Home Email archive AddFavorite    
 


مهدويت اور قرآن

مهدويت اور اهل بيت(ع)

مهدويت اور حكومت

مهدويت اور امامت

مهدويت اور سفیر

مهدويت اور ہماری ذمہ داریاں

مهدويت اور كرامات

مهدویت و نقصان دہ چیزوں کی پہچان

مهدويت اور فتنے

مهدويت اور اصحاب کے صفات

مهدويت اور ظهور

مهدویت اور جھوٹے دعوے

مهدویت اور غیبت

مهدویت اور عالمی مستکبرین

مهدویت اور دعائیں

مهدویت اور مستشرقین

مهدویت اور رجعت

مهدویت، ادب، تهذیب و ثقافت



خبرنامہ

نام
ایمیل
گروہ












اتفاقی فوٹو

حضرت امام مہدی کے بارے میں اہل سنت سے مروی احادیث * ایسا نور جس کے بعد کسی ظلمت کا امکان نہیں ہے * ائمہ ، خدا کی مخلوق پر اس کے گواہ ہیں * نور درخشاں * روشنی کی علامت * عدالت کا گلستاں * مشترکات قرآن اور حجت زمان * عصر غیبت میں ہماری ذمہ داریاں * عریضہ وجواب عریضہ * ظهور کی خاص علامتیں * امامت آیہء تطہیرکی روشنی میں



غیبت حضرت مھدی علیہ السلام

اماممھدی علیہ السلام کی غیبت پرگفتگوکرنے سے پھلے بھتر ھے کہ دیگر ائمہطاھرین کے حالات پر بھی مختصراً نظر ڈالی جائے۔ رسول اسلام کے بعد اکثرمسلمانوں نے بالترتیب ابوبکر، عمر اور عثمان کی بیعت کرلی تھی۔ عثمان کےزمانے میں حکومت کے ظلم و ستم و مسئولین اور سرکاری افسروں کے غیر ذمہدارانہ اورتعصب آمیز افعال وحرکتوں کی وجہ سے مسلمان نھایت پریشان ھوگئےتھے


غیبت روایات کی روشنی میں

معتبر روایات کے مطابق امام علیہ السلام کی غیبت سے مراد نگاہوں سے پوشیدہ ہونا ہے یعنی لوگ آپ کی زندگی میں شاید آپکو دیکھتے ہوں اور آپ لوگوں کے درمیان رہتے ہیں لیکن کیونکہ آپ کی معرفت نہیں رکھتے ہیں لذا ان کو معلوم نہیں ہے کہ یہ وہی امام مھدی علیہ السلام ہیں اسی لیے آپ کی غیبت کو حضرت یوسف (ع)سے تشبیہ دی گئ ہے جب حضر ت یوسف کے بھائی خریدوفروش کیلئے مصر پہنچے


غیبت کا فلسفہ

اے پروردگار کیوں نہیں زمین تو کبھی بھی اللہ کی حجت کے ساتھ قائم سے خالی نہیں ہوگی خواہ وہ قائم آشکار اور معروف ہو خواہ و خائف اور پس پردہ ہو (بہرحال زمین حجت خدا سے خالی نہیں رہ سکتی)تاکہ اللہ تعالی کی حجتیں اور نشانیاں باطل نہ ہوں


امام زمان (عج) میں شہود غیبت کی تجلی

دنیا کے تمام تر کلمات یا دائرہ شہود یا دائرہ غیب میں ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید میں متعدد بار شہود و غیب کے عنوان کا ذکر آیا ہے اور اللہ تعالی کو عالم الغیب والشھادۃ کے عنوان سے پکارا گیا ہے


غیبت کی حکمت اور اس کا فلسفہ

اکثر لوگوں کا خیال یہ ہے کہ انہیں چیزوں کی حقیقت اور واقعیت معلوم ہے اور انھوں نے جو کچھ دیکھا یا سنا یا پہنا اور چکھا ہے یا اسے چھوا ہے اسکے ذریعہ انہیں اس کی حقیقت معلوم ہو گئی ہے اور شاید اپنی نادانی کی طرف ان کی تھوڑی توجہ بھی نہ ہو ۔

ایک تابناک مستقبل کا انتظار

اسلام خدائے واحد پر ایمان اور توحید حقیقی کے عقیدے کی دعوت دیتا ہے،اسلام کے عقائد اور اخلاقی نظام ،جزا وسزا، طرز حکومت اور تمام انفرادی ومعاشرتی احکام سے یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ دین اسلام کا اصل ہدف لغو اور بے بنیاد امتیازات اوربرتری کی دیواروں کو توڑکر

غیبت صغریٰ کا سلسلہ کیوں باقی نہ رہا؟

بعض اذہان میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ آخر غیبت صغریٰ کا خاتمہ کیوں ہوگیا؟ اگر غیبت صغریٰ کا سلسلہ چلتا رہتا اور امام پوری غیبت کے دوران امور کی نگرانی اور عوام الناس کی ہدایت کے لئے نائب خاص مقرر فرماتے رہتے تو کیا حرج تھا؟اس سوال کا جواب یہ ہے کہ امام کی غیبت سے متعلق طریقہ کار کا تعین خداوندعالم نے فرمایا ہے اور امام کی ذمہ داری اسی معینہ طریقہ

ظہور سے صدیوں قبل ولادت کا سبب

ظہور سے صدیوں قبل امام علیہ السلام کی ولادت باسعادت ہوچکی ہے اورآپ طویل عمر کے بعد ظہور فرمائیں گے آخر اس کی مصلحت کیا ہے؟
          کیا خداوندعالم میں اتنی قدرت نہیں ہے کہ وہ ظہور سے چالیس سال قبل ایسے باصلاحیت اور ایسی اہم ذمہ داری کے لئے شائستہ فرد کو خلق فرمادے؟
          آخر ظہور اور قیام سے سینکڑوں سال قبل آپ کی پیدائش کا کیا فائدہ ہے اور ان تمام باتوں سے قطع نظر، غائب اور مخفی امام سے کیا حاصل ہے؟ کیا ایسے امام کا وجود وعدم مساوی نہیں ہے؟

فلسفہ واسرار غیبت

حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی غیبت کے فائدو ں اور اس کی مصلحت کے بارے میں گفتگو کرنے سے پہلے ہمیں یہ دھیان رکھنا چاہئے کہ انسان نے عام طریقوں سے اب تک جو بھی معلومات حاصل کی ہیں ان کے با وجودوہ موجودات دنیا کے تمام رازوں کو نہیں سمجھ پایا اور اگر علم ہزاروں نہیں بلکہ کروڑوں سال اور ترقی کر لے تب بھی انسان کی معلومات کی تعداد اسکے مجہولات کے مقابلہ میں بہت ہی مختصر اور


غیبت کے فوائد

واضح رہے کہ غیبت کے اسرار کے بارے میں سوالات کا آغاز ہمارے ہی زمانہ سے نہیں ہوا ہے اور اسکا تعلق صرف اِسی دور سے نہیں ہے بلکہ جب آپ کی غیبت شروع نہیںہوئی تھی حتی کہ آپ کی ولادت سے بہت پہلے جب پیغمبر اکرم   اور ائمہ معصومین نے حضرت مہدی  کے ظہور کی خبر دی تھی اسی وقت یہ سوالات سامنے آگئے تھے۔

زمانہٴ غیبت میں فوائد وجود امام

متعدد روایات میں غیبت حضرت مھدی علیہ السلام سے متعلق رسول خدا نیز دیگر ائمہ طاھرین کے اقوال نقل ھوئے ھیں۔ یھی روایات اس طرح کے سوالات کا مقدمہ بن جاتی ھیں کہ آخر زمانہٴ غیبت میں وجود امام کا فائدہ کیا ھے؟ اس سوال کا جواب ضروری ھے لھٰذا رسول اسلام اور دیگر ائمہ ھدیٰ کے ذریعہ دئے گئے جوابات پر ایک سرسری نظر ڈال لینا بھتر ھے۔پیغمبر اسلام سے سوال کیا گیا: آیازمانہٴ غیبت میں شیعوں کو وجود قائم سے کوئی فائدہ حاصل ھوگا؟ آپ نے فرمایا: ھاں -!اس خدا کی قسم جس نے مجھے رسول بنا کر بھیجا ھے!شیعہ زمانہٴ غیبت میں اس کے وجوداورنورولایت سے اسی طرح مستفید ھوں گے جس طرح بادلوں میں چھپا ھو نے کے باوجود لوگ سورج سے استفادہ کرتے ھیں۔“ ۱


امام غائب کے فوائد

سیکڑوں سال سے انسانی معاشرہ حجت خدا کے ظھور کے فیض سے محروم ھے، اور امتِ اسلامی اس آسمانی رہبر اور امام معصوم کے حضور میں مشرف ھونے سے قاصر ھے۔ تو پھر اس کا غیبت میں ھونا اور اس کی مخفیانہ زندگی نیز عمومی رسائی سے دور ھونے کی صورت میں اس کائنات اور اس میں موجود انسانوں کے لئے کیا فوائد ھیں؟ کیا یہ نھیں ھوسکتا تھا کہ ظھور کے نزدیک ان کی پیدائش ھوتی اور ان کی غیبت کے سخت زمانہ کو ان کے شیعہ نہ دیکھتے؟


غیبت کی قسمیں

قارئین کرام! امام مہدی علیہ السلام کی غیبت لازم اور ضروری ھے، لیکن چونکہ ہمارے ہادیوں کے تمام اقدامات اور کارنامے لوگوں کے ایمان و اعتقاد کو مضبوط کرنے کے لئے ھوتے تھے، لہٰذا اس چیز کا خوف تھا کہ اس آخری حجت الٰھی کی غیبت کی وجہ سے مسلمانوں کی دینداری پر ناقابل تلافی نقصانات پہنچےں گے، لہٰذا غیبت کا زمانہ بہت ھی حساب و کتاب اور دقیق منصوبہ بندی کے تحت آغاز ھوا جو آج تک جاری ھے



سائٹ میں عضویت

صارف کوڈ
پاسورڈ







فیڈ بک

نام :

ایمیل:

پیغام کا موضوع :

آپ کا پیغام :


دیدار کرنے والوں کی تعداد

203900