پندرہویں شعبان ۲۵۵ئھ کی مبارک و مسعود صبح طلوع ہونے والی تھی، امام حسن عسکری علیہ السلام کے خانہٴ امامت میں جوش و خروش اور انتظار کی شدت میں اضافہ ہوتاجارہا تھا ،آج ملائکہ کی آمد ورفت دوسرے اوقات کے مقابلہ میں کچھ زیادہ ہی تھی، رحمت الٰہی کی جلوہ نمائی اور خدائی شان و شوکت اور عظمت و جلالت کے انوار کی کرنیں ہر طرف پھوٹ رہی تھیں ۔
تمام آسمانی کتابوں کی تحقیق کرنے پرہم اس نتیجہ پرپہونچے ہیں کہ دنیاکے اچھے مستقبل ا ور باطل پرحق کی جبت کاعقبدہ صرف مسلمانوں میں ہی نہیں پایاجاتا، بلکہ دنیاکے دوسرے ادیان بھی اس عقیدے میں مسلمانوں کے ساتھ ہیں اس کے لئے ہم کچھ مثالبں پبش کرتے ہیں۔
آپ کی غیبت کی دوحیثیت تھی ، ایک صغری اوردوسری کبری ، غیبت صغری کی مدت ۷۵ یا ۷۳ سال تھی ۔ اس کے بعد غیبت کبری شروع ہوگئی غیبت صغری کے زمانے میں آپ کاایک نائب خاص ہوتا تھا جس کے ذرےعہ اہتمام ہرقسم کانظام چلتاتھا سوال وجواب، خمس وزکوة اوردیگرمراحل اسی کے واسطہ طے ہوتے تھے خصوصی مقامات محروسہ میں اسی کے ذرےعہ اورسفارش سے سفراٴ مقررکئے جاتے تھے ۔