مهدويت اور ظهور ->


ظهور کی خاص علامتیں

جب کبھی دجال کا تذکرہ ہوتا ہے ذہن پُرانے تصورات کی بنا پر فورا ًایک خاص شخص کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے جس کے صرف ایک آنکھ ہے جس کا جسم بھی افسانوی ہے اور سواری بھی ۔جو حضرت مہدی کے عالمی انقلاب سے پہلے ظاہر ہوگا۔
          لیکن دجال کے لغوی معنی ۱ اوراحادیث سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ دجال کسی خاص فرد سے مخصوص نہیں ہے ۔بلکہ ایک عنوان ہے جو ہر دھوکہ باز اور حیلہ گر ․․․پر منطبق ہوتا ہے ۔ اور ہراس شخص پر منطبق ہوتا ہے جو عالمی انقلاب کی راہ میں رکاوٹیں ایجاد کرتا ہے۔

ظهور کی خاص علامتیں

۱۔ دجّال
          جب کبھی دجال کا تذکرہ ہوتا ہے ذہن پُرانے تصورات کی بنا پر فورا ًایک خاص شخص کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے جس کے صرف ایک آنکھ ہے جس کا جسم بھی افسانوی ہے اور سواری بھی ۔جو حضرت مہدی  کے عالمی انقلاب سے پہلے ظاہر ہوگا۔
          لیکن دجال کے لغوی معنی ۱ اوراحادیث سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ دجال کسی خاص فرد سے مخصوص نہیں ہے ۔بلکہ ایک عنوان ہے جو ہر دھوکہ باز اور حیلہ گر ․․․پر منطبق ہوتا ہے ۔ اور ہراس شخص پر منطبق ہوتا ہے جو عالمی انقلاب کی راہ میں رکاوٹیں ایجاد کرتا ہے۔
          آنحضرت (ص) کی ایک مشہور حدیث ہے :
          ” انہ لم یکن نبی بعد نوح الا انذر قومہ الدجال و انی انذرکموہ “ ۲ ” جناب نوح ںکے بعد ہر نبی نے اپنی قوم کو دجال کے فتنہ سے ڈرایا ہے میں بھی تمھیں اس سے ہوشیار کرتا ہوں
          یہ بات مسلم ہے کہ انبیاء علیہم السلام اپنی قوم کو کسی ایسے فتنے سے نہیں ڈراتے تھے جو ہزاروں سال بعد آخری زمانہ میں رو نما ہونے والا ہو۔اسی حدیث کا آخری جملہ خاص توجہ کا طالب ہے کہ:” فوصفہ لنا رسول اللہ فقال لعلہ سیدرکہ بعض من راٴنی او سمع کلامی
          ”رسول خدا نے ہمارے لئے اس کے صفات بیان فرمائے اور فرمایا کہ ہو سکتا ہے وہ لوگ اس سے دو چار ہوں جنھوں نے مجھے دیکھا ہے یا میری بات سنی ہے
          اس بات کا قوی احتمال ہے کہ حدیث کا یہ آخری جملہ ان فریب کاروں ،سرکشوں ،حیلہ گروں ،مکاروں ․․․․ کی نشاندہی کر رہا ہو جو آنحضرت (ص)کے بعد بڑے بڑے عنوان کے ساتھ ظاہر ہوئے ۔جیسے بنی امیہ اور ان کے سر کردہ معاویہ ،جہاں ”خال المومنین “ اور ”کاتب وحی “ جیسے مقدس عناوین لگے ہوئے ہیں ۔ ان لوگوں نے عوام کو صراط مستقیم سے منحرف اور ان کو جاہلی رسومات کی طرف واپس لانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی متقی اور ایمان دار افراد کو کنارے کردیا ،اور عوام پر بدکاروں ،جاہلوں اور جابر وں کو مسلط کردیا ۔
           صحیح ترمذی کی ایک روایت یہ بھی ہے کہ آنحضرت (ص)نے دجال کے بارے میں ارشاد فرمایا:
          ”ما من نبی الا و قد انذر قومہ و لکن ساٴقول فیہ قولا لم یقلہ نبی لقومہ تعلمون انہ اعور“ ۳
          ” ہر نبی نے اپنی قوم کو دجال کے فتنہ سے ڈرایا ہے لیکن اس کے بارے میں میں ایک ایسی بات کہہ رہا ہوں جو کسی نبی نے اپنی قوم سے نہیں کہا ،اور وہ یہ کہ وہ کانا ہے
          بعض حدیثوں میں ملتا ہے کہ حضرت مہدی  کے ظہور سے پہلے تیس دجال رو نما ہوں گے ۔
          انجیل میں بھی دجال کے بارے میں ملتا ہے کہ :
          ” تم کو معلوم ہے کہ دجال آنے والا ہے آج کل بھی کافی دجال ظاہر ہوتے ہیں “ (رسالہ دوم یوحنا،باب ۱جملہ ۶۔۷)
          ایک دوسری حدیث میں آنحضرت (ص) نے ارشاد فرمایا:
          ”لاتقوم الساعة حتٰی یخرج نحوستین کذ ابا کلھم یقولون انا نبی
          ”قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک ساٹھ جھوٹے پیدا نہ ہو جائیں جن میں سے ہر ایک اپنے کو پیغمبر بتائے گا۔ ۴
          اس روایت میں گر چہ دجال کانام نہیں ہے لیکن اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ آخری زمانہ میں جھوٹے دعوے داروں کی تعداد ایک دو پر منحصر نہیں ہوگی۔
          یہ ایک حقیقت ہے کہ جب بھی کسی معاشرے میں انقلاب کے لئے زمین ہموار ہوتی ہے تو غلط افوائیں پھیلانے والوں ،فریب کاروں ،حیلہ گروں اور جھوٹے دعوے داروں کی تعداد بڑھ جاتی ہے ۔یہی لوگ ظالم اور فاسد نظام کے محافظ ہوتے ہیں ۔ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ عوام کے جذبات ،احساسات اور ان کے افکار سے غلط فائدہ اٹھایاجائے ۔یہ لوگ انقلاب کو بدنام کرنے کے لئے خود بھی بظاہر انقلابی بن جاتے ہیں اور انقلابی نعرے لگانے لگتے ہیں ۔ایسے ہی لوگ انقلاب کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
          یہ وہ دجال ہیں جن سے ہوشیار رہنے کے بارے میں ہر نبی نے اپنی امت سے نصیحت کی ہے ۔
          حضرت مہدی کا انقلاب صحیح معنوں میں عالمی انقلاب ہوگا اس عالمی انقلاب کے لئے عوام میں جس قدر آمادگی بڑھتی جائے گی جتنا وہ فکری طور سے آمادہ ہوتے جائیں گے ویسے ویسے دجالوں کی سرگرمیاں بھی تیز ہوتی جائیں گی ۔تاکہ انقلاب کی راہ میں روڑے اٹکاسکیں۔
          ہو سکتا ہے ان تمام دجالوں کی سر براہی ایک بڑے دجال کے ہاتھوں میں ہو اور اس دجال کی جو صفات بیان کی گئی ہیں وہ علامتی صفات ہوں ۔ علامہ مجلسی ۺنے بحار الانوار میں ایک روایت امیر المومنین  سے نقل فرمائی ہے جس میں دجال کی صفات کا ذکر ہے وہ صفات یہ ہیں:
    ۱)۔ اس کے صرف ایک آنکھ ہے ،یہ آنکھ پیشانی پر ستارہ صبح کی طرح چمک رہی ہے ۔یہ آنکھ اس قدر خون آلود ہے گویا خون ہی سے بنی ہے ۔
    ۲)۔ اس کا خچر (سواری ) سفید اور تیز رو ہے ،اس کا ایک قدم ایک میل کے برابر ہے وہ بہت تیز رفتار ی سے زمین کا سفر طے کرے گا۔
    ۳)۔ وہ خدائی کا دعویٰ کرے گا ۔جس وقت اپنے دوستوں کو آواز دے گا تو ساری دنیا میں اس کی آواز سنی جائے گی ۔
    ۴)۔ وہ دریاؤں میں ڈوب جائے گا ،وہ سورج کے ساتھ سفر کرے گا اس کے سامنے دھویں کا پہاڑ ہوگا اور اس کی پشت پر سفید پہاڑ ہوگا لوگ اسے غذائی مواد تصور کریں گے ۔
    ۵)۔ وہ جس وقت ظاہر ہوگا اس وقت لوگ قحط میں اور غذائی مواد کی قلت میں مبتلا ہوں گے۔ ۴
          یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ ہمیں یہ حق حاصل نہیں ہے کہ ہم قرآن اور احادیث میں بیان شدہ مطالب کو ” علامتی عنوان “ قرار دیں کیوں کہ یہ کام ایک طرح کی تفسیر بالرائے ہے جس کی شدت سے مخالفت کی گئی ہے لیکن یہ بھی صحیح نہیں ہے کہ عقلی اور نقلی قرینوں کی موجودگی میں لفظ کے ظاہری مفہوم سے چپکے رہیں۔
          آخری زمانہ کے بارے میں جو روایتیں وارد ہوئی ہیں ان میں ”علامتی عنوان “ بکثرت موجود ہیں۔
          مثلاً ایک روایت میں ہے کہ اس وقت مغرب سے آفتاب آئے گا ۔اگر اس حدیث کے ظاہر ی معنی مراد لئے جائیں تو اس کی دو صورتیں ہیں ۔ایک یہ کہ آفتاب ایکا ایکی مغرب سے طلوع کرے تو اس صورت میں منظومہ شمسیکی حرکت بالکل معکوس ہو جائے گی جس کی نتیجہ میں نظام کائنات درہم برہم ہو جائے گا ۔دوسرے یہ کہ آفتاب رفتہ رفتہ مغرب سے طلوع کرے تو اس صورت میں رات دن اس قدر طولانی ہو جائیں گے جس سے نظام زندگی میں درہمی پیدا ہو جائے گی ۔واضح رہے کہ یہ دونوں ہی معنی حدیث سے مراد نہیں ہیں کیوں کہ نظام درہم برہم ہونے کا تعلق قیامت سے ہے آخری زمانے سے نہیں جیسا کہ صعصعہ بن صوحان کی روایت کے آخری فقرے سے استفادہ ہوتا ہے کہ یہ حدیث ایک علامتی عنوان ہے امام زمانہ کے بارے میں۔
          نزال بن سیدہ جو اس حدیث کے راوی ہیں انھوں نے صعصعہ بن صوحان سے دریافت کیا کہ امیرالمومنین ںنے دجال کے بارے میں بیان کرنے کے بعد یہ کیوں ارشاد فرمایاکہ :مجھ سے ان واقعات کے بارے میں نہ دریافت کرو جو اس کے بعد رو نما ہوں گے۔
          صعصعہ بن صوحان نے فرمایا:
          جس کے پیچھے جناب عیسیٰ نماز ادا کریں گے وہ اہل بیت علیہم السلام کی بارہویں فرد ہوگا اور امام حسین علیہ السلام کی صلب میں نواں ہوگا ۔یہ وہ آفتاب ہے جو اپنے مغرب سے طلوع کرے گا ۔
           لہٰذا یہ بات ممکن ہے کہ دجال کی صفات ”علامتی عنوان “ کی حیثیت رکھتی ہوں جن کا تعلق کسی خاص فرد سے نہ ہو بلکہ ہر وہ شخص دجال ہو سکتا ہے جو ان صفات کا حامل ہو ۔یہ صفات مادی دنیا کے سربراہوں کی طرف بھی اشارہ کر رہی ہیں کیوں کہ :
    ۱)۔ ان لوگوں کی صرف ایک آنکھ ہے ،اور وہ ہے مادی و اقتصادی آنکھ ۔یہ لوگ دنیا کے تمام مسائل کو صرف اسی نگاہ سے دیکھتے ہیں مادی مقاصد کے حصول کی خاطر جائز ونا جائز کے فرق کو یکسر بھول جاتے ہیں۔ان کی یہی مادی آنکھ بہت زیادہ چمکدار ہے کیوں کہ ان لوگوں نے صنعتی میدان میں چشم گیر ترقی کی ہے ،زمین کی حدوں سے باہر نکل گئے ہیں ۔
    ۲)۔ تیز رفتار سواریاں ان کے اختیار میں ہیں ۔مختصر سی مدت میں ساری دنیاکا چکر لگا لیتے ہیں ۔
    ۳)۔ یہ لوگ خدائی کے دعوے دار ہیں کمزور اور غیر ترقی یافتہ ممالک کی قسمت سے کھیلنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔
    ۴)۔ جدید ترین آبدوزوں کے ذریعہ سمندرکی تہوں میں سورج کے ساتھ سفر کرتے ہیں ،ان کی نگاہوں کے سامنے دیو پیکرکارخانے ،دھویں کا پہاڑ اور ان کے پیچھے غذائی مواد کا انبار سفید پہاڑ ،(جس کو عوام غذائی اشیاء تصور کرتے ہیں ،جب کہ وہ صرف پیٹ بھراؤ چیز یں ہیں، ان میں غذائیت نہیں ہے )۔
    ۵)۔ قحط ،خشک سالی ،استعماریت جنگ کے لئے سرمایہ گزاری ،اسلحہ کے کمر شکن مصارف قتل و غارت گری ․․․․ ان چیزوں کی بنا پر غذائی اشیاء میں شدید قلت پیدا ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے بعض لوگ بھکمری کا شکار ہوجاتے ہیں ۔یہ حالات دجال کے منصوبہ بند پروگرام کا نتیجہ ہیں جس سے وہ حسب منشاء استفادہ اٹھاتا ہے ۔کمزوروں ،غریبوںاورزحمت کشوں کی امداد کے بہانے اپنے اقتدار کو استحکام عطا کرتاہے ۔
          بعض روایتوں میں ہے کہ دجال کی سواری کے ہر بال سے مخصوص قسم کا ساز سنائی دے گا ۔یہ روایت آج کل کی دنیا پر کس قدر منطبق ہو رہی ہے کی دنیا کے گوشہ گوشہ میں موسیقی کا جال بچھا ہو ا ہے کوئی گھر سازو آواز سے خالی نہیں ہے ۔
          خواہ دجال ایک مخصوص شخص کانام ہو ،خواہ دجال کی صفات ”علامتی عنوان “ کی حیثیت رکھتی ہوں ،بہر حال عالمی انقلاب کے منتظر افراد اور حضرت مہدی  کے جانبازوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ دجال صفت افراد سے مرعوب نہ ہوں ان کے دام فریب میں گرفتار ہوں۔انقلاب کے لئے زمین ہموار کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے رہیں ،اور کسی وقت بھی ناکامی اور سستی کے احساس کو اپنے قریب نہ آنے دیں۔
---------------------------------------------------------------
    ۱)۔دجال ،دجل (بروزندرد)سے ہے جس کے معنی ہیںدروغ گوئی اور دھوکہ بازی
    ۲)۔ صحیح ترمذی ”باب ما جاء فی الدجال “ ص/۴۲
    ۳)۔ بحار الانوار ج/۵۲ص/۲۰۹
    ۴)۔ بحارالانوار ،ج/۵۲ص/۱۹۲۔صعصعہ بن صوحان کی حدیث سے اقتباس
 
۲۔ سفیانی کا ظہور
          دجال کی طرح سفیانی کا بھی تذکرہ شیعہ اور سنی روایات میں ملتا ہے ۔عالمی انقلاب کے نزدیک زمانے میں سفیانی کا ظہور ہوگا۔ ۱
          بعض روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ سفیانی ایک معین شخص ہے جو ابو سفیان کی نسل سے ہوگا ،لیکن بعض دوسری روایتوں سے استفادہ ہوتا ہے کہ سفیانی صرف ایک فرد کانام نہیں ہے بلکہ یہ نام ان تمام افراد کو شامل ہے جن میں سفیانی صفات پائی جاتی ہیں۔
          حضرت زین العابدین علیہ السلام کی ایک روایت ہے جس سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ سفیانی شخص سے زیادہ صفات کا نام ہے ۔سفیانی بھی ایک علامتی عنوان ہے کہ ہر مصلح کے مقابلے میںکوئی نہ کوئی سفیانی ضرور ظاہر ہوگا ۔ وہ روایت یہ ہے :
          ” امر السفیانی حتم من اللہ ولا یکون قائم الا بسفیانی“ ۱”سفیانی کا ظہور لازمی اور ضروری ہے ۔اور ہر قیام کرنے والے کے مقابلے میں ایک سفیانی موجود ہے
          حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک روایت نقل ہوئی ہے جن کے الفاظ یہ ہیں:
          ” انا وآل ابی سفیان اھل بیتین تعادینانی اللّٰہ ! قلنا صدق اللّٰہ و قالوا کذب اللّٰہ! قاتل ابوسفیان رسول اللّٰہ وقاتل معاویة علی ابن ابی طالب و قاتل یزید بن معاویہ الحسین بن علی والسفیانی یقاتل القائم “۲
          ”ہم اور آل ابوسفیان دو خاندان ہیں جنھوں نے اللہ کی راہ میں ایک دوسرے کی مخالفت کی ہم نے الٰہی پیغامات کی تصدیق کی اور انھوں نے الٰہی پیغامات کی تکذیب ،ابو سفیان نے رسول خدا (ص) سے جنگ کی ،معاویہ نے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے جنگ کی معاویہ کے بیٹے یزید نے امام حسین علیہ السلام کو قتل کیا اور سفیانی قائم سے بر سر پیکار ہوگا
          گزشتہ صفات میں بیان کیا جا چکا ہے کہ تعمیری اقدامات کے مقابلہ میں دجال صفت افراد کس طرح سرگرم رہیں گے ذیل کی سطروں میں سفیانی کی سرگرمیاں ملاحظہ ہوں ۔ سفیانیوں کی شاہ فرد اور اس ناپاک سلسلے کی ابتدا ء کانام ہے ابوسفیان !جس میں یہ خصوصیات تھی -:
    ۱)۔ لوٹ ،مار ،ڈاکہ ،قتل ،غارتگری ․․․․کے ذریعہ سرمایہ دار بنا تھا۔ دوسروں کے حقوق چھین چھین کر مالدار ہو گیا تھا۔
    ۲)۔ شیطانی حربوں سے قدرت و طاقت حاصل کی تھی ۔مکہ اور مضافات کی ریاست اسی کے ہاتھوں میں تھی۔
    ۳)۔ جاہلی اور طبقاتی نظام کا مکمل نمونہ تھا وہ جی جان سے بتوں اور بت پرستی کی حمایت کرتا تھا تفرقہ اندازی اس کا بہترین مشغلہ تھا اور یہی اس کی حکومت کا راز تھا۔
          اسلام ان تمام باتوں کا شدت سے مخالف تھا اورہے ۔اسلام کے آنے کے بعد اس کی ساری شخصیت پر پانی پڑ گیا اس کی سرمایہ داری ،طاقت اور ریاست سب ختم ہوگئی کیوں کہ اسلام نے وہ تمام ذرائع یکسر ختم کردئے جن کے ذریعہ ابو سفیان سرمایہ دار ،قدرت مند اور سردار قوم بنا تھا ۔ اسی لئے وہ برابر اسلام سے جنگ کرتا رہا ،مگر ہر مرتبہ ہزیمت اٹھاتا رہا ۔اس طرح ابو سفیان کے جیتے جی اس کی شخصیت زندہ درگور ہوگئی ۔ فتح مکہ کے بعد ابو سفیان نے بادل نا خواستہ اسلام تو قبول کر لیا ،مگر اسلام دشمنی میں کوئی کمی نہیں آئی اور اسلام دشمنی نسلاً بعد نسل اس کی اولاد میں منتقل ہوتی رہی ۔معاویہ کو ورثہ میں اسلام اور آل محمد کی دشمنی ملی اور معاویہ نے یزید میں یہ جراثیم منتقل کر دیئے۔
          جس وقت حضرت مہدی کا ظہور ہوگا اس وقت بھی ابو سفیان کی نسل کا ایک سفیانی یا ابو سفیان کی صفات کا ایک مجسمہ ایک سفیانی حضرت کے خلاف صف آراہوگا ۔اس کی بھر پور کوشش یہ ہوگی کہ انقلاب نہ آنے دے یا کم از کم انقلاب کی راہ میں رکاوٹیں ایجاد کر کے انقلاب کو جلد ی نہ آنے دے ۔
          دجال اور سفیانی دونوں کا مقصد ایک ہی ہے مگر جو فرق ہو سکتا ہے وہ یہ کہ دجال کی سر گرمیاں پوشیدہ پوشیدہ ہوں گی جب کہ سفیانی کھلے عام مخالفت اور جنگ کرے گا۔ بعض روایت کے مطابق سفیانی زمین کے آباد حصوں پر حکمرانی کرے گا جس طرح ابو سفیان معاویہ ،یزید ․․․․نے حکومتیں کی ہیں ۔
          آخری زمانہ کا یہ سفیانی بھی اسی طرح ہزیمت اٹھائے گا جس طرح اس کے قبل ابو سفیان اور بقیہ سفیانیوں نے اپنے اپنے زمانے کے مصلح سے ہزیمت اٹھائی ہے ۔
          یہاں پر ہم ایک بار پھر یہ بات گوش گزار کریں گے کہ آخری زمانے کے انتظار کرنے والوں اور حضرت مہدی کے جانباز سپاہیوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ ہر طرح کے دجالوں اور سفیانیوں سے ہوشیار رہیں خواہ وہ کسی لباس کسی صورت اور کسی انداز سے کیوں نہ پیش آئیں ۔ کیوں کہ سفیانیوں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ شائستہ افراد ،متقی و پرہیز گار اور مصلحین سماجی سرگرمیوں سے بالکل کنارہ کش ہو جائیں ۔تاکہ یہ لوگ بے روک ٹوک اپنے منصوبوں کو عملی بنا سکیں ۔جس کی مثالیں معاویہ کی حکومت میں بے شمار ہیں۔
 
طولانی غیبت ؟
          علامات ظہور کے ذیل میں ابھی یہ تذکرہ کر چکے ہیں کہ ظلم و استبداد کی ہمہ گیری کسی عالمی مصلح کی آمد کی خبر دے رہی ہے شب کی سیاہی سپیدہٴ سحر ی کا مژدہ سنا رہی ہے ۔اس صورت میں ایک سوال ذہن میں کروٹیں لیتا ہے اور وہ یہ کہ جب ظلم اتنا پھیل چکا ہے تو ظہور میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے ؟ استبداد کی ہمہ گیری کے باوجود غیبت طولانی کیوں ہو رہی ہے ۔؟
          اس سوال کے جواب کے لئے یہ باتیں قابل غور ہیں:۔
    ۱)۔ گزشتہ انبیاء اور رسولوں کے انقلاب کی طرح حضرت مہدی  کا انقلاب بھی طبیعی علل و اسباب پر مبنی ہوگا۔اس انقلاب کی کوئی اعجازی شکل وصورت نہ ہوگی ۔معجزات توخاص خاص صورتوں سے مخصوص ہیں جس طرح پیغمبر اسلام (ص)نے اپنی ۲۳ سالہ تبلیغی زندگی میں خاص مواقع کے علاوہ ہر جگہ عام علل واسباب سے کام لیا ہے۔
          اسی لئے ہمیں ملتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام اپنے مشن کی تبلیغ وتوسیع میں روز مرہ کے وسائل سے استفادہ کرتے تھے ۔ مثلاًافراد کی تربیت ،مسائل میں مشورہ ،منصوبہ کی تشکیل ،جنگ کے لئے نقشہ کشی ۔ خلاصہ یہ کہ ہر مادی اور معنوی وسائل سے استفادہ کرتے اور اسی سے اپنے مشن کو آگے بڑھاتے تھے۔ وہ میدان جنگ میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے کسی معجزہ کاانتظارنہیں کرتے تھے ،بلکہ خدا پر بھروسہ کرکے اپنی طاقت سے جنگ لڑتے تھے اور کامیاب ہوتے تھے ۔
          اسی طرح حضرت مہدی علیہ السلام اپنے عالمی انقلاب میں روزمرہ کے وسائل سے استفادہ کرےں گے ۔الٰہی منصبوں کوعملی بنائیں گے ۔ ان کاکام الٰہی پیغام کی تبلیغ ہی نہیں بلکہ وہ الٰہی احکام کوان کی صحیح شکل میں نافذ کرےں گے۔وہ دنیاسے ہرطرح کاظلم وجورکاخاتمہ کردیں گے ۔اتنابڑاکام یونہی نہیں ہوجائے گا بلکہ اسکے لئے بہت سی چیزیں ضروری ہےں۔
    ۲)۔ گزشتہ بیان سے یہ بنیادی بات واضح ہوگئی کہ انقلاب سے پہلے بعض چیزوں کاوجود ضروری ہے ۔عوام میں کئی اعتبار سے یہ بنیادی آمادگی درکارہے ۔
۱۔ قبولیت
          دنیا کی ناانصافیوں کی تلخیوں کودنیا والے باقاعدہ احساس کریں ۔انسان کے خود ساختہ قوانیں کے نقائص اور اس کی کمزوریوں کوبھی سمجھےں۔
          لوگوں کواس حقیقت کاباقاعدہ احساس ہوجائے کہ مادی قوانین کے سایہ میں حیات انسانی کو سعادت نصیب نہیں ہوسکتی ہے ۔انسان کے خود ساختہ قوانین کے لئے کوئی ”نفاذی ضمانت“نہیں ہے بلکہ انسان کے خود ساختہ قوانین مشکلات میں اضافہ کرتے ہیں کمی نہیں ۔یہ احساس بھی ہوناچاہئے کہ موجود ہ افرا تفری کاسبب خود ساختہ نظام ہائے حیات ہیں۔
          لوگوں کو اس بات کابھی احساس ہونا چاہئے کہ یہ دنیا اسی وقت سدھر سکتی ہے جب اس میں ایسا نظام نافذہوگاجس کی بنیاد معنویت ،انسانی اور اخلاقی اقدار پرہو،جہاں معنویت اور مادیت دونوں کوجائزحقوق دیئے گئے ہوں ،جس میں انسانی زندگی کے تمام پہلووئں کوبہ حداعتدال سیراب کیا گیا ہو۔
          اسی کے ساتھ ساتھ یہ بھی باور ہوجائے کہ صنعت اور ٹکنا لوجی کے میدانوں میں چشم گیراور حیرت انگیز ترقیاں انسان کوسعادت عطا نہیں کرسکتی ہیں البتہ شقاوت ضرور تقسیم کرسکتی ہیں ،ہاں اس صورت میں ضرورمفید ثابت ہوسکتی ہیں جب یہ ترقیاں معنوی ،انسانی اور اخلاقی اصولوں کے زیر سایہ حاصل کی جائیں ۔
          مختصریہ کہ جب تک خوب تشنہ نہیں ہوں گے اس وقت تک چشمہ کی تلاش میں تگ ودونہیں کریں گے ۔
          یہ تشنگی کچھ رفتہ رفتہ وقت گزرنے سے حاصل ہوگی اور کچھ کے لئے تعلیم وتربیت درکار ہوگی،یہ دنیاکے مفکریں کاکام ہے کہ ہر ایک میں یہ احساس بیدار کردیں کہ انسان کے خود ساختہ قوانین دنیا کی اصلاح نہیں کرسکتے ہیں بلکہ اس کے لئے ایک عالمی انقلاب درکار ہے ۔بہر حال اس میں ابھی وقت لگے گا ۔
۲۔ ثقافتی اور صنعتی ارتقاء
          ساری دنیا کے لوگ ایک پرچم تلے جمع ہوجائیں ،حقیقی تعلیم وتربیت کواتنا زیادہ عام کیا جائے کہ فرد فرد اس بات کا قائل ہوجائے کہ زبان ،نسل ،علاقائیت․․․․․ہرگز اس بات کاسبب نہیں بن سکتے کہ تمام دنیاکے باشند ے ایک گھر کے افراد کی طرح زندگی بسر نہ کرسکیں۔
          دنیا کی اقتصادی مشکلات اسی وقت حل ہوسکتی ہیں جب ثقافت اور افکار میں ارتقاء اور وسعت پیدا ہو ۔اسی کے ساتھ صنعت بھی اتنا ترقی یافتہ ہو کہ دنیا کاکوئی گوشہ اس کی دسترس سے دور نہ ہو ۔
          بعض روایتوں سے استفادہ ہوتاہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام کے ظہور کے بعد صنعت خاص طور پرٹرانسپورٹ اتنی زیادہ ترقی یافتہ ہوجائے گی کہ یہ وسیع وعریض دنیا نزدیک شہروں کے مانند ہوجائے گی۔مشرق ومغرب میں بسنے والے اس طرح زندگی بسر کرےں گے جس طرح ایک گھر کے افراد زندگی بسر کرتے ہیں ۔
          ظہور کے بعد ہوسکتا ہے کہ ترقیاں انقلابی صورت میں رونما ہوں مگر اتنا ضرور ہے کہ ظہور کے لئے علمی طور پر آمادگی ضروری ہے۔
۳۔ انقلابی گروہ
          ایسے افراد کی موجود گی ضروری ہے جوانقلاب میں بنیادی کردار ادا کرسکیں ،ایسے افراد کی تعداد کم ہی کیوں نہ ہو ، مگر علمی اعتبار سے ہر ایک بھر پورابقلابی ہوا ورانقلابی اصولوں پر جی جان سے عامل ہو غیر معمولی شجاع ، دلسوز،فداکار،جانباز اور جاں نثارہو۔
          اس دہکتی ہوئی دنیا اور خزاں رسیدہ کائنات میں ایسے پھول کھلیں جوگلستان کامقدمہ بن سکےں جو بہار کا پیش خیمہ ہو سکیں انسانوں کا ڈھیر سے ایسے عالی صفت افراد نکلیں جو آئندہ انقلاب کی مکمل تصویر ہوں ۔
          ایسے افراد کی تربےت خود معصوم رہبر کے سپرد جو بالواسطہ یابلاواسطہ ایسے افراد کی تربیت کاانتظام کرےں ،چونکہ ہر کام معجزہ سے نہیں ہوگا ،لہٰذایہاں بھی وقت درکار ہے۔
          بعض روایتوں میں حضرت مہدی علیہ السلام کی غیبت کے طولانی ہونے کاسبب یہ بیان کیاگیا ہے کہ خالص ترےن افراد سامنے آجائےں،جوہرطرح کے امتحانوں میں کامیاب ہو چکے ہوں۔
          اس بات کی وضاحت کی ضرورت ہے کہ الٰہی امتحان اور آزمائش کامطلب ممتحن کے علم میں اضافہ کرنا نہیں ہے بلکہ امتحان دینے والوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کااظہار ہے ۔یعنی وہ استعداد جوقوت کی منزل میں ہے اسے فعلیت عطاکرنا ہے ۔
          گزشتہ بیان سے یہ بات کسی حد تک ضرور واضح ہوگئی کہ حضرت مہدی علیہ السلام کے ظہور میں تا٘خیر کیوں ہورہی ہے ۔تا٘خیر کاسبب ہمارے نواقص اور کمزوریاں ہیں ،ورنہ اس طرف سے کوئی تا٘خیر نہیں ہے ۔ جس وقت ہم اپنے نواقص کوختم اور کمزوریوں کو دور کرلیں گے اس وقت ظہور ہوجائے گا ۔جس قدرجلد ہم اس مقصد میں کامیاب ہوجائےں گے اتناہی جلد ظہورہوگا۔
---------------------------------------------------------------
   ۱)۔ بحارالانوار ،ج/۵۲ص/۱۸۲تا ۲۰۹
   ۲)۔ بحارالانوار ،ج/۵۲ص/۱۸۲
   ۳)۔ بحارالانوار ،ج/۵۲ص/۱۹۰
 
زمانہٴ غیبت میں وجود امام کافائدہ
 
          حضرت مہدی علیہ السلام کی غیبت کاجب تذکرہ ہوتا ہے تویہ سو٘ال ذہنوں میں کروٹیں لینے لگتا ہے کہ:
          امام یارہبر کاوجوداسی صورت میں مفید اور قابل استفادہ ہے جب وہ نگاہوں کے سامنے ہواور اس سے رابطہ برقرار ہوسکتاہو۔لیکن اگر امام نظروں سے غائب ہو ،اس تک پہنچناممکن نہ ہو ،ایسی صورت میںوجودامام سے کیا حاصل․․․․․؟
          بعض کے لئے ہوسکتا ہے کہ یہ سو٘ال نیا معلوم ہواور کسی ”دانشمند “ذہن کی اُپج معلوم ہو مگر خوش قسمتی یابد قسمتی سے یہ سو٘ال بہت پرانا ہے ۔یہ سو٘ال حضرت مہدی وعلیہ السلام کی ولادت سے پہلے کیاجاچکاہے۔ کیونکہ جب حضرت مہدی علیہ السلام اور ان کی غیبت کے بارے میں رسول خدا (ص) یاائمہ علیہم السلام بیان فرماتے تھے اس وقت بعض لوگ یہی سوال کرتے تھے۔
          احادیث میں اس سوال کا جواب متعدد انداز سے دیا گیاہے۔اس سلسلے میں رسول خدا (ص) کی ایک حدیث قابل غور ہے ۔آنحضرت (ص)نے زمانے غیبت میں حضرت مہدی علیہ السلام کے وجود کافائدہ بیان کرتے ہوے ارشاد فرمایا:”ای والذی بعثنی بالنبوةانھم ینتفعون بنور ولایتہ فی غیبتہ کانتفاع الناس بالشمس وان جللہا السحٰب
          ”قسم ہے اس ذات اقدس کی جس نی مجھے نبوت پر مبعوث فرمایا،لوگ ان کے نور ولایت سے اس طرح فائدہ اٹھائےں گے جس طرح سورج سے اس وقت استفادہ کرتے ہیں جب وہ بادلوں کے اوٹ میں ہوتاہے
           اس حدیث کو بہتر سمجھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم پہلے یہ سمجھےں کہ نظام کائنات میں آفتاب کیا کردار اداکرتا ہے ۔آفتاب دو طرح اپنا نور پھیلاتا ہے ایک بلا واسطہ اور دوسرے بالواسطہ دوسرے لفظوں میں ایک واضح دوسرے پوشیدہ ۔جس وقت آفتاب بلا واسطہ اور واضح نور پھیلاتا ہے اس وقت اس کی شعائیں دکھائی دیتی ہیں یہ درست ہے کہ زمین کے گرد ہوا کی دبیز چادرشعاعوں کی حرارت میں کمی کر دیتی ہے اور ان کے زہریلے اثرات کو ختم کرتی ہے لیکن ہو کی یہ دبیز چادر آفتاب کو بلا واسطہ نور پھیلانے سے نہیں روکتی لیکن بالواسطہ اور بطور مخفی نور افشانی کی صورت میں بادل آفتاب کے چہرے کو چھپا لیتا ہے ۔اس صورت میں روشنی تو ضرر نظر آتی ہے لیکن مگر آفتاب دکھائی نہیں دیتا ۔
          اس کے علاوہ آفتاب کا نور اور اس کی شعاعیں نظام کائنات میں اہم کردار ادا کرتی ہیں یہ نور اور شعاعیں :
          زندہ چیزوں کا رشد و نمو
          غذ ا اور بقائے نسل
          حس و حرکت
          خوشک زمینوں کی آبیاری
          دریا کے موجوں کا جوش و خروش
          نسیم سحر کی اٹکھیلیاں
          پژمردگی کو حیات نو عطا کرنے والی بارش
          آبشاروں کے نغمہ
          مرغان چمن کی خوش الحانیاں
          پھول کی نزاکت اور طراوٹ
          انسان کی رگوں میں خون کی گردش اور دل کی دھڑکن
          ذہن بشر میں فکر کی جولانیاں
          طفل شیر خوار کی طرح کلیوں کی مسکراہٹ
          یہ ساری کرشمہ شازی آفتاب کے نور اور اس کی شعاعوں کی بدولت ہے ۔اگر لمحہ بھر بھی زمین کا رشتہ آفتاب سے منقطعہ ہو جا ئے تو پھر نور پر ظلمتوں کا راز ہو جائے اور نظام کائنات درہم برہم ہو جائے ،
          یہاں ایک سوال کیا جا سکتا ہے یہ ساری باتیں صرف اس صورت میں ہے جب آفتاب بلا واسطہ نور پھیلا رہا ہو ؟
          ہر شخص نفی میں جواب دے گا جب آفتاب نوربالواسطہ زمین تک پہنچ رہا ہو اس وقت بھی اثار حیات باقی رہتے ہیں ۔بالواسطہ نور افشانی کی صورت میںصرف وہی اثار ختم ہوتے ہیں جن کا تعلق بلا واسطہ نور افشانی سے ہوتا ہے ۔بالواسطہ نور افشانی میں وہ جراثیم ضرور پھیل جاتے ہیں جن کے حق میں بلاواسطہ نور افشانی زہر ہلاہل ہے ۔
          اب تک بادلوں کے اوٹ میں آفتاب کے اثرات کا تذکرہ تھا اب ذر یہ دیکھیں کہ غیبت کے زمانہ میں دینی رہبروں کے فوائد کیا ہیں اور اس کے اثرات کیا ہیں ۔ غیبت کے زمانہ میں وجود امام کی نامرئی شعاعیں مختلف اثرات رکھتی ہیں۔
۱۔ امید
          میدان جنگ میں جاں نثار بہادر سپاہیوں کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ کسی بھی صورت پرچم سرنگوں نہ ہونے پائے جب کہ دشمن کی پوری طاقت پرچم سر نگوں کرنے پر لگی رہتی ہے ۔ کیوں کہ جب تک پر چم لہراتا رہتا ہے ، سپاہیوں کی رگوں میں خون تازہ دوڑ تا رہتا ہے ۔
          اسی طرح مرکز میں سردار لشکر کا وجود ۔سردار خاموش ہی کیوں نہ ہو۔ سپاہیوں کو نیا عزم اور حوصلہ عطا کرتا رہتا ہے ۔اگر لشکر میں یہ خبر پھیل جائے کہ سردار قتل ہوگیا تو اچھا خاصا منظم لشکر متفرق ہو جاتا ہے سپاہیوں کے حوصلے منجمد ہو جاتے ہیں ۔
          قوم شیعہ جس کا عقیدہ ہے کہ اس کے امام زندہ ہیں ،اگر چہ بظاہر امام نظر نہیں آتے ہیں ،اس کے باوجود یہ قوم خود کو کبھی تنہا محسوس نہیں کرتی ،اسے اس بات کا یقین ہے کہ اس کا رہبر موجود ہے جوان کے امور سے واقف ہے ۔ ہر روز رہبر کی آمد کا انتظار رہتا ہے ۔یہ انتظار قوم میں تعمیری جذبات کو بیدار رکھتا ہے ۔ماہرین نفسیات اس حقیقت سے خوب واقف ہیں کہ انسان کے حق میں جس قدر ”مایوسی “ زہر ہلا ہل ہے اسی قدر ”امید “ تریاق ہے ۔
          اگر رہبر کا کوئی خارجی وجود نہ ہو بلکہ لوگ اس کے تولد کا انتظار کر رہے ہوں تو صورت حال کافی مختلف ہو جائے گی ۔
          اگر ایک بات کا اضافہ کر دیا جائے تو بات کافی اہم ہو جائے گی اور وہ یہ کہ شیعہ روایات میں کافی مقدار میں اس بات کا تذکرہ ملتا ہے کہ غیبت کے زمانہ میں امام علیہ السلام اپنے ماننے والوں کی با قاعدہ حفاظت کرتے ہیں ۔ہر ہفتہ امت کے سارے اعمال امام علیہ السلام کی خدمت میں پیش کر دیئے جاتے ہیں ۔ ۱
          یہ عقیدہ ماننے والوں کو اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے اعمال کا خیال رکھیں کہ ان کا ہر عمل امام علیہ السلام کی نظر مبارک سے گزر ے گا لہٰذا اعمال ایسے ہوں جو امام علیہ السلام کی باگاہ اقدس کے لائق ہوں جن سے امام خوش ہوں ۔یہ طرز فکر کس قدر تعمیری ہے اس سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا۔
۲۔ دین کی حفاظت
         حضرت علی علیہ السلام نے ایک مختصر سے جملے میں امام کی ضرورت کو بیان فرمایاہے اور اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ زمین کسی بھی صورت میں الٰہی نمائندے سے خالی نہیں رہ سکتی ہے۔ارشاد فرماتے ہیں:
          ”اللھم بلیٰ لا تخلوا الارض من قائم للہ بحجة اما ظاھرا مشھور او خائفا مغمورا لئلا تبطل حجج اللّٰہ و بنی--ناتہ
          ہاں واللہ زمین کبھی بھی الٰہی دلیل ، قائم اور حجت خدا سے خالی نہیں رہ سکتی خواہ یہ حجت ظاہر و آشکار ا ہو اور خواہ پوشیدہ و مخفی ․تا کہ اللہ کی دلیلیں اور اس کی نشانیاں ضائع نہ ہونے پائیں
          ہر روز ہی شخصی نظریات کو مذہب کارنگ دیا جارہا ہے خود غرض اور فتنہ پرداز افراد آسمانی تعلیمات کی حسب خواہش توضیح و تفسیر کررہے ہیں جس کی بناپر اصلی اسلام میں اتنی خرافات شامل ہوگئی ہیں کہ ایک عام انسان کے لئے صحیح ہے اسلام کی تلاش محال نہیں تو دشوار ضرورہے۔
          وحی کے ذرریعہ آسمان سے نازل شدہ آب حیات میں اجنبی نظریات کی آمیزش سے وہ تازگی اور بالیدگی نہ رہی جو صدر اسلام میں تھی․ایسی صورت میں ایک ایسے فرد گی موجود گی سخت ضروری ہے جس کے پاس آسمانی اسناد اپنی اصلی صورت میں ہوں ․اب کسی پر وحی تو نازل ہوگی نہیں کیونکہ آنحضرت (ص)کی وفات کے بعد وحی کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔ لہٰذا اس زمانے میں بھی ایک معصوم فر د کا وجود لازمی ہے جو اسلامی تعلیمات کا تحفظ کرسکے ، جس کے پاس ہر طرح کی خرافات سے پاک صاف دین موجود ہو․اسی حقیقت کی طرف مولائے کائنات نے اشارہ فرمایا ہے کہ ”تا کہ اللہ کی دلیلیں اور نشانیاں ضائع نہ ہونے پائیں
          اور اس طرح حقیقت کے متلاشی افراد حقیقت تک پہنچ سکیں اور ہدایت کے پیاسے سر چشمہ ٴہدایت و حیات سے سیراب ہوسکیں
۳۔ فداکاروں کی تربیت
          بعض افراد کا خیال ہے کہ غیبت کے زمانے میں امام کا کوئی تعلق عوام سے نہیں ہے جبکہ حقیقت اس کے بالکل برخلاف ہے․اسلامی روایات میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ غیبت کے ز مانے میں بھی امام علیہ السلام سے ایک ایسے خاص گروہ کا رابطہ ضرور بر قرار رہے گا جس کا ہر فرد عشق الٰہی سے سرشار،اخلاص کا پیکر،اعمال و اخلاق کی منھ بولتی تصویر اور دلوں میں عالم کی اصلاح کی تمنا لئے، ہوئے ہے اسی طریقے سے ان لوگوں کی رفتہ رفتہ تربیت ہورہی ہے،انقلابی امنگیں ان کی روح میں جذب ہوتی جارہی ہیں
          یہ لوگ اپنے علم وعمل اور تقویٰ و پرہیز گاری سے اتنی بلند ی پر ہیں جہاں ان کے اور آفتاب ہدایت کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہے ۔اگر آفتاب بادلوں کی اوٹ میں چلا جائے تو اس کی زیارت کے لئے آفتاب کو نیچے نہیں کھینچا جا سکتا ہے بلکہ خود بادلوں کو چیر کر اوپر نکلنا ہوگا تب آفتاب کا رخ دیکھ سکیں گے ،گزشتہ صفحات میں ہم یہ حدیث نقل کر چکے ہیں کہ پیغمبراسلام نے غیبت کی مثال بادلوں میں چھپے ہوئے آفتاب سے دی ہے
۴۔ نامَریٴ تاثیر
          ہم سب جانتے ہیں کہ سورج کی شعاعیں دو طرح کی ہیں ایک وہ شعاعیں جو دکھائی دیتی ہیں اور دوسرے وہ جو دکھائی نہیں دیتی ہیں اسی طرح آسمانی رہبر اور الٰہی نمائندے دو طرح عوام کی تربیت کرتے ہیں ایک اپنے قول اور عمل کے ذریعہ اور دوسرے اپنے روحانی اثرات کے ذریعے ۔اصطلاحی طور پر پہلے طریقہ کو ”تربیت تشریعی “ اور دوسرے طرز کو ”تربیت تکوینی “ کہا جا سکتا ہے ۔دوسری صورت میں الفاظ و حروف نہیں ہوتے بلکہ جاذبیت اور کشش ہوتی ہے ۔ایک نگاہ اثرانداز سے روح و جسم میں انقلاب برپا ہو جاتا ہے ۔اس طرح کی تربیت کی بے شمار مثالیں اسلامی تاریخ کے صفحات پر جا بجا نظر آتی ہیں ۔شاہد کے طور پر جناب زہیر قین ،جناب حر، جنابابوبصیر کے پڑوسی (حکومت بنی امیہ کا سابق کارندہ) قید خانہ بغداد میں ہارون کی فرستادہ مغنیہ․․․․
۵۔ مقصد تخلیق
          کوئی بھی عقلمند بے مقصد قدم نہیں اٹھاتا ہے ہر وہ سفر جو علم و عقل کی روشنی میں طے کیا جائے اس کا ایک مقصد ضرور ہوگا ،فرق صرف یہ ہے کہ جب انسان کوئی بامقصد کام انجام دیتا ہے تو اس کا مقصد اپنی ضروریات پورا کرنا ہوتا ہے لیکن جب خدا کوئی کام انجام دیتا ہے تواس میں بندوں کا فائدہ پوشیدہ ہوتا ہے کیونکہ خدا ہر چیز سے بے نیاز ہے ۔
          اب ذرا اس مثال پر توجہ فرمائیے :
          ایک زر خیززمین میں ایک باغ لگایاجاتاہے جس میں طرح طرح کے پھل دار درخت اور رنگ برنگ اور خوشنما اور خوشبودار پھول ہیں ،ان درختوں کے درمیان کچھ بےکار قسم کی گھاس بھی اگی ہوئی ہے۔لیکن اس باغ کی آبیاری کی جائے گی توگھاس کوبھی فائدہ پہونچے گا۔
          یہاں دو مقصد سامنے آتے ہیں :
          اصلی مقصد :پھل دار درختوں کی اور پھولوں کی آبیاری
          ثانوی مقصد:گھاس کی آبیاری
          بغیر کسی شک وتردید کے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ آبیاری کاسبب اصلی مقصدہے ثانوی مقصدنہیں ۔
          اگر اس باغ میںصرف ایک پھل دار درخت باقی رہ جائے جس سے تمام مقاصد پورے ہورہے ہوںتب بھی آبیاری ہوتی رہے گی اور اس بناپر کوئی عقل مندآبیاری سے دستبردار نہیں ہوگا کے ایک درخت کی خاطر کتنی بیکارچیزیںسیراب ہورہی ہیں ۔ البتہ اگر باغ میں ایک درخت بھی نہ رہ جائے تواس صورت میں آبیاری ایک بے مقصد کام ہوگا۔
          یہ وسیع وعریض کائنات بھی ایک سرسبزوشاداب باغ کی مانند ہے ،انسان اس باغ کی درخت ہیں۔وہ لوگ جو راہ راست پر گامزن ہیں اور روحانی واخلاقی ارتقاء کی منزلیں طے کررہے ہیں ،وہ اس باغ کے پھل دار درخت ہیں اور خوشبودار پھول ہیں لیکن وہ افراد جو راہ راست سے منحرف ہوگئے اور جنھوں نے گناہ کی راہ اختیار کی ،ارتقاء کی بجائے پستیوں میں گرتے چلے گئے ،یہ لوگ اس باغ کی گھاس وغیرہ کہے جاسکتے ہیں۔
          یہ چمکتاہواآفتاب ،یہ نسیم جانفزا،یہ آسمان وزمین کی بے پناہ برکتیں ،گناہ گاروں اور ایک دوسرے سے دست وگریباں افراد کے لئے پیدا نہیں کی گئی ہیں ،بلکہ یہ ساری کائنات اور اس کی تمام نعمتیں خدا کے نیکوکار بندوں کے لئے پیدا کی گئی ہیں اور وہ دن ضرور آئے گا جب یہ کائنات ظالموں کے ہاتھ سے نکل کر صالحین کے اختیار میں ہوگی ۔
          ”ان الارض یر ثھا عبادی الصالحون “ ” یقینا میرے صالح بندے اس زمین کے وارث ہوں گے“ 
          یہ صحیح ہے کہ دنیا میں ہر طرف گناہگاروں اور خدا ناشناس افراد کی اکثریت ہے لیکن کائنات کا حسن انتظام بتا رہا ہے کہ کوئی ایسی فرد ضرور موجود ہے جس کی خاطر یہ دنیا سجی ہوئی ہے۔ حدیث میں اس بات کی طرف ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے :
          ” بیمنہ رزق الوریٰ و بوجودہ ثبتت الارض و السماء“”ان کی (حجت خدا کی ) برکت سے لوگوں کو رزق ملتا ہے اور ان کے وجود کی بنا پر زمین و آسمان قائم ہیں
          اسی بات کو خدا وند عالم نے حدیث قدسی میں پیغمبر اسلام (ص)کو مخاطب کرکے بیان فرما رہا ہے :”لولا ک لما خلقت الافلاک“ اگر تم نہ ہوتے تو میں آسمانوں کو نہ پیدا کرتا
          زمانہ غیبت میں وجود امام علیہ السلام کا ایک فائدہ اس کائنات ہستی کی بقا بھی ہے۔
          وہ لوگ جو حقائق سے بہت دور ہیں وہ زمانہ غیبت میں وجود امام کے لئے صرف شخصی فائدے کے قائل ہیں اور اس عقیدے کے سلسلے میں شیعوں پر طرح طرح کے اعتراضات کیا کرتے ہیں جب کہ وہ اس بات سے بالکل غافل ہیں کہ خود ان کا وجود امام کے وجود کی بنا پر ہے ۔یہ کائنات اس لئے قائم ہے کہ امام قائم پردہٴ غیب میں موجود ہےں۔ اگر امام نہ ہوتے تو نہ یہ دنیا ہوتی اور نہ اس دنیا کے بسنے والے ۔
---------------------------------------------------------------
   ۱)۔یہ روایت تفسیر برہاں میں اس آیہ کریمہ کے ذیل میں نقل ہوئی ہے ”و قل اعملوفسیری اللہ عملکم ورسولہ والموٴمنون“(سورہ توبہ /۱۰۵)
 
فتح کا انداز
 
          جب حضرت مہدی علیہ السلام ظہور فرمائیں گے تو حضرت کی فتح کا انداز کیا ہوگا ؟ اور کس طرح سے حضرت ساری دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے ؟ کیا حضرت تلوار کے ذریعہ جنگ کریں گے اور جدید اسلحوںپر کامیابی حاصل کریں گے؟ ان باتوں کے دو جواب دیئے جا سکتے ہیں ،ایک عقل کی روشنی میں اور دوسرے حدیث کی روشنی میں۔
عقل
          یہ ایک حقیقت ہے کہ گزرے ہوئے زمانہ کی طرف بازگشت نا ممکن اور غیر منطقی ہے ظہور کے بعد ہر گز یہ نہ ہوگا کہ” عصر نور“ عصر ظلمت کی طرف پلٹ جائے ۔ 
          جدید صنعت اور ترقی یافتہ ٹکنالو جی نے جہاں انسان کی بہت سی مشکلات کو حل کیا ہے وہاں یہ چیزیں عادلانہ حکومت کے قیام کے بارے میں بھی معاون ثابت ہوں گی ۔کیوں کہ ساری کائنات پر حکمرانی اور گوشہ گوشہ میں عدل و انصاف کا قیام بغیر ترقی یافتہ ٹکنالوجی کے ناممکن ہے بلکہ حضرت کے طرز حکومت کو پیش نظر رکھتے ہوئے موجودہ ترقی یافتہ صنعت و ٹکنالوجی اس دور میں نا کافی ہوگی۔
          جنگ کے میدان میں بھی ایسے اسلحوں کا استعمال ہوگا جن کا تصور اس دور میں ہمارے لئے آسان نہیں ہے طرز جنگ کے سلسلے میں عقل کی بنیاد پر کوئی یقینی بات نہیں کہی جا سکتی یہ اسلحے مادی ہوں گے یا نفسیاتی ․․․․ البتہ اتنا ضرور معلوم ہے کہ وہ اسلحہ ایسے ہوں گے جو نیکوکار اور گناہگار میں فرق کو ضرور قائم رکھیں گے۔
حدیث
          احادیث میں ایسی پر معنٰی تعبیر یں ملتی ہیں جن سے گزشتہ باتوں کے جواب واضح ہو جاتے ہیں ذیل کی سطروں میں صرف چند حدیثیں قرئین کی نظر کررہے ہیں۔
    ۱)۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
          ” ان قائمنا اذا قام اشرفت الارض بنورربھا واستغنی العباد من ضوء الشمس“ ۱
          ”جس وقت ہمارا قائم قیام فرمائے گا اس وقت زمین اپنے پروردگار کے نور سے روشن ہو جائے گی اور بندگان خدا سورج کی روشنی سے بے نیاز ہو جائیں گے
          اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اس وقت روشنی اور انرجی کا مسئلہ اس قدر آسان ہو جائے گا کہ دن و رات سورج کے بجائے ایک دوسرے نور سے استفادہ کیا جا سکے گا۔ہو سکتا ہے کہ بعض لوگ اس چیز کو معجزے کی شکل دیں لیکن در حقیقت یہ اعجاز نہ ہوگا بلکہ یہ ٹکنالوجی اور صنعت کے ترقی یافتہ دور کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
          اتنے زیادہ ترقی یافتہ دور کے مقابلہ میں آج کے جدید ترین اسلحوں کی کیا حقیقت ہوگی۔
    ۲)۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے جناب ابو بصیر سے ارشاد فرمایا:
          ” انہ اذا تناھت الامور الی صاحب ھذا الامر رفع اللّٰہ تبارک وتعالیٰ لہ منخفض من الارض وخفض لہ کل مرتفع حتّٰی تکون الدنیا عندہ بمنزلة راحتہ فایکم لو کانت فی راحتہ شعرة لم یبصرھا“ ۲
          ”جس وقت سلسلہ امور صاحب الامر تک پہنچے گا اس وقت خداوند عالم زمین کی ہر پستی کو ان کے لئے بلندکردے گا اور ہر بلندی کو ان کے لئے پست کردے گا ،یہاں تک کہ ساری دنیا ان کے نزدیک ہاتھ کی ہتھیلی کے مانند ہوجائے گی، تم میں سے کون ہے جس کی ہتھیلی میں بال ہو،اور وہ اس کو نہ دیکھ رہاہو!؟
          آج کی ترقی یافتہ دنیا میں بلندیوں پر جدیدترین آلات نصب کرکے دنیا کے مختلف گوشوں میں آوازیں اور تصویریں بھیجی جارہی ہےں اور اس سلسلے میں مصنوعی سیاروں سے بھی استفادہ کیاجارہاہے،لیکن اس کی دوسری صورت آج کی دنیا میں ابھی تک عملی نہیں ہوسکی ہے یعنی مختلف جگہوں سے ایک مرکز پر خبروں اور تصویروں کا انعکاس ،مگر یہ کہ دنیا کے گوشے گوشے میں نشر کرنے والے اسٹیشن قائم کئے جائیں۔
          اس حدیث سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ ظہورکے بعد یہ مشکل بھی آسان ہوجائے گی اس وقت دنیا ہاتھ کی ہتھیلی کی مانند ہوجائے گی ،دنیا کے دورترین مقامات پر رونما ہونے والے واقعات پر حضرت کی بھر پور نظر ہوگی،اس وقت نزدیک و دور کا امتیاز ختم ہوجائے گا ،دور نزدیک ہر ایک پر حضرت کی یکساں نگاہ ہوگی،ظاہر ہے کہ عادلانہ عالمی حکومت کے لئے وسیع ترین اطلاعات کی سخت ضرورت ہے،جب تک دنیا کے ہر واقعہ پر بھر پور نظر نہ ہوگی اس وقت تک عدل کا قیام اور ظلم کی فناکیونکر ممکن ہے۔
    ۳)۔ حضرت امام محمد باقر ں نے ارشاد فرمایاہے کہ:
          ذخر لصاحبکم الصعب!
          قلت:وماالصعب؟
          ”قال:مما کان من سحاب فیہ رعد وصاعقة او برق فصاحبکم یرکبہ اما انہ سیرکب السحاب وبرقی فی الاسباب ، اسباب السمٰوات السبع والارضین۔“ ۳
          تمھارے امام کے لئے سرکش وسیلہ کو ذخیرہ کیا گیا ہے ۔
          راوی کہتا ہے کہ میں نے دریافت کیا کہ مولاوہ سر کش وسیلہ کیا ہے ؟
          ”فرمایا: وہ بادل ہے جس میں گرج چمیک یا بجلی پوشیدہ ہے وہ اس بادل پر سوار ہوگا ۔آگاہ ہو جاؤ کہ عنقریب بادلوں پر سوار ہوگا بلندیوں پر پرواز کرے گا ساتوں آسمانوں اور زمینوں کا سفر کرے گا
          بادل سے یہ عام بادل مراد نہیں ہے یہ تو بخارات کا مجموعہ ہیں یہ اس لائق نہیں ہیں کہ ان کے ذریعہ سفر کیا جا سکے زمین سے بادلوں کا فاصلہ کوئی زیادہ نہیں ہے ۔بلکہ بادل سے ایک ایسے وسیلہ سفر کی طرف اشارہ ہے جس کی رفتار بے پناہ ہے جس کی آواز گرج ،چمک ،اور بجلی جیسی ہے وہ سفر کے دوران آسمانوں کو چیرتا ہوا نکل جائے گا۔
          آج کل کی دنیا میں ہمارے سامنے کوئی ایسا وسیلہ اور ذریعہ سفر نہیںہے جسے مثال کے طور پر پیش کیا جا سکے البتہ صرف” اڑن طشتری “کے ذریعہ اس وسیلہ سفر کا ایک ہلکا سا تصور ذہنوں میں ضرور آسکتا ہے ۔
          ان حدیثوں سے یہ حقیقت بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام کے ظہور کے بعد صنعت ٹکنالوجی کس بام عروج پر ہوںگی۔ان حدیثوں سے یہ بات واضح ہوگئی کہ ظہور کے بعد ترقی ہوگی تنزلی نہیں حضرت جدید ٹکنالو جی کے ذریعہ دنیا میں عدل و انصاف کی حکومت قائم کریں گے لیکن ایک بات جو ذہنوں میں بار بار کھٹکتی ہے وہ یہ کہ کیا حضرت تلوار کے ذریعہ جنگ کریں گے ؟
          اس بات کا جواب یہ ہے کہ روایت میں ”سیف “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ۔”سیف “ یا شمشیر یہ الفاظ جب استعمال کئے جاتے ہیں تو ان سے قدرت و طاقت مراد لی جاتی ہے جس طرح ”قلم “ سے ثقافت کو تعبیر کیا جاتا ہے ۔
          روایات میںلفظ ”سیف “ سے عسکری طاقت مراد ہے ۔
          یہ بات بھی واضح ہو جائے کہ ہر گز یہ خیال بھی ذہنوں میں نہ آئے کہ حضرت ظہور کے بعد یکبارگی تلوار اٹھالیں گے اور ایک طرف سے لوگوں کے سر قلم کرنا شروع کردیں گے ۔
          سب سے پہلے دلائل کے ذریعہ حقائق بیان فرمائیں گے ،افکار کی رہنمائی فرمائیں گے، عقل کو دعوت نظر دیں گے ،مذہب کی اصطلاح میں سب سے پہلے ”اتمام حجت “کریں گے ۔جب ان باتوں سے کوئی فائدہ نہ ہوگا اس وقت تلوار اٹھائیں گے ۔
پھر تو اک برق تپاں جانب اشرار چلی                   نہ چلی بات تو پھر دھوم سے تلوار چلی
           اسلام کو اپنی حقانیت پر اس قدر اعتماد ہے کہ اگر اسلامی تعلیمات واضح طور سے بیان کر دی جائیں تو ہر منصف مزاج فورا تسلیم کرلے گا ۔ ہاں صرف ہٹ دھرم اور تعصب کے اندھے قبول نہ کریں گے اور ان کاتو بس ایک علاج ہے اور وہ ہے تلوار یعنی طاقت کا مظاہرہ۔
---------------------------------------------------
   ۱)۔ بحارالانوار -ج/۵۲،ص/۳۳۰
   ۲)۔ بحارالانوار -ج/۵۲،ص/۳۲۸،طبع جدید
   ۳)۔بحار الانوارج/۵۲ص/۳۲۱
 
طرز حکومت
 
          حضرت مہدی علیہ السلام کے عالمی انقلاب کے لئے تین مراحل ضروری ہیں :
          پہلا مرحلہ :۔ انتظار ،آمدگی ۔علامتیں ۔
          دوسرا مرحلہ :۔ انقلاب ،ظلم وستم سے پیکار۔
          تیسرا مرحلہ:۔عدل و انصاف کی حکومت کا قیام۔
          پہلے اور دوسرے مرحلے کے سلسلے میں گزشتہ صفحات میں بحث کی جا چکی ہے اب ہم تیسرے مرحلے کے بارے میں بعض اہم باتیں قارئین کی نذر کر رہے ہیں:
          ایک ایسی دنیا کا تصور انسان کے لئے کتنا زیادہ وجد آفرین ،اطمینان بخش اور غرور آمیز ہے جہاں طبقاتی اختلافات نہ ہوں ،فتنہ و فساد نہ ہو ۔جنگ و خوں ریزی نہ ہو ،فقر و تنگ دستی نہ ہو ،غریب کے لاشے پر سامراجیوں کے مستانہ قہقہے نہ ہوں ۔قہقہوں کے گردناداروں کی سسکتی آہیں نہ ہوں ،نہ دریا دریا فقر ہو اور نہ کشتی کشتی ثروت․․․․!!
          ایسی دنیا کا تصور ایک افسانہ ضرورمعلوم ہوتا ہے مگر دین اسلام نے اس کو یقینی بتایا ہے اور اس کے خطوط بھی ترسیم کئے ہیں ۔اسلامی نقطہ نظر سے عالمی حکومت کے چند اہم خطوط ملاحظہ ہوں:۔
۱۔ علوم کی برق رفتا ر ترقی
          کوئی بھی انقلاب فکری اور ثقافتی انقلاب کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا ہے ،انقلاب کی بقاء کے لئے فکری اور ثقافتی انقلاب ضروری ہے ۔فکری انقلاب کے دو پہلو ہوں ایک طرف فکری انقلاب انسانوں کو ان علوم کے سیکھنے پر آمادہ کرے جن کی سماج کو ضرورت ہے اور دوسری طرف صحیح انسانی زندگی کے اصول سے واقف کرائے ۔
          حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ایک روایت میں ارشاد فرمایا:
العلم سبعة و عشرون حرفا فجمیع ما جائت بہ الرسل حرفان فلم یعرف الناس حتٰی الیوم غیر الحرفین فاذا قام قائمنا اخرج الخمسة و العشرین حرفا ،فبثھا فی الناس و ضم الیھا الحرفین حتیٰ یثبھا سبعة و عشرین حرفاً “ ۱
          ” علم و دانش کے ستائیس (۲۷)حروف ہیں (۲۷شعبے اور حصے ہیں ) وہ تمام باتیں جو انبیا علیہم السلام اپنی امت کے لئے لائے وہ دو حرف ہیں ،اور آج تک تمام لوگ دو حرفوں سے زیادہ نہیں جانتے ہیں لیکن جس وقت ہمارے قائم کا ظہور ہوگا وہ بقیہ ۲۵حرف (۲۵شعبے اور حصے ) بھی ظاہر فرما دیں گے اور ان کو عوام کے درمیان پھیلا دیں گے اور ۲۵حرفوں میں پہلے کے دو حرف بھی شامل کر لیں گے اس وقت ۲۷حرف مکمل طور سے پھیلائے جائیں گے
          اس حدیث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ حضرت کے ظہور کے بعد علم کس برق رفتار سے ترقی کرے گا اس زمانے کی علمی ترقی آج تک کی تمام ترقیوں کے مقابلے میں بارہ گنا سے زیادہ ہوگی اس وقت علوم و فنون کے تمام دروازے کھل جائیں گے ۔
          حضرت امام محمدباقر علیہ السلام سے ایک روایت نقل ہوئی ہے جس سے گزشتہ حدیث کی تکمیل ہوتی ہے ۔ وہ حدیث یہ ہے :
          ”اذا قام قائمنا وضع اللّٰہ یدہ علی رؤس العباد فجمع بھا عقولھم و کملت بھا احلامھم “ ۲
          ”جس وقت ہمارے قائم کا ظہور ہوگا خدا وند عالم بندوں کے سروں پر ہاتھ رکھے گا جس سے ان کی عقلیں کامل اور ان کے افکار کی تکمیل ہوگی
          حضرت مہدی علیہ السلام کی رہبری میں اور آپ کے وجود کی برکت سے لوگوں کی عقلیں کا مل ہو جائیں گی ۔افکار میں وسعت پیدا ہوجائے گی تنگ نظر ی اور کوتاہ فکری کا خاتمہ ہو جائے گا اور اس طرح وہ چیز یں بھی فنا ہو جائیں گی جو تنگ نظری اور کوتاہ فکری کی پیدا وار تھیں ۔
          اس وقت کے لوگ وسیع نظر بلند افکار کشادہ دلی اور خندہ پیشانی کے مالک ہوں گے جو سماج کی مشکلات اپنی پاکیزہ روح اور طاہر افکار سے حل کردیں گے ۔
۲۔ صنعت کی بے مثالی ترقی
          ”فتح کا انداز“کے عنوان کے تحت پہلی دوسری ۔اور۔تیسری حدیث جو نقل کی ہے اس میں صنعت اور ٹکنالو جی کی غیر معمولی ترقی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔مواصلات کا نظام اتنا زیادہ ترقی یافتہ ہو جائے گا کہ وسیع و عریض کا ئنات ہاتھ کی ہتھیلی کی مانند ہو جائے گی ساری دنیا پر مرکز کی پوری پوری نظر ہوگی تاکہ رو نما ہونے والے واقعات کا فوری حل تلاش کیا جاسکے ۔
           روشنی اور انرجی کا مسئلہ اس حد تک حل ہو جائے گا کہ لوگ سورج کی روشنی کے محتاج نہ رہیں گے ۔ اس وقت سفر کے ایسے ذرائع ایجا د ہوں گے جن کی تیز رفتاری کا آج ہم تصور بھی نہیں کر سکتے ایسے ذرائع ہوں گے جس سے زمین کیا آسمان کی وسعتوں میں بھی سفر کیا جائے گا۔
          صنعت و ٹکنالو جی کی برق رفتاری کے سلسلے میں ذیل کی حدیث خاص توجہ کی طالب ہے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے :
          ”ان قائمنا اذا قام مد اللّٰہ بشیعتنا فی اسماعھم و ابصارھم حتٰی لایکون بینھم و بین القائم برید یکلمھم فیسمعون و ینظرون الیہ و ھو فی مکانہ “   ۳
بے شک جس وقت ہمارے قائم کا ظہور ہوگا خدا وند عالم ہمارے شیعوں کی سماعت اور بصارت کو اتنا تیز کردے گا کہ ان کے اور قائم کے درمیان کوئی نامہ بر نہ ہوگا ،وہ شیعوں سے گفتگو کریں گے اور یہ لوگ سنیں گے اور قائم کی زیارت کریں گے جب کہ وہ اپنی جگہ پر ہوں گے
          اس وقت مواصلات کا نظام اتنا زیادہ ترقی یافتہ ہو جائے گا کہ ہر ایک شخص اس سے استفادہ کر سکے گا لوگ اپنی اپنی جگہوں سے حضرت کی زیارت کریں گے اور حضرت کی آواز سنیں گے ۔اس وقت ڈاک و تار کا نظام غیر ضروری چیز وں میں شمار ہونے لگے گا ۔پیغام رسانی کے لئے ہر ایک کے پاس اپنا ذریعہ ہوگا۔!! 
          اس سلسلے کی ایک دوسری حدیث بھی ملاحظہ ہو ۔یہ حدیث بھی حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے :
          ” ان الموٴمن فی زمان قائم و ھوبالمشرق سیری اخاہ الذی فی المغرب و کذا لذی فی المغرب یریٰ اخاہ الذی بالمشرق“ ۴
          ” قائم کے زمانے میں مومنین کا حال یہ ہوگا کہ مشرق کے رہنے والے مغرب کے مومنین کو وہ دیکھیں گے اور مغرب کے رہنے والے مشرق کے مومنین کو دیکھیں گے
          صرف حکومت کے اور عوام کے درمیان ہی براہ راست رابطہ نہ ہوگا بلکہ عوام کا بھی ایک دوسرے سے براہ راست رابطہ ہوگا ۔ اور اس طرح علم صنعت عدل و انصاف کی بنیاد پر سماج کی تشکیل نو کریں گے سماج میں ہر طرف صدق و صفا ،اخوت و برادری کا چرچا ہوگا۔
---------------------------------------------
   ۱)۔بحار الانوار ج/۵۲ص/۳۳۶
   ۲)۔بحار الانوار ج/۵۲ص/۳۲۸
   ۳)۔بحار الانوار ج/۵۲ص/۳۳۶
   ۴)۔منتخب الاثر ص/۴۸۳
 
 
 
 
 
۳۔ اقتصادی ترقیاں اور عدالتِ اجتماعی
          جس زمین پر ہم زندگی بسر کر رہے ہیں اس میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ موجودہ نسل اور آنے والی نسلوں کی کفالت کر سکے ،لیکن بہت سے منابع کا ہمیں علم نہیں ہے اور تقسیم کا نظام بھی صحیح نہیں ہے ۔یہی وجہ ہے کہ آج غذا کی قلت کا احساس ہو رہا ہے اور ہر روز لوگ بھوک سے جان دے رہے ہیں اس وقت دنیا پر جس اقتصاد ی نظام کی حکومت ہے وہ ایک استعماری نظام ہے جو اپنے زیر سایہ ”قانون جنگل “ کی پرورش کر رہا ہے ۔وہ لوگ جو زمین میں پوشیدہ ذخیروں کا پتہ لگا تے ،انسانیت کی فلاح و بہبودی کی کوشش کرتے ہیں وہ استعمار کی بارگاہ ظلم و استبداد میں ”امن و امان “ کی خاطر بھینٹ جڑھادیئے جاتے ہیں۔
          لیکن جس وقت اس دنیا سے استعماری نظام کا خاتمہ ہو جائے گا اور اسی کے ساتھ ساتھ ”قانون جنگل “بھی نابود ہو جائے گا ،اس وقت زمین میں پوشیدہ خزانوں سے بھی استفادہ کیا جا سکے گا اور نئے ذخیر وں کی تلاش ہو سکے گی ۔علم و دانش بھی اقتصاد یات کی بہتر ی میں سرگرم رہیںگے ۔
          حضرت مہدی کے سلسلے میں جو روایات وارد ہوئی ہیں ان میں اقتصادیات کی بہتری کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے ۔ذیل کی سطروں میں اس سلسلے کی چند حدیثیں ملاحظہ ہوں:
          ”انہ یبلغ سلطانہ المشرق و المغرب و تظھر لہ الکنوز ولا یبقی فی الارض خراب الا یعمّرہ
          ”آپ کی حکومت مشرق سے مغرب تک احاطہ کئے ہوگی، زمین کے خزانے آپ کے لئے ظاہر ہو جائیں گے زمین کا کوئی حصہ غیر آباد نہیں رہے گا
          غیر آبادی زمینیں افراد ،مال ،یا ذرائع کی کمی کی بنا پر نہیںہیں بلکہ یہ زمینیں انسان کی ویران کردہ ہیں ظہور کے بعد انسان تعمیر کرے گا تخریب نہیں ۔
          اس سلسلہ کی ایک دوسری حدیث ملاحظہ ہو ،یہ حدیث حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے :
   ”اذا قام القائم حکم بالعدل۔ وارتفع الجور فی ایامہ ۔ وامنت بہ السبل ۔ و اخرجت الارض برکاتھا ۔ ورد کل حق الی اھلہ ۔ و حکم بین الناس بحکم داوود  و حکم محمد ۔ فحینئذ تظھر الارض کنوزھا۔ ولا یجد الرجل منکم یومئذ موضعا لصدقتہ ولا لبرہ ،لشمول الغنی جمیع المومنین
          ” جس وقت ہمارے قائم کا ظہور ہوگا ،عدل و انصاف کی بنیاد پر حکومت قائم کریں گے ،ان کے زمانہ میں ظلم و جور نابود ہو جائیںگے ،راستوں پر امن و امان ہوگا ،زمینیں اپنی برکتیں ظاہر کر دے گی ،صاحبان حقوق کو ان کے حق مل جائیںگے ۔عوام کے درمیان جناب داؤد اور حضرت محمد مصطفےٰ (ص)کی طرح فیصلہ کریں گے ۔ اس موقع پر زمین اپنے تمام خزانے ظاہر کردے گی ۔ کسی کو صدقہ دینے یا مالی امداد کا کوئی موقع نہ ملے گا کیوں کہ اس وقت تمام لوگ مستغنی ہو چکے ہوں گے
          زمین کا اپنی برکتوں کو اور خزانوں کو ظاہر کر دینا بتا رہا ہے کہ اس وقت زراعت بھی عروج پر ہوگی اور زمین میں پوشیدہ تمام منابع کا انکشاف ہوگا عوام کی سالانہ آمدنی اتنی ہوگی کہ سماج میں کوئی فقیر نہ ہوگا ، سب کے سب خود کفیل ہو چکے ہوں گے ۔
          جس وقت عدل وانصاف کی بنیاد پر حکومت قائم ہوگی اور ہر شخص کی استعداد سے بھر پور استفادہ کیا جائے گا جس وقت تمام انسانی طاقتیں زراعت اور منابع کے انکشاف میں لگ جائیں گی تو روزانہ نئے خزانے کا انکشاف ہوگا اور ہر روز زراعت میں ترقی ہوگی ،غذائی اشیاء کی قلتیں ،بھوک ،پریشانی وغیرہ کی وجہ غیر منصفانہ طرز تقسیم ہے ۔یہ تقسیم کا نقص ہے کہ کہیں سرمایہ کی بہتاب ہے اور کہیں دو لقمہ کو کوئی ترس رہا ہے ۔
          حضرت مہدی کے دوران حکومت صرف زراعت میں ترقی اور زمین میں پوشیدہ خزانو ں ہی کا انکشاف نہ ہوگا بلکہ اس دور میں شہر اس وقت سے زیادہ آباد ہوں گے ،چوڑی چوڑی سڑکیں ہوں گی ۔ عین سادگی کے ساتھ وسیع مسجدیں ہوں گی گھر وں کی تعمیر اس طرح ہوگی کہ کسی دوسرے کو اس سے کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اس سلسلے میں چند روایتیں ملاحظہ ہوں:
        ۱۔         حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے:
          ”ویبنیٰ فی ظھرالکوفہ مسجد الہ الف باب ویتصل بیوت الکوفہ بنھر کربلا وبالحیرة “   ۱
          ”کوفہ کی پشت پر ایک ایسی مسجد تعمیر کرےں گے جس کے ہزار دروازے ہوں گے اور کوفہ کے مکانات کربلا کی نہر اور حیرہ سے مل جائےں گے ۔“سب جانتے ہیں کہ اس وقت کوفہ سے کربلا کافاصلہ ۹۰ کلومیٹرہے ۔ 
       ۲۔          حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کاارشاد ہے کہ :
          ”اذاقام القائم ۔یکون المساجد کلھا جمالاشرف فیھا کماکان علیٰ عہد رسول اللہ   (ص)۔ویوسع الطریق الاعظم فیصیر ستین ذراعا۔ویھدم کل مسجد علی الطریق۔ویسدکل کوة الی الطریق۔وکل جناح وکنیف ومیزاب الی الطریق “   ۲
جس وقت حضرت قائم کا ظہور ہوگااس وقت مسجدوں کی چھوٹی چھوٹی دیوارےں ہوں گی مینار نہیں ہوں گے اس وقت مسجدوں کی وہی شکل ہوگی جورسول اللہ (ص)کے زمانہ میں تھے ۔شاہراہیں وسیع کی جائیں گی یہاں تک ایک کہ ان کی چوڑا ئی ساٹھ گز ہوجائے گی ۔وہ تمام مسجدیں منہدم کردی جائےں گی جو راستیں پر ہوں گی (جس سے آنے جانے والوں کو زحمت ہوتی ہوگی )۔وہ کھڑ کیاں اور جنگلے بھی بندکردیے جائیں گے جوراستوں کی طرف کھلتے ہوں گے ۔وہ چھجے پر نالے اور گھروں کا گندہ پانی جس سے راستہ چلنے والوں کو تکلیف ہوگی وہ ختم کردیے جائےں گے ۔
      ۳۔حضرت امام جعفر صاق علیہ اسلام سے ایک طولانی حدیث میں وارد ہوا ہے کہ:
          ”․․․․․․․․․ولیصیرن الکوفہ اربعةوخمسین میلا ولیجارون قصور ھا کربلا ولیصیرن اللّٰہ کربلا معقلا ومقاما․․․․․․․“ ۳ 
          ” وہ کوفہ کی مسافت ۵۴ میل کر دیں گے کوفہ کے مکانات کربلا تک پہنچ جائیں گے اور خدا کربلا کو سر گرمیوں کا مرکز قرار دے گا
          زراعت ،تعمیر ات ،آبادکار ی وغیرہ کے سلسلے میں کافی مقدار میں روایتیں وارد ہوئی ہیں مزید روایتوں کے لئے” منتخب الاثر “کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے ۔
۴۔ عدلیہ
          ظلم و جور ستم و استبداد نا انصافی ونابرابری کاقلع قمع کرنے کے لئے جہاں ایمان واخلاق کی سخت ضرورت ہے وہاں صحیح نظام کے لئے طاقتور عدلیہ کی بھی ضرورت ہے ۔صنعت اور ٹکنالو جی کی ترقی کی بنا پر یہ ممکن ہو جائے گا کہ انسانوں کی حرکات و سکنات پر نظر رکھی جا سکے ان اقدامات پر پابندی عائد کی جا سکے جو فساد کی خاطر کئے جا تے ہیں مجرموں کی آواز یں ٹیپ کرنا ان کے خفیہ اعمال کی تصور لینا ․․․ ان چیزوں سے مجرموں پر گرفت مضبوط ہو جائے گی مجرموں کی نگرانی کا میاب حکومت کے لئے بہت ضروری ہے ۔
          اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت کے زمانے میں اخلاقی تعلیمات اتنی عام ہو جائیں گی کہ عوام کی اکثریت سعادتمند معاشرے کی تشکیل کے لئے آمادہ ہو جائے گی عوام کو اخلاقی تربیت سے سماج کے کافی مسائل حل ہو جائیں گے ۔
          لیکن انسان آزاد پیدا کیا گیا ہے اپنے اعمال میں اسے پورا اختیار حاصل ہے اس لئے اس بات کا امکان ضرور ہے کہ ایک صحت مند سماج میں ایسے افراد پائے جائیں جو خواہ مخواہ فساد پھیلانا چاہتے ہوں۔اس بنا پر سماج کی مکمل اصلاح کے لئے وسیع الاختیار عدلیہ کی ضرورت ہے تاکہ مجرموں کو ان کے جرم کا بدلہ دیا جا سکے ۔جرائم کے علل و اسباب پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے جرائم کو ان طریقوں سے روکا جا سکتا ہے ۔
۱۔ عادلانہ تقسیم
          ضروریات زندگی کی عادلانہ تقسیم سے کافی جرائم ختم ہو جاتے ہیں ۔عادلانہ تقسیم سے طبقاتی کش مکش ختم ہو جاتی ہے ۔ذخیرہ اندوزی،چور بازاری ،گراں فروشی اور سرمایہ داروں کی ناروا سختیاں نیز سرمایہ داروں کی باہمی چپقلش سب کافی حد تک ختم ہو جائیں گی ۔
 ۲۔ صحیح تربیت
          صحیح تربیت بھی مفاسد اور جرائم کی روک تھام میں کافی موثر ہے اس وقت دنیا میں فساد کی گرم بازاری ،جرائم کی فراوانی اس وجہ سے ہے کہ تعلیم کے لئے تو ضرور نئے طریقہ اختیار کئے جا رہے ہیں لیکن تربیت کا کوئی معقول انتظام نہیں ہے تعلیم کو صحیح راستے پر لگانے کے بجائے تعلیم سے فساد کی شاہراہ تعمیر کی جا رہی ہے غیر اخلاقی فلمیں ،ڈرامے کتابیں ،اخبار ،رسالے ،انسان کے اخلاقیات پر حملہ آورہیں ،لیکن جب تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کا بھی جدید ترین معقول انتظام ہوگا ،عالمی حکومت انسانوں کی تربیت پر بھر پور توجہ دے گی وہ مفاسد اور جرائم خود بخود ختم ہو جائیں گے جن کا سر چشمہ عدم تربیت یا ناقص تربیت ہے ۔
 ۳۔ طاقت ور عدلیہ
          ایک ایسی عدلیہ کا وجود جس سے نہ مجرم فرار کر سکتا ہے اور نہ فیصلوں سے سرتابی اس وقت دنیا کے ہر ملک میں عدلیہ موجود ہے ،لیکن یا تو عدلیہ کی رفت مجرم پر مضبوط نہیں ہے یا عدلیہ میں صحیح فیصلے کی صلاحیت نہیں ہے یا دونوں ہی میں نقص موجود ہیں بلکہ بعض مجرم عدلیہ کی شہ پر جرم کرتے ہیں۔
          لیکن ایک ایسی عدلیہ جس کی گرفت بھی مجرم پر سخت ہو اور جو فیصلوں میں رورعایت نہ کرتی ہو ،فساد اور جرائم کے انسداد میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ اگر یہ تینوں باتیں یکجا ہو جائیں ،عادلانہ تقسیم ،صحیح تربیت اورطاقتور عدلیہ تو آپ خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کتنے عظیم پیمانے پر جرائم کا سدباب ہو جائے گا اور سماج کی اصلاح میں کس قدر موثر اقدام ہوگا ۔
          روایات سے استفادہ ہوتا ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام کے زمانہ حکومت میں یہ تینوں عوامل اپنے عروج پر ہوں گے ۔
 
مدت حکومت
 
          احادیث میں حضرت کی حکومت کے سلسلے میں مختلف روایتیں ملتی ہیں روایتیں ۵سال سے ۳۰۹سال ( جتنے دنوں اصحاب کہف غار میں سوتے رہے )تک ہیں یہ مختلف اعداد ہو سکتا ہے کہ حکومت کے مختلف مراحل کی طرف اشارہ کر رہے ہوں ۔مرحلہ انقلاب ،مرحلہ استحکام اور مرحلہ حکومت․․․․
          ان تمام باتوں سے قطع نظر یہ ایک حقیقت ہے کہ مدتوں کا انتظار ،یہ تیاریاں ، یہ مقدمات ․․․ کسی ایسی حکومت کے لئے زیب نہیں دیتے جس کی عمر مختصر ہو حضرت  کی حکومت کی عمر یقینا طولانی ہوگی تاکہ ساری زحمتیں ثمر آور ہو سکیں ۔ویسے حقائق کا علم ذات احدیت کو ہے ۔
خدا یاتوفیق عطا فرماکہ ہم صحیح معنوں میں منتظر بن سکیںاور ہمارا شمار حضرت  کے اعوان و انصار میں ہو۔آمین
----------------------------------------------------
   ۱۔ بحار الانوار
   ۲ و۳۔بحار الانوار ج/۱۲ص/۱۵۶ مطبوعہ امین الضرب

[ دیدار کی تعداد : 280]

صارفین کے نظریات

نام
ایمیل ایڈرس
تحریر
حفاظتی کوڈ