Home Email archive AddFavorite    
 


مهدويت اور قرآن

مهدويت اور اهل بيت(ع)

مهدويت اور حكومت

مهدويت اور امامت

مهدويت اور سفیر

مهدويت اور ہماری ذمہ داریاں

مهدويت اور كرامات

مهدویت و نقصان دہ چیزوں کی پہچان

مهدويت اور فتنے

مهدويت اور اصحاب کے صفات

مهدويت اور ظهور

مهدویت اور جھوٹے دعوے

مهدویت اور غیبت

مهدویت اور عالمی مستکبرین

مهدویت اور دعائیں

مهدویت اور مستشرقین

مهدویت اور رجعت

مهدویت، ادب، تهذیب و ثقافت



خبرنامہ

نام
ایمیل
گروہ












اتفاقی فوٹو

حضرت امام مہدی کے بارے میں اہل سنت سے مروی احادیث * ایسا نور جس کے بعد کسی ظلمت کا امکان نہیں ہے * ائمہ ، خدا کی مخلوق پر اس کے گواہ ہیں * نور درخشاں * روشنی کی علامت * عدالت کا گلستاں * مشترکات قرآن اور حجت زمان * عصر غیبت میں ہماری ذمہ داریاں * عریضہ وجواب عریضہ * ظهور کی خاص علامتیں * امامت آیہء تطہیرکی روشنی میں



ہجرت کے تیسویں سال حویصہ کا اسلام قبول کرنا

حویصہ اور محیصہ جھودان میں سے دو بھائی تھے، پہلے محیصہ نے ایمان قبول کیا جس وقت کعب ابن اشرف قتل ہوا رسول خدا (ص) نے حکم دیا کہ جہاں بھی جھودان ملے اسے قتل کردیں، محیصہ تیزی سے اس تاجر کے پاس گیا جو اس کا ہمسایہ تھا اسے قتل کردیا، حویصہ نے کہا: اے بھائی! تم نے کیا کیا، ہمارے گوشت و پوست کی نشوونما اس شخص کے احسان سے ہوئی آج تمام جھودان میں اس سے زیادہ بڑا اور کریم شخص کوئی نہ تھا۔ کہا


ہادی

مزید اسی کتاب میں طلحہ ابن زید نے امام جعفر صادق سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت - نے فرمایا: یقینا اس قرآن میں ہدایت و سعادت کے روشن منارے ہیں تاریکی اور اسے ختم کرنے کے لیے چراغ ہیں۔    (بہت بجا اور مناسب ہے) جو افراد اس جادہ مستقیم اور پُر نور راہ میں کہ جس میں ہدایت و سعادت

میثاق الٰہی

جس طرح قرآن کریم عہد الٰہی ہے امام زمانہ - بھی عہد و پیمان الٰہی ہیں۔
          اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: <اٴَوَکُلَّمَا عَاہَدُوا عَہْدًا نَبَذَہُ فَرِیقٌ مِنْہُمْ بَلْ اٴَکْثَرُہُمْ لاَیُؤْمِنُونَ وَلَمَّا جَائَہُمْ رَسُولٌ مِنْ عِنْدِ اللهِ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَہُمْ نَبَذَ فَرِیقٌ مِنْ الَّذِینَ اٴُوتُوا الْکِتَابَ نَبَذَ فَرِیقٌ مِنْ الَّذِینَ اٴُوتُوا الْکِتَابَ کِتَابَ اللهِ وَرَاءَ ظُہُورِہِمْ کَاٴَنَّہُمْ لاَیَعْلَمُونَ> (۲)

قرآن مجید روحانی اور جسمانی امراض کے لیے شفا بخش ہے

صدور جمع صدر بمعنی سینہ ہے، لوگوں نے جب یہ انکشاف کیا کہ دل سینہ کے قفس میں برقرار ہے اور جو کچھ انسان درک کرتا ہے وہ اس کا قلب ہے اور یہ سینے کا درک کرنا اور دوسرے تمام امور انہیں کے


قرآن پیغمبر اکرم (ص) کا معجزہ ہے۔

مولف کہتے ہیں: اعجاز باب افعال کا مصدر ہے جس کا معنی عاجز کرنا یعنی خارق العادت فعل انجام دینا کہ بشر اس کے مثل لانے سے عاجز ہو۔ کفار و مشرکین اور جاہلیت کے عرب نیز دوسرے اقوام و ملل کے لوگ کہ پیغمبر اکرم (ص) کی رسالت اور قرآن ان کے لیے نازل ہوا قبول نہیں کرتے تھے یا شک رکھتے تھے یا استناداً ان کی فصاحت و بلاغت کو قبول نہیں کرنا چاہتے تھے۔

قرآن پیغمبر اکرم (ص) کا معجزہ ہے۔

مولف کہتے ہیں: اعجاز باب افعال کا مصدر ہے جس کا معنی عاجز کرنا یعنی خارق العادت فعل انجام دینا کہ بشر اس کے مثل لانے سے عاجز ہو۔ کفار و مشرکین اور جاہلیت کے عرب نیز دوسرے اقوام و ملل کے لوگ کہ پیغمبر اکرم (ص) کی رسالت اور قرآن ان کے لیے نازل ہوا قبول نہیں کرتے تھے یا شک رکھتے تھے یا استناداً ان کی فصاحت و بلاغت کو قبول نہیں کرنا چاہتے تھے۔

قرآن ایسا نور ہے کہ جس کے چراغ کی روشنائی ناتمام ہونے والی نہیں ہے۔

لوگوں کو اس کے ذریعہ ہدایت کرنے سے شباہت دینا جہل و نادانی کی ظلمتوں اور تاریکیوں کی بنا پر ہے جس طرح محسوس نور اور روشنی کے ذریعہ تاریکی شب میں لوگ سامنے کی چیزیں دیکھتے ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: < انّ ھذا القرآن یھدی للتی ھی اقوم> (۱) بے شک یہ قرآن اس راستہ کی ہدایت کرتا ہے جو بالکل سیدھا ہے۔ اور مصابیح سے مراد ہدایت کے مختلف راستے اور علوم و فنون ہیں جو قرآن میں موجود ہیں۔

بولنے والوں کے لیے برہان ہے

پہلی آیت کا ترجمہ: پیغمبر اکرم (ص) سے خطاب ہے کہ آپ اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت (ایسی دلیل و برہان کے ساتھ جو حق کو ثابت کرے) اور اچھی نصیحت کے ذریعہ دعوت دیں اور ان سے اس طریقہ سے بحث کریں جو بہترین طریقہ ہے کہ آپ کا پروردگار بہتر جانتا ہے کون اس کے راستے سے (جو اسلام ہے) بہک گیا اور کون لوگ راہ ہدایت پانے والے ہیں۔

ایسا نور جس کے بعد کسی ظلمت کا امکان نہیں ہے

اس کی حفاظت کی طرف اشارہ ہے کہ کسی بھی صورت میں باطل اس میں نہیں جاسکتا اور اس سے آلودہ نہیں ہوسکتا پانچویں منقبت میں ان بزرگوار کے قول کی وضاحت میں فرمایا: ”و شعاعاً لا یظلم نورہ“ وہ ایسی شعاع ہے کہ اس کی ضوء تاریک نہیں ہو سکتی۔ تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے۔


مہربان ناصح

قرآن مجید ایسی کتاب ہے جو انسانوں کو مہربانی کے طور پر نصیحت کرتا ہے اور اس کی نصیحت پر عمل کرنا ندامت و شرمندگی کا باعث نہیں ہوتا۔ امام زمانہ - بھی جو اس کے ہم پلہ ہیں روؤف و مہربان کے عنوان سے نصیحت کرنے والے ہیں کہ جن کے فرمودات پر عمل کرنا سعادت کا سبب ہے۔

ثقلین (قرآن کریم اور امام زمانہ ) بے مثل خزانے ہیں۔

خداوند تبارک و تعالیٰ تمام موجودات کا پیدا کرنے والا خواہ انسان، حیوان، وحوش، طیور، حشرات، جمادات، نباتات وغیرہ ہوں ان کا مالک اور اس میں تصرف کرنے والا ہے (لَہُ الاَمْرُ وَالخَلْقُ بٰارِیُ الخلٰایق اَجْمَعین مٰالِکُ السَّموٰاتِ وَالاٴرضینَ وَما فیھِمٰا وَمٰاعَلیھِمٰا وَمٰا بَینَھُمٰا ) یعنی اس کے لیے خلق و امر کا مرحلہ مخصوص ہے تمام مخلوقات کا خالق تمام آسمانوں اور زمینوں کا مالک اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے۔ اور اسی طرح متعدد اور مختلف خزانوں کا مالک کہ جس کی طرف بہت سی آیات میں اشارہ کیا گیا ہے۔

 

سزا ساقط ہونے میں توبہ کی قدرت

آیہٴ کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ توبہ اور اس کے نتیجے میں عذاب کا ساقط ہونا از باب تفضل ہے اور الٰہی رحمتِ واسعہ کی بنیاد پر ہے البتہ چور کو اپنے گناہ امام معصوم یا مجتہد جامع الشرائط جو یدطولی کے حامل ہوں ان کے پاس لے جانے سے پہلے اپنے اختیار سے بغیر کسی چیزو خوف کے توبہ کرے اور چوری کیا ہوا مال اس کے مالک کو واپس کرے تاکہ ہاتھ کاٹنے کا حکم اس سے ساقط ہوجائے۔

خدا کی حفاظت

کفار نے (مذاق کی رو سے) کہا کہ اے وہ شخص جس پر قرآن نازل ہوا ہے تو دیوانہ ہے اگر تو اپنے دعویٰ میں سچا ہے تو فرشتوں کو (اپنی رسالت کی گواہی کے لیے) کیوں سامنے نہیں لاتا ہے حالانکہ ہم فرشتوں کو حق کے فیصلہ کے ساتھ ہی بھیجا کرتے ہیں (اگر ہم ان کی مرضی کے مطابق بھیجتے) اور اس کے بعد پھر کسی کو مہلت نہیں دی جاتی ہے ہم نے ہی اس قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی (ہم قسم

نور درخشاں

خداوند متعال نے قرآن کو نور ہدایت کے ساتھ نازل فرمایا اسے حافظ و رقیب اور اپنی تمام نازل کی ہوئی کتابوں پر برتری پر فائز کیا ہے۔و کذلک الحجة بن الحسن العسکری“  حضرت اور ان کے آباء و اجداد طاہرین کا مقدس وجود نور ہدایت اور مستقیم شاہراہ ولایت کبری اور اسلام کو روشنی بخشنے والا ہے


روشنی کی علامت

عزیز تین آسمانی کتاب (قرآن مجید) ان لوگوں کے لیے دلیل و علامت اور ہدایات ہے جو اس کے عالی متون و مضمون اور بطون میں تدبر اور عمیق غور و فکر کرتے ہیں اور گزشتہ انبیاء اور امتوں کے واقعات نیز ظالمین و جابرین کی تاریخ سے عبرت و نصیحت حاصل کرتے ہیں مزید صاحبان عقل اور ذہین افراد کے لیے دقّت و تامّل کے ساتھ اپنے اہداف و مقاصد تک پہنچنے کے لیے علامت و نشانی پائی جاتی ہے۔

عدالت کا گلستاں

قرآن مجید عدالت کا گلستان اور عدل و انصاف کا دریا ہے۔    اسی طرح حضرت حجّت قائم آل محمد علیہم السلام کی ذات با برکت ہے۔  ریاض ، روضة کی جمع ہے جس کا معنی سرسبز و شاداب زمین کے ہیں جو نباتات اور سبزوں سے پُر ہو (باغ اور گلستان) پانی کا ایک ایسی جگہ جمع ہونے کے معنی میں ہے جو تمام جگہوں کو اپنے حصار میں لے لے۔  غدرانہ ، غدیر کی جمع ہے: پانی کا وہ حوض کہ سیلاب کے جاری ہونے کی وجہ سے تہ نشین مقام پر آب

مشترکات قرآن اور حجت زمان

اب تک حضرت بقیة اللہ ارواحنا فداہ کے متعلق تین ہزار سے زائد ہمارے درمیان گراں قدر کتابیں تحریر کی جاچکی ہیں، جس میں حضرت کی زندگی کے مختلف پہلوؤں ، عظمت، شخصیت، سیرت، اوصاف، شباہتیں ، ملاقاتیں، انتظار،اشتیاق دیدار، اظہار عقیدت، لائحہٴ عمل، عدل و انصاف وغیرہ جیسے دوسرے مسائل جو الٰہی حجّتوں کا بقیة اللہ، مصلح عالم، یوسفِ زہرا، حضرت بقیة اللہ ارواحنا فداہ ہے اس کے بارے میں تحقیق ہوچکی ہے۔

قرآنی معلومات

پوراقرآن تیس پاروں پر مشتمل ہے۔ قرآن میں کل” ۱۱۴“ سورے ہیں۔ قرآن میں ”۶۲۳۶“آیتیں ہیں۔ قرآن میں کل” ۱۰۱۵۰۳۰“نقطے ہیں۔ قرآن میں کل”۹۳۲۴۳“فتحہ(زبر )ہیں۔

حق کیا ہے ؟

سوال: بیس سال قبل ،تبریز میں ایک ادبی محفل میں ایک دوست نے جبر و تفویض اور انسان کی تقدیر کی تعیین کی کیفیت پرکرتے ہوئے کہا :”انسان اسّی سے سوباراس دنیا میں آتا ہے اور چلاجاتا ہے ،البتہ اجمادات اورحیوانات کی صورت میں نہیں بلکہ انسان کی صورت میں،تاکہ اس کا مقدّراس کے سابقہ اعمال نامہ کے مطابق معیّن ہو جائے ورنہ یہ صحیح نہیں تھا انسان کو ایک مرتبہ اس کرّئہ خاکی پر لاتے اوریہ سب رنج ومصیبت برداشت کرتا

اقتصاد اور اجتماعی رفاہ میں رونق

اگر حکومت؛ خدا وند عالم کی تائیدسے الٰہی احکام و قوانین کامعاشرہ (سماج)میں اجراء کرے تو لوگ بھی اس کی برکت سے تبدیل ہو کر تقویٰ و پر ہیز گاری کی راہ پر لگ جائیں گے نتیجہ یہ ہوگا کہ خدا وند عالم کی نعمتیں ہر طرف سے بندوں پر برسنے لگیں گی
 <    [2]   [1]  

سائٹ میں عضویت

صارف کوڈ
پاسورڈ







فیڈ بک

نام :

ایمیل:

پیغام کا موضوع :

آپ کا پیغام :


دیدار کرنے والوں کی تعداد

203907