Home Email archive AddFavorite    
 


مهدويت اور قرآن

مهدويت اور اهل بيت(ع)

مهدويت اور حكومت

مهدويت اور امامت

مهدويت اور سفیر

مهدويت اور ہماری ذمہ داریاں

مهدويت اور كرامات

مهدویت و نقصان دہ چیزوں کی پہچان

مهدويت اور فتنے

مهدويت اور اصحاب کے صفات

مهدويت اور ظهور

مهدویت اور جھوٹے دعوے

مهدویت اور غیبت

مهدویت اور عالمی مستکبرین

مهدویت اور دعائیں

مهدویت اور مستشرقین

مهدویت اور رجعت

مهدویت، ادب، تهذیب و ثقافت



خبرنامہ

نام
ایمیل
گروہ












اتفاقی فوٹو

حضرت امام مہدی کے بارے میں اہل سنت سے مروی احادیث * ایسا نور جس کے بعد کسی ظلمت کا امکان نہیں ہے * ائمہ ، خدا کی مخلوق پر اس کے گواہ ہیں * نور درخشاں * روشنی کی علامت * عدالت کا گلستاں * مشترکات قرآن اور حجت زمان * عصر غیبت میں ہماری ذمہ داریاں * عریضہ وجواب عریضہ * ظهور کی خاص علامتیں * امامت آیہء تطہیرکی روشنی میں



منکر مہدی کافراور واجب القتل ہے

یہ بات طےہے کہ عقیدہ مہدویت صدر اسلام سے ہی مسلمانوں کے درمیان مشہور تھا ، اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ والہ) نے ایک بار نہیں بار بار حضرت امام مہدی(عج) کے وجود اورظہور کی خبردی ، اس سلسلے میں آپ نےجو احادیث بیان فرمائی ہے وہ شیعہ ، سنی طریقوں سے ہم تک پہنچی ہے اورعلماءاسلام ان احادیث کو متواتر جانا ہے اوراجماع کا ادعا کیا ہے ۔ اوربعض علماءاہل سنت نے تصریح کی ہے کہ 


غلط تطبيق

امام مهدي کے متعلق ابحاث ميں ايک اور مضر چيز غلط تطبيق هے يعني بعض لوگ امام کے ظهور کے حوالے سے چند روايات سننے يا پڑھنے کے بعد خود هي انهيں بعض افراد يا حادثات پر تطبيق ديتے هيں البته يهاں صرف تطبيق دینے سے کوئ خطره نهيں هے بلکه خطرناک چيز يه هے که چند روايات پڑھنے کے بعد بغير کسي تاريخي اور سندي تحقيق اور صحيح و غلط کي استعداد کے کچھ لوگ يهاں اپني نظر بيان کرنے لگتے هيں اور ان سے کچھ دعوے منظر عام پر آتے هيں جو عام لوگوں کي گمراهي کا سبب بنتے هيں –

عقیدہ مہدویت اور متعرضین کا اعتراض

      جس طرح منکرین عقیدہ مہدویت نے شیعوں کے عقیدہ مہدویت پر اعتراض کئے ہیں اسی طرح اس عقیدے کے ظاہرا معتقد اہل سنت لوگوں نے بھی حضرت امام مہدی(عج) سے متعلق شیعوں کے تصور کو مورد حملہ قرار دیا ہے ، قارئین محترم کی اطلاع کے لئے ہم یہاں پر دو مصنفین کے اقوال پیش کرتے ہیں ۔



سائٹ میں عضویت

صارف کوڈ
پاسورڈ







فیڈ بک

نام :

ایمیل:

پیغام کا موضوع :

آپ کا پیغام :


دیدار کرنے والوں کی تعداد

204037