بعض اھل سنت کہتے ہیں کہ مھدویت کا عقیدہ صرف شیعوں کے ساتھ مختص ہے اور شیعوں کا من گھڑت عقیدہ ہے اور وہ تمام احادیث شیعوں کی من گھڑت ہیں اگرچہ ان کا جواب خود اھل سنت نے بھی دیاہے اور مھدویت کے عقیدہ کوثابت کیاہے اور کہا ہے کہ اگر کوئی مھدویت کے عقیدہ کو نہ مانے تو وہ اسلام کے دائرہ سےخارج ہے
امام مہدی(عج اللہ فرجہ الشریف) کا موضوع ایسا موضوع نہیں ہے کہ محض شیعہ حضرات اس پر ایمان رکھتے ہیں بلکہ اس موضوع پر تمام اسلامی دانشور خواہ وہ کسی بھی مذہب اور مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہوں سب متفق ہیں نیز سب کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ وہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ کے خاندان سے ہوں گے
تمام مسلمان اس پر اتفاق رکھتےہیں کہ امام مھدی پیامبر کی ذریہ سے ہیں سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ میں ام سلمہ کے پاس تھا کہ امام مھدی عج کے بارے میں بات ھوئی توام سلمہ نے فرمایا کہ پیامبر اکرم سے سنا تھا کہ انھوں نے فرمایا : (المھدی من ولد فاطمہ )یعنی مھدی عج اولاد فاطمہ میں سے ہیں ۔ ابوسعید خدری کہتے ہیں :
ابن حجر ھیتمی شافعی اس آیت کے ذیل میں کہتے ھیں:”مقاتل بن سلیمان اور ان کے تابع مفسرین نے کھا کہ یہ مذکورہ آیت (حضرت امام) مہدی (علیہ السلام) کے بارے میں نازل هوئی ھے۔“< لِیُظْهرہُ عَلَی الدِّینِ کُلِّہِ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُونَ >
جو لوگ شیعوں کی اندھی دشمنی میں مبتلا ہوکر شیعہ حقائق کا مطالعہ کرتے ہیں یا دشمنان اسلام کے سیاسی اغراض پر مبنی مسموم افکار کی ترویج کرتے ہیں وہ جادہٴ تحقیق سے منحرف ہوکر اپنے مقالات یا بیانات میں یہ اظہار کرتے ہیں کہ ظہور مہدی کا عقیدہ ،شیعہ عقیدہ ہے اوراسے تمام اسلامی فرقوں کا عقیدہ تسلیم کرتے ہوئے انھیں زحمت ہوتی ہے۔