تمام آسمانی کتابوں کی تحقیق کرنے پرہم اس نتیجہ پرپہونچے ہیں کہ دنیاکے اچھے مستقبل ا ور باطل پرحق کی جبت کاعقبدہ صرف مسلمانوں میں ہی نہیں پایاجاتا، بلکہ دنیاکے دوسرے ادیان بھی اس عقیدے میں مسلمانوں کے ساتھ ہیں اس کے لئے ہم کچھ مثالبں پبش کرتے ہیں۔
مہدی موعود کا عقیدہ مسلمانوں سے مخصوص ہے یایہ عقیدہ دوسرے مذاہب میں بھی پایا جاتا ہے ؟ جیسا کہ بعض منکرین مہدویت کاکہنا ہے : عقیدہ مہدویت کی اصل یہودیوں وغیرہ کے عقاید میں ہے جہاںسے مسلمانوں میں سرایت کرگیا ہے ورنہ اس عقیدے کی ایک افسانہ سے زیادہ حقیقت نہیں ہے (المہدیہ فی الاسلام ، ص ۸۰۴۔)
عقیدہ مہدویت کے مسلم الثبوت ہونے پر صدر اسلام کے مسلمانوں میں اجماع واضح اور بلا شبہ ہے
اجماع مسلمین سے مرادصرف اجماع شیعہ نہیں ہے کیونکہ یہ واضحات میں سے ہے اورسب جانتے ہیں کہ عقیدہ وجو دوظہور امام مہدی(عج) اصول وضروریات مذہب شیعہ اثنا عشری میں سے ہے جس میں کوئی بحث کی گنجائش نہیں ۔ بلکہ اجماع مسلمین سے مراد اجماع شیعہ و اہل سنت ہے
امام مہدی(عج اللہ فرجہ الشریف) کا موضوع ایسا موضوع نہیں ہے کہ محض شیعہ حضرات اس پر ایمان رکھتے ہیں بلکہ اس موضوع پر تمام اسلامی دانشور خواہ وہ کسی بھی مذہب اور مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہوں سب متفق ہیں نیز سب کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ وہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ کے خاندان سے ہوں گے
جب دنیا سخت ترین اضطراب و بے چینی میں مبتلا ہوگی ہر طرف ظلم وتشدد کے شعلے بھڑک رہے ہوں گے انسانیت کے درمیان سے امن اوربرادری ناپید ہوچکی ہوگی اور سربراہان حکومت اصلاح اور بڑھتے ہوئے فساد کو روکنے سے عاجز ہوں گے، جنگ وجدال، قتل وغارتگری اور اختلافات کے باعث نسل انسانی خطرہ میں پڑ جائے گی،
تمام مسلمانوں کایہ عقیدہ ہے کہ قرآن مجید کی آیتوں اورپیغمبر اکرم کی حدیثوں میں اس بات کی صراحت موجود ہے کہ خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ کا پیغام اور آپ کی رسالت کوئی خصوصی دین اور علاقائی یاملکی سطح کی نبوت و رسالت نہیں تھی کہ جس سے صرف ایک سماج اور معاشرہ یا کسی خاص قوم و ملت یا علاقہ کی ہدایت و رہبری مقصود ہو اور اسلامی قوانین اور قرآنی احکام کسی ایک سماج یا معین ملک علاقہ یا کسی قوم و قبیلہ سے مخصوص نہیں ہیں
مختصر یہ کہ اسلام دنیا کے تمام انسانوں اور ہر معاشرے کا قانون ہے لیکن اس معنی میں وہ عالمی حکومت نہیں کہ جو”لاینس پالینک“ یا دوسرے مفکرین کا نظریہ ہے کہ وہ عالمی متحدہ حکومت کا نعرہ لگاتے ہیں اور عالمی متحدہ حکومت کا طرفداررسالہ انکے افکار کو نشر کرتا رہتا ہے کیونکہ اگر بالفرض دنیا میں ایک دن ایسی حکومت قائم بھی ہو گئی تو وہ بھی ایسی ہی ہوگی
شیعہ اثنا عشری محدثین، مورخین اور علم رجال کے مصنفین نے تو امام زمانہ کی ولادت سے متعلق روایات کو صحیح اور معتبر منابع ومدارک کی بنیاد پر اپنی کتب میں تحریر فرمایا ہی ہے، آپ کے پدر بزرگوار کی حیات طیبہ اور غیبت صغریٰ وکبریٰ کے دوران سینکڑوں قابل اعتماد اور ثقہ افراد کو آپ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا ہے،بےشمار معجزات آپ کی ذات سے ظاہر ہوئے ہیں۔