امام زمانہ(عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ظہور سے قبل معاشرہ کی ایک مشکل تندرستی و علاج کا فقدان ہے جس کے نتیجے میں بیماریوں کا عام رواج اور مرگ ناگہانی (اچانک) کی پوری دنیا میں زیادتی و کثرت ہو گی عام بیماریاں جیسے
امام زمانہ عج کی طولانی عمر مبارک کے حوالے سے گفتگو کی دو جہاتہیں:
(۱) جو لوگ کائنات کو ظاھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور محض اس کے مادی و عنصری جنبہ کو تسلیم کرتے ہیں اور اس کائنات کے ماوراء اس نادیدہ خالق کو نہیں مانتے کہ
حضرت ولی عصر علیہ السلام کی ولادت باسعادت اور آپ کے وجود مبارک سے متعلق روایات بھی بے شمار ہیں، ہم نے اپنی کتاب منتخب الاثر کی فصل سوم کے باب اول میں اس موضوع سے متعلق دو سو سے زیادہ روایات نقل کی ہیں،علامہ سید میر محمد صادق خاتون آبادی اپنی کتاب اربعین میں فرماتے ہیں
انسانیت ہمیشہ سے جن چیزوں کی متلاشی ہے ان میں سے ایک مسئلہ طویل عمر کا بھی ہے،صحت وتندرستی کے ساتھ طویل عمر ایسی بیش بہا نعمت ہے جس کی کوئی قیمت معین نہیں کی جاسکتی۔انسانی وجود میں حب ذات، حبّ بقا ودوام اور فطری خواہشات ہمیشہ سے انسان کو طویل عمر کا عاشق وشیدا بنائے ہوئے ہیں اور یہی چیزیں انسان کو اس راہ میں سعی پیہم اور جہد مسلسل پر آمادہ کرتی ہیں کہ بہت کم مدت کے لئے ہی سہی مگر سلسلہٴ عمر کچھ اور دراز ہوجائے۔
اگرچہ گزشتہ صفحات میں ہم نے طویل عمر کے امکان کے بارے میں کافی وضاحت پیش کردی ہے لیکن اس مسئلے کی تاریخی حیثیت نمایاں کرنے کے لئے قارئین کرام کو تاریخ، سیرت اور سوانح حیات سے متعلق معتبر کتب کے مطالعہ کی دعوت دیتے ہیں تاکہ انھیں اندازہ ہوجائے کہ طول عمر کا مسئلہ تاریخی لحاظ سے ہمیشہ قابل قبول رہا ہے سوانح حیات کی کتب میں تو بہت سے افراد کے طولانی سن وسال کا تذکرہ مل ہی جائے گا لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت زیادہ عمر بسر کرنے والے افراد کے حالات زندگی سے متعلق خصوصی کتب بھی تحریر کی گئی ہیں۔
زمانه غیبت میں امام زمانه(عج) کے منتظرین کےلیے ایک بڑا خطره وه لوگ هیں که جو بغیر کسی دلیل کے کسی ساده اتفاق کو امام سے ملاقات کا رنگ دیکر مدعی ملاقات بن جاتے هیں یا وه لوگ که جو اپنی ذمه داری صرف امام سے ملاقات کو سمجھتے هیں اور باقی تمام شرعی وظاﺋف سے غافل هوتے هیں اور لوگوں کو بھی فقط اسی عمل کی طرف ایک سب سے بڑا وظیفه کے عنوان سے دعوت دیتے هیں
مسجد جمکران کا ایک خادم نقل کرتا ہے کہ :
عاشورا سے ایک روز قبل میں مسجد میں ٹہل رہا تھا اور مسجد آج بہت خالی لگ رہی تھی ایک دم ایک شخص کو دیکھا جو بہت ہیجان میں محسوس ہورہا تھا
میری شادی کو سولہ سال ہوئے تھے اور میں ابھی تک صاحب اولاد نہ ہوا تھا مختلف سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی طرف رجوع کیا اور مختلف اقسام کی دوائیں بھی استعمال کیں لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلا
ایک جوان حکایت کرتا ہے کہ میں مسموم ہونے کی بنا پر شیراز میں چند دن نمازی ھسپتال میں بے ہوش رہا، ڈاکٹر میری صحت یابی سے مایوس ہوچکے تھے میرا بھائی جوان لمحات میں میرے قریب تھا بتا رہا تھا کہ میں نے دل کی دھڑکنوں کا بتانی والی مشین کی سکرین پر دیکھ رہا تھا کہ سیدھی لائن آنی شروع ہوگئی ہے،
حضرت امام مھدی (عج) کی زندگی کا ایک حصہ بچپن کا زمانہ ھے جس میں آپ کے ذریعہ بھت سے معجزات اور کرامات رونما ھوئی ھیں ، جبکہ اس آخری حجت خدا کی زندگی کے اس حصے سے ہم غافل ہیں، ھم صرف ان میں سے ایک نمونہ پیش کرتے ھیں:
ایک پانچ سالہ لڑکے کا والد حکایت کرتا ہے کہ ایکسیڈنٹ کے نتیجے میں میرے بیٹے کو ہاتھ ، پاؤں اور سر پر چوٹیں آئیں تین سال تک وہ تہران میں فیروزگر ہسپتال اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا ہسپتال میں زیر علاج رہا کچھ حد تک ٹھیک ہونے کے بعد ڈاکٹروں کی رائے یہ تھی کہ اس میں چالیس فیصد معذوریت ہے
ایک جوان حکایت کرتا ہے کہ :آٹھ سال قبل جناب عمران محاز پر عراقی ہوائی حملہ میں زخمی ہوا اور تقریبا میرا تمام بدن مفلوج ہوگیا اور میں بعض جگہ ہلنے جلنے پر قادر نہ تھا ایک روز میری والدہ میرے گھر میں آئیں اور ایسی سخت بات کی کہ میرا دل ٹوٹ گیا اور میں امام زمان علیہ السلام کی ذات سے متوسل ہوا اور عرض کی اے امام زمان یا اللہ سے مجھے موت دلوا دیجیئے یا شفا دلوا دیں،
ایک بوڑھا شخص نقل کرتا ہے کہ میری بیماری بخار سے شروع ہوئی تھی ۲۵دنوں میں میری حالت ابتر ہوچکی تھی، میں شہید مصطفی خمینی ہسپتال میں داخل ہوچکا تھا کچھ کھا بھی نہیں سکتا تھا ڈاکٹروں نے انجیکشنوں اور بوتلوں سے مجھے زندہ رکھا ایک دن ایک رشتہ دار میری عیادت کو آیا جب وہ چلا گیا دیکھا ایک سید بزرگوار شخصیت میرے کمرے میں داخل ہوئی کمرے میں تین مریضوں کے بیڈ تھے لیکن وہ میرے بیڈ کے پاس آئے اور کہنے لگے کیوں لیٹے ہو؟
مسجد مقدس جمکران کے ٹرسٹ کے اراکین میں سے ایک صاحب کہ جو بیس سال سے اس مسجد کے خادم ہیں نقل کرتے ہیں کہ : اب مجھے یاد نہیں کہ ۱۹۷۱کا سال تھا یا ۱۹۷۲ بہرحال شب جمعہ تھی میں قدیمی مسجد کے سامنے بیٹھا ہواتھا، مرحوم ابوالقاسم مسجد کے لئے ہدایا وغیرہ جمع کیا کرتے تھے، مغرب و عشاء کی نماز ختم ہوچکی تھی لوگ آرہے تھے کچھ جارہے تھے، یکدم سامنے ایک خاتون آکھڑی ہوئی کہ جس نے ایک بارہ سالہ لڑکی کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور نو سالہ بچے کو گود میں اٹھایا ہوا تھا میں نے اسے دیکھا تو کہا جی فرمائیے کوئی کام تھا؟