|
عریضہ وجواب عریضہ
حضرت حجت عج کی خدمت میں عریضہ گزاری کی رسم کب سے شروع ہوئی؟ اگر اس کی تحقیق سے اس سر نامہ کو وزنی کرنے کی کوشش کی جائے تو شاید جو منظومات پیش کی جارہی ہیں وہ صرف ضمینہ بن کر رہ جائیں اس لئے تمہید کو نظر انداز کرتے ہوئے کہنا پڑتا
عریضہ وجواب عریضہ
اٹھا ہے نور کا طوفاں افق کے سینے سے
اندھیرے خوف تجلی سے تھر تھراتے ہیں
ٹھہر کے گردش دوراں یہ انقلاب بھی دیکھ
الٹ کے پردئہ غیبت امام آتے ہیں
حضرت حجت عج کی خدمت میں عریضہ گزاری کی رسم کب سے شروع ہوئی؟
اگر اس کی تحقیق سے اس سر نامہ کو وزنی کرنے کی کوشش کی جائے تو شاید جو منظومات پیش کی جارہی ہیں وہ صرف ضمینہ بن کر رہ جائیں اس لئے تمہید کو نظر انداز کرتے ہوئے کہنا پڑتا ہے کے ناطق صاحب کا یہ منظوم عریضہ ان کی ندرت فکر اور قوی شعور پردال ہے۔
ناطق صاحب کب پیداہوئے ، عمر کی کتنی منزلیں سر کیں ، تعلیم کی کس منزل پر فائز ہیں او ر اب تک کیاکیا کا نامے انجام دیئے ہیں۔اس پر بحث کرنا ان کے سوانح نگار کا کام ہے یا پھر خود ان کا فرض بیان صرف اتنا جانتا ہوں کہ وہ خوش فکر ،حساس زندگی کے جدو جہد میں مصروف شاعر، مگر صرف شاعر ہی نہیں ہیں۔ مجھ سے ان کا تعارف ان کے کلام کے ذریعے ہوا۔ میرے لئے یہ امر باعث مسرت ہے ،کہ امسال یعنی ۱۳۷۵ئھ کے پہلے مقاصدے میں جو بتقریب ولایت با سعادت جناب حضرت ابوالفضل العباس ۷ رجب المرجب کو منعقد ہوا تھا ،ایک نوجوان او ضرورت زمانہ کے ساتھ ساتھ فلاح قوم کا احساس رکھنے والے ایک شاعر سے ملاقات ہوئی ۔ابھی دوہی مقاصدے ہوئے ہوں گے کہ ناطق صاحب میرے برادر بزرگ جناب احسن صاحب رضوی صدر نشین مجلس تلامذہ علامہ آرزو لکھنوی (مرحوم) کے شاگرد ہوگئے ۔اس طرح مجھے یہ موقع ملا کی قربت کے علاوہ نجی تعلقات استوار کروں ۔اور ناطق صاحب کی شاعرانہ صلاحیتوں کا اندازہ لگاوٴں ۔ جلد بازی میری فطرت کا خاصہ ہے مگر خدا کا شکر ہے کہ آج تک میں نے اپنی جلد بازی میں جتنے فیصلے کئے ہیں ان میں سے بیشتر انسب ثابت ہوئے۔چنانچہ پہلے ہی مقاصدے میں ناطق صاحب کو سن کر یہ فیصلہ سنا دیا تھا ، کہ یہ نوجوان کچھ کرکے رہے گا ۔ کیونکہ اس کی باتوں میں مذہبی روایات کا پاس اور عصر حاضر کی ضروریات کا احساس پایا جاتاہے ۔یہ نئی پود کے ان نوجوانوں میں سے ہے جو اپنی قوم کو ماضی کی مفروضہ مذہبی قصوں سے چھٹکارا دلا کر حقیقی روایات سے مرتب شدہ اصول پر چلاکر دین و دنیا کی ہم آہنگی کے ساتھ انسانیت کے اوج کمال پر پہنچانے کا حامی ہے۔ جو ائمہ کوصرف مافوق البشر ہستیاں سمجھ کر ان سے عقیدت رکھنے کا قائل نہیں ،بلکہ جہاد زندگی میں ان کی پیروی اور ان کے اخلاق کی تلوار سے کام لے کر دنیا کو علّویت کے صحیح اور صحت مند اقدار سے روشناس کرانے میں سر گرم ہے ۔ وہ آج کے پیچ در پیچ معاملات سے دین کے نام پر فرار نہیں کرتا، بلکہ اصول تقویٰ کومدنظر رکھ کر ان کو حل کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اس کی آواز میں زندگی کا سوز اور عمل کا ساز موجود ہے ناکامیابیوں کی تلخیوں کا رونا نہیں مجاہدہ اور مجادلہ کا حوصلہ ہے ۔ وہ حسین پر روتا ہے ، مگر بیکسی کے انداز میں نہیں ،بلکہ اس غازی کے انداز میں جو شکست کے با وجود محاربہ کی ہمت رکھتاہے اور اس کا اظہار اپنے ساتھی کے مرثیے میں کرتا ہے۔ وہ حسین پر روتا ہے مگر اس انداز میں جس انداز میں عابد بیمار روئے تھے یا شام کے دربار میں یزیدیت کا قلعہ قمع کرتے ہوئے جناب زینب آبدیدہ ہوئی تھیں۔وہ مظلومیت کی بلندی کو اچھی طرح جانتا ہے اور ظالموں کی یورش میں مظلوم کے استقلال کی شاٴن کو دیکھتا ہے اور اسے شیعی اخلاق کی اصل سمجھ کر دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے ملاحظہ فرمایئے:
ہلکا ہے باب خیبر اس کے مقابلہ میں
مشک سکینہ دیکھو مشکل کشا اٹھا کے
میں آج بہت خوش ہوں کہ میرا اندازہ صحیح نکلا، اور ابھی تعارف اور تعلق کو دو ماہ بھی نہیں ہوئے ہیں کہ آج ان کی منظومات --(عریضہ و جواب عریضہ ) کا سرنامہ لکھ رہا ہوں۔
اگر اقبال مرحوم کا شکوہ اور جواب شکوہ پہلے نہ لکھا گیا ہوتا تو (عریضہ و جواب عریضہ ) کو بلاشبہہ دنیائے ادب میں نئی ہیئت کی نظم سمجھ کر ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ۔ اب تو کوتاہ نظر نقّاد اسے شکوہ ہی کے پیمانے سے ناپیں گے اور بے بصیرت (ارباب نظر ) اسے شاید اس کا چر با کہنے سے بھی نہ چوکیں ۔ حلا نکہ مواد کے اعتبار سے یہ بالکل دوسری چیز ہے۔دونو ں کے لہجہ میں بہت فرق ہے ۔دونوں کا نقطئہ نگاہ جداگانہ ہے سب سے بڑی بات یہ ہے کے اقبال نے جوا شکوہ اس لئے لکھا کے ان کا شکوہ اہل ایمان کو گراں گزرا ۔ شکوہ سے جو داغ لگ گیا تھا اس کو مٹانے کے لئے جواب شکوہ لکھا۔ دوسرے لفظوں میں ان کا جواب شکوہ ردّ عمل ہے عام رجحانات کا جو شکوہ سے پیدا ہوا اس لئے ارباب خبر جانتے ہیں کہ شکوہ کا جواب ، جواب شکوہ میں موجود نہیں۔ ناطق صاحب نے جواب عریضہ کو مقدم رکھا ہے اور عریضہ صرف اس کی تمہید ہے ۔
اقبال نے ایسا کیوں کیا اور ناطق نے ایسا کیوں ؟یہی وہ سوال ہے جو دونوں منظومات کے بنیادی فرق کوظاہر کرتا ہے۔ اقبال نے جس زمانہ میں شکوہ لکھا ہے اس زمانے میں وہ تازہ ولایت تھے ، اسپین ، صقلیہ،اطالیہ،وہ غیرہ سے گھوم پھر کر آئے تھے۔ اور وہاں مسلمانوں کی جہان بانی اور جہان گردی کے وہ نقوش دیکھے تھے جو آج بھی ان کی عظمت کی شان ظاہر کرتے ہیں الحمراء کا قصر اور صقلیہ کی مسجد دیکھنے کے بعد (پدرم سلطان بود) کا خیال پید اہونا کوئی عجیب بات نہیں ۔ لہذا اسلاف مسلمین کی جہانداری کا نقش اقبال کے دل پر ثبت ہوگیا اور وہ بھول گئے،کے ان قصورو محلات کی نیومیں لکھو کھا بیگناہوں کا خون بھی جذب ہوگیا ہے۔مسلمان فاتحین میںسے شاید ہی ایسے لوگ تھے جو حق و ناحق میں فیصلہ کرکے مقاتلہ کرتے رہے ہوں یہی وجہ ہے کے جن ممالک میں مسلمان شعلے کی طرحہ پھیلے وہیں چنگاری کی طرحہ اڑکر سرد بھی ہو گئے۔تیغ چلاکر کلمہ پڑھوانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب تیغیں زنگ آلود ہوگئیںتو کلمہ پڑھنے والی زبانیں بھی خاموش ہوگئیں،اور لوگ اتنی ہی جلدی اپنے کفر کی طرف واپس ہوگئے جتنی تیزی سے اسلام کی طرف آئے تھے ۔اس نکتہ کو انداز نظر کرکے شکوہ زبان قلم سے نکلا اور جب سامنے یہ بات لای گئی تو جواب شکوہ بن گیا۔ناطق نے آج کے شیعوں کی اس بیتابی کو دیکھا جو غیبت امام کے زمانے میں ان کے ظہور کے انتظار میں ہورہی ہے۔دیدار کے شوق کو دیکھا نصرت کے دعووٴں کو سنا تو حیرت ہوئی،اس خلوص کے با وجود اس دردمندی کے با وجود اس التجا کے باوجود امام علی کا ظہور کیوںنہیں ہوتا۔ تو انہیں خود قوم کے قول و عمل کا تضاد نظر آیا۔اس فرق کا نگاہ میں آنا تھا کہ تلخی بڑھی اور اسی کا اظہار جواب عریضہ میں کیا ہے ۔اس میں شک نہیں کہ جواب عریضہ میں بڑی سخت تنقید ہے اس عہد کے ان شیعوں پر جن میں شیعیّت کی خوبو نہیں رہی۔ اس سلسلہ میں یہ ضروری ہوا کہ قول اور فعل کے تضاد کو جب واضح ہی کرنا ہے تو پہلے قول کو ظاہر کیا جائے پھر عمل پر تنقید کی جائے۔ اور ! پہلے جزو کو عریضہ کا نام دیا اور دوسرے کو جواب عریضہ کا۔اس میں کوئی شک نہیں اگر مکتوبی عریضہ اس طرح لکھا جائے تو حضرت امام کی طرف سے اسی قسم کا جواب ملے گا۔
ناطق صاحب کی منظومات کی دوسری سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان میںاصل شیعیّت کی تشریح موجود ہے آج جبکہ اقوام و ملل ایک دوسرے سے قریب ہو گئی ہے اور مذاہب کے اصول وفروع کو جدید در یافت کی روشنی میں پرکھا جارہاہے ،اور تعصّب کی بنا پر پیدا کردہ غلط فہمیوں کا پردہ چاک ہوتا جارہاہے لوگ مذہب کی روح تک پہونچنے کی کوشش میں مصروف ہے ، اور دنیا کو ایک مذہب کا پابند کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔اس امر کی سخت ضرورت ہے کے اصولوں کو ادغامی کثافت سے علیٰحدہ کرکے عقلیّت کے پیرائے میں ظاہر کیا جائے۔ناطق صاحب نے اسلام کی پیغام صداقت ،امن اور الہٰی حکومت پر زور دےکر اس کو واضح کردیا ہے کہ اسلام کی اصلی روح امن،عمل صالح ، جہاد بالنفس ، پیروی صلحا اور پابندی احکامات الہٰیّہ ہے ۔ ہمیں اس عریضے اور اس کے جواب کو یہ سمجھ کر پڑھنا جاہئے کہ ناطق صاحب کی پہلی کوشش ہے قوم کے سامنے اپنی فکر کو پیش کرنے کی۔میں یہ نہیں کہتا کہ لوگ اس پر تنقیدی نظر نہ ڈالیں اور اس کے عیوب سے چشم پوشی کریں۔ہاں یہ ضرور کہتا ہو کہ ہمدردانہ رویّہ کو نظر انداز نہ کیا جائے،اور ناطق صاحب کی ہمّت افزائی اس درجہ ضرور کی جائے کہ وہ آیندہ بھی دنیا کو اپنے افکار سے روشناس کرانے کی جراٴت کرتے رہےں ۔ میں یقین سے کہتا ہوں کہ اس نوجوان میں قومی حیات کو صحت بخش ماحول سے آشنا کرنے کی قوّت موجود ہے ،اور اس سے بے اعتنائی نہ بڑتی گئی تو ایک دن یہ شیعیّت کے بلند فلسفہ حیات کا سب سے بڑا مظہر ہوگا۔
آفتاب تازہ پید ا بطن گیتی سے ہوا
آسماں ڈوبے ہوئے تاروں کا ماتم کب تلک
ہماری قوم شاعر ،صفی عزیز،آرزوہم میں نہیں ہیں ۔لے دے کے ایک نجم آفندی کی ذات رہ گئی ہے ۔خدا انھیں سلامت رکھے ۔ مرحومین کہ جگہ ناطق صاحب جیسے نوجوان ہی پر کر سکتے ہیں بشرط کہ قوم ان کو اپنا بنائے ، اور ان کو اپنی زبان اور اپنا دل خیال کرے ۔
فقط
محمود سروش ۔ ایم ۔اے ۔ الہٰ آبادی
وڈالہ ۔ بمبئی
عریضہ
ساکن پردہ غیبت کے حضور میں
(۱)
دل نے پہلو سے صدا دی کہ کہانی کہہ دے
قصہء دار و رسن کاوش جانی کہہ دے
قوم کا حال زبوں اپنی زبانی کہہ دے
جوش غم بڑھ کے خود اشکوں کی روانی کہہ دے
ایسا طوفان تاثر لئے جذبات اٹھیں
آن کی آن میں غیبت کے حجابات اٹھیں
آہ اپنا نہ تھا ہرگز یہ خیال اور گماں
حشر کی صبح سے مل جائے گی شام ہجراں
بے رخی آپ کی ہے اپنے لئے کوہ گراں
برتی جاتی ہے کہیں اپنوں سے رسم دگراں
سارے عالم سے جدا ہم نے محبت دیکھی
آنکھیں مشتاق تجلی ہوئیں ، غیبت دیکھی
اپنا ایمان ہے آپ آئیں گے اک روزضرور
اور ہوگا یہ جہاں نور خدا سے معمور
ہوں گے سب مفلس و زر دار برابر مسررور
صرف توحید کی بنیاد پہ ہوگا دستور
ایک ہی سب کا خدا ایک شریعت ہوگی
عدل و انصاف و محبت کی حکومت ہوگی
سنتے ہیں امن سے پر عہد حکومت ہوگا
عہد وہ باعث صد نازش جنت ہوگا
ذرہ ذرہ سے عیاں حسن صداقت ہوگا
چار سو چھایا ہوا نور امامت ہوگا
دلکشی جس کی ملک دیکھ کے للچائیں گے
چرخ سے حضرت عیسی بھی اتر آئیں گے
دل کی حسرت ہے یہی ہم بھی یہ منظر دیکھیں
جوش پر آئی ہوئی رحمت داور دیکھیں
آپ کے فیض کا بہتا ہوا کوثر دیکھیں
کاش سامان سکوں درد کے خوگر دیکھیں
حسن پنہاں کی ابھی عام جو طلعت ہوجائے
یہ خرابات جہاں روکش جنت ہوجائے
کاش اب روح کی تسکین کا ساماں ہوتا
جام امید میں پھر بادہٴ عرفاں ہوتا
جوہر آئینہ خود جلوہٴ ایماں ہوتا
صدقہ ہر چاہنے والا بدل و جاں ہوتا
جوش الفت میں عقیدت کے لٹاتے موتی
بحر میں ڈوب کے ایمان کے پاتے موتی
درد فرقت سے ہے اب حال پریشاں اپنا
داغ الفت دل مضطر میں ہے سوزاں اپنا
طالب دید ہے اب دیدہٴ حیراں اپنا
اک جھلک دیکھ لیں بس ہے یہی ارماں اپنا
کس قدر قلب میں ہم جوش وفا پاتے ہیں
نام آجائے تو تعظیم کو آٹھ جاتے ہیں
قابل رحم ہے اب حال ہمارا مولا
دل میں باقی نہ رہا صبر کا یارا مولا
ہر شب قدر میں روروکے پکارا مولا
کی دعا اور عریضہ بھی گذارا مولا
جاکے ساحل سے سدا چشم پر آب آتے ہیں
آپ آتے نہ عریضوں کے جواب آتے ہیں
آئیں بربادی ملت کا یہ منظر دیکھیں
آئیں اور قوم کی یہ حالت ابتر دیکھیں
آئیں اپنے رخ زیبا کو دکھا کر دیکھیں
چھپ کے پردے سے نہیںپردہ اٹھا کر دیکھیں
ہر سو ادبار و نحوست کی گھٹا چھائی ہے
آپ روپوش ہیں ملت پہ بلا آئی ہے
وقت کی ضد ہے یہی دہر سے ملت مٹ جائے
صفحہٴ خلق سے ایک نقش حقیقت مٹ جائے
ظلمت کفر رہے نور صداقت مٹ جائے
آپ کے جد کی زمانے سے ریاضت مٹ جائے
فکر ہے ساغر گل میں مئے شبنم نہ رہے
اس صف خاک پہ شبیر کا ماتم نہ رہے
جھونکے پھر تیز ہوئے شمع بجھانے کے لئے
برق جولاں ہوئی خرمن کو جلانے کے لئے
کس کو آواز دیں اب پار لگانے کے لئے
حد کا طوفان اٹھا ہم کو مٹانے کے لئے
کچھ قیامت سے نہ کم فتنہ باطل ہوگا
غرق جب قوم کا بیڑا سر ساحل ہوگا
اپنے برباد ہوں اغیار تماشا دیکھیں
دیکھیں دیکھیں یہ ذرا اے شہ خضرا دیکھیں
ننگ ہے بہر مدد ہم سوئے اعدا دیکھیں
آپ کے ہوکے بھلا غیر کا چہرہ دیکھیں
آپ ٹھکرائیں گے تحقیر محبت ہوگی
قوم کو دعوئے الفت پہ ندامت ہوگی
عالم یاس ہے بے جا نہیں اپنی گفتار
یا تو کہہ دیجئے ہے دعوئے الفت بیکار
یا ہے تصدیق محبت میں شہادت درکار
آج ہم عرض کئے دیتے ہیں پیش سرکار
ہرگھڑی مد ونظر ”امر و نہی “رکھتے ہیں
غم کا احساس جو ہے ،پاس خوشی رکھتے ہیں
بس کے ایماں ہے یہی آپ سے ایمان ملا
راہ عقبیٰ کی ملی ذوق کو عرفان ملا
سایہ عترت کا ملا ترکے میں قرآن ملا
جب بھی جو مانگا وہ سرکار سے ہر آن ملا
بے عدد ہم پہ ضرور آپ کے احساں ہیں حضور
ہم بھی تو آپ ہی کے تابع فرماں ہیں حضور
جرم الفت میں مصیبت کے سزاوار رہے
تختہٴ مشق ستم مورد آزار رہے
دور راحت سے رہے غم میں گرفتار رہے
چشم اغیار میں پر چبھتے ہوئے خار رہے
مر مٹے ہم ، نہ مگر آپ کا داماں چھوڑا
عندلیبوں نے کہاں صحن گلستاں چھوڑا
جز ستم دیدوں کے کون آپ کو اپنا سمجھا
کون کرتا ہے شہیدان وفا کا چرچا
کون دہراتا رہا کرب وبلا کا قصہ
آپ کو کس نے دیا آپ کے جد کا پرسہ
آپ ہی کہیئے دیا ”اجر رسالت “کس نے
دلنشیں کرلیا پیغام ”مودت “کس نے
وقف بہر غم شبیر رہا اپنا وجود
حق مظلوم جتانا رہا اپنا مقصود
لاکھ آلام و مصائب میں رہے ہم محدود
لاکھ اغیار نے کیں زیست کی راہیں مسدود
فرق آیا نہ کبھی اپنی وفاداری میں
سر کی بازی بھی لگادی ہے عزاداری میں
دیکھئے دیکھئے !دیرینہ محبت کا اثر
قوم کو چاند محرم کا جب آتا ہے نظر
سوزش غم سے بھڑک اٹھتے ہیں سینوں میں شرر
دل سے ہوجاتے ہیں مشغول عزائے سرور
وقت پیارا ہے ہمیں اور نہ دولت پیاری
جان سے بڑھ کے ہے مولا کی محبت پیاری
اک اسی جرم میں کیا کیا نہ ہوئیں تعزیریں
اہل عدوان بڑھاتے ہی رہے زنجیریں
کون سے دور میں ہم پر نہ چلیں شمشیریں
حد ہے یہ خون کے گارے سے ہوئیں تعمیریں
زندہ چنوائے گئے ظلم کی دیواروں میں
ہم بھی یوسف کی طرح بک گئے بازاروں میں
ہیں وہ مظلوم کہ ہے قبہ حمرا شاہد
ملت گریہ کناں نام ہمارا شاہد
شہر بغداد میں ہے کرخ کا کوچہ شاہد
خونِ سادات کا بہتا ہوا دجلہ شاہد
آج تک دہر میں پایا نہ فراغ ہستی
جھلملاتا ہی رہا اپنا چراغ ہستی
سعی ناکام سے بدعت کا بجا نقارہ
تا کہ دب جائے یہ گونجی ہوئی ماتم کی صدا
کوششیں لاکھ ہوئیں مٹ نہ سکی رسم عزا
ظلم کا کوئی دقیقہ نہ جہاں نے چھوڑا
نام کو بھی نہیں بدلا ہے قرینہ اپنا
کھیلتا ہی رہا طوفاں سے سفینہ اپنا
آپ سے رشتہ الفت کو ہم ایماں سمجھے
آپ کی یاد لئے دل میں ،جیے اور مرے
بھول کربھی نہ کبھی لب پہ شکایت لائے
اب تقاضا ہے یہی ذوق وفا کا اپنے
صف طاعت ہے بندھی آکے امامت کیجئے
چاک مانند سحر پردہ ٴ غیبت کیجئے
جواب عریضہ
میں کہ آداب محبت سے نہ تھا بیگانہ
شوق نے صبر کا چھلکا ہی دیا پیمانہ
دل کو قدرت نے ازل سے جو کیا دیوانہ
بات پھیلا کے بنا دیتا ہے ایک افسانہ
عقل کہتی تھی محبت میں گلہ کیا معنی
دل یہ کہتاتھا کہ پھر ناز و ادا کیا معنی
مہر نے نور سے ،ذرّے کو کیا سر افراز
جتنا احساس بڑھا ،اتنا بڑھا سوزوگداز
موج فریاد جوٹکرائی ہلا پردہٴ ناز
دل میں تاٴثیر کے انداز سے آئی آواز
مبتلائے غم اصلاح تجھے کیا سوجھی؟
بیٹھے بیٹھے مرے مداح تجھے کیا سوجھی؟
مدح کے ساتھ ہمیں ،خیر شکایت منظور
حیرت اس پر ہے طبیعت ہوئی کیوںکر رنجور
قلب شبنم سے ہوا خوب شراروں کا ظہور
دیدہٴ کور سے پیدا ہے تجلّی ٴ شعور
کار دنیا سے ملی خیر سے فرصت تم کو
آج معلوم ہوا شاق ہے غیبت تم کو
مجھ میں اور تم میں جو ہے مدت غیبت حائل
تم سمجھتے ہو کہ ہے پردہٴ غفلت حائل
وسوسے کرتے ہیں تشکیک سے ظلمت حائل
پردہ اٹھ جانے میں ہے امر مشیت حائل
کیوں مکدر ہو دل آئینہ بناوٴ تو سہی
مہر ضو ریز ہے تم سامنے آوٴ توسہی
یہ نہ سمجھو کہ پس پردہ ہوں تم سے غافل
ہر گھڑی ہوتے ہیں اخبار تمھارے حاصل
شمع ہستی سے ہو محروم کئے خانہ دل
دیکھ کے ڈرتے ہو دشواری راہ منزل
تم میں آثار تباہی جو نظر آتے ہیں
کیا کہوں دل پہ عجب رنج گذر جاتے ہیں
کہو سچ سچ ، تمھیں اظہار محبت کی قسم
ذوق طاعت کی قسم،دعوئے الفت کی قسم
جوش ایماں کی قسم، حسن عقیدت کی قسم
جس پہ ہے ناز تمھیں ہاں اسی طینت کی قسم
داغ ہی رکھتے ہو یا سوز صداقت بھی ہے
چشم مشتاق میں کیا تاب زیارت بھی ہے
تم میں باقی نہ رہے کچھ بھی بزرگوں کے صفات
اپنے ہی فعل سے ہو مورد رنج وآفات
مرگ انبوہ میں تم کونہیں احساس حیات
حد سے غفلت جو بڑھی تر ک کئے صوم وصلات
فکر عقبیٰ ہے نہ دنیا ہی کے دلدادہ ہو
حد کے بے فکر ہوکس بات پہ آمادہ ہو
قول بے ربط عمل ، راہ صداقت سے بعید
شیوئہ صبر ورضا ، قفل محبت کی کلید
حسن محبوب عطا کرتا ہے ذوق تقلید
ذوق تقلید ہے جذبات وفا کی تمہید
عشق میں حسن کا انداز نہاں رہتا ہے
جلوہ آئینہ کا اپنے نگراں رہتا ہے
تم میں اور غیروں میں ممکن نہیں کوئی تفریق
طور میں اپنے ملا بیٹھے ہو سب ان کے طریق
عمل خیر کی ہوتی نہیں قطعاً توفیق
اسی باعث تو ہو دریائے معاصی میں غریق
کچھ کرو غور ،یہ شیرازہ پریشاں کیوں ہے
گل ہیں بکھرے ہوئے ،تاراج گلستاں کیوں ہے
جسم آباد ہوئے روحوں کی بستی نہ رہی
بادہٴ زیست میں ایمان کی مستی نہ رہی
دردِ ملت نہ رہا ،قوم پرستی نہ رہی
کام اوروں کے جو آجائے وہ ہستی نہ رہی
بھائی چارہ بھی گیا روح اخوت بھی گئی
مال دنیا بھی گیا دین کی دولت بھی گئی
دل میں جذبے نہ رہے جوش عقیدت نہ رہا
شانِ کردار گئی ، اوج سیادت نہ رہا
خوف خالق نہ رہا ، ذوق عبادت نہ رہا
پاس قرآں نہ رہا ، شوق تلاوت نہ رہا
اب وہ پابندی احکام شریعت ہی نہیں
رنگ بد رنگ ہے جب پھول میں نکہت ہی نہیں
کیا کہا تم سے ہے باقی غم جد مظلوم
تم اسی غم سے ہو اتنا نہیں تم کو معلوم
غم نہ یہ ہوتا تو ہوجاتے جہاں سے معدوم
تم پہ لازم ہے کرو شکر خدائے قیوم
غم نہیں بلکہ یہ اک چشمہ ٴ حیواںبخشا
خضر کی طرح تمھیں زیست کا ساماں بخشا
غم جانکاہ یہ ہے روح بقائے عالم
روح رخصت ہوئی اور رسم کی صورت رہا غم
مقصد درد سمجھتے ہو کہ بس آنکھ ہوں نم
معنی ”ذبح عظیم “ اور یہ رسمی ماتم
حق ماتم ہے کہ ”مفہوم شہادت “سمجھو
دل ہو غنچہ کی طرح چاک، حقیقت سمجھو
مقصد درد و الم ،فخرو مباہات نہیں
چند آنسو تو محبت کی علامات نہیں
گریہ فطرت کا تقاضا ہے نئی بات نہیں
کون سا قلب ہے جو حامل جذبات نہیں
غیر رو دیتے ہیں ، وہ بات غم شاہ میں ہے
درد کی بھیگتی برسات غم شاہ میں ہے
کربلا طرح عمل ،حامل اسرار حیات
جس کے ہر باب میں قوموں کی ترقی کے نکات
مثل خورشید ہیں ،رخشندہ جہاں کے ذرات
جس کے ماحول میں رقصاں ہیں وفا کے نغمات
واقعی تم جو کہیں راز کے محرم ہوتے
بزم کونین میں یکتا و مکرّم ہوتے
یہ بھی تسلیم کے رونے پہ ہوئے تم معمور
کوئی بھی کام ہو تکمیل میں لازم ہے شعور
اشک پانی ہے، اگر ہو نہ شراروں کا ظہور
بلکہ یہ خوف ہے بجھ جائے نہ قلب محرور
تم نے گھبراکے نمی لے لی شرر چھوڑدیا
حاصل غم تھا عمل اس کو مگر چھوڑدیا
ہوگی تحقیر ولا اس کا ہوا تم کو خیال
ہوئے برباد تو پیدا ہوئی تشویش مآل
تم اسی دہر کی نظروں میںتھے تصویر کمال
چھایا تھا قلب زمانہ پہ تمھارا بھی جلال
آج کل باعث رسوائی و ذلت تم ہو
وجہ تحقیر و تمسخر پئے ملت تم ہو
پست خود ہوگئے تم حق نے تو بخشا تھا فراز
بد یہ انجام ہے ،اور کتنا حسیں تھا آغاز
سوچو ! کیوں ہوگیا مفقود وہ سرمایہٴ ناز
ہاشمی عزم وشجاعت ، وہ حسینی انداز
آج باقی جو وہی طورو قرینہ ہوتا
خاتم دہر پہ ہر شیعہ نگینہ ہوتا
تھے امین غم شبیر تمھارے اجداد
جو سمجھتے تھے اسی کو دل و دیں کی بنیاد
تم بھی دہراتے ہو ہر سال الم کی روداد
مگر افسوس کہ درس اس کا نہیں رکھتے یاد
جان اسلاف نے دی روح صداقت کے لئے
تم پریشان ہو کھوئی ہوئی عظمت کے لئے
چند افراد میںہے آج شریعت محدود!
کیا عجب دہر سے ہوجائے جو ملت نابود
اف رے ناقدریٴ پابندیٴ دین معبود
عمل خیر بھی ہوتا ہے پئے نام و نمود
مسجدیں رہ گئیں اب صرف نمائش کے لئے
مجلس و نوحہ و ماتم ہے ستائش کے لئے
جو رلاتا ہے تمھیں خون وہ منظر دیکھو
روز عاشورمیں رنگ رخ محشر دیکھو
نرغہٴ ظلم میں وہ شکر کے خوگر دیکھو
لڑتے ہیں موت کے طوفاں سے بہتّر دیکھو
کس طرح ڈوب کے کھیتے ہیں سفینہ دیکھو
موت کو جیت کے، جینے کا قرینہ سیکھو
آگ کی طرح دہکتی ہوئی پر شور زمیں
اس پررکھی ہوئی حق کیش نمازی جبیں
صبر کے جلوے دکھاتی ہوئی تنویر یقیں
فرق پڑجائے عبادت میں یہ ممکن ہی نہیں
عشق خالق اِسے کہتے ہیں عبادت یہ ہے
شیعیت کا ہے یہ معیار مودت یہ ہے
زخم لگتے ہیں مگر کوئی شکایت ہی نہیں
کتنے پیاسے ہیں مگر پانی کی حاجت ہی نہیں
نام کو ہو متغیر وہ طبیعت ہی نہیں
پھیکی پڑجائے جو چہرے کی وہ رنگت ہی نہیں
دیکھو یوں پیرویٴ ”امرونہی “کرتے ہیں
لوح کو توڑتے ہیں نقش جلی کرتے ہیں
کم ہے جتنا بھی کرو سجدہٴ شکر داور
کب کسی قوم نے اس شان کے پائے رہبر
جو دیا تم کو وہ میزان عمل میں رکھ کر
راہ دشوار تھی ، لیکن وہ ہوئی آساں تر
رکھ دیا سامنے خود، جام ِدل افزائے عمل
نیک کیوں کر نہ ہوانجام ِدل افزائے عمل
وقت گزرا نہیں تم اب بھی جو توبہ کرلو
دل کو وسواس و کثافت سے معرّا کرلو
قلب کو آج فدائے رخ فردا کرلو
یہ جو بکھرا ہوا شیرازہ ہے یکجا کرلو
عملًا تم سے جو تصدیق اطاعت ہوجائے
چاک مانند سحر ، پردہٴ غیبت ہوجائے
یہ شاہکار پہلی بار ناطق صاحب مرحوم کی جوانی میں ۱۹۵۶ء ء بمبئی سے طبع ہوکر شائع ہوا تھا۔
[
دیدار کی تعداد : 340]
 |