زندگینامه حضرت آیة الله العظمی محمد رضا موسوی گلپایگانی(ره)
علماء ربانی، انبیاء الهی کے وارث اور حضرت امام زمانه (عج) کے نماینده هو تے هیں اور یه حضرت توحید، رسالت اور ولایت سے دفاع کرنے کے لیے مستحکم قلعه هوتے هیں. آسمان کے ان چمکتے هوے ستاروں میں سے ایک ستاره مرحوم آیة الله العظمی آقای حاج سید محمد رضا موسوی فقیه گلپایگانی قدس الله نفسه زکیه تهے یه بزرگ شخصیت نصف صدی تک مرجعیت اور زعامت دینی کے آسمان میں خورشید کی طرح چمکتا رها اور هزاروں فقهاء و مجتهدین کو اپنے پرفیض مکتب میں پرورش کرتا رها آپ کی شخصیت بهت سے سماجی اور فلاحی امور کا سبب قرار پائی.
1. اسی(۸۰) سال تک تدریس اور معارف دینی کے فرایض انجام دیتے رهے.
2. چالیس سال تک شیعه حوزه علمیه کے زعیم قرار پائے.
3. مدرسه آیة الله العظمیں گلپایگانی کی تاسیس جو 14000 مٹر مربع میں واقع هے اور اس مدرسه میں روزآنه 350 جلسه درس فقه و اصول کے هوتے هیں اور اس مدرسه میں ایک بهت بڑا کتب خانه هے جو محققین کی ضرورتوں کو پورا کرتا هے.
4. مؤسسه دار القرآن کریم کی تاسیس جس میں لاکهوں جوانوں کو پورے ملک ایران میں قرآن کی تعلیم و تربیت دی جاتی هے. قرآن کریم کی حوزه علمیه قم کے نام سے طباعت اور اس کو پوری دنیا میں منتشر کرنا، پوری دنیا سے قرآن کے مختلف زبانوں میں تراجم اور تفاسیر کو جمع کرنا، قرآن سے متعلق ایک تحقیقی مجله عربی اور فارسی زبان میں جاری کرنا.
5. معجم فقهی کا مرکز قائم کرنا. جس میں جدید تکنولوجی سے استفاده کرتے هوئے معارف اهل بیت کو گسترش دی اس مرکز کے پروگرام مندج ذیل هیں:
· فقهی، حدیث اور اصول کے معجم کا پروگرام. جس میں هزارو جلد کتاب.
· ایک پر حجم (cd) امام مهدی (عج) کے نام سے. جس میں قرآن، نهج البلاغه، صحیفه سجادیه اور امام مهدی(عج) کی احادیث کی معجم جمع کی هے.
· لغت فقه(علم فقه کے تمام مهم الفاظ کی فهرست).
· علماء کی سوانح حیات کا پروگرام مختلف ادوار میں.
· فقهی ابواب کا پرورگرام. جس میں فقه شیعه اور اهل بیت(ع) کی کتابوں کے تمام ابواب کو ان کے حوالوں کے ساته تلاش کیا جا سکتا هے.
6. سماجی اور فلاحی خدمات.
· گلپایگانی هسپتال کا قیام. ان طلاب دینی اور افراد کے لیے جنهوں نے زمان کے طاغوت(شاه) سے۔ جنگ ایران سے دفاع کرتے وقت سماج او رمعاشره کیلیے اچهی خدمات انجام دی تهی.
· لبنان میں عمارت مدینة الزهراء کا قیام.
· شهر قم میں مسجد امام حسن عسکری کا توسعه جو 25 هزار متر مربع میں واقع هے.
· شهر گلپایگان کے گوگده دیهات میں ایک هسپتال کا قیام جس میں سو بید هیں اور اس کی مساحت 7 هزار متر مربع هے .
· شهرو اور دیهاتو میں علماء کیلیے بهت سے گهروں کی تعمیر.
7. بین الاقوامیں خدمات.
· لندن میں مجمع اسلامی جهانی کی تاسیس جو پور یورپ میں شیعوں کا ایک تهذیبی مرکز هے جس میں دینی و معنوی پروگرام، انگلستان اور یوروپ ک ےدوسر شهروں میں معارف اهل بیت کی نشرو اشاعت. اسی طرح اس مرکز میں بهت سے افراد نے مکتب حق اهلبیت کو قبول کیا اور آج بهی لندن میں شیعوں کی سب سے بڑی نماز جمعه اس مرکز میں قائم هوتی هے .
· پاکستان ک شهر کویته میں مدرسه امیرالمومنین کی تاسیس.
· پاکستان ک شهر راولپندی میں مدرسه آیت الله حکیم کی تاسیس.
· لبنان میں مدینة الزهراء کی تاسیس.
· لبنان میں دار الایتام کا قیام.
8. موسم حج میں آپ کا
· مکتب اهل بیت کے دفاع میں هزاروں جلد کتاب مختلف ملکوں کے حاجیوں کے درمیان تقسیم کرنا.
· حج کے دوران عقاید وکلام سے متعلق سوالوں کا جواب دینا.
· حجاج کی راهمائی کے لیے مناسب خدمات انجام دینا اور کتب آداب و مناسک حج اور مسایل شرعیه کو تقسیم کرانا.
9. آپ کی علمی اور قلمی آثار.
· عروة الوثقی پر تعلیقه.
· شیخ عبد الکریم حائری کی در الفواید پر تعلیقه.
· کتب: الحج، القضاء، الشهادات، حدود، احکام النساء، صلاة الجمعه، الهدایة(ولایة سے متعلق)، مجمع المسایل اور مختلف ابواب میں بهت سے مجله اور تقریری .
10. سیرت و اخلاق الهی.
· عبادت: 70 سال تک سحر کے وقت حرم حضرت معصومه قم (س)میں حاضری دیتے تهے.
· قرآن سے انسیت: آپ روزآنه ایک یا دو جزء قرآن مجید کے پڑهتے تهے، قرآن پڑهتے وقت آپ کی حالت متغیر هوجاتی تهی اور آپ فرماتے تهے : اگرفکر وتدبر کے ساتھ تلاوت کی جاے تو قرآن بهترین نصیحت هے.
· آپ کو اهل بیت عصمت وطهارت سے ولایت و عشق حد سے زیاده تها.
· حضرت فاطمه زهرا (س) کی شهادت کے روز (3 جمادی الثانیه) آپ پا برهنه عزادروں کے آگے آگے چلتے تهے اوراس طرح حرم حضرت معصومه تک جلوس کے ساتھ جاتے تهے.
· هر هفته اپنے گهر میں عزاداری سید الشهداء کا برپا کرنا آپ کا معمول تها اور آپ اپنی مرجعیت اور اپنے عهده کو مد نظر رکهت هوئے فرماتے تهے : میں چاهتا هوں که میرا نام سید الشهداء کے ذاکرین میں شمار هو.
· آپ نهایت مودب، متواضع، صابر، مخلص اور هر کام کو منظم طریقه سے انجام دیتے تهے.
11.مبارزات سیاسی: آیة الله خامنه ای آپ کے متعلق فرماتے هیں که : آیة الله العظمی گلپایگانی کا شمار انقلاب اور حکومت اسلامی کے محکم حمایت کرنے والوں میں هوتا تها اور جس سال امام خمینی(ره) کو تبعید کیا گیا صرف آپ کی آواز تهی جو حوزه علمیه سے بلند هوئی اور انقلاب کو پروان چرهاتی چلی گئی.
12.آپ تمام هر طرح سے امام خمینی(ره) کی فکر سے متحد تهے، امام خمینی (ره) کی وفات کے وقت آپ نے فرمایا: ایسی شخصیت نے دعوت حق کو لبیک کها هے که جس نے بهت بڑی مجاهدت ، فداکاری اور رهبری کے ذریعه تمام عالم میں اسلام کو زنده کیا اور تکبیر(الله اکبر) و توحید کی آواز کو تمام دنیا تک پهنچایا. مسلمانوأ کی عزت او ربزرگی کو واپس کروایا اور اپنی آواز سغ بڑی بڑی طاقتوں کو لرزا کر رکھ دیا.
آپ کی وصیت کے تیسرے بند میں بیان هوا هے:
میں اصل جمهوری اسلامی کی حفاظت واجب سمهتا هوں اور محترم مسولین کی ذمه داری هے که وه اسلام کے سیدهے راستے سے منحرف نه هوں اور ان کو سعی و کوشش کرنی چاهی تاکه نظام حکومت اسلامی کو اسلام س اچهی طرح منتطبق کرسکیں.
آپ کی تاکیدوں می سے ایک تاکید یه تهی که حوزه علمیه خود مستقل هو اور حکومت و حزب سے اس کا کوئی تعلق نه هو.
آیة الله العظمی مکارم شرازی نے فرمایا: میں طلاب علوم دینی کو تاکید کرتا هوں که وه اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی حواله سے قوی هوں اور حوزه علمیه مستقل اور اپنے پیروں پر کهڑا هو.
آپ کی وفات کی خبر سن کر پوری دنیا میں محبان اهل بیت (ع) نے غم منایا.
آپ اس حدیث شریف (صائنا لنفسه حافظا لدینه مخالفا لهواه مطیعا لامر مولاه) کے بارز مصداق تهے. آپ نے شب جمعه 24 جمادی الثانیه 1414 کو 98 سال کی عمر میں اس دار فانی سے دعوت حق کو لبیک کها. آپ کی روح مطهر پر لاکهوں درود هو.
|