوگ سیراب ہوں پھر بھی ختم ہونے والے نہیں ہیں۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ خود ان عظیم ہستیوں سے ایسی روایات صادر ہوئی ہیں جو اس معنی پر دلالت کرتی ہیں شیخ مفید رحمة اللہ علیہ کی کتاب اختصاص میں وہ موسی المبرقع (۱) کی حدیث میں جو یحییٰ ابن اکثم نے حضرت سے دس سوال دریافت کیے تھے ان میں سے ایک یہ ہے: مجھے اس آیت کے بارے میں باخبر کریں کہ سمندر کیا ہیں؟ اور اس سے کیا مراد ہے؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: <وَلَوْ اٴَنَّمَا فِی الْاٴَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اٴَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ یَمُدُّہُ مِنْ بَعْدِہِ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ابو احمد موسیٰ المبرقع امام ہادی علی نقی - کے بھائی ہیں اور رضوی سادات کے جدّ بزرگوار ہیں۔
سَبْعَةُ اٴَبْحُرٍ مَا نَفِدَتْ کَلِمَاتُ الله>(۱) ماھٰذا لاٴ بحرُ و اَیْن ھِیَ ؟
۱۲۴۔ حضرت امام موسیٰ کاظم - جواب میں فرماتے ہیں: ” وَاَمّا قَولُہُ تعالیٰ< وَلَوْ اٴَنَّمَا فِی الْاٴَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اٴَقْلَامٌ > الآیہ فَھُوَ کَذلکَ لَوْ اَنَّ اشجارَ الدّنیا اقلامٌ وَالبَحرُ مدادٌ لَہُ بَعدَ سَبعَةَ مَددِ البحُرِ حَتیٰ فُجّرَتِ الارضُ عیوناً فَغَرق اصحابُ الطّوفان لَنَفَدت قَبل انْ تَنفَدَ کلِماتُ اللّٰہِ عزَّوَجَلَّ الیٰ قولہ علیہ السلام وَنَحْنُ الکَلماتُ التی لا تُدرَک فَضائلنُا وَ لا تُستَقصی“ (۲)
یعنی اگر تمام اشجار قلم بن جائیں، تمام سمندر روشنائی بن جائیں بلکہ اس میں سات دریا زمین سے پھوٹ کر مزید شامل ہوجائیں ، ایسے ہی ہےں جیسا کہ اصحاب طوفانِ (نوح) غرق ہوئے، پھر بھی اللہ کے کلمات ختم نہیں ہوسکتے(اس کے بعد امام - نے بعض چشموں کے نام بہ عنوان مثال ذکر کیے اور وہ سات چشمے یہ ہیں) چشمہٴ کبریت، چشمہ ٴ یمن، چشمہ ٴبرہوت، چشمہ ٴ طبریہ، چشمہٴ حمر (۳) چشمہ ٴ ماسبذان (جس کو المنیات بھی کہا جاتا ہے) چشمہٴ افریقہ (جس کو بسلان بھی کہتے ہیں) چشمہٴ باجروان (بحرون نسخہ بدل) لسان بھی کہتے ہیں فلاں چشمہ فلاں چشمہ پھر فرمایا: ہم لوگ وہ کلمات ہیں کہ جن کے فضائل کو درک نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ان کا احاطہ کیا جاسکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ لقمان، آیت ۲۷۔
(۲)۔ تاویل الآیات، ج۱، ص ۴۴۰۔
(۳)۔ حَمَّة حاء پر فتحہ اور تشدید ، ایسے چشمے جن کا پانی گرم ہوتا ہے اور معلول و اپاہج لوگ اور بعض دوسرے افراد اس سے شفا حاصل کرتے ہیں یہ سب اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہر پانی کے لیے ایک منبع اور اس سے کوئی چیز کم نہیں ہوگی اس کے باوجود مکمل طور پر نابود اور ختم ہوجائیں گے مگر کلمات الٰہیہ کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ اور ممکن ہے کہ ان چشموں کے اسماء سائل کے ذہن میں موجود ہوں اور امام- نے اس کو انہیں سے قانع کیا ہو۔
۱۷/ ۲۔ چشم
۱۷۔ وَ عُیُونُ لا یَنضِبُھاَ المٰاتِحُونَ (یہ وہ چشمہ ہے جسے الچنے والے کم نہیں کرسکتے): ”نضب“ جاری و ساری اور ختم ہونے کے معنی میں ہے، نضب الماء، پانی جاری ہوا، اور اس کا طغیانی حالت پیدا کرنا، نضب عمرہ ، یعنی اس کی عمر ختم ہوگئی، نضب البحر، سمندر کا پانی خشک ہوگیا، چشمے کا پانی کم ہوگیا، نضب ماء وجھہ، ان کی عزت چلی گئی اور کسی چیز سے شرم نہیں کرتے وغیرہ کے معانی میں استعمال ہوا ہے۔
”متح متحا“ پانی کھینچنااگرچہ ڈول ہی سے نکالے ”متح الشجرة“ درخت کو کاٹنا یا کاٹنے کو کہتے ہیں بئر متوح کم نشیب والے کنویں کو کہتے ہیں جس سے آسانی کے ساتھ پانی نکالا جاسکے۔
یعنی قرآن مجید ایسا کنواں ہے کہ جس کا پانی صاف و شفاف ، شیرین، گوارا یا ایسا چشمہ ہے کہ جتنا بھی اس سے استفادہ کیا جائے اور سیرابی حاصل کی جائے کبھی بھی اس میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوگی، کثیف نہیں ہوگا اس میں سے کوئی شے کم نہیں ہوگی اور نہ ہی خشک ہوگا۔
امام عصر (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کا مقدس وجود اولین و آخرین کے علوم کا منبع اور سرچشمہ ٴ آب حیات ہے کہ جتنا بھی اس سے استفادہ کیا جائے کبھی اس میں کوئی شے کم نہیں ہوگی اور کسی بھی صورت میں اختتام پذیر ہونے والا نہیں ہے، اس لیے کہ ائمہٴ ہدیٰ علوم الٰہی کے خزانے اور وحی و تنزیل کے معادن و مراکز ہیںاور عظیم المرتبت پیغمبر (ص) تمام انبیاء ان کے اوصیاء کے علم کے وارث ہیں اور یہ عظیم ہستیاں ہیں کہ تمام اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی ہوئی کتابیں ان کے پاس موجود ہیں ان سب کے مطالب کے اختلاف کو ان کی زبانی جانتے ہیں۔
۱۲۵۔ ”فی الکافی بِاسنادِہِ عَنْ عَبدِ الرّحمٰن بن کثیرٍ قالَ: سِمَعت اَبا عَبدِ اللّٰہ
علیہ السلام یَقولُ نَحنُ وُلاةُ الاَمرِ اللّٰہِ وَخَزَنَةُ عِلم اللّٰہِ وَ عَیبةُ وِحیِ اللّٰہِ “ (۱)
کافی میں کلینی علیہ الرحمہ اپنی سند کے ساتھ عبد الرحمن ابن کثیر سے روایت کرتے ہیں کہ ان کا بیان ہے کہ میں نے امام جعفر صادق کو کہتے سنا: ہم والیان امر الٰہی ہیں ہم علوم الٰہی کا خزانہ ہیں اور وحی الٰہی کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
۱۲۶۔ ”وفیہ عَنْ سُدَیْرٍ عَن ابی جَعفرٍ علیہ السلام: قُلتُ لَہُ : جعلت فداک ما انتُم ؟ قالَ نَحنُ خُزّانُ عِلمِ اللّٰہِ وَنَحنُ تراجِمَةُ وَحیِ اللّٰہِ وَنَحنُ الحجَّةُ البالِغَةُ عَلیٰ مِنْ دُونَ السّمٰآء وَمَن فَوق الاَرْضِ “ (۲)
اسی کتاب میں منقول ہے کہ سدیر امام محمد باقر - سے عرض کرتے ہیں: آپ کیا ہیں؟ امام - نے فرمایا: ہم علم الٰہی کے خزانہ دار ہیں ، ہم وحی الٰہی کے ترجمان ہیں، ہم خدا کی حجّت بالغہ ہیں ان لوگوں پر جو آسمانوں کے نیچے اور زمین کے اوپر ہیں۔
۱۲۷۔ دوسری روایت میں ہے کہ : ” لاٰ عَلیٰ ذَھَبٍ وَلا عَلی فضَّةٍ اِلا عَلیٰ عِلمِہِ “ (۳)
ہم زمین وآسمان میں اللہ کے خزانہ دار ہیں مگر سونے چاندی کے خزانہ دار نہیں بلکہ ہم علم الٰہی کے خازن ہیں۔
مولف کہتے ہیں: ان تین روایت کو تبرکاً ہم نے ذکر کیا ہے مذکورہ عناوین کی دوسری روایات کتاب اصول کافی (۴) میں موجود ہیں قارئین کرام وہاں ملاحظہ کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ اصول کافی، ج۱، ص ۱۹۳، باب ان الائمہ علیہم السلام ولاة امراللہ و عیبة وحی اللہ“۔
(۲)۔ اصول کافی، ج۱، ص ۱۹۲، حدیث ۴۔
(۳)۔ اصول کافی، ج۱، ص ۱۹۲، حدیث ۲۔
(۴)۔ اصول کافی، ج۱، ص ۲۱۴، ۲۶۴۔
۱۸/ ۲۔ ہدایت کا چشمہ
۱۸۔ وَمَنا ھِلُ لا یَغیضُھَا الوارِدُونَ ؛ (ایسا گھاٹ ہے کہ جس پر وارد ہونے والے اس کا پانی کم نہیں کرسکتے) منھل ، پانی پینے کے مقام اور جگہ کے معنی میں ہے ۔ جیسے چشمہ اور نہر۔
غیض ، نقصان کے معنی میں ہے کسی شے کو خراب کرنے یا داخل کرنے کو کہتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <وَقِیلَ یَااٴَرْضُ ابْلَعِی مَائَکِ وَیَاسَمَاءُ اٴَقْلِعِی وَغِیضَ الْمَاءُ وَقُضِیَ الْاٴَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَی الْجُودِیِّ> (۱)
طوفان نوح کے واقعہ میں ہے: (اور قدرت کا حکم ہوا کہ اے زمین! پانی کو نگل لے اور اے آسمان! اپنے پانی کو روک لے اور پھر پانی گھٹ گیا اور کام تمام کردیا گیا اور کشتی کوہ جودی پر ٹھہر گئی)۔ دوسری آیت میں فرمایا: <اللهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ کُلُّ اٴُنثَی وَمَا تَغِیضُ الْاٴَرْحَامُ > (۲)
یعنی یہ آسمانی عزیز ترین کتاب ایسا سرچشمہ ہے کہ اس پر وارد ہونے سے اس میں کوئی کمی نہیں واقع ہوتی، یہ عادی اور مادی چشموں کی طرح نہیں ہے کہ اگر حد سے زیادہ اس سے لوگ استفادہ کریں تو اس میں کمی واقع ہوجائے اور اس پر کثرت سے وارد ہونے والے اس کو خراب اور کثیف کردیں بلکہ وہ اس گہرے کنویں کی طرح ہے جو اصل پانی کے مادّہ سے متصل ہے اور اس میں فلٹر(FELTER) موجود ہے جتنا بھی آپ پانی نکالیں کبھی بھی اس میں کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کا ہر دل عزیز وجود اور تمام ائمہٴ اطہار کے علوم اور ان کے سارے فضائل و مناقب لوگوں کے لیے چشمہ اور روشنی حاصل کرنے کا مرکز ہیں جو ختم ہونے والے نہیں ہیں کیونکہ یہ عظیم ہستیاں تمام نبیوں اور رسولوں بالخصوص حضرات خاتم الانبیاء کے علوم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورہ ہود، آیت ۴۴۔
(۲)۔ سورئہ رعد، آیت ۸۔
کے نہ صرف یہ کہ وارث ہیں بلکہ آنحضرت (ص) کے علم میں شریک ہیں۔
۱۲۸۔ ”وفی الکافی بِاِسنادِہِ عَنْ محمدِ بن مُسلِمٍ قالَ سَمِعت اَبا جعفرٍ علیہ السلام یَقُولُ نَزَلَ جَبرَئیل عَلی محمَّدٍ (ص) بُرمّا نَتَیْنِ مِنَ الجنَّةِ فَلَقِیہ عَلیٌ علیہ السلام فَقالَ ماھاتانِ الرُّمانتانِ اللَّتان فی یدَکَ ؟ فَقالَ امْا ھٰذِہِ فالنّبوَةُ لَیسَ لَکَ فیھا نصیبٌ ، وَاٴمّا ھذِہِ فالعِلمُ ، ثمّ فَلَقَھا رَسُولُ اللّٰہُ (ص) بِنِصفَینِ فاعطاہُ نصفھا وَاٴخَذَ رَسُولُ اللّٰہ (ص) نِصفَھا ، ثُمَّ قالَ : اَنتَ شَریکی فیہِ وَاَنَا شَریکُکَ فیہِ ، قالَ فَلَم یَعْلَم وَاللّٰہ رَسُولُ اللّٰہ (ص) حَرفاً مِمَّا عَلَّمہ اللّٰہُ عَزّوَجَلَّ الاَّ وَقَد عَلّمہ عَلیّاً ثمّ انتَھی العِلمُ الینا ، ثُمَّ وَضَعَ یَدَہُ عَلیٰ صَدرِہِ “ (۱)
شیخ بزرگوار کلینی رحمة اللہ علیہ کافی میں اپنی سند کے ساتھ محمد ابن مسلم سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نے امام محمد باقر - کو کہتے سنا: جبرئیل حضرت محمد مصطفی (ص) کے پاس دو انار جنت سے لائے اس کے بعد آنحضرت (ص) کی حضرت علی - سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے دریافت کیا: آپ کے ہاتھ میں یہ دو انار کیسے ہیں؟ فرمایا: یہ ایک نبوت ہے جس میں تمہارا حصہ نہیں لیکن دوسرا علم ہے اس کے بعد آپ نے دو ٹکڑے کیے۔ نصف حضرت علی - کو عطا کیا اور نصف خود رسول خدا (ص) نے لیا اور حضرت علی - سے فرمایا: اس میں تم میرے شریک ہو اور میں بھی اس میں تمہارا شریک ہوں۔
پھر امام محمد باقر - نے فرمایا: خدائے عزوجل کی قسم! اگر پیغمبر اکرم (ص) کو جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تعلیم دی ان میں سے ایک حرف بھی فروگزار نہیں کیا بلکہ سب کا سب علی کو تعلیم دیا۔ پھر ان بزرگوار کے بعد وہ ہمیں وراثت میں ملا۔ اس کے بعد امام محمد باقر - نے اپنے دست مبارک کو اپنے سینے پر رکھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ اصول کافی، ج۱، ص ۲۶۳۔
مولف کہتے ہیں: یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہم علم رسول اکرم (ص) میں شریک اور آنحضرت کے علوم کے وارث ہیں، وہ سینہ بہ سینہ یکے بعد دیگرے ہماری طرف منتقل ہوا پھر وہ خاتم الاوصیاء حضرت مہدی آل محمد صاحب العصر و الزمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ہر دل عزیز وجود تک پہنچا لہٰذا ان سب کا علم کم ہونے والا نہیں ہے اور جتنا بھی زیادہ اس سے استفادہ کیا جائے ختم نہیں ہوگا۔
۱۹/ ۲۔ منزل ہدایت
۱۹۔ ”وَمَنازِلُ لا یَضِلُّ نَھجَھَا المُسافِرُونَ ؛“ (وہ ایسی منزل ہے کہ جس کی راہ پر چلنے والے مسافر بھٹک نہیں سکتے)
منازل، منزل کی جمع،گزرنے والوں کے ٹھہرنے اور آرام کرنے کی جگہ کو کہتے ہیں کہ قافلے والے ان منازل کو گم نہ کریں۔
یعنی قرآن مجید بھی خدا ئے عزوجل کی راہ پر چلنے والوں کے لیے منزل اور ٹھہرنے کی جگہ ہے کہ جسے مسافرین کسی وقت راستہ کو گم نہیں کرتے اس لیے کہ ایسا صاف و شفاف سیدھا جادہ ہے کہ کبھی بھی اس میں کجی اور انحراف نہیں پیدا ہوسکتا لہٰذا جو شخص بھی اس راستہ کی سیر کرے گا بلاشک و شبہ شاہراہِ ہدایت و سعادت تک پہنچ جائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <وَالَّذِینَ جَاہَدُوا فِینَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِینَ> (۱)
اور جن لوگوں نے ہمارے حق میں جہاد کیا ہے ہم انہیں اپنے راستوں کی ہدایت کریں گے اور یقینا اللہ حُسنِ عمل والوں کے ساتھ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ عنکبوت ، آیت ۶۹۔
<إِنَّ ہَذَا الْقُرْآنَ یَہْدِی لِلَّتِی ہِیَ اٴَقْوَمُ وَیُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِینَ الَّذِینَ یَعْمَلُونَ الصَّالِحَاتِ اٴَنَّ لَہُمْ اٴَجْرًا کَبِیرًا > (۱)
بے شک یہ قرآن اسی راستہ کی ہدایت کرتا ہے جو بالکل سیدھا ہے اور ان صاحبان ایمان کو بشارت دیتا ہے جو نیک عمل بجا لاتے ہیں کہ ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔
حضرت حجة ابن الحسن اور ان کے اجداد طاہرین علیہم السلام بھی اسی طرح ہیں جیسا کہ زیارت جامعہٴ کبیرہ میں وارد ہوا ہے۔
۱۲۹۔ انتُمُ الصِراطُ الاَقومُ وَالسَّبیلُ الاٴعظَم ، مَنْ اتاکُم نَجیٰ وَمَن لَم یَاٴْتِکُم ھَلَکَ ،ان عظیم ہستیوں سے تمسک اختیار کرنے والا اور ان کی راہ پر چلنے والا سعادت تک پہنچا، دنیا اور آخرت کی ہلاکتوں سے نجات پاگیا ورنہ بے چارہ بدبخت اور دونوں جہان میں نقصان اٹھانے والا ہے۔
۱۳۰۔ ”رویٰ ابراہیمُ بْنُ محمَّد الحَمَوینی مُسنداً عَن الاعْمَش عَن ابراہیم ، عَن عَلْقَمہ وَالاسود قالا:
اتَینا اَبا اَیوب الاَنصاری وَقلنا لَہُ یا اَبا اٴیوبِ انَّ اللّٰہِ تعالیٰ اَکرَمَک بنبیّہ حَیثُ کانَ ضَیفاً لَکَ فَضیلة مِن اللّٰہ فَضَّلَکَ بِھا اخبرنا مخرَجِکَ مَعَ عَلیٍّ علیہ السلام تُقاتِلُ اَھلَ لا اِلہ الاَّ اللّٰہ ، قالَ : اُقسمُ لکما بِاللّٰہِ لَقَد کانَ رَسُولُ اللّٰہِ (ص) فی ھذا البَیتِ الذی انتُما فیہِ مَعی وَما فی البَیتِ غَیرُ رَسَول اللّٰہِ (ص) ، وَعَلیٌ علیہ السلام جالِسٌ عَنْ یَمینِہِ وَاٴنَا جالِسٌ عَنْ یَسارِہِ وَاَنَس قائمٌ بَینَ یَدَیہِ اِذحرَّکَ البابُ فَقالَ رَسُولُ اللّٰہ (ص) اِفتَح لِعَمّار الطّیب المُطَیّب فَفَتَحَ النّاس البابَ وَدَخَلَ عَمّارٌ فَسَلَّمَ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ اسراء، آیت ۹۔
عَلیٰ رسول اللّٰہ (ص) فَرَحَّبَ بِہِ ثم قالَ لِعَمّارٍ انّہ سَیَکُونُ فی امّتی بَعدی ھُناة حتّی یَختلِفَ السَّیف فیما بَینَھم وَحتّی تَقتل بَعضُھُم بَعضاً ، فَاِذا رَاٴیْتَ ذٰلِک فَعَلَیکَ بِھذا الاٴضْلَعِ عَن یمینی ، یَعنی عَلیَّ بن ابی طالبٍ علیہ السلام فَاِذا سَلَکَ النّاسُ کُلّھم وادیا وَسَلَکَ عَلیٌّ وادیاً فَاسلک وادِی عَلیٍّ وَخلّ عَن النّاسِ یا عمار انَّ عَلیاً لا یردّکَ عَن ھدیً وَلا یَدُلُّکَ عَلیٰ رَدیً ، یا عمّار طاعةُ عَلیٍّ طاعَتی وَ طاعتی طاعَة اللّٰہ عزّوجلّ“ (۱)
ابراہیم ابن محمد حموینی نے اپنے اسناد کے ساتھ علقمہ اور اسود سے روایت کی ہے کہ ان کا بیان ہے: ہم دونوں ابو ایوب انصاری کی خدمت میں حاضر ہوئے (جو مکہٴ مکرمہ سے مدینہ ٴ منورہ کی طرف ہجرت کرتے وقت حضرت رسول اکرم (ص) کے میزبان تھے) اور ہم نے عرض کیا: اے ابو ایوب ! اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام (ص) کے مہمان ہونے کی برکت سے بزرگی اور فضیلت کی دولت سے مالا مال کیا ہے ہمیں اپنے خروج کی وجہ بتائیے کہ آپ نے علی ابن ابی طالب - کے ساتھ کلمہ گویوں سے کیوں جنگ کی (جو خدا کو یکتا تسلیم کرکے اس کی عبادت کرتے ہیں)۔
اور (شاید ان کی نظر میں نہروان کے خوارج ہوں) ابو ایوب انصاری نے کہا: میں تم دونوں سے اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں میرے گھر میں رسول خدا (ص) موجود تھے جس گھر میں تم دونوں میرے ساتھ بیٹھے ہوئے ہو۔ حضرت علی - ، رسول خدا (ص) کی دائیں طرف اور انس رسول اللہ (ص) کے سامنے تشریف فرما تھے گھر میں ہمارے علاوہ اور کوئی موجود نہیں تھا اس دوران دقّ الباب ہوا رسول خدا (ص) نے انس سے فرمایا: عمار کے لیے دروازہ کھول دو (وہ عمار جو ہر لحاظ سے پاک و پاکیزہ، طیّب و طاہر تھے) لوگوں نے دروازہ کھول دیا، عمار نے داخل ہوکر رسول خدا (ص) کو سلام عرض کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ بحار الانوار، ج۳۸، ص ۳۷، بشارة المصطفیٰ، ص ۲۳۲، ینابیع المودة، ج۲، ص ۲۸۶۔
رسول خدا (ص) نے آپ کو سلام کا جواب دیا ان کا احترام کیا اور خوش آمدید کہہ کر عمار سے فرمایا: عنقریب میرے بعد میری امت میں ناگفتہ بہ امور صادر ہوں گے آخرکار ان امور کی وجہ سے لوگوں میں تلوار چلے گی وہ ایک دوسرے کو قتل کریں گے جب تم ان باتوں کو دیکھو تو میری دائیں طرف بیٹھنے والے مرد اضلع (۱) یعنی علی ابن ابی طالب کا ساتھ دینا، اگر تمام لوگ ایک راستہ پر چلیں اور علی تنہا دوسرے راستہ کو اختیار کریں تو تم انہیں کے راستہ کو منتخب کرنا اور انہیں کی پیروی کرنا اور دوسرے تمام لوگوں کے راستے کو چھوڑ دینا (اور یاد رکھو!) اے عمار! علی - (کسی وقت بھی) تم کو راہِ ہدایت سے برگشتہ نہیں کرے گا اور نہ ہی تمہیں ناپسند امور اور انحرافی و باطل راستوں کی طرف تمہاری رہنمائی کرے گا، اے عمار! علی کی اطاعت و فرماں برداری میری اطاعت ہے اور میری اطاعت بھی اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرماں برداری ہے۔
حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب - جو ہر قسم کے فضائل و مناقب اور کمالات پر فائز تھے ان کے گیارہ فرزند ارجمند علیہم السلام بھی ان کے وارث ہیں چنانچہ فرمایا:
۱۳۱۔ ”اوّلنا محمّد وا وسطنا محمّد وآخرنا محمّد و کلّنا محمّد “ (۲) (ہمارا اول محمد ہے ہمارا اوسط محمد ہے ہمارا آخر محمد ہے اور ہم سب ہی محمد ہیں) سب کے سب ایک ہی نور ہیں۔
مذکورہ روایت میں حضرت امیر المومنین علی -کے اعلیٰ اور عظیم مرتبہ کی تصریح کی اور یہ کہ وہ ایک امت بلکہ سارے لوگوں کے مقابل میں وہ پوری امت ہیں، اور اگر تمام لوگ اور ہر ایک امت مختلف راستوں پر یا بالاتفاق سب ایک راستہ کو اختیار کریں لیکن علی - ان سب کے برخلاف چلیں تو صرف راہِ مستقیم ، ہدایت اور سعادت کا راستہ علی کا ہے اور ان سب کا راستہ ضلالت و گمراہی اور بدبختی کا ہے جس کا نتیجہ ہلاکت اور نقصان ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ اضلع اُس شخص کو کہتے ہیں جس کے سر کے آگے بال کم ہوتے ہیں۔
(۲)۔ غیبت نعمانی، ص ۸۶، بحار الانوار، ج۲۶، ص ۶، ص ۱۶، تفسیر قمی، ج۱، ص ۱۸۔
۲۰/ ۲۔ نورانی نشان
۲۰۔ ”وَاَعلامٌ لا یُعمیٰ عَنھا السّائِرُونَ ․“ (وہ نشان منزل ہے جو راہ گیروں کی نظروں سے اوجھل نہیں ہوسکتا ہے)
یہ عزیز ترین الٰہی کتاب بہت نورانی اور روشن نشانی ہے کہ اس کی سیر کرنے والے نابینا نہیں ہوسکتے۔
۲۱/ ۲۔ سرحدِ ہدایت
۲۱۔ وَآکام ٌلا َیجوُزُ عَنھاَ القاصِدُونَ ․یہ وہ ٹیلہ ہے جس کا تصور کرنے والے آگے نہیں جاسکتے ہیں، اس لیے کہ وہ تہ بہ تہ سبزاور خرم و شاداب معارف کا گلستان اور علوم کا دریا ہے کہ اس پر چلنے والے اسے ترک نہیں کریں گے۔
شارح بحرانی کہتے ہیں: لفظ اعلام و آکام ان ادلہ اور علامات سے استعارہ ہے جو قرآن مجید میں ہے ایسا راستہ ہے جو اس کی اور اس میں موجودہ احکام کی معرفت پر ختم ہوتا ہے اس اعتبار سے کہ اپنے تمسک رکھنے والوں کی ان کی طرف ہدایت کرتا ہے جیسا کہ نصب شدہ علامتیں اور پہاڑ وغیرہ راستوں اور شاہراہوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: < إِنَّ فِی خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِی تَجْرِی فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنفَعُ النَّاسَ وَمَا اٴَنزَلَ اللهُ مِنْ السَّمَاءِ مِنْ مَاءٍ فَاٴَحْیَا بِہِ الْاٴَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا وَبَثَّ فِیہَا مِنْ کُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِیفِ الرِّیَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْاٴَرْضِ لَآیَاتٍ لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ> (۱)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ بقرہ، آیت ۱۶۔
بے شک زمین و آسمان کی خلقت روز و شب کی رفت و آمد ان کشتیوںمیں جو دریاؤں میں لوگوں کے فائدہ کے لئے چلتی ہیں اور اس پانی میں جسے خدا نے آسمان سے نازل کرکے اس کے ذریعہ مردہ زمینوں کو زندہ کردیا ہے اور اس میں طرح طرح کے چوپائے پھیلا دیئے ہیں اور ہواؤں کے چلانے میں اور آسمان و زمین کے درمیان مسخر کیے جانے والے بادل میں صاحبان عقل کے لیے اللہ کی واقعی نشانیاں پائی جاتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <وَمِنْ آیَاتِہِ اٴَنْ خَلَقَکُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ إِذَا اٴَنْتُمْ بَشَرٌ تَنتَشِرُونَ # وَمِنْ آیَاتِہِ اٴَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِنْ اٴَنفُسِکُمْ اٴَزْوَاجًا لِتَسْکُنُوا إِلَیْہَا وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ # وَمِنْ آیَاتِہِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَاخْتِلاَفُ اٴَلْسِنَتِکُمْ وَاٴَلْوَانِکُمْ إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِلْعَالِمِینَ > (۱)
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارا جوڑا تمہیں میں سے پیدا کیا ہے تاکہ تمہیں اس سے سکون حاصل ہو اور پھر تمہارے درمیان محبت اور رحمت قرار دی ہے کہ اس میں صاحبان فکر کے لیے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں o اور اس کی نشانیوں میں سے آسمان و زمین کی خلقت اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف بھی ہے کہ اس میں صاحبان علم کے لیے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں۔
اور ۲۳ سے ۲۵ نمبر تک کی اس سورہ کی دوسری آیتیں بھی تمام لوگوں کو تمام عالمین کے پروردگار کی معرفت کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔
مولف کہتے ہیں: ائمہٴ ہدی بالخصوص حضرت بقیة اللہ الاعظم امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ہدایت کی علامات اور نشانیاں ہیں کہ ان پر چلنے والے ظلم و تجاوز نہیں کرسکتے اور نہ ہی نیست و
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ روم، آیت ۲۰۔ ۲۲۔
نابود ہوسکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <وَ عَلاماتٍ وَ بِالنَّجِم ھُم یَھْتَدُونَ> اور علامات معین کردیں اور لوگ ستاروں سے بھی راستے دریافت کرلیتے ہیں۔ اس آیت کی تفسیر میں امام جعفر صادق - نے فرمایا: ”النجم (ص) و العلامات ھم الائمة علیھم السلام “ (۱) نجم رسول خدا (ص) اور ہم علاماتِ الٰہیہ ہیں۔
۲۲/ ۲۔ گوارا پانی
۲۲۔ ”جَعَلَہُ اللّٰہُ تَعالیٰ رَیّاً لِعَطَشِ العُلَماء ․ “ (پروردگار نے اسے علماء کی سیرابی کا ذریعہ قرار دیا ہے) خداوند متعال نے قرآن کریم کو علماء کی پیاس کی حرارت کو کم کرنے اور سیراب کرنے والا قرار دیا شباہت کی وجہ علماء کے نفوس کا حقائق و معارف الٰہیہ کا شدید اشتیاق ہے جو قرآن ہے۔ جیسا کہ صاف و شفاف سرد پانی پیاسوں کی پیاس کو برطرف کرتا ہے یہ عزیز ترین کتاب الٰہی بھی انہیں اپنے بے انتہا حقائق و معارف سے سیراب کرتی ہے۔
جس طرح قرآن مجید طالبان علم و بصیرت اور حقائق و معارف الٰہیہ کے آتش عشق کو خاموش کرتا اور تسکین بخشتا ہے اس طرح ائمہٴ ہدی کا مقدس وجود بھی ہے موت و حیات کی صورت میں وہ نور ہدایت اور علم، ادب و ہنر کے عاشقین اور متلاشیوں کے لیے آرام و سکون کا باعث ہے چونکہ وہ حضرات معادن وحی اور علم الٰہی کے خزانہ دار ہیں نیز آب حیات کا منبع و سرچشمہ ہیں، جو لوگ ان کی خدمت میں شرف یابی کی سعادت حاصل کرچکے ہیں انہوں نے ان کے مکتب توحید، عقائد اور مختلف النوع علوم و فنون سے استفادہ اور روشنی حاصل کی ہے نہ دس نہ نو بلکہ ہزاروں بزرگوں اور احادیث
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ کافی، ج۱، ص ۲۰۶۔ امالی طوسی، ص ۱۶۳۔ بحار الانوار، ج۶، ص ۹۱۔
کے حاملین جیسے برید ابن معاویہ زرارہ جیسے افراد، محمد ابن مسلم جیسے لوگ، ابو بصیر جیسی ہستیاں اور جابر جعفی (رضوان اللہ تعالیٰ علیہم) وغیرہ جیسے لوگ جو سب کے سب امام محمد باقر اور امام صادق علیہما السلام کے اصحاب میں سے تھے وہ ثقہ، فقیہ، سر شناس اور اثر و رسوخ رکھنے والے اصحاب تھے اور ان عظیم ہستیوں کے نزدیک اعلیٰ و بالا عظمت و منزلت کے حامل تھے۔
۱۳۲۔ ”عَن جَمیل بن درّاج قالَ سَمعت اَبا عَبدِ اللّٰہِ علیہ السلام یَقُولَ بَشّر المخبتینَ بالجنة بُرید بن معٰویَةَ العجلی وَابُو بَصیر لَیث بن البختری المُرادی وَمحمَّد بن مُسلمٍ وزُرارةَ اربعةً نجبآء اُمنٰاءُ اللّٰہِ عَلیٰ حلالِہِ وَحَرامِہِ لَولاٰ ھوٴلآء انقَطَعَ آثارُ النُبُوّةِ وَاندرَسَتْ “ (۱)
جمیل ابن درّاج کا بیان ہے : میں نے امام جعفر صادق - کو فرماتے ہوئے سنا کہ:مخبتین (خشوع کرنے والوں) کو (اللہ کی) جنت کی خوش خبری دو برید ابن معاویہ عجلی، ابو بصیر، محمد ابن مسلم اور زرارہ یہ چاروں منتخب لوگوں میں سے اللہ تعالیٰ کے حلال و حرام کے امانت دار ہیں، اگر یہ نہ ہوتے تو آثار نبوت منقطع اور کہنہ ہو کر ختم ہوگئے ہوتے۔
ائمہٴ اطہار انبیاء کے علوم کے وارث والیان امر الٰہی اور علم خداوندی کے خزانہ دار نیز وحی الٰہی کے خزانہ ہیں ان میں سے پہلے علی ابن ابی طالب - اور ان میں سے آخری قائم آل محمد بقیہ اللہ الاعظم عجل اللہ تعالیٰ فرجہ صلوات اللہ و سلامہ علیہم اجمعین ہیں۔
۱۳۳۔ ”فی الکافی بِاسنادِہِ : عَن عَبدِ الرّحمٰن بن کَثیر قالَ سَمِعتُ اَبا عَبدِ اللّٰہِ علیہ السلام یَقولُ نحنُ ولاةُ اٴمر اللّٰہ وَخَزَنَةُ عِلْمِ اللّٰہِ وَعَیبَةُ وَحی اللّٰہِ “ (۲)
کافی میں کلینی ۺ نے اپنی سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ عبد الرحمن ابن کثیر کا بیان ہے کہ میں نے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ الفصول المہمة، ج۱، ص ۵۸۸، خلاصة الاقوال، ص ۲۳۴۔
(۲)۔ کافی، ج۱، ص ۱۹۲۔
حضرت امام جعفر صادق - کو فرماتے سنا: ہم والیان امر الٰہی ہیں ہم علوم الٰہی کا خزانہ اور وحی پروردگار کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
۱۳۴۔ ”وفیہ بِاسنادِہِ عنَ عَبد اللّٰہِ بن اَبی یَعفور قالَ : قالَ اَبو عَبدِ اللّٰہِ علیہ السلام یا ابنَ اَبی یَعفُور انَّ اللّٰہَ واحدٌ متوحِدٌ بِالوَاحدانیةِ ، متفَرِّدٌ بِامرِہِ فَخَلَقَ خَلْقاً فَقدَّرَھُمْ لِذلکَ الامْر، فَنَحنُ ھُم یا ابنَ ابی یعفورُ فَنَحنُ حججُ اللّٰہِ فی عِبادِہِ خُزّٰانُہُ عَلیٰ عِلمہ وَالقائمونَ بِذلِکَ “ (۱)
اس کتاب میں کلینی ۺ اپنی سند کے ساتھ عبد اللہ ابن ابی یعفور سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: حضرت صادق آل محمد - نے فرمایا: اے ابن ابی یعفور! خدائے سبحان واحد ہے اور اپنی وحدانیت میں منحصر بہ فرد ہے (یعنی وحدانیت کی صفت اور امر خداوندی اس کی مقدس ذات سے مخصوص ہے) لہٰذا خدائے متعال نے اپنی بعض مخلوقات کو خلق کیا اور اس امر دین کو ان کے لیے مقدر فرمایا، یقینا ہم اللہ کے بندوں کے درمیان اس کی حجتیں اور علم الٰہی کے خزانے نیز اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
۱۳۵۔ ”وَفیہ بِاسنادِہِ عَن عَلیً بن جعفر عن ابی الحَسَن موسیٰ علیہ السلام قالَ قالَ اَبُو عَبد اللّٰہ علیہ السلام اِنَّ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ خَلَقنا فَاَحسَنَ خَلقَنا وَصَوَّرَنا فَاَحسَن صُوَرَنا وَجَعَلَنا خُزّٰانَہُ فی سمآئِہِ و ارضِہِ وَلَنا نَقَطَتِ الشَجَرة وَبِعبادتنا عُبِد اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ وَلَولانا ما عُبد اللّٰہ “ (۲)
اسی کتاب میں کلینی ۺ اپنی سند کے ساتھ علی ابن جعفر سے انہوں نے حضرت موسی ابن جعفر - سے نقل کیا ہے کہ ان کا بیان ہے کہ حضرت امام جعفر صادق - نے فرمایا: خدائے عزوجل نے ہم کو بہترین خلقت کے ساتھ پیدا کیا اور ہمیں بہترین خوبصورت شکل عطا کی اور ہم کو اپنے آسمان و زمین کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ کافی، ج۱، ص ۱۹۲، حدیث ۵۔
(۲)۔ گزشتہ حوالہ، حدیث ۱۱۔
خزانہ دار بنایا اور ہم سے درختوں نے گفتگو کی ہماری عبادت سے خدائے سبحان کی عبادت ہوئی اور اگر ہم نہ ہوتے تو خدائے سبحان کی عبادت نہ کی جاتی۔ (ہم نے لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دی اور انہیں خدا کو پہچنوایا ہے اسی معرفت کے نتیجہ میں وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت انجام دیتے ہیں۔
لیکن جو لوگ اسی نعمت عظمیٰ (ان عظیم ہستیوں کی بارگاہ کے کسب فیض) سے محروم تھے وہ حضرت حجة ابن الحسن مولانا حضرت صاحب العصر و الزمان - عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے پُر فیض وجود کی برکتوں سے براہ راست یا اس طرح کے علاوہ استفادہ یا روشنی حاصل کی یا کرتے رہتے ہیں اگرچہ اس غیبت کے پردہ میں برج امامت کا آفتاب اپنے عاشقین اور منتظرین کی آنکھوں سے مخفی ہے لیکن ہمیشہ حضرت کی غیبی عنایات و برکات تمام موجودات کے شامل حال ہوتی ہیں۔
جن لوگوں نے معصوم ائمہٴ ہدیٰ اور پیشواؤں سے استفادہ کیا اور ان کے علوم و آثار کے حامل تھے انہوں نے ہمارے لیے تحفہ پیش کیا ان میں سے ہم صرف ایک کو بطور نمونہ تبرکا ً ذکر کرتے ہیں:
محمد ابن مسلم ابن ریاح، ابو جعفر الطحان الثقفی جو اصحاب امامیہ کے سرشناس اور اثر و رسوخ رکھنے والے کوفہ میں فقیہ اور تقویٰ و پرہیز گاری کے حامل تھے انہوں نے صادقین آل محمد سے بہت زیادہ کسب فیض کیا ہے۔
اور ان حضرات سے روایت نقل کی ہے۔ امام محمد باقر - سے تیس ہزار حدیث اور امام جعفر صادق سے سولہ ہزار سوال کرکے اسے حفظ کیا ہے۔
قرآن مجید اور ہر دل عزیز حجّت الٰہی حضرت ولی اعظم امام زمانہ - کے درمیان موازنہ اور وجہ شباہت جو کتاب کے عنوان میں (القرآن و الحجة) اخذ کیا گیا ہے آنے والے مطالب سے واضح اور روشن ہوجائے گا۔ حضرت امیر المومنین - نے قرآن مجید کی توصیف میں فرمایا: ” جعلہ اللّٰہ رَیّا لعطش العلماء“ یعنی قرآن کریم علماء کی پیاس کو خنکی اور سکون بخشتا ہے جتنا بھی چاہیں اس کے لامتناہی علوم سے استفادہ کریں ان کے ایمان اور اطمینان قلب میں اضافہ کا باعث ہوگا الا بذکر اللّٰہ تطمئن القلوب (آگاہ ہوجاؤ کہ اطمینان یاد خدا سے ہی حاصل ہوتا ہے) لیکن ائمہٴ اطہار کا قرآن کریم کے ہم پلہ ہونا اور اس کے موازنہ کا تقاضا یہ ہے کہ یہی اوصاف اور خصوصیات ان عظیم ہستوں میں بھی پائی جانی چاہیے اس بنا پر محمد ابن مسلم اور جیسے افراد کے حالات زندگی میں مختصر عنایت اور توجہ کے بعد مذکورہ مطالب کی دلیل روشن ہوجائے گی کہ حضرات ائمہٴ اطہار کے وجود کی برکتوں سے علم و بصیرت اور علوم الٰہی کے متلاشیوں کے دلوں کی آگ کو کیسے آرام و سکون ملتا ہے لیکن جو بہت زیادہ قابل توجہ امر ہے وہ یہ کہ محمد ابن مسلم مختلف موضوعات میں اڑتالیس ہزار حدیث کے حامل ہوتے ہوئے بھی اپنی مزید کامیابی کے لیے اس منبع اور خوش گوار سرچشمہٴ حیات سے فیض حاصل کرنے کے لیے سوال کرتے ہیں کہ آفتاب کے ٹھہرنے کی کیفیت کو بھی حضرت بیان فرمائیں۔
۱۳۶۔ ”وَفی الاِختِصاصِ لِلمُفید ۺ بِاسنادِہِ عَن محمَّدَ بْنِ مُسلِمٍ قالَ: قُلت لابی جَعَفرٍ علیہ السلام جُعِلتُ فَداکَ اخبرنی برُکودِ الشَّمسِ قالَ وَیحَک یا محمَّدُ ما اصغَر جثّتکَ وَاعضَلَ مَساٴلتکَ ، ثُمَّ سَکَتَ عَنّی ثَلاثَةَ ایّامٍ ، ثُمَّ قالَ لی فی الیَومِ الرّابِعِ اِنَّکَ لاَ ھلٌ لِلجوابِ “ (۱)
اختصاص میں شیخ مفید اپنی سند کے ساتھ محمد ابن مسلم سے نقل کرتے ہیں کہ ان کا بیان ہے میں نے امام محمد باقر - سے عرض کیا : میں آپ پر قربان مجھے یہ تو بتائیں کہ کس طرح سورج ٹھہرتا ہے (اور زوال کے وقت حرکت کا احساس نہیں ہوتا) تو حضرت - نے فرمایا:ویحک (۲) اے محمد ! اس معمولی جثہ کے ساتھ ایسا مشکل اور سخت مسئلہ دریافت کر رہے ہو؟ راوی کا بیان ہے: حضرت - تین دن تک خاموش رہے اور اس کا جواب نہیں دیا پھر چوتھے دن فرمایا کہ: تم اس لائق ہو کہ تمہیں اس کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ الاختصاص، ص ۲۰۱، بحار الانوار، ج۴، ص ۳۲۸۔
(۲)۔ ویحک کا معنی ترحّم اور توجّہ کے ہیں اور کبھی مدح اور تعجب کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اس معنی کی تائید امام کے قول سے ہوتی ہے۔
جواب دیا جائے۔
حضرت باقر العلوم - کا محمد ابن مسلم کو یہ کہنا کہ اس معمولی جثہ کے ہوتے ہوئے مشکل مسئلہ دریافت کر رہے ہو اس میں چند احتمالات پائے جاتے ہیں ۱)۔ شاید از باب مزاح اور مستحب مذاق کی بنیاد پر ایسا کہا ہو ۲)۔ یا اس باب سے ہو کہ اولاد آدم معمولی جثہ کے باوجود خود کو مشکل مسائل جاننے کے لیے سختی میں ڈالتی ہیں۔ ۳)۔ یا ادب سکھانے کے باب سے ہو کہ انسان غیر ضروری چیزوں اور غیر مکلف امور کی معرفت کی تلاش میں پڑے۔ یا ایسے مسائل کہ اکثر لوگوں کی عقلیں وہاں تک رسائی نہیں کر سکتیں یا اس کے احتمال تک کو درک نہیں کر سکتیں۔ جیسا کہ کمیل ابن زیاد نخعی (جو مولی الموحدین حضرت امیر المومنین -کے ہم راز تھے) نے حضرت - سے حقیقت کا معنی دریافت کیا تو فرمایا: ”ما لک و الحقیقة“ یعنی تمہیں حقیقت کے معنی سے کیا سروکار ہے، بہت زیادہ اصرار کے بعد اور حضرت کی وضاحت کے باوجود بھی کچھ حاصل کرسکے تو فرمایا: چراغ کو گل کردو صبح ہو گئی ہے۔
اس بنا پر مولف بھی حضرت باقر العلوم - کا محمد ابن مسلم کے جواب میں قارئین کرام کو اس کے اصل ماخذ جو کتاب من لا یحضرہ الفقیہ (۱) ہے حوالہ دیتے ہیں اور کتاب روضة المتقین میں علامہ مجلسی علیہ الرحمہ نے مفصل طور پر اسے ذکر کیا ہے (۲) مولف بطور تبرک اس مبارک حدیث کے بعض جملات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں:
”ساٴل محمّد بن مسلم ابا جعفر علیہ السلام عن رکود الشمس فقال : یا محمّد اصغر جثتک واعضل مساٴلتک وانک لاٴھل للجواب اِنَّ الشمس اذا طلعت جذبھا سبعون الف ملک بعد ان اخذ بکل شعاع ( شعبة خ ) منھا خمسة
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ من لا یحضرہ الفقیہ، ج۱، ص ۱۴۵۔
(۲)۔ روضة المتقین فی شرح من لا یحضرہ الفقیہ، ج۲، ص ۸۰۔
آلاف من الملائکة من بین جاذب ودافع ، الی ان قال ، فعند ذلک نادت الملائکة : سبحان اللّٰہ ولا الہ الا اللّٰہ والحمد للّٰہ الذی لم یتخذ صاحبة ولا ولداً ولم یکن لہ شریک فی الملک ولم یکن لہ ولی من الذّل وکَبّرہ تکبیراً ، فقال لہ: جعلت فداک اُحافِظ علی ھذا الکلام عند زوال الشمس ؟ فقال نعم حافظ علیہ کما تحافظ علی عینیک فاذا زالت الشمس صارت الملائکة من ورائھا یسبحون اللّٰہ فی فلک الجوالی ان تغیب ۔“ (۱)
محمد ابن مسلم نے حضرت امام محمد باقر - سے سورج کے ٹھہرنے کے بارے میں دریافت کیا تو حضرت - نے فرمایا: اے محمد ابن مسلم ! تمہارا جثہ کتنا معمولی لیکن تمہارا مسئلہ کتنا دشوار ہے مگر جواب کی اہلیت تم میں موجود ہے:
جب سورج طلوع کرتا ہے تو ستّر ہزار فرشتے اس کو جذب کرتے ہیں اس کے بعد ہر شعاع کو پانچ ہزار فرشتے اپنے اختیار میں رکھتے ہوئے بعض جذب کرتے ہیں بعض دفع کرتے ہیں۔
اس وقت فرشتے فریاد کرتے ہیں : پاک و پاکیزہ ہے وہ خدا کہ جس کے علاوہ کوئی معبودنہیں ہے، تمام حمدو ثناء اسی اللہ کے لیے ہے جس نے نہ کسی کو فرزند بنایا ہے اور نہ کوئی شخص اس کے ملک میں شریک ہے اور نہ کوئی اس کی کمزوری کی بنا پر اس کا سرپرست ہے اور پھر باقاعدہ اس کی بزرگی کا اعلان کرتے رہو۔
محمد ابن مسلم نے دریافت کیا: کیا اس بات کو سورج کے زوال کے وقت محفوظ رکھوں؟
فرمایا: ہاں اس کی حفاظت کرو، جس طرح اپنی آنکھوں کی حفاظت کرتے ہو۔
جب سورج مکمل زوال پذیر ہوجائے تو فرشتے اس کے پیچھے حرکت کرتے ہیں اور اللہ کے چرخ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ روضة المتقین، ج ۱، ص ۸۰۔
گردوں میں تسبیح کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ غروب ہو جائے۔
مولف کہتے ہیں: اس سلسلے کی دوسری احادیث کے ساتھ مذکورہ حدیث کی مکمل وضاحت کے لیے اسی کی اہلیت رکھنے والے قارئین روضہ المتقین کی طرف رجوع کریں۔ (۱)
۲۳/ ۲۔ دلوں کی بہار
۲۳۔ وَرَبیعاً لِقُلُوبِ الفقَھاء․ (مجتہدین کے دلوں کی بہار ہے)
قرآن مجید فقہاء کے دلوں کی بہار ہے اس لیے کہ تدبیر اور قرآن کے بطون میں غور وفکر کی بنا پر استنباط اور استظہار احکام و حقائق نیز اس کی معنویات سے شرح صدر اور فراخ دلی حاصل ہوتی ہے مزید ان کے دلوں میں بہت زیادہ فرحت اور سرور و نشاط پیدا ہوتا ہے اور اس کے با ارزش مطالب سے ایسی لذت حاصل کرتے ہیں کہ تمام مادی لذتیں اس کے مقابل میں کبھی بھی کوئی قیمت نہیں رکھتی اور جس قدر زیادہ تلاوت کریں اور اس کے عمیق مفاہیم تک پہنچیں اس کے علاوہ کہ ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے ان کا اشتیاق فراوان اور پیاس بھی زیادہ محسوس ہوتی ہے یہ خود قرآن کریم کی واقعیت اور معجزات میں نیز مومنین کے اوصاف میں ذکر ہوا ہے <وَإِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ آیاتُہُ زَادَتْہُمْ إِیمَانًَا > (۲) اور جب اس کی آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
اوریہ کہ فرمایا: قرآن فقہاء کے دلوں کی بہار ہے جس طرح لوگ اور فصل بہار میں دنیا کے طبیعی مناظر جو تمام پہاڑ دشت و صحرا باغات وغیرہ ہیں سرسبز و شاداب ہوتے ہیں اور جہاں بھی جائیں رنگا رنگ شکوفے چمکتے ہیں اور مختلف بوٹے کوہ کے دامن میں اور خود فصل بہار کی نسیم جاں فزا ہر افسردہ اور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ روضة المتقین، ج۱، ص ۸۰۔ بحار الانوار، ج۵۸، ص ۱۶۷۔ ۱۷۱۔
(۱)۔ سورہٴ انفال، آیت ۲۔
شکستہ دل انسان کو نشاط و فرحت بخشتی ہے قرآن بھی اپنے اہل کو فرحت و سرور کی نوید سناتا ہے۔
مومنین کا ایک دوسرے کی زیارت کرنے کے باب میں بہت سی روایات معادن وحی و تنزیل سے وارد ہوئی ہیں جو احیائے قلوب اور ائمہٴ ہدی کی احادیث کو ذکر کرنے کا باعث ہےں اور اس عمل کے اہم آثار و فوائد اور فوق العادت نتائج ذکر ہوئے ہیں۔
۱۳۷۔ ” فی السّفینةِ عَن الکافی عَن ابی عَبدِ اللّٰہ علیہ السلام قالَ تَزاوَرُوا فَانَّ فی زیارَتِکُم اِحیٰاءٌ لِقلُوبِکم وذِکرٌ لاٴحادیثنا واَحادیثنا تعطفُ بَعضکُم عَلیٰ بَعضٍ فَاِن اَخَذتمُ بھا رشدتُم ونجوتم وَاِن تَرَکْتُموھا ضَلَلتُم وَھَلکْتُم ، فخُذُوابِھا وَاَنَا بِنجاتِکُمْ زَعیمٌ “ (۱)
محدث قمی نے سفینہ میں کافی سے نقل کیا ہے کہ امام جعفر صادق - نے فرمایا: ایک دوسرے کی زیارت کرو تمہارے زیارت کرنے کی وجہ سے تمہارے قلوب زندہ ہوں گے اور ہماری احادیث کا ذکر ہوگا (یاد آوری کے فوائد) ہماری حدیث ایک کو دوسرے پر مہربان بنائیں گی،لہٰذا اگر تم ان کے مطالب کو اپنا دستور العمل قرار دو گے تو تم ترقی یافتہ ہوگے ، نجات حاصل کرو گے اور ان کو چھوڑ دو گے تو گمراہ اورہلاک ہوجاؤ گے پھر امام - نے تاکید فرمائی لہٰذا ان احادیث کے مطالب کو اس کے مختلف موضوعات خواہ اصول، عقائد، احکام یا اخلاقیات میں ذکر کیے گئے ہوں اسے اپنی روزہ مرہ زندگی کا معمول قرار دو تو پھر میںتمہاری نجات کا ضامن ہوں۔
۱۳۸۔ ” وَفیہ ایضاً بِاِسنادِہِ عَن مَیسرٍ عَن ابی جعفَرٍ علیہ السلام قالَ قالَ لی اٴَتخلُونَ وَ تَتَحَدَّثُونَ تَقُولونَ ما شِئتُم ؟ فَقلتُ : ای وَاللّٰہ اِنّا لَنَخلُو وَنَتَحدّثُ وَنَقُولُ ما شِئنا فَقالَ : اٴَما وَاللّٰہِ لَوَدَدتُ انّی مَعَکُم فی بَعضِ تِلکَ المواطِنِ ، اٴما وَاللّٰہِ انّی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ کافی، ج۲، ص ۱۸۶۔ سفینة البحار، ج۳، ص ۵۲۹۔
لاٴحِبُّ ریحَکُم وَاَرواحَکُم وَانَّکم عَلی دینِ اللّٰہِ وَدینِ ملائِکَتِہِ فاَعینونی بوَرَعٍ وَاجتِھادٍ “ (۱)
اسی کتاب کافی میں کلینی علیہ الرحمہ نے روایت نقل کی ہے کہ امام محمد باقر - سے میسر نے روایت کی ہے کہ حضرت - نے مجھ سے دریافت فرمایا: کیا تم لوگ خلوت نشین ہوکر گفتگو کرتے ہو اور جو چاہتے ہو کہتے ہو؟ میں نے عرض کیا: بے شک خدا کی قسم! جب بھی ہمارا دل چاہتا ہے ہم لوگ خلوت میں بیٹھتے ہیں اور اہل بیت عصمت و طہارت کے فضائل و مناقب کے بارے میں بات چیت کرتے ہیں۔ تو حضرت محمد باقر - نے فرمایا: جان لو کہ خدا کی قسم ! میرا دل تو بہت چاہتا ہے کہ میں بھی ایسے مواقع پر بعض جگہ تمہارے ہمراہ ہوتا، خدا کی قسم ! میں تمہاری قوت اور جانوں کو دوست رکھتا ہوں تم خدا کے دین اور اس کے ملائکہ کے دین پر ہو لہٰذا تم تقوی و پرہیز گاری اور اپنی کوششوں سے اس کی مدد کرو۔
۱۳۹۔ ”عَنِ الصّادِقِ علیہ السلام قالَ قالَ الحَسنُ بنُ عَلیٍ علیہما السلام لِرَسول اللّٰہِ (ص): یا اباہُ ما جَزآء مَن زارَکَ ؟ فَقالَ رَسُولُ اللّٰہ (ص) یا بنیَّ مَن زارَنی حیّاً اَو مَیّتاً ، او زارَ اَباکَ اوْ اخاکَ اَوْ زٰارَکَ کانَ حَقاً عَلیّ اَنَّ ازُورَہُ یَوم القِیٰامةِ فاخَلّصہُ مِن ذُنُوبہِ “ (۲)
شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب علل الشرائع میں امام جعفر صادق - سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت - نے فرمایا: امام حسن مجتبیٰ نے حضرت رسول خدا (ص) کی خدمت میں عرض کیا: اے میرے پدر گرامی! جو آپ کی زیارت کرے اس کا کیا اجر و ثواب ہے؟ فرمایا: اے بیٹے! جو میری زندگی میں یا مرنے کے بعد میری زیارت کرے یا تمہارے والد گرامی یا تمہارے عزیز بھائی یا خود
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ کافی، ج۲، ص ۱۸۷۔
(۲)۔ کامل الزیارات، ص ۴۰ ، علل الشرائع، ج۲، ص ۴۶۔ تہذیب الاحکام، ج۶، ص ۴، مزار ابن مشہدی، ص ۳۲۔
تمہاری زیارت کرے تو یہ میرے لیے اس کے زائد حق میں واجب ہے کہ اس کی قیامت کے دن زیارت کروں اور اسے گناہوں کی قید سے نجات اور چھٹکارا دلاؤں۔
۱۴۰۔ ”وَفی فَرحةِ الغَرِیّ للسَّیدِ بن الطّاووسِ ( رضوان تعالیٰ علیہ ) عن الصَّادِقِ علیہ السلام وَ قَد ذکِرَ امیر الموٴمنینَ علیہ السلام فقال : یَابنَ مارِد مَن زارَ جَدّی عارِفاً بِحَقةِ کَتَبَ اللّٰہ لَہْ بِکلّ خطوةٍ حَجَّةً مقبولةً وعمرةً مبرورة یَابن مارِد وَاللّٰہ ما یَطْعَمُ النّارُ قَدَماً تَغَیّرتْ فی زیارَةِ امیرالمُوٴمنینَ علیہ السلام ما شِیاً کانَ اَوْ راکِباً ، یَابْنَ مارِدٍ اکتُب ھذا الحَدیثَ بمآءِ الذّھَب “ (۱)
سید جلیل القدر جناب ابن طاووس رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی کتاب فرحة الغری میں امام جعفر صادق - سے روایت نقل کی ہے کہ گویا ان کے جد بزرگوار کے بارے میں گفتگو ہوئی (ابن مارد کے ذریعہ یا کسی دوسرے کے ذریعہ) تو حضرت نے ابن مادر کو خطاب کرکے فرمایا: اے فرزند مادر! جو شخص میرے جد بزرگوار کی حقیقی معرفت کے ساتھ زیارت کرے (ان کی ولایت و خلافت بلا فصل کا عقیدہ رکھتا ہو) تو خدائے عزوجل اس کے ہر ایک قدم پر قبول شدہ حج اور عمرہ اس کے نامہٴ اعمال میں تحریر کرتا ہے، اے فرزند مادر! خدا کی قسم ! آتش جہنم اس قدم کو اپنی غذا نہیں بناتی جو حضرت امیر المومنین - کی زیارت کی راہ میں اٹھایا جائے ، خواہ وہ پیادہ گیا ہو یا سواری کے ساتھ اے فرزند مادر! اس حدیث کو سونے کے پانی سے تحریر کرو۔
مولف کہتے ہیں: جس جگہ مومنین کی زیارت اور ائمہٴ اطہار کی حدیثوں کا مذاکرہ کیا جائے تو وہ ان کے احیائے قلوب کا باعث اور ان کے درمیان محبت و مہربانی ایجاد ہوگی، ترقی اور ہلاکت سے نجات کا سبب ہوگی اور خود ائمہ کو شرکت کرنے کی تمنا پیدا ہوگی تو پھر واضح سی بات ہے کہ خود ان عظیم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ فرحة الغری، ص ۱۰۳۔ بحار الانوار، ج۲، ص ۱۴۷۔
ہستیوں کے قبور مطہر کی زیارت کے آثار و فوائد خواہ ان کی زندگی اور موجودگی میں ہوں خواہ ان کی رحلت کے بعد ہوں وہ بے شمار اور ر تصور سے بالاتر ہوں گے۔
قرآن مجید جو فقہاء کے دلوں کی بہار ہے، حضرت بقیة اللہ الاعظم امام زمانہ اور ان کے اجداد طاہرین کا مقدس وجود جو قرآن کریم کے ہم پلہ اور شریک ہیں جو ایک دوسرے سے جدا ہونے والے نہیں ہیں فطری بات ہے کہ ان کے مقدس حضور کو درک کرنا اور ان کے گہر بار کلمات کو غور سے ان فقہاء کا سننا جو حلال و حرام خدا کے امین ہیں حیات بخش نسیمِ بہاری کی طرح فراخ دلی اور دلوں کی پاکیزگی کا باعث ہوگا نہ صرف فقہاء کے لیے بلکہ امام - کا مقدس نور تمام مومنین کے قلوب میں ضو فگن ہے تو وہ دلوں کی سیاہی اور سب کے مشکلات کو دور کرنے کا موجب ہوگا۔
۱۴۱۔ ” وَفی الکافی عَن اَبی خالدِ الکابُلی عَن اَبی جَعفر علیہ السلام یا اَبا خالدٍ لَنُورُ الامامِ فی قُلُوبِ الموٴمنین اَنْوَرُ مِنَ الشّمس المُضئیةِ بِالنَھارِ وَھُمْ وَاللّٰہ یُنوّرونَ قُلُوبَ الموٴمنین ، وَیَحجبُ اللّٰہ عزّوجلّ نُورَھم عَمّن یَشآء فَتظلَم قُلوبَھم وَاللّٰہ یا ابَا خالد لا یُحبنا عَبدٌ وَ یَتولّانا حَتّی یُطھِّرَ اللّٰہ قَلبَہ وَلا یُطھِّر اللّٰہ قَلب عَبدٍ حَتّی یُسلَّم لَنا وَ یَکون سِلماً لَنا فَاذا کانَ مسلماً لنا سَلّمہ اللّٰہ مِن شدیدِ الحِسابِ وَآمَنَہُ مِن فَزَ عِ یَوم القیامَة الاَکبَرِ “ (۱)
۱۴۲۔ ” وَفی الخرایجِ عَن اَبی بَصیرٍ قالَ دَخَلتُ المَسجِدَ مَعَ اَبی جَعفَرٍ علیہ السلام وَالنَّاسُ یَدخُلُونَ وَیخرُجُونَ فَقالَ لی سَلِ النّاسَ ھَل یَرَونَنَی ؟ فَکل مَن لَقیتہ قُلتُ لَہ : اَرَاَیْتَ اَبا جَعفرٍ علیہ السلام یَقُولُ: لا،وَھُوَ وَاقِفٌ ، حَتیٰ دَخَلَ اَبُو ہٰرونُ المکفُوف قالَ: سَل ھذا؟ فَقُلت : ھَل راٴیتَ اَبا جَعفَر ؟ فَقالَ: اٴلَیس ھُو بقائمٍ ، ثُمَّ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ اصول کافی، ج۱، ص ۱۹۴۔ مختصر بصائر الدرجات، ص ۹۶۔ بحار الانوار، ج۲۳، ص ۳۰۸۔ تفسیر قمی،ج ۲، ص ۲۷۱۔ تفسیر نور الثقلین، ج۳، ص ۴۶۲۔
قالَ: وَما عِلمکَ ؟ قالَ: وَکَیَفَ لا اعَلم وَھُوَ نُورٌ ساطعٌ ۔“ (۱)
راوندی رحمة اللہ علیہ نے خرائج میں ابو بصیر سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا: میں امام محمد باقر کے ہمراہ مسجد میں داخل ہوا لوگ بھی رفت و آمد کر رہے تھے حضرت نے مجھ سے فرمایا: لوگوں سے دریافت کرو کیا وہ مجھے دیکھ رہے ہیں؟ میں نے جس سے بھی ملاقات کی اس سے سوال کیا: ابو جعفر امام باقر - کو دیکھا ہے ؟ کہا: نہیں، جب کہ حضرت - مسجد میں تشریف فرما تھے یہاں تک کہ ابو ہارون مکفوف (۲) آئے تو حضرت نے فرمایا: اس سے دریافت کرو، میں نے کہا: اے ابو ہارون! کیا ابو جعفر - کو تم نے دیکھا ہے؟ کہا: کیا وہ وہی نہیں ہیں جو کھڑے ہوئے ہیں، بعد میں راوی نے دریافت کیا کہ تمہیں کیسے معلوم ہوا؟ کہا: کیسے مجھے علم نہ ہو جب کہ اس عظیم ہستی میں ایک نور تابان اور شمع روشن ہے۔
مولف کہتے ہیں: امام - کے نور کی روشنی یہ ہے کہ مومنین کے قلوب اگرچہ مادی نگاہیں ناقص اور وہ نابینا ہوں لیکن چشم دل سے ان عظیم ہستیوں کے نور اور حقیقت کو درک اور مشاہدہ کرتے ہیں۔
۲۴/ ۲۔ مستقیم راستہ
۲۴۔ ” وَمَحاجَّ لِطُرُقِ الُّلحاء “ (اور اسے علماء کے راستوں کے لیے شاہراہ قرار دیا ہے)۔
قرآن مجید روشن اور مستقیم شاہراہ ہے کہ نہ اس میں کوئی کجی ہے نہ گھاٹی اور سرنگ ”صحاج“ جای پناہ اور پناہ گاہ کے معنی میں ہے یعنی قرآن صالحین کے لیے جو حق و حقیقت کے راستے پر چلتے ہیں ان کے لیے ایسی پناہ گاہ ہے کہ انہیں اپنی طرف ہدایت کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ الخرائج و الجرایح، ج۲، ص ۵۹۶۔
(۲)۔ مکفوف: نابینا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: <إِنَّ ہَذَا الْقُرْآنَ یَہْدِی لِلَّتِی ہِیَ اٴَقْوَمُ > (۱) بے شک یہ قرآن اس راستہ کی ہدایت کرتا ہے جو بالکل سیدھا ہے۔ (۲)
۱۴۳۔ ”فی الکافی باسنادہ عن العلاء بن سیّابَة ، عن ابی عبد اللّٰہ علیہ السلام فی قولہ تعالیٰ < إِنَّ ہَذَا الْقُرْآنَ یَہْدِی لِلَّتِی ہِیَ اٴَقْوَمُ >؛قالَ: یَھدیَ اِلیَ الامٰامِ “ (۳)
کافی میں کلینی اپنی سند کے ساتھ علاء الدین سیّابہ سے نقل کرتے ہیں کہ امام صادق - فرماتے ہیں: یہ قرآن اس راستہ کی ہدایت کرتا ہے جو بالکل سیدھا ہے۔ اس سے مراد امام معصوم - ہے جو تمام ملتوں اور فرقوں کو قرآن کی طرف ہدایت کرنے والا ہے اس کے احکام و قوانین اور مطالب کو واضح طور پر بیان کرنے والا ہے نیز اس کی معرفت اور عمل کرنے کی دعوت دینے والا ہے۔
مولف کہتے ہیں : حضرت بقیة اللہ الاعظم اور ان کے اجداد طاہرین سب کے سب جادہٴ مستقیم سے منحرف ہونے والوں کی علامات اور نشانیاں ہیں اور وادی حیرت و ضلالت میں گم شدہ افراد کے قلوب کو روشن اور جذب کرنے والے ہیں نیز راہ حق جو کہ حضرت علی بن ابی طالب - اور ان کی اولاد طاہرین کا راستہ ہے اس پر چلنے والوں کے لیے پناہ گاہ ہیں۔ صِراطٌ عَلیٍ حَقٌ نُمْسِکُہُ، علی کا راستہ حق ہے ہم سب اس سے متمسک ہیں۔
۱۴۴۔ ” وفی الکافی باسنادہ عن الوشاء قال: سَالتُ الرِّضا علیہ السلام عَن قول اللّٰہ تعالیٰ < وَعَلامَاتٍ وَبِالنَّجْمِ ہُمْ یَہْتَدُونَ >(۴) قال علیہ السلام نَحن العلاماتِ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورہ اسراء، آیت ۹۔
(۲)۔ قولہ للتی ھی اقوم ای للملة ھی اقوم الملل و الطریقة التی ھی اقوم الطریق۔
اللہ تعالیٰ کا یہ قول ”جو بالکل سیدھا ہے “ یعنی وہ ملت جو تمام ملتوں میں بالکل راہ راست پر ہے اور وہ راستہ جو بالکل سیدھا ہے۔
(۳)۔ اصول کافی، ج۱، ص ۲۱۶۔
(۴)۔ سورئہ نحل، آیت ۱۶۔
وَالنجم رُسُولُ اللّٰہ (ص) “ (۱)
کافی میں کلینی نے اپنی سند کے ساتھ وشاء سے نقل کیا ہے کہ میں نے امام علی رضا - سے آیہٴ کریمہ ”اور علامات معین کردیں اور لوگ ستاروں سے بھی راستے دریافت کرلیتے ہیں“ کے بارے میں دریافت کیا تو امام نے فرمایا: علامات سے مراد ہم (ائمہ) ہیں اور ستارے سے مراد رسول خدا (ص) ہیں۔
۱۴۵۔ ”وفیہ باسنادہ عن برید العجلی عن ابی جعفر علیہ السلام فی قول اللّٰہ تعالیٰ < إِنَّمَا اٴَنْتَ مُنذِرٌ وَلِکُلِّ قَوْمٍ ہَادٍ >(۲) فقال: رسول اللّٰہ (ص) المنذر ، ولکل زمان منّا ھاد یھدیھم الی ماجآء بہ نبی اللّٰہ (ص) ثم الھداة من بعدہ علی ، ثم الاوصیاء واحد بعد واحد “ (۳)
کافی میں کلینی نے اپنی سند کے ساتھ یزید عجلی سے نقل کیا ہے کہ امام محمد باقر - نے آیہٴ کریمہ ”آپ کہہ دیجیے کہ میں صرف ڈرانے والا ہوں اور ہر قوم کے لیے ایک ہادی اور رہبر ہے“ کے بارے میں فرمایا: رسول خدا (ص) ڈرانے والے ہیں اور ہر زمانہ میں ہم اہل بیت میں سے ایک ہادی ہوتا ہے جو لوگوں کو ان چیزوں کی طرف ہدایت کرتا ہے کہ جسے پیغمبر اکرم (ص) لے کر آئے، حضرت رسول خدا (ص) کے بعد پہلے ہادی حضرت علی - پھر ان کے اوصیاء ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ اصول کافی، ج۱، ص ۲۰۷۔
(۲)۔ سورئہ رعد، آیت ۷۔
(۳)۔ اصول کافی، ج۱، ص ۱۹۱۔
۲۵/ ۲۔ اکسیرِ شفاء
۲۵۔ وَدَواءً لَیسَ مَعَہ داءٌ ․ (یہ وہ دوا ہے جس کے بعد کوئی مرض نہیں رہ سکتا)
یہ عزیز ترین آسمانی کتاب ہر قسم کے درد و آلام کی دوا اور علاج ہے تمام دردوں اور امراض کو خواہ جسمانی ہو یا روحانی، ظاہری ہوں یا باطنی سب کا علاج کرتی اور جلد شفا بخشتی ہے، مادی دواؤں کی طرح نہیں ہے کہ اگر ایک درد کے لیے مفید ہو تو دوسرے حصّہ کو ضرر پہنچائے بلکہ اس کا علاج ہمیشہ بغیر کسی قسم کے عارضہ کے ہوتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: <وَنُنَزِّلُ مِنْ الْقُرْآنِ مَا ہُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِینَ > (۱) اور ہم قرآن میں وہ سب کچھ نازل کر رہے ہیں جو صاحبان ایمان کے لیے شفا اور رحمت ہے۔
حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب - کے اس پُر معنی اور گراں قدر آٹھویں فقرہ کی وضاحت ”وَشَفِآءً لا تُخشیٰ اٴسْقامُہُ ․“ (اور وہ ایسی شفاء ہے جس میں بیماری کا کوئی خوف نہیں ہے) کو اس حصے پر موقوف کیا تھا اس کی حتی المقدور تشریح کریں گے۔ اب اللہ تعالیٰ کی طاقت و قوت اور تائید سے اس کی وضاحت بیان کر رہے ہیں (۲)
یہ عظیم الشان قرآن اور عزیز آسمانی کتاب تمام جسمانی و روحانی اور ابدان و ارواح کا علاج کرنے والی اور شفا بخشنے والی ہے۔ لیکن ابدان کے بارے میں تجربات اور عینی مشاہدات سے ثابت ہوا ہے کہ اس کے علاوہ ائمہٴ ہدی کی بہت سی احادیث میں سوروں کے خواص اور بہت سی آیات، شفا حاصل کرنے اور ان کی تعویذ بنانے کے لیے وارد ہوئی ہیں ہم ان میں سے بعض حصّہ کو بطور تبرک ذکر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ اسراء، آیت ۸۲۔
(۱)۔ قرآن اور امام زمانہ - کے درمیان اسی کتاب میں (اکتیسویں ) شباہت کے درمیان اس موضوع کے بارے میں ہم مفصل بحث ذکر کر چکے ہیں۔
کرتے ہیں:
۱۴۶۔ ” فی الکافی باسنادہ عَنِ السّکونی عَنْ ابی عَبدِ اللّٰہ عن آبائہ علیہم السلام قالَ: شَکیٰ رُجُلٌ اِلَی النّبی (ص) وَجَعاً فی صَدرِہِ فَقالَ : اِستشفِ بِالقُرآنِ فَانتَ اللّٰہ عَزَّوجل یَقُولُ :“ <َشِفَاءٌ لِمَا فِی الصُّدُورِ > (۱)
کافی (۲) میں کلینی اپنی سند کے ساتھ سکونی سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے امام جعفر صادق - سے انہوں نے اپنے آبائے کرام سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے رسول خدا (ص) سے سینہ کے درد کی شکایت کی تو حضرت نے فرمایا: قرآن کے ذریعہ شفا حاصل کرو خدائے بزرگ و برتر فرماتا ہے قرآن شفا ہے اس مرض کے لیے جو سینوں کے اندر ہے۔
۱۴۷۔ ”وعَن ابراہیم مَھزَم عَن رَجلٍ سَمعَ اَبا الحَسَنِ علیہ السلام یَقُولُ : مَنْ قَرَءَ آیَة الکُرسی عِنْدَ مَنامِہِ لَمْ یَخَفِ الفِالج اِنشاءَ اللّٰہ ،وَمَنْ قراٴھا فی دَبرِ کُلّ فریضةٍ لَمْ یُضِرَّہُ ذو حِمَة “ (۳)
ابراہیم مہزم نے ایک شخص سے سنا تھا کہ حضرت علی - فرمایا کرتے تھے: جو شخص سوتے وقت آیة الکرسی کو پڑھے تو اگر اللہ نے چاہا تو فالج کے مرض میں مبتلا نہیں ہوگا اور جو شخص ہر فریضہ کے بعد پڑھے تو اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
۱۴۸۔ ”وفی من کتاب العیاشی بِاسنادِہِ انَّ النَّبی (ص) قالَ لِجابِرِ بن عبد اللّٰہ الاٴنصاری الا اعَلّمَکَ افضَلَ سورةٍ انزلَھَا اللّٰہ فی کِتابِہِ ؟ قالَ: فَقالَ لَہُ جابر : بَلی بِابی اَنتَ وَاٴمّی یا رَسُولَ اللّٰہِ عَلِّمِنیھٰا ، قالَ: فَعَلَّمہ الحَمدَ امَّ الکِتابِ ، ثُمّ قال : یا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورئہ یونس، آیت ۵۷۔
(۲)۔ اصول کافی، ج۲، ص ۶۰۰۔
(۳)۔ اصول کافی، ج۲، ص ۶۲۔ ثواب الاعمال، ص ۱۰۵۔
جابِر اٴلا اُخبرُکَ عَنھا ؟ قالَ :بَلی بِاَبی اَنت وَامّی فاٴخبرنی ، فقالَ: ھِیَ شِفاءٌ مِن کُلّ دٰاءٍ اِلاَّ السّام یعنی الموتُ“ (۱)
عیاشی نے اپنی کتاب میں اپنی سند کے ساتھ نبی اکرم (ص) سے روایت نقل کی ہے کہ آنحضرت نے جابر ابن عبد اللہ انصاری سے فرمایا: کیا میں تمہیں با فضیلت ترین سورہ جو خدا نے اپنی کتاب میں نازل کیا ہے تعلیم نہ دوں؟ جابر نے عرض کیا: ہاں میرے ماں باپ آپ پر قربان، تعلیم فرمائیں، آنحضرت (ص) نے سورہ الحمد جو ام الکتاب ہے جابر کو تعلیم دی پھر فرمایا: اے جابر! کیا اس کے آثار اور فوائد کی خبر تمہیں نہ دوں؟ عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں مجھے باخبر کریں تو فرمایا: وہ ہر درد کا علاج اور شفاہے سوائے سام یعنی موت کے۔
۱۴۹۔ ”و فی ثواب الاعمال : عن الصادق علیہ السلام مَنْ قَرَء فی المُصحَفِ نَظَراً مُتّعَ بِبَصرِہِ وَخُفِّفَ عَن والدَیہ وَان کانا کافِرینَ ، ()( وفی نُسخةٍ وَانْ کٰانا مُشرِکین )․ “ (۲)
ثواب الاعمال میں شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے صادق آل محمد - سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت - نے فرمایا: جو شخص مصحف (قرآن) کو دیکھ کر پڑھے تو اس کے نور سے اس کی آنکھیں لطف اندوز ہوں گی اور ان کے والدین کے عذاب میں کمی واقع ہوگی اگرچہ دونوں کافر (ایک نسخہ کی بنا پر دونوں مشرک) ہی کیوں نہ ہوں۔
۱۵۰۔ ”وفی حدیث الاربعماٴة: عن امیر الموٴمنین علیہ السلام : قالَ علیہ السلام اِذَا اشَتکی اَحَدکُمْ عَینَہُ فَلیقَراْ آیة الکُرسی وَلیضمِر فی نَفسِہِ انَّھا تُبرء فَانہ یُعافی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ تفسیر عیاشی، ج۱، ص ۲۰، تفسیر صافی، ج۱، ص ۸۸۔
(۲)۔ ثواب الاعمال، ص ۱۰۳۔
اِنْشاءَ اللّٰہ تعالیٰ “ (۱)
حدیث اربعماٴة میں حضرت امیر المومنین - نے فرمایا: اگر تم میں کسی شخص کو آنکھ کے درد کی شکایت ہو تو اسے چاہیے کہ آیت الکرسی پڑھے اور وہ اپنے دل میں شفا حاصل کرنے کی نیت کرے تو وہ انشاء اللہ عافیت حاصل کرے گا۔
۱۵۱۔ ”فی مکارم الاٴخلاق: عن الصادق علیہ السلام قال : لَوْ قُرِاٴَتِ الحمد عَلی میتٍ سبعین مَرَّةً ثُمَّ رُدَّت فیہِ الرُّوحُ ما کانَ عَجباً “ (۲)
مکارم الاخلاق میں طبرسی علیہ الرحمہ نے صادق آل محمد سے روایت کی ہے کہ حضرت - نے فرمایا: جب کبھی سورئہ حمد کو میت پر ستّر مرتبہ پڑھا جائے تو اس کے بعد اس کی روح واپس آجائے یعنی سورہ حمد کی برکت سے زندہ ہوجائے۔ تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے
بہت سے دردوں اور مختلف امراض کے مداوا و علاج کے لیے جو انسان کے تمام بدن میں عارض ہوتے ہیں قرآن مجید کی آیات اور سوروں سے استفادہ کیا گیا اور تجربہ سے بھی یہ بات ثابت ہوچکی ہے ہم نے اختصار کے ساتھ چند مذکورہ مقام کی طرف اشارہ کیا ہے۔
لیکن قرآن کریم سے روحانی امراض جیسے: جہل، حسد، کینہ، شک و شبہ وغیرہ سے شفا حاصل کرنا یہ معنی بہت سی آیات کے ضمن میں بیان ہوا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <قُلْ ہُوَ لِلَّذِینَ آمَنُوا ہُدًی وَشِفَاءٌ > (۳)
آپ کہہ دیجیے: کہ یہ کتاب صاحبان ایمان کے لیے شفا اور ہدایت ہے۔
و قالَ عَزَّ مِن قائِلِ:<وَنُنَزِّلُ مِنْ الْقُرْآنِ مَا ہُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِینَ وَلایَزِیدُ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ الخصال، ص ۶۱۶۔ تحف العقول، ص ۱۰۶۔ مکارم الاخلاق، ص ۲۷۵۔
(۲)۔ الخصال ، ص ۶۱۶۔ تحف العقول، ص ۱۰۶، مکارم الاخلاق، ص ۳۶۳۔
(۳)۔ سورہ فصلت، آیت ۴۴۔
الظَّالِمِینَ إِلاَّ خَسَارًا> (۱)
اور ہم قرآن میں وہ سب کچھ نازل کر رہے ہیں جو صاحبان ایمان کے لیے شفا اور رحمت ہے اور ظالمین کے لیے خسارہ میں اضافہ کے علاوہ کچھ نہ ہوگا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: <یَااٴَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَائَتْکُمْ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّکُمْ وَشِفَاءٌ لِمَا فِی الصُّدُورِ وَہُدًی وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِین> (۲)
اے لوگو! یقینا تمہارے پاس پروردگار کی طرف سے نصیحت دلوں کی شفا کا سامان اور ہدایت نیز صاحبان ایمان کے لیے رحمت قرآن آچکا ہے۔
مشہور و معروف حدیث ثقلین میں جسے پیغمبر اکرم (ص) نے اپنی با برکت عمر کے آخری لمحات میں قرآن اور اہل بیت عصمت و طہارت کو امت کے درمیان امانت کے عنوان سے متعارف کرایا اور تمام تاکیدی بیان کے ساتھ فرمایا کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ میرے پاس حوض کوثر پر وارد ہوں اپنے اس قول کے ذریعہ ” لَنْ یَتَفَرَّقٰا حَتّٰی یَرِدٰا عَلَیَّ الْحَوضَ“ تمام پہلوؤں اور خصوصیات میں ایک دوسرے سے اتصال اور تلازم رکھتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن مجید شفا اور تمام جسمانی و روحانی ، مادی و معنوی امراض کا علاج ہے۔ ائمہٴ اطہار بھی اللہ کے بندوں کے مختلف مادی و معنوی امراض سے شفا بخشنے والے ہیں، اور حضرت خاتم الاوصیاء بقیة اللہ الاعظم حجّت زمانہ امام عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف بھی تمام مخلوقات کے لیے ملجا و ماوی اور پناہ گاہ ہیں اور بہت سے وہ لوگ جو مختلف امراض اور صعب العلاج مرض میں مبتلا ہیں کہ تمام ڈاکٹر ان کے علاج سے روئے زمین پر عاجز ہوکر اپنا ہاتھ بیماروں کے سینے پر رکھ کر لاعلاج بتایا ہے اور ان عظیم ہستیوں کی سانس کی برکت سے ان بیماروں نے شفا پائی اور صحت سلامتی کے ساتھ اپنی عمر کا ایک حصہ بسر بھی کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سورہ اسراء، آیت ۸۲۔
(۲)۔ سورہ یونس، آیت ۵۷۔
مولف کہتے ہیں: اب خاندان عصمت و طہارت محمد و آل محمد کے دوستوں کی روشنیِ چشم کے لیے اور شیعیان علی - اور اولاد علی کو خو ش خبری دینے کے لیے ہم اس کے چند مورد کی طرف تبرک اور برکت کے طور پر ذکر کرتے ہیں۔
۱۵۲۔ ”وفی بحار الاٴنوارعن کتاب صفوة الاخبار : رَوَی الاَعمَش قالَ راٴیتُ جارِیَةً سَوداء تَسقی الماءَ وَھِیَ تَقُولُ : اِشْربُوا حُبّاً لِعَلِیّ بن ابی طالِبٍ علیہ السلام وَکانَت عَمیاء قالَ ثُمَّ اتیتُھا بِمکَّة بَصیرةً تَسقی الماءَ وَ تَقُولُ : اِشربُوا حُبّاً لِمَن رَدَّ اللّٰہ عَلیَّ بَصَری بِہِ ، فَقُلتُ : یا جارِیة رَاٴیتُکِ فِی المَدینةِ ضَریرَةً تقولینَ اِشربُوا حُبّاً لِمَولایَ عَلیّ بن ابی طالِب علیہ السلام وَانْتَ الیَومَ بَصیرةٌ فَمٰا شانُکِ ؟ قالت: بَاَبی اَنتَ اِنَّی رَاٴیتُ رَجلاً قالَ یا جارِیةُ اَنتَ مولاة لِعَلِی بن ابی طالِبٍ علیہ السلام وَمُحبَّتِہِ فقلتُ: نعم فَقالَ اللّٰھُمَّ اِن کانَت صادِقةً فَردّ عَلَیھا بَصَرَھا فَوَاللّٰہِ لَقدَ ردَّ اللّٰہ عَلَیّ بَصَرِی ، فَقلتُ: مَن انت ؟ قالَ : اَنَا الخضرُ وَاَنَا مِن شیعةِ عَلیِّ بن بی طالبٍ علیہ السلام “ (۱)
محدث عالی قدر غوّاص بحار آل محمد علامہ مجلسی رحمة اللہ علیہ نے اپنی کتاب بحار الانوار میں کتاب صفوة الاخبار میں اعمش سے روایت نقل کی ہے کہ اس کا بیان ہے: میں نے ایک سیاہ کنیز کا دیدار کیا جو پانی پلا رہی تھی اور یہ کہہ رہی تھی: علی بن ابی طالب - کی دوستی اور محبت کی بنا پر پانی پیو جب کہ وہ نابینا تھی، پھر میں مکہ مکرمہ مشرف ہوا تو اس سیاہ کنیز کو دیکھا کہ اس کی آنکھیں کھلی ہوئی ہیں اور پانی پلا رہی ہے اور وہ کہہ رہی ہے: اس کی محبت کی بنا پر پیو کہ جس نے میری آنکھوں کی بصارت مجھے واپس لوٹا دی پھر میں نے اس سے کہا: اے کنیز! میں نے تجھے مدینہ میں دیکھا تو ضریر العین (نابینا) تھی اور کہہ رہی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ بحار الانوار، ج۴۲، ص ۹۔
تھی میرے مولا علی ابن ابی طالب - کی محبت میں پانی پیو اور آج تیری بینائی واپس آگئی ہے آخر اصل واقعہ کیا ہے؟ کہا: میرے باپ تم پر قربان جائیں یقینا میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ جس نے کہا: اے کنیز! تو علی ابن ابی طالب - سے دوستی اور محبت رکھتی ہے؟ میں نے کہا: ہاں، تو کہا: اے خدا! اگر (یہ کنیز) اپنے دعوی میں سچی ہے تو اس کی آنکھ کی بینائی اسے واپس کردے، خدائے بزرگ و برتر کی قسم ! اِس نے میری آنکھوں کی روشنی واپس کردی پھر میں نے دریافت کیا: تم کون ہو؟ جواب دیا: میں خضر - اور حضرت علی ابن ابی طالب - کا شیعہ ہوں۔
۱۵۳۔ ”وفی الخرایج : روی ابُو ہاشِمِ الجعفَری انّہ ظَھَرَ برجُل مِن اھلِ سُرّ مَن رَاٴی بَرَصٌ فَتَنَغّص عَلَیہِ عَیشہ ، فَجَلَسَ یوماً الیٰ اٴبی عَلیّ الفھری، فشَکا اِلیہِ حالہ ، فقال لہُ : لَو تعرّضتَ یَوماً لابی الحَسَن عَلیٍّ بن محمَّد بن الرّضا (عَلَیہم السَّلامُ ) فَسَاٴلتَہُ ان یَدعُوَلَکَ لَرَجوتُ انْ یَزوُلَ عَنکَ ، فَجَلَسَ لَہُ یوماً فی الطّریقِ وَقتَ منصَرَفِہِ مِن دار المُتوکِّلِ ، فَلَما راٴہ قامَ لِیَدنومِنہُ فَیَساٴلَہُ ذلِکَ ، فقالَ : تَنحَّ عافاکَ اللّٰہ ، وَاَشارَ الیہِ بِیَدہِ تَنَحَّ عافاکَ اللّٰہ ثَلاث مرّاتٍ، فاٴبعدَ الرَّجُلُ وَلَم یجسُر اَن یَدنومِنہُ ، فانْصَرفَ فَلِقی الفھری فَعرفَہ الحالَ وَما قالَ: قَد دَعالَکَ قَبل اَن تَساٴَلَ ، فامضِ فَانَّکَ سَتُعافی ، فَانَصَرفَ الرَّجل اِلی بَیتہِ ، فَباتَ تِلکَ اللَّیلة فَلمَّا اصبَحَ لَم یَر عَلَی بدنِہِ شیئاً مِن ذلکَ “ (۱)
خرائج راوندی میں مروی ہے کہ ابو ہاشم جعفری نے روایت کی ہے کہ ایک شخص سرمن سرای (سامرا) کا رہنے والا تھا اس کے اندر برص کا مرض ظاہر ہوا اس طرح اس کی زندگی کا عیش و آرام درہم برہم کردیا ایک دن ابو علی فہری کے پاس گیا اور اپنی حالت کی اس سے شکایت کی فہری نے اس سے کہا:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ الخرائج و الجرائح، ج۱، ص ۳۹۹، مدینہ المعاجز، ج۷، ص ۴۷۲، بحار الانوار، ج۵۰، ص ۱۴۶۔
اگر کسی دن خود کو حضرت ابو الحسن علی ابن محمد ابن الرضا - (یعنی امام علی نقی -) کو دیکھاؤ اور ان کی خدمت اقدس میں اپنا حال بیان کرو تاکہ وہ تمہارے حق میں دعا کریں، مجھے امید قوی ہے کہ تمہارا یہ مرض ختم ہوجائے گا پھر وہ شخص ایک دن حضرت کے راستہ میں بیٹھ گیا جب آپ متوکل کے گھر تشریف لا رہے تھے تو اس نے خود کو امام کو دکھایا جب اس وقت اس کی نظر حضرت - پر پڑی تو کھڑا ہوگیا تاکہ نزدیک جاکر ان سے اپنے مرض سے شفا پانے کی دعا کا طلب گار ہو حضرت امام علی نقی - نے فرمایا: دور ہوجاؤ خدا تم کو صحت و عافیت عطا فرمائے، حضرت - نے اپنے دست مبارک سے اشارہ فرمایا یہ کہ دور ہوجاؤ خدا تمہیں صحت و عافیت سے نوازے تین مرتبہ اسی جملہ کی تکرار کی تو اس شخص نے خود کو حضرت سے دور رکھا اور جسارت نہیں کی کہ وہ حضرت سے نزدیک ہو پھر واپس ہوا ابو علی فہری سے ملاقات کی اور تمام واقعہ اس سے بیان کیا اور حضرت کی باتوں کو بھی اس سے بیان کیا۔ فہری نے کہا: اس عظیم المرتبت انسان نے تمہارے سوال کرنے سے پہلے تم کو دعائے عافیت دی اور کہا جاؤ اپنا کام انجام دو، یقینی طورپر عنقریب تمہیں شفا مل جائے گی وہ شخص واپس ہوا اور اپنے گھر اسی رات کو سویا جب صبح ہوئی تو اس نے اپنے برص کا کوئی اثر اپنے بدن میں مشاہدہ نہیں کیا اور کلی طور پر وہ حضرت امام علی نقی - کی دعا کی برکت سے ختم ہوچکا تھا۔
۱۵۴۔ ”وفی الامالی : بِاسنادِہِ عَن سُدَیر الصِّیرفی قالَ: جآئتِ امراٴةٌ اِلیٰ ابی عَبدِ اللّٰہِ علیہ السلام فقالَت لَہُ : جُعِلت فَداک انّی واَبَی وَاَھلُ بیتی نَتَوَلاکم ، فَقالَ لَھا ابو عبد اللّٰہ علیہ السلام : صَدَقتِ فَمَا الذی تریدین ؟ مَن قالت لَہ المراٴةُ : جُعِلتُ فِداک یابنَ رَسُول اللّٰہِ اٴصابنی وَضحٌ فی عَضدی فَادعُ اللّٰہ اَن یذَھبَ ، بِہِ عَنّی ، قالَ ابو عبد اللّٰہ علیہ السلام : اللّٰھمَّ اِنک تُبری الاکمَہَ وَالابَرصَ وَتُحیی العِظامَ وَھِی رَمیمٌ اٴلبسھا مِن عَفوِکَ وَعافِیتَکَ ما تریٰ اَثَر اِجابَةِ دعائی ، فَقالتِ المراٴةُ :
وَاللّٰہِ لَقد قمت وَما بی مِنہُ قَلیلٌ ولا کثیرٌ “ (۱)
کتاب امالی میں شیخ بزرگوار علامہ طوسی (رحمة اللہ علیہ) نے اپنی سند کے ساتھ سدیر صیرفی سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: ایک خاتون حضرت امام جعفر صادق - کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: میں آپ پر قربان ،میں میرے باپ اور میرے گھر والے آپ کی محب اور دوست دار ہیں تو حضرت امام جعفر صادق -نے اس سے فرمایا: تم سچ کہتی ہو، تم کیا کہنا چاہتی ہو؟ کہا: میں آپ پر قربان میرے بازو پر سفید داغ ہیں دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ اس کو میرے بازو سے ختم کردے تو حضرت نے ان کلمات کے ذریعہ اس کے لیے دعا کی: اے خدا! یقینا تو ابرص (مادر زاد نابینا اور برص والوں) کو شفا دیتا ہے اور بوسیدہ ہڈیوں کو زندہ کرتا ہے ان میں روح ڈالتا ہے اپنا لباس صحت و عافیت اس خاتون کو پہنا دے اس طرح سے کہ میری دعا قبولیت کا اثر دیکھ لے ۔ اس خاتون کا بیان ہے: خدا کی قسم ! میں اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تو میں نے اس مرض سے کسی بھی قسم کا اثر باقی نہیں دیکھا۔
۱۵۴۔ محدث جلیل القدر الحاج شیخ عباس قمی رحمة اللہ علیہ نے سفینة البحار میں خرائج راوندی سے اسماعیل ہرقلی کا مشہور و معروف واقعہ نقل کیا ہے و کہتے ہیں: ” ھُو الذَی خَرَجَ عَلی فَخذِہِ الاٴیَسرِ توثةٌ قطعہ اٴلمھا عَن کَثیر منْ اشغالِہِ فاَحضرَ لَہُ السَّیدُ بن طاوُوسُ اَطِباّءَ الحِلّة وَبغدادَ قالُوا ھذِہِ التّوثة فَوقَ العِرق الاکحلِ وَعلاجُھا خَطرٌ وَمَتی قُطِعتَ خیفَ اٴن یَنقَطعَ العِرْق فَیَمُوتَ فَتَوجَّہ الیٰٰ سُرَّ مَن رَاٴی وَزارَ الائمة علیہم السلام وَنَزَلَ السَّردابَ فاَستَغاثَ بالاِمامِ صاحِبِ الزَّمانِ ( صَلَواتُ اللّٰہ علیہ ) ثُمَ مَضی الیٰ دجلةٍ وَاغتَسَلَ فَرَجَعَ فَتَشَرَّفَ بِلقاءِ الامامِ علیہ السلام فَمَدّہ الیہِ وَجَعَلَ یَلمسِ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ امالی طوسی، ج۱، ص ۴۶۰۔
جانبہُ مِن کتفِہِ الیٰ انْ اصابت یَدَہُ التّوثة فعصَرَھا فَبَرئت فکَشَفَ عَن فَخذِہ فَلَم یَرَلَھا اثَراً فتداخَلَہُ الشک فاَخَرجَت رَجلہُ الاٴخریٰ ، فَلَم یَرَشَیئاً فَانطَبَقَ النّاسُ عَلَیہِ وَمَزّقَوا قمیصہ“ (۱)
محدث قمی کہتے ہیں کہ: اسماعیل ہر قلی وہ ہیں کہ ان کی بائیں ران میں ”توثة“ (۲) نامی ایک زخم ہو گیا تھا اور وہ ان کے بہت سے امور سے مانع ہوا، سید ابن طاووس رحمة اللہ علیہ نے حلّہ اور بغداد کے ڈاکٹروں کو بلاکر دکھایا تو ان لوگوں نے کہا کہ یہ ایک قسم کی توثة نامی بیماری ہے جو رگِ اکحل کے اوپر ہے اس کا علاج بہت زیادہ خطرناک ہے اگر اسے کاٹا جائے تو رگ کے کٹ جانے کا خطرہ ہے جس کی وجہ سے موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ لہٰذا ہر قلی (حلہ اور بغداد کے ڈاکٹروں سے مایوس ہوگئے) اور سرمن سرای (سامرا) کے لیے روانہ ہوگئے حضرات عسکریین علیہما السلام کی زیارت کے بعد سرداب مقدس میں پناہ حاصل کی اور وہاں حضرت امام زمانہ عجل اللہ فرجہ سے استغاثہ و فریاد کی توسل اختیار کیا پھر دریائے دجلہ کی طرف روانہ ہوگئے، وہاں غسل کیا اور واپس آئے (اسی اثنا میں) امام زمانہ - کی ملاقات کا شرف حاصل کیا اس عظیم ہستی نے اپنے دست مبارک سے شانہ کی طرف سے (توثہ) زخم کی جگہ تک مس کرکے اسے دبا دیا (شبہ دور کرنے کے لیے ) دوسرے پیر کو بھی نکالا تو کچھ نہ دکھائی دیا پھر لوگوں نے چاروں طرف سے اسماعیل کو اپنے حصار میں لیا اور ان کی قمیص کے کپڑے کو تبرک کے طور پر نوچنا شروع کردیا۔
مولف کہتے ہیں : اس واقعہ کی تفصیل خرائج راوندی میں ذکر کی گئی ہے۔ حضرت بقیة اللہ الاعظم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)۔ سفینة البحار، ج۳، ص ۲۸۳۔ الانوار البھیہ، ص ۳۶۔
(۲)۔ ”توثہ“ آنکھ کی ایک بیماری ہے۔ خوارزم شاہی ذخیرہ میں رقم طراز ہیں: اضافی گوشت ہے سرخ اور نرم توث کی شکل میں لٹکا ہوتا ہے کبھی سیاہ ہوتا ہے اور اکثر و بیشتر گوشہٴ چشم کے نزدیک ہوتا ہے اور ہمیشہ سرخ اور زخمی سیاہ خون اس سے خارج ہوتا ہے، بحر الجواہر میں ذکر ہوا ہے: ”“ ایک قسم کی بواسیر ہے جو خلوت گاہ میں ہوتی ہے۔ مولف کہتے ہیں: دوسری جگہوں پر بھی نکلتا ہے (ھخدا)
روحی لہ الفداء کے عاشقین وہاں رجوع کریں۔
مزید مولف کہتے ہیں: ان چند مورد کو اختصار کے ساتھ تبرک کے طور پر خاندان عصمت و طہارت اور ائمہٴ ہدی علیہم السلام کے چاہنے والوں کی چشم و دل کے روشنی کے لیے ہم نے ذکر کیا ورنہ اگر بنا یہ ہو کہ جو لوگ ان کے مقدس وجود کی برکتوں سے اپنی زندگی میں یا مرنے کے بعد ان میں ائمہ کے مشاہد مشرفہ اور مشہد مقدس میں ثامن الائمہ امام رضا - بالخصوص حضرت صاحب العصر و الزمان مہدی آل محمد کے پُر برکت وجود () سے پرندے چہچہاتے رہیں اور درختوں میں پتے رہیں اور پھل تیار ہوتے رہیں نیز مادی و معنوی اور جسمانی و روحانی امراض سے شفا حاصل کیا مزید اپنی لا ینحل مشکلات کو حل کیا ہے اس کو شمار کریں تو اس کا احصاء کرنا ہماری قدرت سے باہر اور مثنوی کے لیے سو من دفتر درکار ہوں گے اللھم عجّل فرجھم وفرّجنا بفرجھم بمحمد وآلہ آمین ․اے خدا! ان کے ظہور میں تعجیل فرما اور ان کے ظہور سے ہمیں آسائش عطا فرما بمحمد و آلہ الطاہرین۔ آمین۔
[
دیدار کی تعداد : 379]
 |